Wehshat E Junoon By Areej Shah Readelle50289 (Wehshat E Junon) Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
(Wehshat E Junon) Episode 19
ایام کی عجیب و غریب باتوں نے اس کے اندر ڈر بٹھا دیا تھا انڈرورلڈ کیا تھا یہ کس طرح سے کام کرتا تھا اس چیز کے بارے میں اسے کچھ بھی علم نہیں تھا ۔
اب تک اسے بس اتنا ہی پتہ چلا تھا کہ یہ لوگ بہت خطرناک ہیں اور یہ پوری دنیا میں غیر قانونی کام کرتے تھے سعد نے اسے ان لوگوں کے آگے بیچ دیا تھا شاید اس کی خوبصورتی کا سودا کیا تھا ۔
سعد شادی کی پہلی رات بھی اس کے قریب نہیں آیا تھا بلکہ ایک ڈر اسے ہر طرف سے گھیرے ہوئے تھا وہ اتنا پریشان تھا کہ ہیر کو بھی پریشانی لاحق ہوگئی اس کا کھچاکھچاسارویہ اسے ہاتھ تک نا لگانا اسے عجیب تو بہت لگا تھا ۔
کیونکہ ٹیلیفونک گفتگو پر وہ اس سے کافی بے باک ہونے کی کوشش کرتا رہا تھا ۔فون پر اکثر اس سے بہت عجیب طرح کی بات کر جاتا تھا جس پر وہ فورا یا تو فون ہی بند کر دیتی یا کسی کے آنے کا بہانہ کر دیتی تھی۔
اماں جان کی موجودگی میں اسے سکون تھا کیونکہ وہ کسی بھی غیر مرد کے ساتھ اس طرح کا رابطہ نہیں رکھ سکتی تھی اور نکاح سے پہلے سعد اس کے لیے غیر مرد ہی تو تھا ۔
امی کی وفات کے بعد بھی اس کی سعد سے بات ہوتی رہی تھی اور وہ بھی یہی کہتا تھا کہ اس کے گریجویشن مکمل ہوتے ہی شادی ہو جائے گی پھر اچانک ایک دن سعد نے جلدی شادی کا شوشا چھوڑ دیا اور شادی کے دنوں کے درمیان سعد کی کوئی کال نہیں آئی تھی اور نہ ہی سعد نے اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی ۔
کیا جو ساری باتیں ایام نے اسے بتائی تھی وہ سچ تھیں یا وہ صرف سعد کو اس کی نظروں سے گرانے کے لیے یہ سب کچھ بول رہا تھا حقیقت جو بھی تھی لیکن یہ سچ تھا کہ اب سعد کے لیے اس کے دل میں کوئی فیلنگز نہیں رہی تھی ۔
نامحبت کی اور نہ ہی نفرت وہ اس شخص کو یاد تک نہیں کرنا چاہتی تھی ۔اور اسے ان سب چیزوں سے نکلنے کے لئے اپنے آپ کو مضبوط کرنا تھا وہ یوں بند کمرے میں بیٹھ کر سعد کے نام پہ آنسو نہیں بہا سکتی تھی۔
یہاں پر اس سے پیار کرنے والی وہ معصوم پیاری سی بچی تھی اور پھر اس کی بہت پیاری سہیلی تانیہ وہ ان کی محبت کی ناقدری نہیں کر سکتی تھی وہ اٹھ کر فریش ہوتے ہوئے کمرے سے نکل گئی تھی
°°°°°°°
تم دونوں کچن میں ہو اور میں تم لوگوں کو ڈھونڈ رہی ہوں یہاں تک کہ باغ میں دیکھ کر آئی ہیر ہشاش بشاش لہجے میں ان سے کہتی سلاد کی پلیٹ سے سلاد کھانے لگی تھی جب کہ روحی اسے خوش دیکھتے ہی مچل اٹھی تھی اس کے پاس جانے کے لئے ۔
شکر ہے تم کمرے سے تو باہر نکلی ۔بتاؤ کیا کھاؤ گی تم میں ابھی تمہارے لئے بناتی ہوں مجھے لگ رہا ہے کہ تمہیں بھوک لگی ہے سلاد کھاتے دیکھ اس نے اندازہ لگایا تھا جس پر اس نے ہاں میں سر ہلایا کل شام کے بعد وہ کمرے سے باہر نہیں نکلی تھی ۔اور نہ ہی کچھ کھایا تھا۔
مجھے سچ میں بہت زیادہ بھوک لگتی ہے بس کچھ بھی کھانے کو دے دو ابھی کے لئے باقی شام میں تو ویسے بھی روحی سپیشل ڈش کھائیں گے۔وہ روحی کے چھوٹے سے ہاتھ کے آگے مکا بناتے ہوئے بولی تو اس نے بھی اس کا بھر پور ساتھ دیا ۔
جب کہ تانیہ اسے اس طرح خوش دیکھ کر اس کو ہمیشہ خوش رہنے کی دعائیں دیتی جلدی سے کھانا لیے باہر سے ٹیبل پر آگئی تھی ۔
°°°°°°°
ان کا ایک دوسرے کی سنگت میں بہت اچھا وقت گزرا تھا ساری سوچوں کو پیچھے دھکیل کر اس نے خود کو پرسکون کیا تھا۔
اور اپنے آپ کو اس ماحول میں ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کر رہی تھی یہ حقیقت تھی کہ باہر اس کی عزت اور جان کو خطرہ تھا اگر خطرہ صرف جان تک محدود ہوتا تو شاید وہ کسی غیر کے گھر میں پناہ لینے کے بارے میں کبھی بھی نہیں سوچتی
لیکن وہ لوگ شاید اس کی عزت کا بھی سودا کر چکے تھے کیونکہ جس انداز میں ایام نے اسے بتایا تھا وہ شاید نہیں یقینا ان لوگوں کے بارے میں بہت بہتر طریقے سے جانتا تھا اور وہ اپنی عزت پر کوئی رسک نہیں لے سکتی تھی ۔
ہیر تانیہ سے ہر بات کھل کر لیتی تھی اور ایام چاہتا ہے کہ جب تک ہیر اس ٹینشن سے باہر نہ نکل آئے تب تک وہ اسی کے گھر میں رہے اور اس کے لیے وہ اس کی تنخواہ بھی ڈبل کر چکا تھا ۔
وہ شخص شاید اس بات سے باخبر تھا کہ اس کے لیے کسی انسان کے ساتھ ایک گھر میں رہنا آسان نہیں تبھی اس نے اس کے لیے ایسا کیا تھا شاید نہیں یقینا اس کی نظروں میں بہت مہان بننا چاہتا تھا لیکن ان سب چیزوں سے اسے کوئی سروکار نہیں تھا ۔
اس نے فیصلہ کیا تھا کہ جب تک اسے کوئی مضبوط پناہ گاہ نہیں مل جاتی وہ اس گھر سے نہیں نکلے گی ۔اور یقینا اس کے لئے یہ فیصلہ بہتر نہیں بہترین تھا
°°°°°°°
وہ شام کو گھر واپس آیا تو اسے اپنے گارڈن کی طرف سے چہکتی آوازیں سنائی دیں ان میں سے ایک آواز ہیر کی بھی تھی یہ وہ لاکھوں میں پہچان سکتا تھا اس کے چہرے پر اپنے آپ مسکراہٹ آ گئی تھی وہ اپنے خول سے باہر نکل رہی تھی
اور وہ بھی ایسا ہی چاہتا تھا اسے اس طرح سے خوش اور مطمئن دیکھ کر وہ آگے بڑھ گیا تھا بنا انہیں مخاطب کیے ہوئے اس وقت روحی آنکھوں پر پٹی باندھے ہوئے تھی جبکہ تانیہ اورہیر اس سے دور بھاگتے ہوئے اس کی پہنچ سے دور جا رہی تھیں۔
اسے یقین تھا کہ آہستہ آہستہ وہ ہر چیز کو قبول کر لے گی ۔
اور کسی بھی نئی جگہ پر ایڈجسٹ ہونے میں ٹائم تو لگ جاتا ہے وہ اسے اس کے حال پر چھوڑ چکا تھا
°°°°°°°
تو شاپنگ کب سے شروع کرنی ہے تم نے وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا تھا جو باہر آکر ان کے ساتھ میز پر کھانا کھانے لگی تھی اس کی بات سن کر وہ اسے دیکھنے لگ گئی تھی شاید نہیں یقینا اسے اس کی بات سمجھ نہیں آئی تھی ۔
کیا آپ مجھ سے کچھ کہہ رہے ہیں۔۔۔۔۔” اس نے اپنی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا جس پر اس نے نرمی سے ہاں میں سر ہلا دیا ۔
ہاں میں تم سے ہی پوچھ رہا ہوں شاپنگ کب سے شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہوتم میں اسی مہینے کے اینڈ پر شادی کرنا چاہتا ہوں میرے خیال میں اب تم کافی بہتر ہو۔
وہ پچھلے چار دن سے اس کی روٹین دیکھ رہا تھا وہ نارمل ہو چکی تھی اب وہ اکیلے نہیں رہتی تھی سارا وقت اسکا تانیہ اور روحی کے ساتھ گزرتا تھاوہ اس کے سامنے زیادہ نہیں آتی تھی لیکن رات کا کھانا وہ باہر ٹیبل پر ہی کھاتی تھی ۔
پچھلے کچھ دنوں سے اس نے بھی اسے مخاطب نہ کیا تھا لیکن آج اچانک اس کے سوال پر وہ حیران ہوئی تھی ۔
میں شادی نہیں کرنا چاہتی ۔اور آپ سے تو ہر گز نہیں پلیز اب آپ مجھ سے وجہ مت پوچھئے گا میں جانتی ہوں اس وقت میں آپ کے رحم وکرم پر ہوں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں آپ سے شادی کر لوں گی میں بہت جلد اپنا بندوبست کر لوں گی ۔آپ کو میری وجہ سے کسی طرح کا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا ۔
روحی کو اس نے بہت مشکل سے خود کو دوست کہنے پر منایا تھا ورنہ وہ تو ماما جانی کی رٹ لگائے ہوئےتھی ۔
تم مجھ پر بوجھ نہیں ہو یہ بات سمجھ لو تو تمہارے لیے بہتر ہو گا اور شادی تو میں تم سے ضرور کروں گا شادی کے لیے اسی مہینے کے اینڈ تک تاریخ نکلوائیں ہیں نکاح کیلئے 28 تاریخ مناسب ہے ۔
دیکھیں میں بنا عدت کے کسی دوسرے کے نکاح میں نہیں آسکتی میں نہیں جانتی کہ عدت کے لیے کون سی شرائط ہونا ضروری ہے لیکن میرے اطمینان کے لیے یہ ٹھیک نہیں ہے ۔
مطلب کے تم اس سعد کے نام پر اپنی زندگی کے دنوں کو برباد کرنا چاہتی ہو اور تمہیں لگتا ہے کہ میں ایسا کرنے دوں گا وہ بھڑک اٹھا تھا ۔
میں کسی کے نام پر اپنی زندگی کےدن برباد نہیں کر رہی بس میرا ذہن اس چیز کو قبول نہیں کرے گا ۔
میں نہیں جانتا کہ تم عدت پوری کرنا چاہتی ہو یا اپنا ذہنی سکون چاہتی ہو لیکن چار مہینے کے بعد روحی کی دوسری سالگرہ ہے اور میں تب تک تمہیں وقت دے رہا ہوں ان سب چیزوں کو قبول کرنے کے لئے اور باقی اس گھر سے تم کہیں نہیں جا سکتی اور نہ ہی فضول کی سوچیں پالنے کی ضرورت ہے ۔
میری نظر میں یہ چار مہینے کوئی عدت نہیں ہے بلکہ تمہیں دیا وقت ہے۔میں تمہیں کسی طرح کی ٹینشن میں نہ دیکھوں۔ یہ گھر تمہارا ہے تم اس گھر کی مالکن ہو تم یہں جس طرح سے رہنا چاہتی ہو آرام سے رہو ۔
باقی میری طرف سے تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔وہ اپنی بات ختم کرتا ہوا اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف چلا گیا تھا جبکہ ہیر نے ایک گہری سانس لی ۔
یہ شخص اتنی آسانی سے مان گیا تھا یہ سوچ کر عجیب تو اسے بھی لگ رہا تھا لیکن چار مہینوں میں وہ اپنے لیے بہترین انتظام کر سکتی تھی یہ وقت اس کے لیے بہت خاص تھا وہ جتنا جلدی ہو سکے اپنے بھائی سے رابطہ کرنے کی کوشش کرنے والی تھی ۔
وہ اس سے کچھ مانگ تو نہیں سکتی تھی لیکن وہ اس کی ذات پر احسان تو کر سکتا تھا ۔ بہن نا ایک ضرورت مند سمجھ کر ہی وہ اسے اس مصیبت سے نکال سکتا تھا وہ کم از کم اس سے اتنی امید تو کرہی سکتی تھی آخر ان دونوں کا خون کا رشتہ تھا
°°°°°°°
شاید وہ سچ میں سعد کے نام پر اپنے دن برباد کرنے کا ارادہ رکھتی تھی اس نے بالکل ہی اس کے سامنے آنا جانا چھوڑ دیا تھا ۔
عجیب سے دن گزر رہے تھے ۔وہ اس سے مکمل پردہ کر رہی تھی اس کے آنے سے پہلے ہی وہ کھانا کھا لیتی تھی اور صبح اس کے جانے کے بعد وہ کمرے سے نکلتی تھی ۔ایام اسے سمجھا چکا تھا اس پر عدت فرض نہیں ہے لیکن پھر بھی کوئی بات سمجھنے کو تیار نہیں تھی ۔
اس وقت اسے کچھ بھی کہنا اسے مزید خود سے بد گمان کرنے کے مترادف تھا ۔وہ اسے اس کے حال پر چھوڑ کر اپنے کام میں مگن ہو گیا تھا۔ایک ماہ ہونے کو آیا تھا وہ اس کے سامنے نہیں آ رہی تھی۔
وہ اپنا فیصلہ سنا چکا تھا کہ روحی کی سالگرہ کے دن ہی وہ اس سے نکاح کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس کے حساب سے چار مہینے بہت تھے اسے اس رشتے سے نکلنے کے لیے ۔
°°°°°°°
وہ مسلسل اپنے بھائی کو فون کرنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن شاید وہ نمبر ہی بدل چکا تھا اس کا نمبر نہ لگا۔
اسے یاد تھا کہ جب اس کا بھائی سعودیہ میں تھا تو وہ یہی نمبر استعمال کرتا تھا اس کے پاس اس کا پرانا نمبر محفوظ تھا لیکن یہ نمبر بند ہو چکا تھا اس کے باوجود بھی وہ کوشش چھوڑ نہیں رہی تھی ۔
اور اس کی اس کوشش کو دیکھتے ہوئے شاید اللہ پاک نے بھی اس کی منزل آسان کردی تھی ۔آج رات جب اس نے فون کرنے کی کوشش کی تو دوسری طرف سے فون اٹھا لیا گیا تھا پہلے تو خود وہ بے یقینی کی کیفیت میں تھی ۔
اپنے بھائی کی آواز سننے کے بعد بھی اسے یقین نہ آیا کہ وہ اپنی ماں جائے سے بات کر رہی ہے ۔
اس نے بڑی مشکل سے اپنے آنسو پرے دھکیلتے ہوئے اسے سلام دیا تھا ۔
وعلیکم سلام چھوٹی یہ تو ہے کیسی ہے تو سعد کیسا ہے تیرا خیال تو رکھتا ہے نا میری تو شادی کے بعد تم لوگوں سے بات ہی نہیں ہو سکی یہاں آتے ہی نمبر بدلنا پڑا تھا مجھے آج کچھ پرانے نمبر نکلانے کے لیے یہ نمبر استعمال کیا۔ تو سنا ۔
وہ اس کی اداسی نوٹ کیے بنا بولنا شروع ہوچکا تھا جبکہ وہ جو یہ سوچ رہی تھی کہ اپنے بھائی کو اپنے دل کا حال سنائے گی ایک لمحے کے لیے خاموشی ہوگئی اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اسے اپنے بھائی کو کچھ بتانا بھی چاہیے یا نہیں لیکن یہ بات چھپانے والی تو نہ تھی
اس کا بھائی حق رکھتا تھا یہ جاننے کا کہ جس شخص کے ساتھ وہ اسے چھوڑ کر گیا ہے وہ اس کے قابل ہے بھی یا نہیں ۔
سعد نے مجھے طلاق دے دی بھائی اس نے مجھے چھوڑ دیا میں نہیں جانتی میرا قصور کیا تھا لیکن اس نے مجھے طلاق دے دی بنا کوئی وجہ بتائے وہ ایک ہی سانس میں بول گئی۔
کیا یہ تم کیا کہہ رہی ہو ہیر ایسا کیسے ہو سکتا ہے سعد وہ تم سے محبت کرتا ہے وہ تمہیں چھوڑ نہیں سکتا کیا بات ہوئی تھی تم دونوں میں حالات اتنے برے ہوئے کیسے ہوئے کہ بات طلاق تک جا پہنچی ۔
کب ہوا یہ سب کچھ مجھے سب کچھ بتاؤ مجھ سے کچھ بھی چھپانا مت ۔ وہ پریشانی سے اس سے پوچھنے لگا ۔
نہ تو کچھ بتانے لائق ہے اور نہ ہی کچھ چھپانے لائق ہم دونوں میں شادی کے شروع میں ہی کچھ ٹھیک نہیں تھا شادی کی رات وہ کسی بات کو لے کر بہت زیادہ پریشان تھا اس نے شادی کے اگلے دن ہی مجھے اور اپنی ماں کو اپنے کزن کے گھر پہ بھیج دیا یہ کہہ کر کہ اسے کوئی مسئلہ ہے ۔
اور پھر یہاں آئے اٹھارہویں دن اس نے مجھے طلاق دے بھیجی۔ ہم دونوں میں کوئی رابطہ نہیں ہوا کوئی بات نہیں ہوئی ۔اس چیز کی جتنی وجہ مجھے سمجھ میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ اس نے مجھے کسی انڈرورلڈ کے آدمی کے ہاتھوں بیچ دیا تھا۔
لیکن وہ جانتا نہیں تھا کہ ان کا تعلق اتنے خطرناک لوگوں سے ہے اس نے کافی بڑی رقم لے رکھی تھی ان سے اور جب اسے پتہ چلا کہ وہ لوگ اتنے خطرناک ہیں تو اپنی جان چھڑانے کے لئے اس نے مجھے طلاق دے دی اب وہ لوگ میری تلاش میں ہیں اور پتا نہیں میرے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں بھائی پلیز مجھے اپنے پاس بلا لے ۔
میں اس وقت سعد کے کزن کے گھر پر ہی ہوں میرا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے اس وقت اگر آپ میرا ساتھ نہیں دیں گے تو شاید بھائی ہونے کا حق بھی ادا نہیں کر پائیں گے
میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں میں آپ پر بوجھ نہیں بنوں گی اور نہ ہی آپ کو کسی مسئلے کا شکار ہونے دوں گی آپ پلیز مجھے وہاں بلا لے میں اپنا گزارا خود کر لوں گی ۔
پلیز بابا کی طرح آپ مجھے نہیں چھوڑیے گا وہ بھی یوں اچانک ہمیں چھوڑ کر بھاگ گئے تھے اور آپ بھی میری شادی کے اگلے دن ہی بھاگ گئے یہ بات ہم نے کبھی کسی کو نہیں بتائی کہ ہمارے بابا کا انتقال نہیں ہوا بلکہ وہ حالات سے تنگ آکر ہمیں چھوڑ گئے تھے ۔
اور اب آپ بھی ایسا ہی کر رہے ہیں میں آپ سے کبھی کچھ نہیں مانگوں گی مجھ پر یہ آخری احسان کر دیجئے وہ ابھی بول ہی رہی تھی کہ دوسری طرف سے فون بند ہوگیا اس کے لبوں پر ایک تلخ سی مسکراہٹ آگئی اس کے بھائی نے اس کی بات کا جواب دینے کے بجائے اس کی بات مکمل بھی نہیں ہونےدی تھی ۔
اس نے خاموشی سے فون بند کر دیا ۔پتا نہیں اس کی زندگی میں آگے کیا ہونے والا تھا ۔
°°°°°°
ارے اچھا ہوا ہیر تم آگئی سرکچھ دیر پہلے ہی نکلے ہیں وہ دراصل کل رات تمہارے کمرے سے باتوں کی آواز آرہی تھی سر شاید وہی سے گزر رہے تھے انہوں نے مجھ سے پوچھا ہے کہ تم کس سے بات کر رہی تھی ۔ تمہارا تو کسی کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے اور سر کے سامنے تم شاید اپنی عدت پوری کرنے کی وجہ سے نہیں آنا چاہتی اسی لیے وہ تمہیں ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتے تھے ۔
میں اپنے بھائی سے بات کر رہی تھی کل انہیں اچانک میری یاد آ گئی تو انہوں نے رابطہ کرلیا اس نے تفصیل نہ بتائی۔
کیا بات ہے تمہارے بھائی کو تمہاری یاد کیسے آگئی ۔۔۔۔”تم نے بتایا انہیں کہ سعد نے تمہارے ساتھ کیا کیا ۔
میرا مطلب ہے انہیں یہ جاننے کا حق ہے کہ جس شخص کو انہوں نے تمہارے لئے چنا تھا وہ کیسا ہے ۔
ہاں میں نے انہیں سب کچھ بتا دیا ہے اس نے سرسری سے انداز میں کہا ۔
تو انہوں نے آگے سے کیا کہا میرا مطلب ہے تم نے انہیں ایام سر کے بارے میں بتایا نہ کہ وہ تم سے شادی کرنا چاہتے ہیں ۔تانیہ اس کے دونوں ہاتھ تھامے ایکسائیٹڈ ہو کر بولی تھی ۔
ان کے بارے میں بھی بتا دیا تھا اس نے جھوٹ بولتے ہوئے شاید اسے خوش کرنا چاہا تھا ۔
بہت اچھا کیا تم نے جو انہیں سب کچھ بتا دیا انہیں تمہارے اور ایام سر کی شادی پر کوئی اعتراض تو نہیں میرا مطلب ہے اب تو ایک مہینے سے اوپر ہونے والا ہے نا تمہاری عدت کو تو اس حساب سے شادی کے دن اور بھی قریب آ رہے ہیں ۔
بہت جلد تم لوگوں کی شادی ہو جائے گی اف اللہ میں کتنی ایکسائیٹڈ ہوں تمہیں بتا نہیں سکتی ۔
وہ اسے کیچن سے باہر لاتے ہوئے کہنے لگی جہاں اسے روحی وہیں صوفے پر بیٹھی کارٹون نیٹ ورک دیکھتے ملی تھی ۔
وہ مسکرا کر اسے اپنی گود میں لیتے ہوئے تانیہ کی باتوں کے سرسری سے انداز میں جواب دینے لگی
