Wehshat E Junoon By Areej Shah Readelle50289 (Wehshat E Junon) Episode 18
No Download Link
Rate this Novel
(Wehshat E Junon) Episode 18
میڈم نے کھانا کھایا ۔وہ آفس سے واپس آیا تو تانیہ اور روحی کو باہر گارڈن میں بیٹھے دیکھا ۔
نہیں سر ہیر کا کمرہ صبح سے بند ہے وہ کسی سے بات نہیں کر رہی اور نا۔ہی۔کھانا کھا رہی ہے میں کافی دفعہ گئی ہوں۔حالانکہ روحی میڈم بھی گئی تھی کافی دیر دروازہ کھٹکھٹاتی رہی لیکن ہیرنے دروازہ نہیں کھولا ۔
تانیہ نے اسے دیکھتے ہوئے بتایا تھا جب کہ وہ صرف ہاں میں سر ہلا تا روحی کو اٹھا کر اندر چلا گیا ۔جو کافی پریشان تھی۔
یہ وقت ہیر کے لیے بہت مشکل تھا۔اس سے اس کا واحد سہارا دور ہواتھا۔ وہ اسے تنگ نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
نہ تو وہ صبح سے کمرے سے نکلی تھی اور نہ ہی کچھ کھایا تھا یہ جان کر اسے برا تو لگا ۔
شاید وہ اپنی جگہ ٹھیک تھی ۔وہ اسے بالکل بھی پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا اور نہ ہی اس کے سامنے جانے کا ارادہ رکھتا تھا ۔
۔لیکن وہ اسے یوں بھوکا بھی تو نہیں چھوڑ سکتا تھا کافی دیر سوچ و بچار کے بعد اس نے اس کے کمرے میں جانے کا فیصلہ کیا تھا ۔
جس کے پیچھے کچھ حد تک روحی کا بھی ہاتھ تھا جو اسے کب سے کہہ رہی تھی کہ اس نے تانیہ کے ساتھ مل کر اپنی فیوریٹ ڈش بنوائی ہے ہیر کے لئے تاکہ وہ اسے کھا کر خوش ہو جائے ۔
وہ معصوم تو جانتی تک نہیں تھی کہ ہیرپر کیا بیت رہی ہے ۔اس وقت اسے خوش کرنا ایک بہت مشکل کام تھا لیکن روحی کو وہ کیا سمجھاتا ۔
اب وہ ناچاہتے ہوئے بھی ہیر کے پاس جانے کا ارادہ رکھتا تھا جو بھی تھا وہ اسے بھوکا مرنے تو نہیں دے سکتا تھا ۔
سعد نے جو حرکت کی تھی وہ تیش تو اسے بھی دلا گئی تھی لیکن شاید یہ فیصلہ ہیر کی زندگی کے لئے صحیح تھا۔
ایک ایسے شخص کے ساتھ زندگی گزارنا جو صرف اسے اپنے مفاد کے لیے استعمال کر رہا ہے اس سے تو بہتر تھا اس کے ساتھ زندگی نا گزارنا ۔
وہ اسے وقت دینا چاہتا تھا وہ چاہتا تھا کہ وہ جتنا جلدی ہو سکے اسے ان سب چیزوں سے نکال کر اپنی زندگی میں شامل کرلے لیکن شاید ہیر کو اس کے حال پر چھوڑ دینا ہرگز ٹھیک نہیں تھا ۔
یہ سب کچھ سوچ سوچ کر وہ صرف مزید ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہی تھی اور وہ ایسا ہرگز نہیں چاہتا تھا بہت سوچ سمجھ کر اس نے آج ایک فیصلہ کیا تھا اور اب وہ ہیرکواپنا فیصلہ سنانے جا رہا تھا ۔
وہ جانتا تھا ان سب کے بعد ہیر مزید اس سے بد گمان ہو جائے گی لیکن وہ اس کی بد گمانی کا سوچ کر اسے ان سب سوچوں کی نظر نہیں کر سکتا تھا۔
ایک طلاق یافتہ لڑکی کی زندگی صرف معاشرے کی نظر میں ہی نہیں بلکہ خود اس کی اپنی نظر میں ہی برباد ہو جاتی ہے اور وہ اسے ایسی سوچ سے بہت دور لے جانا چاہتا تھا ۔
روحی بچے آپ جا کر باہر مس تانیہ کے ساتھ کھیلو اور اسے کہو کہ کھانا لگائیں ہم تھوڑی دیر میں آتے ہیں آپ کی ماما جانی کو لے کر ۔
وہ روحی کو دیکھ کر بولا جو اس کی بات پر خوش ہوتے فورا باہر بھاگ گئی تھی یقیناوہ اپنی فیوریٹ ڈش اپنی ماما جانی کو کھلانے والی تھی
°°°°°°
ہیر دروازہ کھولو ۔اس نے دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے اسے آواز دی تھی۔جبکہ اسے اندر سے کوئی جواب نہیں ملا تھا ۔وہ دوسری بار تیسری بار دروازہ کھٹکھٹاتا رہا لیکن اندر سے جواب نادارد۔
لیکن شاید وہ ہمت ہارنے کا بلکل کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا تھوڑی دیر کے بعد اسے لاک کھلنے کی آواز سنائی دی ۔وہ حیرت سے دروازے کو دیکھ رہی تھی۔
میں ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن اگر یہ کہوں کہ تم نے مجھے ایسی بداخلاقی کرنے پر مجبور کیا ہے تو غلط ہرگز نہیں ہوگا۔
آئی ایم سوری مجھے دروازہ تمہاری اجازت کے بنا کھولنا پڑا ۔اسے بیڈ پر گھٹنوں میں سر دیئے دیکھ کر وہ سمجھ چکا تھا کہ وہ رونے کا شغل فرما رہی تھی۔
وہ اپنی سرخ آنکھیں لیے اسے گھور رہی تھی یقیناً اسے اس کی غلطی کا احساس دلا رہی تھی ۔ایام اپنی بات مکمل کرتا اس کے بالکل پاس آ رکا تھا ۔
خیر کتنے دن تک تم یہ سوگ منانے کا ارادہ رکھتی ہو۔۔۔۔۔”
میں جانتا ہوں تم اس وقت دکھی ہوکسی بھی لڑکی کے لئے طلاق کوئی چھوٹی بات نہیں ہوتی لیکن جس طرح کے سعد کے ساتھ تمہارے تعلقات تھے اتنا رونا دھونا ویسے بنتا نہیں ہے تمہارا ۔
اور ویسے بھی مجھے تمہارے سعد کے لیے بہائے گے آنسو دیکھ کر اچھا بالکل نہیں لگ رہا ۔
وہ شخص تمہاری زندگی سے جا چکا ہے تمہیں چھوڑ چکا ہے لیکن پھر بھی تم اس کے لیے ان انمول موتیوں کو بہا رہی ہو ۔۔۔۔۔۔”
اس سے زیادہ تو مجھے تم پر غصہ آ رہا ہے میرا نہیں خیال کہ وہ شخص تمہارے آنسوں پر کوئی حق رکھتا ہے میں تمہیں رونے سے منع نہیں کروں گا یقینا اس شادی کے حوالے سے تم نے بہت سارے خواب سجائے ہوں گے ۔
لیکن اس شخص کے لئے تمہارے آنسو بہانہ بنتا نہیں ہے میں جانتا ہوں سعد کے ساتھ تمہارے کس طرح کے تعلقات تھے
ابھی تک تم دونوں میں ایسا کوئی رشتہ تھا ہی نہیں جس پر تم یوں بیٹھ کر آنسو بہاتی ۔میرے خیال میں اب یہ بہت ہو چکا ہے تمہیں ان سب چیزوں سے باہر نکل آنا چاہیے وہ بہت نارمل انداز میں کہہ رہا تھا ۔
میں ان کے نکاح میں تھی ۔وہ میرے شوہر تھے شاید آپ کے نزدیک ب میاں بیوی کے بیچ نکاح کا تعلق محبت کی وجہ نہیں ہوتا ہوگا لیکن میرے لئے ایسا نہیں ہے وہ شخص جو بھی تھا جیسا بھی تھا میں اس کے نکاح میں تھی ۔
اور مجھے یقین ہے کہ اس نے مجھے طلاق آپ کے کہنے پر دی ہوگی آپ نے کہا تھا نہ کہ وہ آپ سے بہت محبت کرتا ہے آپ کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے تو یقیناً یہ قدم بھی اس نے آپ کے لئے ہی اٹھایا ہوگا۔
وہ شاید بدگمانی کی آخری انتہا پر تھی شاید وہ اس گمان میں تھی کہ اب اگر اس کی زندگی میں کچھ بھی غلط ہوگا تو اس میں ایام کا ہاتھ ہوگا ۔
ہاں ایسا ہی ہے میں نے ہی کہا تھا اسے ایسا کرنے کے لئے اور وہ تو چھوٹا دودھ پیتا بچہ تھا نہ میں نے کہہ دیا ہیر کو طلاق دو اور سعد نے بس میرے کہنے پر تمہیں چھوڑ دیا ۔
بے وقوف لڑکی وہ آدمی اپنی سمجھ بوجھ رکھتا ہے یہ بات تمہیں سمجھ میں نہیں آرہی اس نے اپنی مرضی سے تمہیں چھوڑا ہے ہاں یہ سچ ہے کہ میں چاہتا تھا کہ وہ تمہیں چھوڑ دے لیکن اس کے پیچھے ایک بہت بڑی وجہ تھی ۔
اور یقین جانو جب تمہیں وہ وجہ پتا چلی نہ اپنی ہی نظروں میں گر جاؤ گی تم اور جس انسان کی وکالت کر رہی ہو نا اس کے منہ پر تھوکنا بھی اپنی توہین سمجھو گی ۔
خیر میرے پاس فضول وقت نہیں ہے سعد کے حوالے سے بات کر کے برباد کرنے کے لیے نیچے چل کر کھانا کھاؤ میری بیٹی صبح سے تمہاری وجہ سے پریشان ہے ۔
اور میں اسے پریشان نہیں دیکھ سکتا اب انکار مت کرنا کیونکہ جو شخص تمہارے کمرے میں بنا اجازت آ سکتا ہے وہ تمہیں اپنے ساتھ باہر لے جا کر تمہیں زبردستی کھانا بھی کھلا سکتا ہے
میں زبردستی کا قائل ہرگز نہیں ہوں مجھے ایسا کرنے پر بھی مجبور مت کرنا اور دوسری بات اب سعد کی وجہ سے تمہاری آنکھوں میں کوئی آنسو نہیں آنا چاہیے ۔
میں۔ابھی تمہیں آنسو بہانے کی ایک اور وجہ دیتا ہوں اسی ہفتے ہماری شادی ہے ۔اب اس بات پر بیٹھ کر جتنے آنسو بہانے ہیں بہا لو ۔وہ اپنی بات ختم کرتا کمرے سے نکلنے لگا تھا ۔
آپ کا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا مجھے طلاق ہوئی ہے اور آپ مجھ سے شادی کا مطالبہ کر رہے ہیں کیا آپ نہیں جانتے کہ ایک لڑکی تب تک کسی دوسرے شخص کے نکاح میں نہیں آسکتی جب تک اس کے پہلے شوہر سے عدت۔۔۔۔۔
عدت کی بھی کچھ کنڈیشنز ہوتی ہے ۔کیا تم اس شخص کے ساتھ رہی تھی کیا اس کے ساتھ کوئی حسین لمحات گزارے تھے کیا تم نے اپنے آپ کو اس کے حوالے کیا تھا نہیں نہ تو تم پر کوئی عدت فرض نہیں ہوتی ۔
تم دونوں نے ایک رات بھی ایک دوسرے کے ساتھ نہیں گزاری ۔شادی کی پہلی رات ہی وہ تمہیں چھوڑ کرچلا گیا تھا کیونکہ تمہاری خوبصورتی اور تم پر پہلے حق کی قیمت وہ وصول کر چکا تھا۔
تم یہ مت سوچنا کے سعد نے اپنی ٹینشن کی وجہ سے تمہاری طرف قدم نہیں بڑھائے ۔
نہیں اس نے یہ سب کچھ اس لئے کیا ہے کیونکہ وہ اپنی بیوی کو بنا ہاتھ لگائے کسی اور کو حوالے کرنے والا تھا ۔ان ٹچ لڑکی کی ڈیمانڈ تھی۔جس کی قیمت سعد نے وصول۔کی تھی۔وہ اس کے سامنے سعد کی حقیقت کھولتا اسے حیران کر گیا تھا۔
وہ بےیقینی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
تمہیں میری بات پر یقین نہیں آنے والا ہوگا کیونکہ تمہارے لیے سعد تو فرشتہ صفت انسان تھا ایک معصوم چھوٹا بچہ تھا بقول تمہارے یہ سب کچھ اس نے میرے کہنے پر کیا ہے ۔
تو تم بے شک یہ سوچ لینا لیکن اس انسان کی وجہ سے اب تمہاری آنکھوں میں آنسو نہیں آنا چاہیے یہ بات یاد رکھنا اور عدت کے حوالے سے اگر تم کچھ بھی جاننا چاہو تو میں تمہاری معلومات کے لیے مولوی صاحب کو یہاں بلاوا دوں گا ۔
لیکن اب سعد کی وجہ سے میں تمہاری زندگی کا ایک لمحہ بھی برباد نہیں ہونے دوں گا یہ بات یاد رکھنا تیاری کرو ۔بہت جلد ایام سکندر کی دلہن بننے والی ہو ۔
میں آپ کے ساتھ ایک لمحہ نہیں گزار سکتی ہوں اور آپ ۔۔،۔۔۔۔وہ غصے کی شدت سے اپنی بات مکمل ہی نہیں کر پا رہی تھی ۔
شاید اس کنڈیشن کو ہینڈل کرنے کے بارے میں اسنے سوچا بھی نہیں تھا ۔اس کے پاس اس شخص کو دینے کے لیے کوئی جواب ہی نہیں تھا ۔
آج یہ کہتی ہو کل اپنے بیان بدل لو گی ۔ڈارلنگ میری دسترس میں تو آؤ تمہاری سوچوں میں بھی ایام سکندر کے علاوہ کوئی نہیں آئےگا ۔
جلدی سے باہر آؤ میں جانتا ہوں میری اتنی خاص پرواہ نہیں ہے تمہیں اور نہ ہی تمہیں اپنی پرواہ کرنی ہے لیکن میری بیٹی تمہاری وجہ سے اداس ہے ۔
آج تک اس نے میری اتنی فکر نہیں کی جتنی تمہاری کرتی ہے تمہیں لے کر بہت خوبصورت جذبات رکھتی ہے ۔اور میں جانتا ہوں کہ تم میری بیٹی کے جذبات کو نظر انداز نہیں کرو گی ۔
وہ کہہ کر کمرے سے نکل گیا تھا جبکہ ہیر وہیں بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی ۔
°°°°°°°
اسے اس شخص کی کسی بات پر یقین نہیں تھا اس وقت اس کی حالت غیر ہو رہی تھی اس کا شوہر اس کا ساتھ چھوڑ چکا تھا وہ بھی بنا کسی وجہ کے ۔
جب کہ اس شخص کی تو بات ہی عجیب تھی وہ پتا نہیں اس کےساتھ کیا۔کر رہا تھا ۔
کتنے سکون سے کہہ دیا تھا کہ سعد اس کی خوبصورتی کی قیمت لگا چکا تھا ۔یہ شخص سعد اور اس کے بیج کے تعلقات کے بارے میں بھی بہت گہرائی سے جانتا تھا ۔
وہ جانتا تھا کہ سعد کے ساتھ اس کا تعلق صرف نکاح کے تین بولوں تک محدود ہے جو کہ اب وہ بھی ختم ہو چکا تھا ۔
یقیناً اسے یہ ساری باتیں سعد نے ہی بتائی تھیں اگر سعد خود اسے اپنے اور ہیر کی پرائیویسی کے بارے میں بتا چکا تھا تو پھر کیوں اس کے لیے آنسو بہا رہی تھی۔
کیوں اس خودغرض کے لئے رو رہی تھی جس نے اس کی عزت کی پرواہ نہ کی تھی اور وہ کیوں اُس کے بھائی کے گھر پر بیٹھی ہوئی تھی ۔
اب یہ شخص اسے روکنے کا کوئی حق بھی نہیں رکھتا تھا اب اگر سعد کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں تھا تو وہ سعد کے بھائی کے گھر پر بھی کیوں رہتی اس نے یہاں سے جانے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔
لیکن وہ جانتی تھی کہ یہ شخص آسانی سے جانے نہیں دے گا ۔
وہ اس کے ساتھ شادی کے لئے زبردستی نہیں کر سکتا تھا ۔اور نہ ہی وہ اس سے شادی کرنا چاہتی تھی ۔
بلکہ وہ اس شخص کے بارے میں ایسا کچھ سوچ بھی نہیں سکتی تھی یہ سچ تھا کہ روحی کے ساتھ اس کی دلی وابستگی تھی لیکن اس نے اتنا آگے تک کا نہیں سوچا تھا وہ روحی کے ذریعے اسے اپنی زندگی میں شامل کرنے کی پلاننگ کر رہا تھا ۔جو کہ وہ نہیں ہونے دے سکتی تھی ۔
اس کا سامان تو ویسے ہی پیکڈ تھا ۔بس اب اسے یہاں سے جانا تھا ۔وہ اپنی سوچوں میں گم تھی جب روحی بھاگتے ہوئے اس کے پاس آئی
مامادانی تھانا لد دیا ہے تلوتلو دلدی تلو ام تھاتے ہیں لوحی۔کو بوک لدی ہے (ماما جانی کھانا لگ گیا ہے چلو چلو جلدی چلو ہم کھاتے ہیں) روحی کو بہت بھوک لگی ہوئی ہے ۔روحی اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے معصومیت سے بولی تھی ۔
بیٹا مجھے بھوک نہیں ہے آپ جاکر کھانا کھا لو وہ پیار سے سمجھاتے ہوئے بولی جس پر روحی کا منہ بن گیا تھا یقیناً وہ اسے لینے کے لیے آئی تھی اور وہ اس کے ساتھ نہیں جا رہی تھی جس پر وہ اور بھی اداس ہو گئی ۔
ادر مامادانی تھانا نہ تھاِئیں دی تو لوحی بی نی تھائے دی لوحی بی بوکی رے دی(اگر ماما جانی کھانا نہیں کھائیں گی تو روحی بھی نہیں کھائے گی اور وہ بھی بھوکی رہے گی) ۔وہ اپنے ہونٹ باہر نکالے ناراضگی سے بھرپور انداز میں بولی ۔
روحی بیٹا ایسا نہیں کرتے میری جان وہ پیار سے سمجھانے لگی لیکن وہ منہ پھیر کر رونے کی مکمل تیاری کرنے لگی تھی ۔
اچھا بابا آئی ایم سوری چلو آؤ ہم کھانا کھاتے ہیں ۔اس کی معصومیت پر اس کا دل پگھل گیا تھا ۔جب کہ اس کے ہاں کرنے کی دیر تھی وہ خوش ہوگئی ۔
آپ چلو میں منہ۔ہاتھ دھو کر آتی ہوں ۔اس نے پیار سے اسے سمجھاتے ہوئے کہا جس پر روحی نے نفی میں سر ہلایا ۔
لوحی نی دائے دی ورنہ اپ درواجا پیتھے شے بند تر دو دی اول پر لوحی تے تینے پل بی نی تھولو دی (روحی نہیں جائے گی ورنہ آپ دروازہ پیچھے سے بند کر دو گی اور پھر روحی کے کہنے پر بھی نہیں کھولو گی) ۔اس نے اپنا ڈر بیان کیا ۔
اچھا بابا ہم ساتھ چلیں گے وہ پیار سے اس کے دونوں گال چومتے ہوئے بولی ۔جبکہ روحی اس کے ساتھ ہی واشروم میں بھی آئی تھی شاید وہ اب کوئی رسک نہیں لے سکتی تھی
°°°°°°
ہیر منہ ہاتھ دھو کر اس کے ساتھ ہی باہر آئی تھی وہ ٹیبل پر بیٹھا شاید ان کا منتظر تھا ۔ابھی تک اس نے بھی کھانا شروع نہیں کیا تھا ۔
کیا بات ہے روحی تم تو سچ میں اپنی ماما جانی کو لے آئی گڈ ۔میری تو کوئی بات نہیں سنی آپ کی مما جانی نے اس کے آنے پر اسے سچ میں خوشی ہوئی تھی اسے لگ رہا تھا کہ اس کی بیٹی بھی اداس لوٹ آئے گی ۔
میلی ماما دانی میلی شاری باتیں مانتی ہیں (میری ماما جانی میری ساری باتیں مانتی ہیں) ۔وہ اترا کر کہتی کرسی پر بیٹھی تھی ۔
جبکہ وہ کرسی گھسیٹ کر بیٹھتے ہوئے روحی کی ڈش میں کھانا ڈالنے لگی ۔
میں اب اس گھر سے جانا چاہتی ہوں میرا شوہر مجھے طلاق دے چکا ہے تو میرا نہیں خیال کہ اور میرا یہاں اس گھر میں رہنا بنتا ہے اور نہ ہی کوئی مجھے اب زبردستی یہاں روک سکتا ہے اس کے لہجے میں ضد میں تھی ۔
بے شک تم یہاں سعد کی بیوی بن کر آئی تھی لیکن ضروری نہیں کہ اس سے تمہارا تعلق ختم ہوگیا تو تم اس گھر سے کہیں بھی چلی جاؤ گی۔
پہلے بھی بتا چکا ہوں اب بھی بتا رہا ہوں خود کو مصیبت سے نکال کر وہ تمہیں پھنسا کر گیا ہے باہر جو لوگ تمہاری تلاش کر رہے ہیں وہ معمولی ہرگز نہیں ہیں۔
ان لوگوں کا تعلق انڈرورلڈ سے ہے مطلب کہ وہ پوری دنیا میں غیر قانونی کام کرتے ہیں ان کا سب سے بڑا کام عورتوں کی سمگلنگ کرنا ہے ۔
میں تمہیں یہ ساری باتیں نہیں بتانا چاہتا تھا لیکن شاید تمہیں میری بات سمجھ نہیں آرہی اسی لیے تمہیں بتا رہا ہوں کہ تمہارے شوہر نے تمہیں انڈرورلڈ کے ہاتھوں بیچ دیا ہے ۔
اگر تم محفوظ رہنا چاہتی ہو تو بہتر ہے کہ اس گھر کی چار دیواری کے اندر رہو اگر تم باہر نکلی تو وہ لوگ تمہیں کہاں لے کر جائیں گے تمہارے ساتھ کیا کریں گے یہ تمہاری آنے والی سات نسلوں کو بھی خبر نہیں ہوگی ۔
اور ویسے بھی اگر میں تمہیں یہاں سے جانے بھی دوں تو کہاں جاؤ گی تم اپنے اس بھائی کے پاس جو تمہیں سعد جیسے گھٹیا شخص کے حوالے کر کے ہمیشہ کے لیے چلا گیا تھا کہ شادی کے بعد کہیں تمہاری ذمہ داری اس کے کندھے پر نہ پڑ جائے ۔
یا پھر اپنے سابقہ شوہر کے گھر میں جو تمہیں پہلے ہی گھٹیا لوگوں کو بیچ چکا ہے یہ مت سوچنا کہ وہ تمہارا محافظ ہے یا وہ تمہاری عزت کو بچائے گا جو تمہیں بیچ سکتا ہے وہ تمہیں خود ان لوگوں کے حوالے بھی کر سکتا ہے ۔
ہاں میں تمہارے حق میں اچھا ثابت نہیں ہوا اور میں اچھا انسان ہوں بھی نہیں تم جو سوچتی ہو بالکل ٹھیک سوچتی ہو۔لیکن یقین مانو سعد اور تمہارے بھائی جتنا گھٹیا میں پھر بھی نہیں ہوں
اگر مجھے اپنی جان دے کر بھی تمہاری حفاظت کرنی پڑی تو میں ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچوں گا ۔
تم سے محبت کی ہے اور اس محبت کو مرتے دم تک نبھاؤں گا تم سے نکاح کر رہا ہوں تمہیں تحفظ دینے کے لیے تمہیں ان لوگوں سے بچانے کے لیے ۔
اور اس گھر سے باہر قدم نکالنے کے بارے میں سوچنا بھی مت ۔یہی تمہارے حق میں بہتر ہوگا
آج سے تم میری ذمہ داری ہو میری عزت ہو اور یقین جانو ایام سکندر کو اپنی عزت بچانے کے لیے تمہاری ٹانگیں کاٹ کر تمہیں گھر پر رکھنا پڑا تو اس کے لئے بھی پیچھے نہیں ہٹے گا
۔مجھے چیلنج مت کرو آئی ہیٹ چیلنجز ۔وہ اپنی بات مکمل کرتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا گھر سے نکل گیا تھا جب کہ جو نقشہ اس نے انڈر ورلڈ کا اس کے سامنے کھینچا تھا وہ اس کی ذات کو ہلانے کے لیے کافی تھا
