60.8K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Wehshat E Junon) Episode 17

°°°°°°°
میں آپ کو کل سے فون کرنے کی کوشش کر رہی ہوں امی جان آپ فون کیوں نہیں اٹھا رہی تھیں آپ جانتی ہیں میں کتنی زیادہ پریشان ہوں ۔یہاں میری حالت خراب ہو رہی تھی۔اگر آپ اب بھی فون نا کرتی تو نجانے کیا ہوتا۔۔۔۔۔۔”
آپ کو پتہ ہے یہاں کیا ہوا ہے وہ ایام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
پلیز بیٹا میری بات سنو اس وقت ہم بہت بڑے مسئلے کا شکار ہو چکے ہیں ۔سعد نے ان سب لوگوں کو عام سے غنڈے سمجھ رکھا تھا لیکن ان کا تعلق انڈرورلڈ سے ہے ۔ہمہیں اندازہ بھی نہیں تھا کہ یہ لوگ اتنے خطرناک ہوں گے۔
ایام نے تمہیں سب کچھ بتا دیا ہو گا ۔اب ہم جس مصیبت میں پھنس چکے ہیں اس میں سے ہمیں کوئی نہیں نکال سکتا ۔میرے بیٹے سے غلطی ہوگئی ہے اس نے سوچا تھا ۔
کہ ہم پیسے لے کر بھاگ جائیں گے ۔اور یہاں سے دور جا کر اپنی خوشحال زندگی کی شروعات کریں گے ۔لیکن اس کا انجام ایسا ہو گا ۔ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔یہ اتنی بڑی مصیبت بن جائے گی۔
ہمہیں لگتا تھا کہ وہ کبھی بھی ہم تک نہیں پہنچ پائیں گے لیکن یہ ہو جائے گا یہ تو ہم نے سوچا بھی نہیں تھا ۔
یہ الگ الگ گروہ ہیں ان کی آپس میں دشمنیاں ہیں جس میں سعد پھنس چکا ہے۔یہ دونوں گروہ سعد کو دھمکیاں دے رہے ہیں ۔اب اس کا کوئی حل نہیں ہے میں خود سوچ سوچ کر پریشان ہو چکی ہو رو رو کر ہلکان ہو رہی ہوں۔
ایک طرف میں اپنا بھائی کھو چکی ہوں تو دوسری طرف بیٹے کی جان کو ہر وقت خطرہ ہے ۔وہ لوگ کبھی بھی کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔وہ کسی کی جان لینے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگاتے
وہ ایک ہی سانس میں بولے جا رہی تھی جب کہ ہیر کو ان کی کوئی بھی بات سمجھ نہیں آرہی تھی ۔اور اب تو انہوں نے باقائدہ رونا شروع کردیا تھا
امی جان آپ کیا کہہ رہی ہیں مجھے آپ کی کوئی بات سمجھ میں نہیں آرہی کونسی مصیبت یہ کون سے گروہ کی بات ہو رہی ہے کس سے خطرہ ہے سعد کو ۔مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا آپ کہنا کیا چاہتی ہیں
وہ ان کی بات کاٹتے ہوئے کہنے لگی جبکہ دوسری طرف اسے انجان سوچ کر امی بھی پریشان ہوگئی تھیں۔
ابھی تک وہ کچھ بھی نہیں جانتی تھی ۔ایام نے اسے کچھ بھی نہیں بتایا تھا بلکہ اس نے ان کی کوئی بات سنی ہی نہیں تھی ۔
شاید ایام اسے کچھ نہیں بتانا چاہتا تھا
بیٹا یہاں کچھ لوگ آ گئے ہیں میں تم سے بعد میں بات کرتی ہوں امی نے بس اتنا کہہ کر فون بند کر دیا ۔
جب کہ وہ پریشانی سے اپنے فون کو گھورنے لگی اب تو اس کا تجسس بڑھ گیا تھا کس چیز کے بارے میں بات ہو رہی تھی امی نے اپنی بات ادھوری کیوں چھوڑ دی سعد کو کس سے خطرہ تھا ۔کون تھے جو سعد کو مارنا چاہتے تھے۔اور کیوں۔۔۔۔۔۔؟
بہت سارے سوال اس کے دماغ میں گردش کرنے لگے اور اس کا جواب صرف ایام کے پاس تھا ۔وہ جلدی سے اپنا دوپٹہ سرپر لیتے کمرے سے باہر نکلی تھی وہ سب کچھ جاننا چاہتی تھی اس آدھے ادھورے قصے نے اس کے دماغ پر بہت برا اثر چھوڑا تھا
وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکلی۔اس کے سوالوں کا جواب صرف ایام کے پاس تھا۔
لیکن ہر طرف اندھیرا دیکھ کر اس نے اپنے قدم روک دیے تھے اس وقت اس کا ایام کے کمرے کی جانب نکل مناسب نہیں تھا اسے صبح ہونے کا انتظار کرنا چاہیے ۔
اسی سوچ کے ساتھ وہ اپنے کمرے میں لوٹ آئی تھی لیکن اسے ساری رات نیند نہ آئی ۔یہ سارے سوال اور امی کی باتیں اس کے دماغ میں گھومتے رہے تھے ٹینشن سے اس کا برا حال تھا۔
اور اس ٹیشن سے اسے صرف اللہ پاک ہی بچا سکتے تھے۔اس نے جائےنماز بچھا کر اپنے خدا کے حضور جھک کر دعا مانگی تھی۔کہ اس کے شوہر کے سر سے ہر میصبت ٹل جائے۔اور وہ صیح سلامت واپس آ جائے۔
°°°°°°
صبح ہوتے ہی وہ کمرے سے نکل آئی تھی نہ جانے ایام نے کب تک آنا تھا لیکن وہ اس کے جاگنے کا انتظار کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کر سکتی۔ تھی۔ ویسے بھی تو اس نے ساری رات یہی کیا تھا کچھ دیر اور سہی ۔
اسے ایک لمحے کےلیے بھی نیند نہ آئی تھی۔سعد کی جان کو خطرہ ہے اس سوچ نے ہی اسے سکون نہ لینے دیا تھا۔
تانیہ نے اسے آ کر ناشتے کے لئے پوچھا تھا ۔جس پر اس نے انکار کر دیا تھا اس کے علاوہ اس نے اور کوئی فالتو بات نہیں کی تھی اور نہ ہی اس کے پاس آ کر بیٹھی تھی ۔یہاں تک کہ وہ رات کو اس کے کمرے میں بھی نہ رکی تھی۔
اس وقت وہ خود بھی تانیہ کےمنہ سے ایام کی تعریف سننے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی تھی ۔
وہ شخص کیسا تھا آہستہ آہستہ اس پر کھل رہا تھا اچھے انسان کا مکھوٹا پہنے وہ اندر سے ایک الگ ہی انسان تھا اگر اسے بہروپیہ کہا جائے تو غلط نہیں تھا ۔نجانے اس کے کتنے روپ تھے۔
دنیا کے سامنے وہ بہت اچھا بن کر گھوم رہا تھا لیکن اس کے اندر کوئی اور ہی شخص تھا ہیر اس کی آنکھوں سے اس کے اندر موجود انسان کو پہچاننے کی کوشش کر رہی تھی ۔لیکن شاید یہ ناممکن تھا۔
تانیہ کے لئے وہ ایک فرشتہ صفت انسان تھا لیکن ہیر کے لیے وہ ایک شیطان تھا ۔اور ابھی تک اس نے اس شیطان کی صرف ایک ہی جھلک دیکھی تھی جس میں وہ سعد کو کچھ بھی کرنے کی دھمکی دے رہا تھا ۔
اسے تو لگ رہا تھا اگر سعد کے ساتھ اگر کچھ برا ہو رہا ہے تو اس میں بھی اسی کا ہاتھ ہے ۔اسے لگ رہا تھا کہ اس کی زندگی میں جو بھی کچھ غلط ہو رہا ہے اس میں اس شخص کا ہاتھ ہے ۔
ہیرکا خوبصورت چہرہ یقیناً اس شخص کی نظر میں آ چکا تھا اور وہ اسے اپنی انٹرٹینمنٹ کا سامان بنانا چاہتا تھا لیکن ہیر کے انکار نے اس کی مردانہ انا کو جگا دیا تھا ۔
جتنامغرور اور امیر وہ شخص تھا یقینا یہ بات وہ برداشت نہیں کر سکتا تھا کہ کسی لڑکی نے اسے ریجیکٹ کر دیا ہے ۔
اور یہی ریجیکشن اس سے برداشت نہیں ہو رہی تھی۔جس کا وہ بدلا لینا چاہتا تھا۔اس کے انکار کو وہ اپنے لیے چیلنج سمجھ بیٹھا تھا۔اور اب اپنی ذات کی تسکین کے لیے وہ کچھ بھی کر سکتا تھا شاید اس سے شادی بھی۔
اسی کی وجہ سے وہ سعد کو نقصان پہنچا رہا تھا سعد کے بارے میں جو بھی باتیں سے سننے کو مل رہی تھی سب کچھ اس کی چال تھی یا پھر شاید وہ سعد کو پھنسا کر اپنا مقصد پورا کرنا چاہتا تھا ۔
وہ اسے شادی کی آفر کر رہا تھا جس کے پیچھے کی وجہ یقینا وہ اپنی بیٹی کے لئے ایک ماں اور اپنے لئے انٹرٹینمنٹ کا سامان چاہتا تھا اس کی خوبصورتی پر اس کا دل آ گیا تھا اور جس دن اس کا دل بھر جاتا
یقیناًوہ روحی کی ماں کی طرح اسے بھی چھوڑ دیتا۔اسے یقین ہو چکا تھا روحی کی ماں کے ساتھ بھی اس نے کچھ نہ کچھ غلط ہی کیا تھا
ورنہ ایک ماں کتنی ہی مجبور کیوں نہ ہو اپنی اولاد کو چھوڑ کر کبھی نہیں جا سکتی اور روحی سی معصوم سی بچی کو چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلا ماں کا دل کر سکتا تھا اپنی بیٹی کو چھوڑنےکا۔ وہ ایک غیر ہو کر اس کے لیے اتنے خوبصورت احساس رکھتی تھی تو وہ تو اس کی ماں تھی ۔
اسے ایام کی ساری چال سمجھ آ چکی تھی وہ صرف اس کے ساتھ وقت گزارنے کا خواہش مند تھا ۔وہ اپنی سوچوں میں گم تھی جب اسے روحی کی میٹھی سی آواز سنائی دی وہ اس سے باتیں کرتے ہوئے باہر آرہی تھی ۔
ریڈ کلر کے فراک میں بالکل چوٹی سی گڑیا لگ رہی تھی ۔جب کہ ایام کے کسرتی بازو میں وہ اپنی عمر سے بھی کم لگتی تھی ۔
اسے دیکھتے ہی وہ اٹھ کر کھڑی ہوگئی اسےصرف اپنے سوالوں کے جواب چاہیے تھے اسے اپنے انتظار میں دیکھ نجانے کیوں اسے خوشی ہوئی تھی تو مسکرا کر آگے بڑھا ۔
روحی ماما جانی کو گڈ مارننگ وش کرو جیسے باباجانی کو کرتی ہو۔وہ روحی کو اس کے حوالے کرتے ہوئے بولا۔
گد مننگ مامادانی (گڈمارننگ ماما جانی) وہ خوشی سے بولی۔جبکہ وہ کچھ نہیں بول پائی ۔لیکن وہ اس معصوم کا دل بھی خراب نہیں کر سکی تھی۔اس لیے اس کے وش کرنے پر نرمی مسکرا دی۔جب کہ وہ انہیں آپس میں لگے دیکھ آگے قدم بڑھا چکا تھا
مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔وہ۔اچانک سے بولی تھی۔وہ۔پلٹ آیا
جی فرمائیں ۔وہ۔مسکرا کر اسے ناشتے کی میز کی طرف چلنےکا اشارہ کرنے لگا۔
آپ کل سعد کے بارے میں مجھے کیا بتانا چاہتے تھے۔وہ یونہی کھڑی بولی۔جب ایک ملازم تیزی۔سے اندر آیا۔
سر یہ پارسل میم کےلیے آیا ہے ۔سعد سر کی طرف سے وہ پارسل ہیر کو دیتے ہوئے بولا۔
کیا ہے اس میں وہ پارسل کھولتے ہوئے بولی۔
میرے خیال میں پہلے تمہیں ناشتہ کرنا چاہے۔ایام نے اسے دیکھ کر کہا۔
لیکن وہ اگنور کرتی پارسل کھول چکی تھی جس میں کچھ پیپرز تھے۔
سعد نے مجھے پیپرز کیوں بھیجیں ہیں ۔وہ پریشان سی پیپرز کھولنے لگِی۔جبکہ ایام۔خاموشی سے روحی کو اس کی گود سے لے کر آگے بڑھ چکا تھا۔جب اسے پیچھے سے کسی کے گرنے کی آواز سنائی دی تھی۔اس نے گہرا سانس لیا۔اور پیچھے مڑکراسے دیکھا۔
جہاں وہ بے حواس پڑی تھی۔تانیہ بھاگ کر اس کے پاس آئی ۔جبکہ ملازم نے ڈاکٹر کو فون کیا۔
روحی بھی اس کی گود سے نکل کر بھاگی تھی۔
مامادانی۔تو تیا ہوا (ماما جانی کو کیا ہوا)وہ آنکھوں میں حیرانگی لیے کبھی ہیر کو تو کبھی اپنے باپ کو دیکھ رہی تھی۔
اس نے آگے بڑھتے ہوئے اس کا نازک سا وجود اپنی باہوں میں بھرا اور یونہی اٹھا کر اسے اپنے کمرے میں لے آیا۔
°°°°°°°
انہیں جھٹکا لگا ہے۔کسی بات کی بہت ٹیشن لی ہے انہوں نے اس لیے ان کی حالت اتنی خراب ہوئی ہے ۔یہ شدید قسم کے ذہنی دباو کا شکار ہیں ۔آپ ان کا خاض خیال رکھیں ۔اور ٹیشن سے دور رکھیں ۔ڈاکٹر اسےچیک کرنےکےبعد تفصیل سے بتا رہی تھی۔
شکریہ ڈاکٹر ہو سکتا ہے آپ کو دوبارہ زحمت دینی پڑے ۔
کوئی بات نہیں یہ میرا فرض ہے ۔وہ الودعی کلمات ادا کرتی باہر نکل گئی۔
تانیہ اور روحی اس کے پاس ہی بیٹھی تھیں جبکہ وہ ہاتھ میں سعد کے بھجیے ہوئے پیپرز پکڑے ہوئے پڑھ رہا تھا۔
سعد کا یہ قدم ہیر کےلیے اچھا ثابت ہو سکتا تھا۔لیکن یہ ہیر کے لیے جھٹکا بہت بڑا تھا۔
سعد اسے اپنی زندگی سے نکال چکا تھا۔بلکہ خود کو ہر مصیبت سے نکال چکا تھا کہنا زیادہ بہتر تھا۔
ہیر اس وقت بہت بڑی مصیبت میں پھنسے ہوئے تھی سعد کو اندازہ بھی نہ تھا کہ وہ ہیر کو اپنی زندگی سے نکال کر اسے کتنی بڑی مصیبت کے حوالے کر رہا تھا۔
سعد کو یہ لگ رہا تھا کہ اگر ہیر اس کی زندگی سے نکل جائے گی تو اس کی زندگی یہ مسئلہ حل ہوجائے
لیکن اب یہ مسئلہ حل ہوتا ہے یا مزید بڑھتا ہے یہ تو ایام نےہی دیکھنا تھا
اس وقت تو اسے ہیر کی فکر ہو رہی تھی جو اپنے ہوش و حواس میں ہی نہیں تھی جب سے اس نے سعد کی طرف سے طلاق نامہ پڑھا تھا وہ بے ہوش تھی
اسے سمجھ نہیں آ رہی کہ ۔ سعد کو اتنی جلد بازی کرنے کی ضرورت کیا تھی اسے یہاں آکر ہیر کو اپنا مسئلہ سمجھآنا چاہیے تھا اس کے بعد اسے اتنا بڑا فیصلہ کرنا چاہیے تھا ۔
اس نے بہت بزدلی کا ثبوت دیا تھا اپنا مسئلہ بتائے بنا اسے کچھ بھی سمجھاۓ بنا یوں اچانک اسے اپنی زندگی سے الگ کر دیا تھا
ہاں یہ سچ ہے اس نے سعد کو کہا تھا کہ تم ہیر کو چھوڑ دو لیکن اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ وہ ہیر کو اس طرح بے اسرا وبے سہارا چھوڑ دیتا ۔
سعد اسے اتنا بزدل کبھی بھی نہیں لگا تھا وہ ہیر کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا وہ کتنے دنوں سے اس سے بات نہیں کر رہا تھا ان دونوں کا رابطہ ختم ہو چکا تھا یہ ساری بات ایام جانتا تھا ۔
لیکن یہ جو حرکت اس نے کی تھی وہ سچ میں ناقابل قبول تھی نہ جانے ہیر کے دماغ پر ان سب چیزوں کا کیا اثر پڑتا ہے
°°°°°°°
ہیر اب کیسا محسوس کر رہی ہو تم تانیہ اس کے پاس بیٹھی ہوئی تھی جب اسے ہوش آیا جب کہ روحی تو اس کی آنکھیں کھولنے پر شور مچاتے کمرے سے باہر نکل گئی تھی ۔
شاید نہیں یقیناوہ اپنے باپ کو بتانے گئی تھی کہ وہ جاگ گئی ہے جبکہ ہیر ہر طرف دیکھتی کنفیوز سی اٹھ کر بیٹھ گئی تھی ۔
اس وقت وہ عجیب طرح کے کشمکش کا شکار تھی اسے سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ اس کے ساتھ ہوا کیا ہے ۔
میں تمہارے لئے کچھ بنا کر لاتی ہوں مجھے تمہاری حالت ٹھیک نہیں لگ رہی ہیر۔تم نے میڈیسن بھی لینی ہے ایسا کرتی ہوں تمہارے لیے دلیا بنا دیتی ہوں یا پھر یخنی بہتع رہے گی اس سے بہتر تم ہو جاو گی ۔
تم جلدی سے فریش ہو جاؤ ۔فلحال کسی بات کو سوچنے کی ضرورت نہیں ہے ڈاکٹر نے تمہیں ٹینشن لینے سے منع کیا ہوا ہے تو ذہنی دباؤ کا شکار ہو ۔اور یہ ذہنی دباؤ تمہارے لئے بہت برا ثابت ہو سکتا ہے ۔
سر نے کہا تھا تمہارے ہوش میں آتے ہی ایک بار پھر سے ڈاکٹر کو بلائیں گے ۔ابھی روحی گئی ہے انہیں بتانے کے لئے تم اٹھ کر فریش ہو جاؤ ڈاکٹر دوبارہ آئے گی تمہیں چیک کرنے کے لئے میں تو پریشان ہوگئی تھی کہ اللہ جانے تمہیں کیا ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔”
ہیرمیں جانتی ہوں ان سب چیزوں کو قبول کرنے میں تمہیں وقت لگے گا لیکن ایک بات میں یاد رکھنا۔
اس دنیا میں جو بھی ہوتا ہے وہ اللہ پاک کی رضا سے ہوتا ہے لیکن جو شخص تمہارے قابل ہی نہیں تھا۔
جو خود بہت تمہارے راستے سے ہٹ گیا اس میں اتنی ہمت بھی نہ تھی کہ تمہارے سامنے آکر روبرو ہو کر تمہیں یہ فیصلہ سناتا ۔وہ تمہارے قابل کبھی نہیں ہو سکتا
لیکن یقینا یہ سب کچھ میری زندگی میں نہیں ہوا تبھی میں اتنی بے فکر ہو کر اس پہ کمنٹ کر رہی ہوں جو سہتا ہے وہی جانتا ہے کہ یہ کیسا ہے میں تمہارا درد نہیں سمجھ سکتی ہیر لیکن تمہارے لیے دعا کر سکتی ہوں ۔
اللہ پاک تمہیں جلد سے جلد اس چیز سے باہر نکالے تم فریش ہو جاؤ میں تمہارے لئے کچھ لاتی ہوں کھانے کے لئے ۔
اللہ پاک تمہیں صبر دے ۔وہ پیار سے اس کے گال چھوتی اٹھ کر باہر نکل گئی تھی جبکہ اس کی باتیں سننے کے بعد بھی وہ خالی خالی نظروں سے دروازے کی جانب دیکھتی رہی ۔
°°°°°°
کیسی ہو تم اب کیسا محسوس کر رہی ہو وہ کمرے میں داخل ہوتے ہوئے اس سے پوچھنے لگا جب کہ وہ بنا جواب دیےنظریں پھر گئی تھی ۔
میں جانتا ہوں یہ وقت تمہارے لئے مشکل ہے . . . ۔۔۔۔۔۔
پلیز خدا کے لیے مجھ سے یہ ساری ہمدردیوں والی باتیں مت کرے میری سعد سے بات کروائیں وہ اپنے فون پر لگی ہوئی تھی اس کی بات کاٹتے ہوئے بولی ۔
اب اس سے بات کر کے کیا کرو گی تم وہ تمہیں طلاق دے چکا ہے اب وہ تمہارے لیے نا محرم ہے اور میں تمہیں کسی نامحرم سے بات کرنے کی اجازت نہیں دوں گا ۔
وہ کافی سرد اور ٹھہرےہوئے انداز میں بولا تھا ۔
آپ نے کہہ دیا اور میں نے مان لیا کیا لگتا ہے آپ کو کہ آپ کی یہ چال میں کامیاب ہونے دوں گی ۔
نہیں میں آپ کی اس چال کو کامیاب نہیں ہونے دوں گی سعد میرے شوہر ہیں۔ تب تک جب تک وہ خود میرے سامنے آ کر مجھے طلاق نہیں دیتے ۔اس طرح کے کسی کاغذ کو میں نہیں مانتی
سعد میرا فون نہیں اٹھا رہے کیونکہ آپ نے انہیں پتہ نہیں کہاں پہنچایا ہے اور پھر آپ اپنے کسی ملازم سے کہہ کر طلاق کے جھوٹے کاغذ تیار کرواتے ہیں اور مجھ پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ مجھے طلاق ہوگئی ہے ۔
میں نہیں مانتی ان جھوٹے کاغذوں کو اگر سعد نے ایسا کچھ بھی کیا ہوتا تو کم ازکم وہ مجھے وجہ بتاتے ۔
اس طرح سے مجھے اپنی زندگی سے بے دخل نہیں کرتے اور نہ ہی کاغذات بھیجتے وہ میرے رو برو آکر خود مجھے اپنا فیصلہ سناتے اور اس فیصلے کی وجہ بھی بتا تے ۔
مرد میں کم از کم کتنی دیر میں ہمت ہوتی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کسی عورت کو اپنی زندگی میں شامل کرے اور اسے اپنی زندگی سے نکال دے ۔
وہ اسے دیکھتے ہوئے بے حد سے بولی تھی۔ جبکہ اس کے ہاتھ مسلسل سعد کا فون نمبر ملا رہے تھے ۔
مطلب تم چاہتی ہو کہ سعد تمہارے رو برو آکر تمہیں طلاق دے ۔فاین یہ بھی کر کے دیکھ لو وہ اپنے موبائل فون نکالتا سعد کو ویڈیو کال ملا چکا تھا ۔
السلام علیکم لالہ میرے بھیجے ہوئے کاغذات ہیر کو مل گئے ہیں اس نے فون اٹھاتے ہی پہلا سوال یہی کیا تھا ہیر کے دل میں درد سا جگا تھا ۔
ہاں اسے کاغذات مل گئے ہیں باقی وہ تم سے مزید بات کرنا چاہتی ہے
لالہ میں اس سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتا بس اسے بتا دیجئے کہ میری طرف سے فارغ ہے وہ اپنی زندگی میں آگے بڑھ جائے اللہ پاک اسے میرے گناہوں کی سزا نہ دے ۔اس کے علاوہ میں اسے اور کچھ نہیں کہہ سکتا اسے کہیے گا کہ ہو سکے تو مجھے معاف کر دے ۔
میں جانتا ہوں ہیر وہی آپ کے سامنے بیٹھی ہوگی میں اپنے پورے ہوش و حواس میں اسے طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں ۔اس نے بس اتنا کہا تھا اور ہیر کی دنیا لٹ گئی
وہ اس کے موبائل پر سعد کو بہت آسانی سے دیکھ پا رہی تھی جبکہ وہ سعد کے سامنے نہیں تھی اس نے فون بند کر کے اسےدیکھا ۔
میرا نہیں خیال کہ تمہیں مزید کوئی ثبوت چاہیے ۔اب تو اسے بھی میری چال سمجھو یا اپنی قسمت کا فیصلہ ۔لیکن جتنا جلدی ہو سکے ان سب چیزوں سے باہر نکل آؤ ۔میں اب مزید انتظار نہیں کروں گا ۔
بس اتنا کہہ کر وہ کمرے سے نکل گیا تھا جبکہ کمرے سے نکلتے ہی اسے اونچی اونچی آواز میں ہیر کے رونے کی آواز سنائی دے رہی تھی ۔
اس کا دل چاہا کے وہاں سے اپنے سینے سے لگا کر اس کا ہر درد خود میں جذب کر لے لیکن فی الحال وہ ایسا کوئی حق نہیں رکھتا تھا اس نے بہت مشکل سے اس نے اپنے قدموں کو آگے کی طرف بھرنے کی کوشش کی تھی
°°°°°°°