60.8K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Wehshat E Junon) Episode 16

°°°°°°
وہ کمرے میں آئی ‘اس کا غصے سے برا حال تھا ۔اس نے ایک لمحہ بھی یہاں نہ رکنے کا فیصلہ کرلیاتھا۔اپنا بیگ نکالتے ہوئے اس نے اپنا سامان الماری سے نکالنا شروع کر دیا تھا ۔
یہ شخص اس حد تک جا سکتا ہے یہ تو اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا ۔وہ سمجھتا کیا ہے اسے کہ وہ جو کہے گا ہیر وہی کرے گی ۔۔۔۔۔۔”وہ کیا اس کے حکم کے غلام تھی ۔۔۔۔۔۔؟
کوئی کٹھ پتلی تھی جو اس کے ہاتھوں کے اشارے پر ناچتی ۔۔۔۔۔۔۔؟
وہ کسی کی بیوی تھی ۔کسی کی عزت تھی۔اور وہ شخص اس پر اس طرح سے حق جتا رہا تھا ۔
اب تو اس گھر میں وہ ایک سیکنڈ مزید نہیں رکنا چاہتی تھی۔ اپنا سارا ضروری سامان پیک کرتے ہوئے اس نے اپنے بیگ کی زپ لگائی تھی ۔جب کمرے میں تانیہ داخل ہوئی۔
یہ تم کیا کر رہی ہو ہیر یہ سب پیک کیوں کر رہی ہو ۔۔۔۔۔؟
وہ پریشانی سے اس کے بیگ کو دیکھتے ہوئے اس سے پوچھنے لگی ۔
یہ تم مجھ سے پوچھ رہی ہو تانیہ ۔۔۔۔۔؟ کیایہ سب کچھ دیکھنے کے بعد بھی کچھ پوچھنا باقی ہے وہ انسان پاگل ہو چکا ہے دماغ خراب ہو چکا ہے اس کا ۔۔۔۔”
میری بھول تھی جو میں اسے ایک شریف انسان سمجھ رہی تھی ۔وہ اتنا گھٹیا اور غلیظ انسان ہے کہ حد نہیں ۔میں ایک سیکنڈ مزید اس گھر میں نہیں رہ سکتی سمجھ کیا رکھا ہے اس نے مجھے۔وہ جو چاہے کرتا پھرے گا اور میں خاموشی سے سب برداشت کرتی رہوں گی ۔
وہ جو کہے گا جیسا کہے گا خاموشی سے میں سنتی رہوں گی ۔وہ اور لوگ ہونگے جو اس کے اشاروں پر چلتے ہوں گے ۔
میں مزید اس کے اس گھر میں نہیں رہوں گی مجھے نہیں چاہیے کسی قسم کی کوئی بھی پروٹیکشن میں یہ گھر چھوڑ کر جا رہی ہوں اور اسے بتا دینا تم ۔
وہ ہوتا کون ہے مجھ پر حق جتانے والا اگر میرے شوہر نے اسے چند دن کے لئے میری ذمہ داری دے دی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مجھے اپنی بیوی ہی سمجھ لے ۔
ہیر پیلز ریلیکس ہو جاؤ آرام سے بیٹھ کر میری بات سنو تم کیا بولے جا رہی ہو
وہ اسے تھام کر بیڈ پر بٹھاتے ہوئے کہنے لگی تھی اس کے غصے کو وہ بہت اچھے طریقے سے سمجھ رہی تھی ۔
ہیر کی جگہ کوئی بھی لڑکی ہوتی تو شاید اسی طرح سے ری ایکٹ کرتی۔
لیکن دوسری طرف ایام سکندر تھا وہ خود یہ امید نہیں رکھتی تھی اس سے کہ وہ اس طرح کا کچھ کرے گا ۔
لیکن روحی اسے ماما کہہ کر بلا رہی تھی تو مطلب صاف تھا کہ وہ اس کے بارے میں بہت کچھ سوچے ہوئے ہے۔ شاید وہ اس کے ساتھ اپنا فیوچر پلان کر رہا ہے ۔
لیکن وہ ایک شادی شدہ لڑکی ہے اور وہ کسی غیر کی نہیں بلکہ اس کے اپنے کزن کی بیوی ہے وہ اس کے بارے میں ایسا کیسے سوچ سکتا تھا ۔۔۔۔۔”
ہیر کا غصہ اسے جائز لگ رہا تھا لیکن وہ ایام کے لیے غلط لفظ استعمال کر رہی تھی ۔
ایام ایسا انسان ہرگز نہیں تھا جیسا ہیراسے سمجھ رہی تھی نہ جانے اس کے لئے وہ اس طرح سے کیوں سوچنے لگا تھا حالانکہ اس نے ہمیشہ ایام کو سب لوگوں کے حق میں بہتر ہی پایا تھا ۔
میں نہیں بیٹھ سکتی ریلیکس ہو۔کر نہ ہی میں یہاں رہوں گی مجھے یہاں سے جانا ہے اور تم میرے راستے میں ہر گز مت آنا۔
وہ اسے باہر نکال کر اپنا سامان لیے باہر نکلنے لگی تھی ۔جب کہ تانیہ اس کے پیچھے پیچھے ہیں قدم اٹھاتی باہر نکلی
°°°°°°°
وہ اپنا سامان نیچے لےآئی تھی اور بنا کسی کو بھی مخاطب کیے وہ دروازے کی طرف بڑھنے لگی ۔سب ملازمین اسے حیرانگی سے دیکھ رہے تھے ۔تھوڑی دیر پہلے یہاں جو تماشہ ہوا وہ سبھی نے دیکھا تھا ۔
اسی لیے وہ مزید کوئی تماشہ نہیں لگانا چاہتی تھی وہ تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی جب اچانک دروازے پر کھڑے دونوں گارڈز اس کے سامنے آگئے ۔
راستہ چھوڑو میرا ۔۔۔۔۔۔”مجھے جانا ہے یہاں سے وہ بے حد غصے سے ان سے مخاطب ہوئی تھی ۔
نہیں میڈم آپ کی جان کو باہر خطرہ ہے ہم آپ کو کہیں بھی نہیں جانے دے سکتے سر نے ہمیں سختی سے منع کر رکھا ہے ۔
آپ اس گھر سے باہر نہیں نکل سکتی ہٹےکٹے گارڈز نے نرمی سے سر جھکا کر اسے سمجھاتے ہوئے کہا تھا ۔
تمہارا سر ہوتا کون ہے مجھے روکنے والا میں کہتی ہوں میرا راستہ چھوڑو میں جیوں یا مروں یہاں موجود کسی انسان سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے ۔اور نہ ہی کوئی مجھے یہاں روک سکتا ہے
ہٹو سامنے سے وہ اپنا غصہ کنٹرول کیے بنا بولی تھی ۔
میم پلیز سمجھنے کی کوشش کریں ہم آپ کو اس طرح سے باہر نہیں جانے دے سکتے ۔آپ پر پہلے بھی حملہ ہو چکا ہے وہ لوگ آزاد ہو چکے ہیں جیل سے بھاگ گئے ہیں وہ دوبارہ آپ پر حملہ کر سکتے ہیں سر ہم پر غصہ ہوں گے ہمیں نوکری سے نکال دیں گے ۔گارڈ اسےسمجھاتے ہوئے بولا
میری طرف سے بھاڑ میں جاؤ تم سب بس میرا رستہ چھوڑو یا میں اب پولیس کو کال کروں وہ دھمکی دیتے ہوئے بولی تھی جبکہ گارڈ ایک طرف ہو کر کھڑے ہوگئے کیونکہ پیچھے سے کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی تھی ۔وہ سمجھ چکی تھی کہ اس کے پیچھے کون ہے لیکن اس نے پلٹ کر نہیں دیکھا
°°°°°°°
کیوں فضول میں ہلکان ہو رہی ہو لڑکی شاید میری بات سمجھ میں نہیں آئی
اس گھر سے تم کہیں بھی نہیں جا سکتی واپس اپنے کمرے میں جاؤ۔اور اپنے آپ کو پرسکون کرو ۔ بہت جلد میں تمہارے حق میں ایک بہترین فیصلہ کر لوں گا ۔
وہ سنجیدگی سے لفظ ادا کرتے ہوئے اس کی طرف آ رہا تھا جب کہ وہ غصے سے پیچھے مڑ کر اسے دیکھنے لگی ۔
دیکھیے ایام سکندر صاحب میرا آپ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اگر تعلق ہے بھی تو صرف اتنا کہ میں آپ کے کزن کی بیوی ہوں ۔ آپ فضول میں ان سب چیزوں میں مجھے گھسیٹ رہے ہیں۔
میں نہیں جانتی کہ آپ کے دماغ میں کیا چل رہا ہے لیکن مجھے یہاں نہیں رہنا میں اپنے شوہر کے پاس جانا چاہتی ہوں ۔یقینا یہ سب آپ اپنی انا کی تسکین کے لئے کر رہے ہیں شاید آپ مجھ سے کل رات کے تھپڑ کا انتقام لینا چاہتے ہیں وہ خود ہی اندازہ لگاتے ہوئے بولی ۔
لیکن آپ مجھے زبردستی یہاں قید کرکے نہیں رکھ سکتے ۔وہ اسے دیکھتے ہوئے سمجھانے والے انداز میں بولی کیونکہ جس طرح کا سلوک وہ اس کے ساتھ کر رہا تھا۔وہ اس سے کسی طرح کا پنگا نہیں لے سکتی تھی ۔
اس وقت وہ اس کے رحم و کرم پر تھی یہاں اس کی حکومت تھی ۔وہ اس کے ساتھ کچھ بھی کر سکتا تھا ۔شاید یہ بات کل رات ہی ختم ہو جاتی اگر وہ اسے تھپڑ نا مارتی تو یہ سب کچھ یقینا اس تھپڑ کا بدلہ لینے کے لیے ہی کر رہا تھا
اسے اپنی بات اسے سمجھانے کے لیے اسے آرام سکون سے بیٹھ کر ہی اس سے بات کرنی تھی۔اسی لیے وہ اپنا غصہ ایک طرف رکھتے ہوئے سکون سے بات کرنے لگی
میں تمہیں یہاں زبردستی ہرگز قید نہیں کر رہا ہیر میں تو تمہیں اپنے دل میں قید کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔”وہ۔بھی ہمیشہ کے لئے اور بہت جلد میں تمہیں قید کر کے اپنے دل کے دروازے پر تالا لگا دوں گا ۔کہ تم کبھی اس قید سے رہائی نہ حاصل کر سکو۔ وہ دلکش انداز میں کہتے ہوئے اس کے مزید قریب آیا
لیکن فی الحال اس طرح کا کوئی حق میں اپنے پاس محفوظ نہیں رکھتا اور دوسری بات میں تمہیں یہاں سے جانے اس لیے نہیں دے رہا۔
کیونکہ باہر تمہاری جان کو خطرہ ہے اور میں نہیں چاہتا کہ تم پر کسی طرح کی کوئی آنچ بھی آئے۔ بہت خاص ہو تم میرے لیے میں تمہیں کسی خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا ۔
جاؤ یہ سامان اوپر لے جاؤ اس نے ملازم کو دیکھتے ہوئے کہا تھا جو فورا ہی اس کی بات ماننے کو تیار کھڑا اس کا سامان گھسیٹ کر اوپر لے جانے لگا ۔
ہیر نے اسے روکنا چاہا تھا لیکن ایام نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنی طرف کھینچ لیا ۔
توازن برقرار نہ رہ جانے کی وجہ سے وہ اس کے چوڑے سینے کا حصہ بنی تھی لیکن خود کو ایک غیر محرم کے اتنے نزدیک محسوس کرتے وہ اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر خود کو اس سے دور کرنے کی کوشش کرنے لگی ۔
یہاں بیٹھ کر آرام سے میری بات سنو جو میں کہہ رہا ہوں اسے سمجھنے کی کوشش کرو ۔وہ اسے صوفے پر بٹھاتے ہوئے خود اس کے بالکل ساتھ بیٹھ کر اس کا ہاتھ تھام چکا تھا ۔اس کی بات سننے کے علاوہ اس کے پاس کوئی چارا نہ تھا وہ خاموشی سے اس کی بات سننے لگی تھی
°°°°°°
تمہارے ساتھ گیم کھیلا گیا ہے بہت غلط ہوا ہے تمہارے ساتھ میں تمہیں سب کچھ بتاؤں گا لیکن صحیح وقت آنے پر فی الحال تم اس بات کو قبول کرو کہ سعد تمہارے قابل نہیں ہے ۔
سعد جیسا انسان تمہارے لائق نہیں ہے اس نے تمہارے ساتھ بہت بڑا گیم کھیلا ہے جس کے بارے میں جان کر تمہیں بعد میں افسوس ہوگا ۔
وہ شاید ان سب چیزوں کو بہت آسان سمجھ رہا تھا لیکن تم سے شادی کے بعد اسے احساس ہوا ہے کہ یہ سب چیزیں اتنی آسان نہیں ہیں جتنی اس نے سوچی تھی ۔
اس نے اپنے مطلب کی خاطر تمہیں استعمال کیا ہے تم سے شادی کے پیچھے ایک بہت بڑی وجہ تھی ورنہ تم سوچو کہ تم جیسی لڑکی جو اسے کچھ دے ہی نہیں سکتی یہاں تک کہ تمھارے بھائی نے دیھیج کے نام پر اسے پھوٹی کوڑی نہیں دی وہ تمہیں۔۔۔۔۔۔
بس خدا کے لئے بند کریں اپنی بکواس جب آپ سیدھے طریقے سے مجھے یہاں نہیں روک پا رہے تو آپ میرے شوہر پر الزام تراشی کرنا شروع کر چکے ہیں ۔
خدا کے لئے اپنی گندی نیت کو کسی اور پر نا ڈالیں۔ سعد کیسا انسان ہے میں بہت اچھے طریقے سے جانتی ہوں صرف نکاح نہیں کیا میں نے اس سے شادی سے پہلے سات ماہ تک ہمارا رابطہ رہا ہے ہم ایک دوسرے کو جانتے ہیں ۔
ایک دوسرے سے بات ہوتی رہی ہے ہماری۔ہم ایک دوسرے کو بہت اچھے طریقے سے سمجھتے ہیں ۔ تو خدا کے لئے میرے شوہر پر آپ کسی طرح کا کوئی سوال اٹھانے کے بارے میں سوچئے گا بھی نہیں۔
ورنہ مجھے آپ کی ان حرکتوں کے بارے میں انہیں سب کچھ بتانا پڑے گا اب بھی وقت ہے اگر اپنی عزت رکھنا چاہتے ہیں تو مجھے یہاں سے جانے دیں۔
وہ بوڑھی عورت آپ کو بیٹا بیٹا کرتے نہیں تھکتی اور میرا شوہر آپ کو اپنے بھائی سے بڑھ کر سمجھتا ہے ۔لیکن آپ اپنی عیاش فطرت کی وجہ سے اپنے ہی خاندان کی عورتوں پر ایسی نگاہ رکھتے ہیں ۔آپ کو تو جیل میں بند کردینا چاہیے آپ جیسے مردوں کو کوئی حق نہیں ہے اس طرح باہر آزادانہ گھومنے کا ۔اور اب اگر آپ نے کوئی بھی بکواس کی تو میں آپ پر کیس کروانے میں ایک سیکنڈ نہیں لگاؤں گی
اس کا دھمکی دیتا انداز ایام کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیر گیا تھا ۔
ایک تو ہماری مشرقی لڑکیاں ۔۔۔۔۔شوہر کو پتا نہیں کیا سمجھ لیتی ہیں ۔ان کے خلاف کچھ سننے کو تیار ہی نہیں ہوتی لیکن میڈم آج کے دور میں کوئی بھی فرشتہ نہیں ہے اور آپ جو سعد کو فرشتہ بنائے ہوئے ہیں اس کی حقیقت میں بہت جلد آپ کے سامنے لاؤں گا لیکن فی الحال آپ کے لئے اتنا جاننا کافی ہے کہ بہت جلد سعد آپ کو خود سے الگ کر رہا ہے ۔
اور خدا کا شکر ادا کرو کہ اس نے میری بات مان لی۔ ورنہ جو تمہارے ساتھ ہونے والا تھا نا اس کے بعد شاید تم اس پوری دنیا میں کسی پر یقین نہیں کر پاتی ۔
لیکن یہ سچ بھی بہت جلد تمہارے سامنے کھل کر آ جائے گا ۔میں سعد کے بارے میں بات کرکے اپنے لفظ ہرگز ضائع نہیں کروں گا
تانیہ اسے کمرے میں لے کر جاؤ ۔اور جتنا جلدی ہو سکے اسے یہ بات سمجھاؤ کہ یہ میری ہونے والی بیوی ہے جس پر میں اب کسی غیر مرد کی نظر نہیں پڑھنے دوں گا سعد کی بھی نہیں ۔
سعد کوئی غیر نہیں شوہر ہے میرا ۔۔۔۔وہ بپھری ہوئے شیرنی کی طرح دھاڑی تھی ۔
آج سے نہیں ہے وہ تمہارا شوہر تمہارے ساتھ محرم کا رشتہ صرف ایام سکندر بنائے گا ۔تم ایام سکندر کی بیوی کہلاؤ گی۔ اپنے دل و دماغ سے اس شخص کا نقش مٹا دو ورنہ میں اسے اس دنیا سے مٹا دوں گا ۔وہ آنکھوں میں چنگاریاں لئے دھاڑا تھا
میرے جیتے جی ایسا ممکن نہیں ہے ۔اور نہ ہی میرا شوہر آپ کے کہنے پر مجھے چھوڑے گا بہتر ہو گا کہ آپ مجھے اس گھر سے جانے دیں۔
یہ تو بعد کی باتیں ہیں فی الحال اپنے کمرے میں جاؤ اور مجھے سوچو ۔سعد کی سوچ بھی تمہارے سوچوں میں نہیں آنی چاہیے ورنہ تمہارے حق میں بہتر نہیں ہوگا ۔
وہ کہہ کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا اپنے کمرے کی طرف چلا گیا تھا جبکہ اس نے ایک نظر دروازے پر کھڑے گارڈز کو دیکھا اور پھر تانیہ کی طرف جو اسے کب سے واپس کمرے میں چلنے کے لئے کہہ رہی تھی
°°°°°°
یار تم ایک بار آرام سکون سے بیٹھ کر سوچو تو سہی سر نے یوں ہی تو نہیں کہا ہوگا تمہارے شوہر کے بارے میں کچھ بھی ۔سر بہت وقت سے ان سب چیزوں کو دیکھ اور سمجھ رہے تھے ۔
تمہارے شوہر کے بارے میں بھی انہیں سب کچھ پتہ تھا ۔
ضرور وہ کچھ تو جانتے ہیں ورنہ اپنے ہی بھائی کے بارے میں بلا وہ ایسا کیوں کہتے ۔ضرور انہیں اس کے بارے میں کچھ پتہ چلا ہوگا ۔تبھی تو وہ اتنے یقین سے کہہ رہے ہیں تانیہ اس کے پاس بیٹھی اسے سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی ۔
تانیہ پلیز خدا کے لئے مجھے اس وقت اکیلا چھوڑ دو ۔میں اس کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتی وہ مسلسل سعد کو فون کرتے ہوئے اس سے کہہ رہی تھی لیکن اس کا فون آف تھا ۔
یار تم کیوں اس شخص کے لئے اپنا آپ برباد کر رہی ہو جو تمہیں اتنی اہمیت نہیں دیتا کہ تمہارا فون ہی اٹھا لے اب تانیہ کو بھی غصہ آ گیا تھا ۔
مجھے پتا نہیں کیوں لگ رہا ہے کہ اس آدمی نے سعد کے ساتھ کچھ غلط کر دیا ہے ورنہ اب تک ان کا فون آف نہ ہوتا ۔اسے اب ایک اور پریشانی کھائے جا رہی تھی تانیہ تو بس اسے دیکھ کر رہ گئی ۔
حد ہے وہ شخص تمہارا فون نہیں اٹھا رہا تو تمہیں لگ رہا ہے کہ اس کے پیچھے بھی ایام سر نے ہی کچھ کیا ہے ۔
مجھے تو یہ تمہارا شوہر کچھ گڑبڑ لگ رہا ہے سر بھی تو یہی کہہ رہے تھے نا ۔وہ تمہیں نقصان پہنچانے والا تھا سر بتا تو رہے تھے کہ ۔۔۔۔۔
جسٹ شٹ اپ تانیہ میرے سامنے بار بار اس آدمی کا نام لینا بند کرو ۔اور پلیز مجھے اس وقت اکیلا چھوڑ دو مجھے کسی سے کوئی بات نہیں کرنی ۔وہ غصے سے اس کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے بولی تو تانیہ اس کے قریب سے اٹھ کر باہر نکل گئی
°°°°°°°
اس کی آنکھ اس کے ننھےننھے ہاتھوں کا لمس اپنے چہرے پر محسوس کرتے ہوئے کھلی تھی ۔
کیا ہوا روحی میری جان بھوک لگ رہی ہے میرے بچے کو ۔۔۔وہ اس کے دودھ کی فیڈر اٹھا کر پاس کرتے ہوئے بولا وہ ابھی ہی اس کے ساتھ آ کر لیٹا تھا ۔
ماما دانی تدھر ہے(ماما جانے کدھر ہیں )وہ حیرانگی سے اسے دیکھتے ہوئے بولی تھی ۔
وہ اپنے کمرے میں ہے میری جان ۔۔۔وہ اسے اپنے قریب کرتے ہوئے اس کے چہرے سے بال پیچھے کرتا اسے فیڈر پکڑانے لگا ۔
وہ امارے روم می کب آتر شوئیں دی (وہ ہمارے روم میں کب آ کر سوئیں گی) وہ اس کی مونچھوں کے ساتھ چھیڑ کھانی کرتے ہوئے پوچھنے لگی ۔
وہ ہمارے پاس کیوں سوئیں گی بھلا اس کا اپنا کمرہ ہے ۔اس نے مسکراتے ہوئے الٹا اس سے سوال کیا تھا ۔
کند اور کئن ات روم میں شوتے ہیں اور ان تے بت میں پرششز شوتی ہے (کنگ اور کوئن ایک روم میں سوتے ہیں اور ان کے بیچ میں پرنسسز سوتی ہے ۔)اس نے اس کے سر پہ ہاتھ مارتے ہوئے اس کی معلومات میں اضافہ کیا تھا ۔
جب کہ اس کی بات پر ایام کا دلکش قہقہ کمرے میں بلند ہوا
ارے واہ میری بیٹی کو تو سب کچھ پتہ ہے ۔لیکن اسے یہ نہیں پتا کہ جب تک شادی نہ ہو جائے تب تک کوئن اور کنگ ایک ساتھ نہیں سو سکتے ۔تب تک انہیں الگ الگ روم میں سونا ہوتا ہے ۔
اس کا ماتھا چومتے ہوئے اس نے اب کی بار فیڈر زبردستی اس کے منہ میں ڈال دیا تھا ۔کیونکہ اسے پتا تھا کہ اگر وہ مزید اس سے باتیں کرتے ہوئے جاگتی رہی تو اسے جلدی نیند نہیں آئے گی ۔
اور پھر کل صبح وہ۔ایکٹیو نہیں ہو گی اور وہ اپنی بیٹی کو سست ہرگز نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔
اخلی شوال ۔شادی کب ہو دی (آخری سوال شادی کب ہوگی) وہ اپنے ننھے سے ہاتھ کی ایک انگلی دکھاتے ہوئے بولی ۔
بہت جلد ان شاء اللہ بہت جلد ہی وہ آپ کی ماما جانی کے رتبے پر فائز ہو جائے گی بہت جلد ہم اسے اس کمرے میں لے آئیں گے ۔
مزید کوئی سوال نہیں جلدی سے یہ دودھ فینش کرو اور سو جاؤ وہ اسے زبردستی دودھ پلاتے ہوئے سلانے کی کوشش کرنے لگا تھا ۔جب کہ اپنی بیٹی کے چہرے پر سکون دیکھ کر وہ خود بھی پر سکون ہو گیا تھا ۔
لیکن اصل سکون تو اسے تب ملنا تھا جب سعد اس کی بات مان کر اس کا کام کرتا ۔اور اب وہ اپنے کام میں مزید تاخیر نہیں کرنا چاہتا تھا