60.8K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Wehshat E Junon) Episode 14

ہیر اب تک بس اسی کو سوچتی رہی تھی اسے ساری رات نیند نہ آئی تھی ایک لمحے کے لیے بھی وہ اپنی آنکھیں بند نہ کر سکی۔اسے عجیب سی بے چینی ساری رات رہی تھی ۔
وہ سوچ سوچ کر پاگل ہو رہی تھی کہ وہ اس آدمی کا سامنا کس طرح سے کرے گی پتا نہیں وہ کیا سوچ رہا ہوگا اس کے بارے میں تانیہ اپنے کام کو نمٹانے چلی گئی تھی ۔
اس نے کہا تھا ناشتہ لگتے ہی وہ اسے آ کر بلائے گی اور وہ بلا کر بھی گئی تھی لیکن اس نے کہہ دیا کہ وہ بعد میں ناشتہ کرلےگی ۔اسے ابھی نیند آ رہی ہے حالانکہ اس کی نیند تو جیسے اس سے روٹھ گئی تھی ۔
تانیہ دوسری دفعہ جب بلانے کے لیےآئی تو اس کا بہت دل چاہا کہ وہ اس سے پوچھ لے کہ آیام چلا گیا ہے یا ابھی یہی گھر پر موجود ہے ۔لیکن وہ اس سے بھی کچھ نہیں پوچھ پائی۔
وہ اس کے گھر سے جانےکےبعد باہر نکلنا چاہتی تھی۔اس میں اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ اس کا سامنا کر پاتی اسی لئےوہ اس کے جانے کے بعد ہی سامنے سے نکلنے والی تھی ۔
رات کو جو شرمندگی اس نے اٹھائی تھی وہ دوبارہ نہیں اٹھانا چاہتی تھی اب اس کا ایام کے سامنے جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا ۔
یہ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے ہی تقریباً ناممکن تھا لیکن اپنی طرف سے احتیاط کرنے کی مکمل کوشش کر رہی تھی ۔جو رات کو ہواایسا دوبارہ ہرگز نہیں ہونا چاہیے ۔
اب ہیرسے کوئی غلطی نہیں ہونے دے سکتی تھی ۔
°°°°°°°
تانیہ کے باربار مجبور کرنے پر آخر وہ باہر آ گئی تھی نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے ناشتہ کیا ۔اس کی نظریں مسلسل ایام کی تلاش میں تھیں لیکن وہ کہیں پر بھی موجود نہیں تھا شاید وہ چلاگیا تھا اور اس کے لیے یہ بات بہت اچھی تھی
اس کا ارادہ واپس کمرے میں جانے کا تھا ۔کہ اچانک ہی روحی اپنی ننھی ننھی آنکھیں ملتی اس کے پاس آگئی اور اس کے گال کو چومتے ہوئے اسے گڈ مارننگ وش کیا ۔
اس نے اب تک اس کےساتھ ناشتہ نہیں کیا تھا۔ کیونکہ وہ دیر سے جاگا کرتی ۔ایام نے انہیں پہلے دنوں میں ہی بتا دیا تھا کہ وہ بہت لیٹ تک رات کو سوتی ہے اس لیے اس کی صبح بھی بہت لیٹ ہوتی ہے ۔
چلیں آئیں روحی میڈم آپ کا منہ دھلوا کر برش کرواوں۔تانیہ نے اسے اٹھانا چاہا ۔
نی دوشت کرالے دی برشی (نہیں دوست کروائے کی برشی) وہ اپنا آپ چھڑواتی سیدھی ہیر کی طرف آ گئی تھی۔
اوکے میں خود اپنے پیارے سے بےبی کو فریش کروا کرلاتی ہوں تب تک تم اس کا ناشتہ تیار کرو اس کے انداز پہ وہ مسکرا کر اسے اٹھاتی اسے اس کے روم میں لے جانے لگی ۔
نہیں روم۔۔۔۔۔۔”تانیہ نے کچھ کہنا چاہا۔لیکن روحی اسے اپنی باتوں میں لگا چکی تھی۔
°°°°°°°
وہ روم میں آئی۔تو اسے محسوس ہوا کہ بالکنی میں کوئی ہے لیکن روحی نے اس کا چہرہ واش روم کی طرف کرتے ہوئے اسے بتایا کہ ہم وہاں فریش ہوتے ہیں ۔
وہ اس طرف دیکھے بنا ہی واش روم کے اندر داخل ہوئی ۔جہاں جدید طرز کی ہر چیز موجود تھی وہ شیشے کے سامنے رکتے ہوئے اسے اسی جگہ پر بٹھا چکی تھی جہاں روحی کا کہنا تھا کہ وہ بیٹھ کر برش کرتی ہے ۔
وہ ساتھ ساتھ اس سے باتیں کرتے نہ جانے کون سی کہانی سنا رہی تھی ۔جب اسے کمرے میں کوئی محسوس ہوا۔
روم میں کون ہے۔۔۔۔۔؟ وہ روحی کو دیکھتے ہوئے بولی۔
میلے پالےبابا دانی۔(میرےپیارے باباجانی)وہ دونوں ہاتھ اپنے گالوں پر رکھتے ہوئے معصومیت سے بولی۔
جبکہ ہیر کی تو آنکھیں پھیل گئی ۔وہ اس سے چھپتے ہوئے صبح سے کمرے سے ہی نہیں نکل رہی تھی اور وہ یہاں کمرے میں ہی موجود تھا اس سوچ نےہی اسے پریشان کر دیا تھا ۔
وہ ابھی تک اپنے کام پر نہیں گئے اس نے حیرانگی سے اس سے پوچھا تھا جس پر وہ زور زور سے نفی میں سر ہلاگئی۔
بابا دانی تو آد تھوتی اے(باباجانی کو آج چھٹی ہے )
آد وہ لوحی تو بال لےتر دائے دے( آج وہ روحی کو باہر لے کر جائیں گے )وہ خوشی سے بولی۔
جبکہ ہیر اب جلد سے جلد اس کمرے سے نکلنا چاہتی تھی ۔وہ صبح سے اس شخص سے چھپ رہی تھی تاکہ اس کی نظر نہ پڑے اور نہ ہی وہ اس سے نگاہیں ملا پائے لیکن اب وہ یہیں آ گئی تھی اس کے کمرے میں۔
اس کا یہاں رہنا بالکل بھی ٹھیک نہیں تھا ۔پتہ نہیں اس بات کا وہ کیا مطلب نکالے گا ۔
روحی اب ہمیں چلنا چاہیے آپ کا برش ہو گیا اب ہم چلتے ہیں باہر آپ کو ابھی ناشتہ بھی کرنا ہے ۔وہ اسے اپنے ساتھ لگائے اٹھا کر باہر لے جانا چاہتی تھی ۔
ابی تو تیند نی تیا لوحی تو فراک پہنا ہےپینت والا(ابھی تو چینج ہی نہیں کیا روحی کو فراک پہننا ہے پنک والا)روحی نے فور اپنا فرمائشی پروگرام نوٹ کروایا ۔
لیکن روحی وہ تو ناشتے کے بعد کریں گے نہ ابھی ہم انہی کپڑوں میں ناشتہ کر لیں گے ۔ورنہ کپڑے خراب ہو جائیں گے وہ سمجھاتے ہوئے بولی اسے کسی بھی طرح اس کمرے سے باہر نکلنا تھا ۔
نی لوحی اتھی بتی ہے وہ تپڑےخاب نی ترتی ٹیوتی ترتا ہے(نہیں روحی اچھی بچی ہے وہ کپڑے خراب نہیں کرتی ٹوئیٹی کرتا ہے ۔وہ اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے اسے یقین دلاتے ہوئی بولی۔
اسے روحی کی مصومیت پر بہت پیار آ رہا تھا وہ جانتی نہیں تھی کہ وہ یہاں سے کیوں جانا چاہتی تھی۔ وہ تو بس اسے یہ بتانے کی کوشش کر رہی تھی کہ وه اچھی بچی ہے ۔
میری جان میں جانتی ہوں آپ۔بہت اچھی بچی ہیں۔ بس میں چاہتی ہوں کہ آپ پہلے ناشتہ کر لو ۔اس کا مطلب سمجھتے ہوئے وہ اسے اٹھا کر باہر لے جانے لگی وہ ایک بار اسےاس کمرے سے باہر لے کر جانا چاہتی تھی باہر جا کر وہ اسے سمجھا سکتی تھی ۔
ناشتے کے بعد وہ تانیہ کے ساتھ واپس کمرے میں بھیج کر اس کی پسند کے کپڑے بھی پہنوا سکتی تھی ۔بس ایک دفع یہاں سے نکل جائے
°°°°°°
وہ واش روم سے باہر نکلیں تو اسے الماری میں کچھ ڈھونڈ تے ہوئے پایا اسے محاطب کیے بنا ہی وہ روحی کو اٹھا کر تیزی سے کمرے سے نکل گئی تھی ۔
اس نے اپنی سانس روک کر رکھی تھی یہ نہ ہو کہ وہ اسے پکار بیٹھے ۔لیکن اس نے نہیں پکارا تھا وہ آسانی سے کمرے سے باہر نکل گئی تھی اور باہر نکلتے ہی اس نے گہرا سانس لیا جیسے وہ ایام کے کمرے سے نہیں بلکہ کسی بہت خون خوار جگہ سے باہر نکلی ہو
ایام نے کمرے میں کسی کی موجودگی کو محسوس کرتے دروازہ کی طرف دیکھا اور پھر اس کے عنابی لبوں پر تبسم بکھر گیا تھا ۔
°°°°°°°
السلام علیکم ایام لالا کیسے ہیں آپ سب ٹھیک تو ہے نا آپ نے اتنی صبح صبح مجھے فون کیا سعد نے فون اٹھاتے ہی اس سے کہا تھا۔
وعلیکم اسلام سب کچھ ٹھیک ہے الحمدللہ مجھے تم سے کچھ بات کرنی تھی ۔اور تم میرے ہر سوال کا سہی سہی جواب دو گے دیکھو سعد میں تمہارے بارے میں سب کچھ جانتا ہوں تم کہاں ہو کیا کر رہے ہو اور تمہیں کیا پریشانی ہے ایک ایک بات اب تم مجھے خود سب کچھ بتاؤ گے یا پھر میں خود تمہارے سامنے تمہارے راز کھولوں۔
ایام دھمکی نہیں دیتا تھا وہ سامنے والے کی ذات ہلا کر دیتا تھا اسے ہوا میں تیر چھوڑنے کی عادت نہ تھی وہ ہر چیز کی پوری تفتیش کرکے ہی کوئی فیصلہ کرتا تھا
جوکام تم نے کیاہے نہ مجھے اس کا بہت افسوس ہے تم میرے بھائی ہو تم مجھ سے مدد مانگ سکتے تھے مجھ سے کہہ سکتے تھے لیکن تم نے غلط راستہ اختیار کیا اور یقینا اسی وجہ سے تم اتنے مسائل کا شکار ہو ۔
میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے سب کچھ بتا دو اب بھی تمہارے پاس وقت ہے ہو سکتا ہے میں تمہاری کچھ مدد کر سکوں۔
کچھ معاملوں کومیں تم سے بہتر طریقے سے حل کر سکتا ہوں ۔ان لوگوں کے بارے میں سب کچھ نا سہی لیکن کچھ نہ کچھ جان چکا ہوں۔
وہ کون تھے کہاں سے آئے تھے کافی انفارمیشن ملی ہے اور باقی کی انفارمیشن تم دؤ گے اور اگر نہیں دوگے تو تم جانتے ہو میں کیا کر سکتا ہوں وہ اپنی بات مکمل کرتے ہوئے اس کے جواب کا انتظار کرنے لگا ۔
اپنی بات مکمل کرنے کے بعد دوسری طرف سے جواب کا منتظر تھا اس نے مزید کچھ نہیں کہا تھا اب بولنے کے باری سعد کی تھی
°°°°°°°
تلوتلودلدی تول ام نے ائش کریم تھانے دانا اے( چلو چلوجلدی چلو ہم آئس کریم کھانے جانا ہے )روحی اس کا ہاتھ تھامے اسے اٹھا رہی تھی ۔
نہیں روحی میری جان آپ کو پتہ ہے نہ میں باہر نہیں جاتی وہ اس کے ننھے ننھے سے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھام کے لیے سمجھانے والے انداز میں بولی۔
اپ تو ڈر لگ را اے نا اپ مت ڈرلو میلے بابا دانی ہلو ہیں وہ دندے انتل تو ڈیشوڈیشو ترتے ماریں گے(آپ کو ڈر لگ رہا ہے نا آپ مت نہیں ڈرو میرے بابا جانی ہیرو ہے وہ گندے انکل کو ڈیشوڈیشو کر کے ماریں گے ۔
وہ اسے اپنے باپ کی پاؤر دکھاتی اس کا ہاتھ تھامے اسے اٹھنے کے لئے کہہ رہی تھی ۔
اور کتنا ٹائم۔لگے گا روحی آپ کی دوست کو آنے میں۔اگر اب اپ نے وقت لگایا تو میں اکیلے ہی چلا جاؤں گا باہر سے آواز آئی تھی ۔
ارلے تلو نا۔۔۔۔۔(ارے چلو نا)روحی بے چینی سے کہنے لگی تھی
میں۔۔۔۔۔روحی۔۔۔بیٹا ۔۔۔۔۔
روحی میڈم گاڑی سٹارٹ ہو گئی ہے جلدی کریں۔تانیہ اندر داخل ہوتے ہوئے بولی ۔
تانیہ یہ ضد کر رہی ہے کہ میں بھی اس کے ساتھ چلوں وہ تانیہ کو دیکھتے ہوئے بولی ۔
ہاں سر تمہارا ہی تو ویٹ کر رہے ہیں جلدی چلو یار سر کو اتنا ویٹ کرنے کی عادت نہیں ہے وہ بھی روحی کے انداز میں اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولی تو اسے نہ چاہتے ہوئے بھی اٹھنا پڑا۔
°°°°°°°
گاڑی وہ خود ڈرائیو کر رہا تھا جب کہ تانیہ نے فرنٹ ڈور کھول کر اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ اس کے ساتھ کیسے بیٹھتی ۔لیکن سب کے سامنے اسے انکار کرنے میں بھی عجیب لگ رہا تھا ۔
جلدی کریں روحی کی دوست صاحبہ ہم پہلے ہی بہت لیٹ ہو چکے ہیں ۔مجھے گھر واپس آ کر ایک آن لائن میٹنگ اٹینڈ کرنی ہے ۔وہ اسے یوں ہی باہر کھڑے دیکھ کر کہنے لگا تو وہ بھی گاڑی کے اندر بیٹھ گئی ۔
جبکہ اس کے بیٹھتے ہی گاڑی سٹارٹ ہو چکی تھی روحی پیچھے بیٹھی ہوئی تھی جب کہ تانیہ وہی سے واپس گھر کے اندر چلی گئی مطلب وہ ان کے ساتھ نہیں آنے والی تھی ۔
اس سوچ نے ہی اسے پسینے میں شرابور کر دیا تھا کہ وہ اس کے ساتھ اکیلی ہے جب روحی نے پیچھے سے اسے ہگ کرتے ہوئے اپنے ہونے کا احساس دلایا ۔وہ بے ساختہ مسکرا دی تھی
°°°°°°°
وہ ایک ریسٹورنٹ میں لے کر آیا اور اسے باہر آنے کے لئے کہتا ہوا خود روحی کے سائیڈ کا دروازہ کھولتا اسے اٹھائے باہر آیا تھا ۔
لؐوحی لنت نی ترےگی لوحی آئش کریم تھائے دی(روحی لنچ نہیں کرے گی وہ آئسکریم کھائے گی ) وہ اسے رسٹورنٹ کے اندر لے جاتے ہوئے بولی تھی۔
پہلے روحی لنچ کرے گی اور اس کے بعد کھائے گی وہ اس کے گال چومتے ہوئے ایک نظر پیچے دیکھنا نہیں بھولا تھا وہ اس کے ساتھ ساتھ ہی قدم اٹھاتی اندر آ رہی تھی ۔
ارے ایام صاحب آپ نے شادی کرلی ۔یہ معجزہ کب ہوا ہمیں تو آپ۔ نے کانوں کان خبر بھی نہیں ہونے دی ۔
ہم تو اتنے سالوں سے آپ کے شادی کے کارڈ کا انتظار کر رہے تھے پہلے آپ نے اچانک کسی سے شادی کر لی اور آپ کی بیٹی بھی ہے ماشاءاللہ سے اور اس کے بعد آپ نے دوسری دفعہ پھر سے بھی شادی کرلی اور ہمیں نہیں پتا چلنے دیا ۔
اچانک ایک آدمی اس کے پاس آ کر رکتے ہوئے اس سے کہنے لگا اس کا انداز کافی خوشگوار تھا لیکن انداز میں کچھ حد تک جلن بھی محسوس کی تھی ہیر نے ۔
ایام سکندر ہر کام سکون و اطمینان سے کرتا ہے آپ کو میری شادی کاکھانا کھانے کا مجھ سے زیادہ شوق ہے فکر مت کیجئے ریسپشن کا کارڈ بھیج دوں گا آپ کو وہ بھی خوشگوار انداز میں بولا تھا ۔
ہیر کو نہ جانے کیوں اس کے انداز پر غصہ آیا تھا وہ اس آدمی کی غلط فہمی دور کرنے کے بجائے اسے اپنی ریسپشن کی دعوت دے رہا تھا ۔
اور اس کے بعد تو اس نے حد ہی کردی وہ اس آدمی کو خدا حافظ کہتے روحی کو یوں ہی اٹھاۓ اس کا ہاتھ تھام کر اندر کی جانب لے گیا ۔
ہیر اس سب کو ہینڈل نہیں کر پا رہی تھی وہ اس آدمی سے بات کرنا چاہتی تھی وہ کسی کو اس طرح کی غلط فہمی میں کیسے رہنے دے سکتا تھا ۔اس نے سوچ لیا تھا یہاں نہیں لیکن گھرجاتے ہی وہ اس بارے میں اس سے بات ضرور کرے گی ۔
اس کے بعد ان دونوں کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی روحی کبھی اس کے ساتھ تو کبھی اپنے باپ کے ساتھ باتوں میں مگن رہی جب کہ وہ تو بس گھر واپس آنے کا انتظار کر رہی تھی تھوڑی دیر کے بعد وہ واپس آ کر گاڑی میں بیٹھے ان دونوں ہی نے ایک دوسرے کو مخاطب نہ کیا تھا ۔اور واپسی کا سفر شروع ہو گیا
°°°°°°°
گھر آنے کے بعد وہ اپنے کمرے میں آ گئی اس کا اب اس کمرے سے نکلنے کا کوئی ارادہ نہ تھا تانیہ تھوڑی دیر اس کے پاس بیٹھ کر واپس چلی گئی تھی ۔
اس نے دو تین دفعہ سعد کو فون کرنے کی کوشش کی لیکن اس نے اس کا فون نہیں اٹھایا ۔
اس نے یہی سوچا تھا کہ وہ جلد سے جلد یہاں سے واپس جانے کی بات کرے گی ۔لیکن سعد تو اس کا فون ہی نہیں اٹھا رہا تھا ۔پھر اس نے امی جان کو فون کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے بھی فون نہیں اٹھایا ۔
بہت سوچنے کے بعد آخر اس نے یہی فیصلہ کیا تھا کہ وہ ایام سے بات کرے گی اور اسے کہے گی وہ اسے امی کے پاس چھوڑ آئے ۔
اپنی ساس اور شوہر کے بغیر اس کا یہاں رہنے کا کوئی مطلب نہیں تھا ۔اور کل رات کے بعد تو ویسے بھی اس کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی بس ایک آخری بار وہ سعد سے بات کر لے اس کے بعد وہ یہاں سے چلے جانا چاہتی تھی
اور اسے یقین تھا کل رات کے بعد اب ایام بھی اس کی بات کو مان جائے گا
°°°°°°°°
ایام جی ۔۔۔۔” وہ۔۔۔۔”مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے وہ اسے نیچے اکیلے ٹہلتے دیکھ کر اس کے پاس آ گئی تھی ۔
ہاں ہیر مجھے بھی تم سے بات کرنی ہے بلکہ مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے ۔۔۔۔۔”آئی لو یو ہیر ۔۔۔۔وہ جذبات سے بوجھل لہجے میں بول رہا تھا ۔
جبکہ سامنے کھڑی لڑکی پر تو جیسے آسمان آ گرا تھا اتنی گھٹیا بات وہ سوچ بھی کیسے سکتا تھا ایک بچی کا باپ ہونے کے باوجود وہ اپنے ہی کزن کی بیوی سے اتنی گھٹیا گفتگو کر رہا تھا ۔
کیا بکواس کر رہے ہیں آپ آپ کا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا آپ کی ہمت کیسے ہوئی میرے سامنے ایسی گھٹیا بات کرنے کی
شرم سے ڈوب مرنا چاہئے آپ کو ایک بچی کے باپ ہیں آپ ۔۔۔۔۔۔۔
ایک بچی کا باپ کیا اپنے دل میں کوئی جذبات نہیں لا سکتا ۔اور اپنی محبت کا اظہار کرنے میں شرمندگی کیسی میں تمہیں چاہتا ہوں تم سے محبت کرتا ہوں ۔
فی الحال تو میں نے بدلے میں تم سے محبت کی ڈیماڈ بھی نہیں کی ۔یہ تو میرے جذبات ہیں جو میرے دل کے اندر ہیں ۔
اور جہاں تک تمہارے میرے کزن کی بیوی ہونے کا سوال ہے تو اس سے طلاق لے کر میری زندگی میں آنے میں تمہیں کتنا وقت لگ۔۔۔۔۔۔۔”
چٹاخ۔ ۔۔۔۔اس کے الفاظ اس کے منہ میں ہی رہ گئے تھے ۔ہیر کا ہاتھ اٹھا توایام سرخ نگاہیں اس کے وجود پر گاڑے غصے سے اس کی طرف بڑھا۔
تم اس قابل ہی نہیں ہو ایام سکندر کہ تمہیں عزت دی جا سکے۔مجھے لگ رہا تھا کہ میری سوچ غلط ہے تم اچھے انسان ہو لیکن میں غلط تھی کل سے تمہاری غلیظ نگاہیں میں خود پر اس لئے برداشت کرکے خاموش تھی کیونکہ کہیں نہ کہیں مجھے اس رشتے کا احساس تھا جو تمہارا میرے شوہر کے ساتھ ہے لیکن اب مزید نہیں ۔
میں آج ہی تمہارا اصل چہرہ انہیں دکھاؤں گی ۔اورانہیں بتاؤں گی کہ جس شخص پر یقین کر کے وہ مجھے یہاں چھوڑ کر گئے ہیں اس کی سوچ کتنی گھٹیا ہے ۔
تم اسے بتاؤ یا نہ بتاؤ لیکن میں ضرور بتاؤں گا آخر تمہیں طلاق تو اسی نے دینی ہے نہ وہ مجھ سے بہت محبت کرتا ہے یقین کرو میری خاطر وہ کچھ بھی کرنے ۔۔۔۔”
شٹ اپ ۔۔۔تمہاری ان گھٹیا باتوں کا جواب وہ خود ہی آکر تمہیں دیں گے۔ وہ بے حد غصہ سے بولی تھی۔ جب اس کی ناک میں موجود موتی چمکا۔تو ایام کے لبوں پر گہری مسکراہٹ آ گئی تھی ۔یہ خوبصورت نتھ اس نے اپنی محبت کے لیے بنوائی تھی ۔اور اس خوبصورت نازک نتھ کو اپنی ناک کی زینت بنا کر اس نے خود ایام سکندر کو ان راہوں پر چلنے پر مجبور کردیا تھا اب وہ پیچھے نہیں ہٹ سکتی تھی
اور اگر وہ واپس ہی نہ آئے تو ۔۔۔۔۔؟وہ اس کی طرف جھک کر بولا تو اس کے خطرناک ارادوں سے گھبرا کر وہ پیچھے ہٹی ۔
جب اسے پیچھے سے معصومانہ سی آواز سنائی دی
بابا دانی۔ ۔۔اپ نے تو تہاتا آپ اب ایل شے نی ملے دے (بابا جانی آپ نے تو کہا تھا کہ اب آپ ہیر سے نہیں ملیں گے )وہ ایسے تھوڑی دیر پہلے والی باتیں یاد کرارہی تھی جب اس نے کہا تھا کہ ہیرکو بولو کہ ہمارے ساتھ کھانا کھائے جس پر ایام نے جان چھڑانے کے لیے کہہ دیا تھا ہیر صرف روحی کی دوست ہے ایام کی نہیں اور وہ اس سے نہیں ملےگا۔
وہ ننھے ننھے قدم اٹھاتے اس کے پیچھے آرکی تھی۔ جبکہ اس نے مسکراتے ہوئے اسے اپنی باہوں میں اٹھا لیا تھا ۔
اب تو ملنا پڑے گا کیوں کہ آپ کے باباجانی نے آپ کی بات مان کر ہیر کو آپ کی مماجانی بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔اس کے دونوں پھولےپھولے گالوں کو چومتاوہ دلکشی سے مسکرایا تھا جبکہ اس کی فضول بکواس نہ سننے کی خاطر ہیر فوراً ہی وہاں سے نکل گئی تھی ۔
جتنا بھاگ سکتی ہو بھاگ لو ہیر میڈم لیکن آنا تو تمہیں میری پناہوں میں ہی پڑے گا اب تمہارا ہر راستہ ایام سکندر کی باہوں تک ہی آتا ہے
°°°°°°°