Wehshat E Junoon By Areej Shah Readelle50289 (Wehshat E Junon) Episode 13
No Download Link
Rate this Novel
(Wehshat E Junon) Episode 13
امی جان خیر خیریت سے وہاں پہنچ چکی تھیں۔ ان کے پہنچتے ہی انہوں نے اسے فون کر کے بتا دیا تھا ہیر ریلیکس ہوکر روحی کے ساتھ مگن ہو گئی تھی ۔
ان کے فون کرنے کا ہی اثر تھا کہ وہ بالکل بے فکر ہوکر یہاں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی ورنہ اتنی ریلیکس ہرگز نہیں ہوتی۔اس نے اپنے ڈرائیور کو بھی خاص تاکید کی تھی کہ وہاں پہنچتے ہی اسے فون کر کے بتایا جائے کہ وہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں اور وہاں پہنچ چکے ہیں ۔
وہ کب سے یوں ہی دروازے پر کھڑے انہیں دیکھ رہا تھا ۔اسے اچھا لگ رہا تھا اس کا ہر وقت روحی کے ساتھ رہنا اس کی فکر کرنا ۔روحی ایک ایسی بچی تھی جس کا ساتھ کسی کو بھی اچھا لگتا تھا ۔
اپنی میٹھی میٹھی باتوں سے وہ کسی کو بھی اپنا اسیر کر لیتی تھی ۔اتنی معصوم سی بچی کا ساتھ کسی کو اچھا نہ لگے ایسا تو ممکن ہی نہیں تھا لیکن یہ روحی کے لئے مشکل پیدا کر سکتا تھا ۔
جب ہیر یہاں سے چلی جائے گی تب یقینا یہ سب کچھ روحی کے لئے بہت مشکل ہو جائے گا ۔اور بے شک وہ اپنی بیٹی کو کسی طرح بھی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا ۔
السلام علیکم وہ اندر قدم رکھتے ہوئے گھمبیر آواز میں بولا تو وہ دونوں ہی چونک کر اس کی جانب دیکھنے لگیں
اور اگلے ہی لمحے روحی اس کی گود سے نکل کر اپنے باپ کی جانب بھاگ گئی تھی ۔
ہیر اٹھ کر کھڑی ہوتے اس کے سلام کا جواب دےکر اپنا پہلے سے صحیح دوپٹہ درست کرنے لگی۔
چاچی جان بالکل خیر و خیریت سے پہنچ چکی ہیں آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں مجھے ان کا فون آیا تھا یقینا انہوں نے آپ کو بھی فون کر کے بتا دیا ہوگا ۔وہ روحی کو اپنی گود میں اٹھائے پیار کرتا اس سے مخاطب ہوا تھا ۔
جی انہوں نے مجھے فون کرکے بتا دیا تھا وہ وہاں پہنچ چکی ہیں اور کہہ رہی تھیں کہ ماموں کی طبیعت ٹھیک ہوتے ہیں وہ ان شاء اللہ واپس آ جائے گی ۔اس کی بات کا تفصیل سے جواب دیتے ہوئے اس نے روحی کی جانب دیکھا تھا
جو اس کی داڑھی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتی کبھی اسکے گال پہ اپنے لب رکھ رہی تھی تو کبھی اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اس کے چہرے کو اپنی طرف کرتے ہوئے اسے خود کی جانب متوجہ کر رہی تھی
اب اسے تانیہ کی بات ٹھیک لگ رہی تھی وہ سچ میں اپنے باپ کی توجہ صرف اپنی جانب ہی چاہتی تھی ۔
مس تانیہ کہاں ہیں نظر نہیں آرہی اس نے ایک دفعہ پھر سے آگے پیچھے دیکھتےہوئے اس سے سوال کیا تھا ۔
وہ کیچن میں ہیں شاید انہیں کوئی کال آئی ہوئی ہے
مش تیہ تو پرنشش بالی مووی نی پشند(مس تانیہ کو پرنسز والی مووی نہیں پسند )اس کی بیٹی نے منہ کا زاویہ بگاڑ کر اسے بتایا تھا وہ تو اس کی چالاکی پر حیران رہ گئی تھی اس وقت وہ کچھ بھی نہیں بول رہی تھی جب تانیہ اٹھ کر اندر کی جانب گئی تھی اور اب کتنے مزے سے اسے بتا رہی تھی کہ اسے پرنسز والی مووی نہیں پسند
لتن دوشت تو پشند اے(لیکن دوست کو پسند ہے) اس نے ہیر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے خوش ہوکر بتایا تھا ۔
اسے جو لگا تھا کہ وہ اس پر غصہ کرے گا یا اسے کچھ کہے گا ایسا کچھ بھی نہیں ھوا تھا بلکہ اپنی بیٹی کے انداز پر مسکراتے ہوئے اس کے گال چوم گیا تھا ۔
کوئی بات نہیں اگر آپ کی دوست کو بھی نہیں پسند تو بھی آپ کے بابا کو پرنسز والی مووی بہت پسند ہے اور اب ہم دونوں مل کر دیکھیں گے
وہ مسکرا کر کہتا اب آگے کی طرف بڑھ گیا تھا جب کہ وہ وہیں کھڑی رہی
ایم سوری یقیناروحی نے آپ کو بہت تنگ کیا ہوگا ۔آج کل میری بیٹی کا سارا وقت ہی آپ کے ساتھ گزرتا ہے یقینا یہ آپ کو بہت پریشان کرتی ہوگی وہ وہیں باہر صوفے پر بیٹھتے ہوئے اس سے کہنے لگا تھا جب کہ وہ جو اندر جانے کا ارادہ رکھتی تھی اس کے سامنے والے سنگل صوفے پر بیٹھ گئی ۔
نہیں روحی تو مجھے بالکل تنگ نہیں کرتی یہ تو بہت پیاری بچی ہے اور اس کی اتنی میٹھی میٹھی باتوں سے بھی بھلا کوئی تنگ ہوتا ہے اور مجھے پرنسس والی موویز بہت پسند ہیں میں بہت شوق سے دیکھتی ہوں بلکہ اب تو میں بہت خوش ہوں کہ مجھے دیکھنے کے لیے ایک پارٹنر مل گیا ہے ۔
ہے نا پارٹنر اب ہم روز پرنسیز والے موویز دیکھیں گے اس نے روحی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو اس کی بات پر خوش ہوئی تھی ۔
میرا نہیں خیال کہ آپ روحی کی لسٹ کی ساری موویز دیکھ پائیں گی کیونکہ روحی کی لسٹ بہت لمبی ہے اس نے آج تک جتنی بھی پرنسیز مووی بنی ہیں نہ سب کو دیکھنے کا ارادہ کر رکھا ہے ۔
اور اس کی لسٹ مکمل کرتے ہوئے تو میرے خیال میں مجھے دس بارہ سال لگ جائیں گے اتنا لمبا عرصہ آپ یہاں رک نہیں پائیں گیں
سعد کا فون آیا تھا مجھے وہ جلد ہی واپس آنے کا ارادہ رکھتا ہے ۔اس نے اینڈ پر سیریس انداز میں کہتے ہوئے اس کے چہرے کے تاثرات جاننے کی کوشش کی تھی ۔
ام دوشت تو شعد تاتو تے شات نی دانے دے دے۔شعد تاتو دب آئے دے ام دوشت تو بید تے نیتے تھوپا لیں دے(ہم دوست کو سعد چاچو کے ساتھ نہیں جانے دیں گے سعد چاچو جب آئیں گے ہم انہیں بیڈ کے نیچے چھپا لیں گے )
روحی نے اپنے دماغ کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ایک مفید مشورہ دیا تھا ۔ہیر کو ہمیشہ کے لئے اپنے گھر میں رکھنے کا جب کہ اس کی بات پر وہ دونوں مسکرا دیئے تھے ۔
ہیر کو تو اس پر بہت پیار آیا تھا جو اسے روکنے کے لیے اپنے ننھے سے دماغ کا استعمال کر رہی تھی ۔ جب کے ایام کے چہرے پر مسکراہٹ آ کر غائب ہو گئی تھی شاید وہ اپنی بیٹی کے دلی جذبات کو بہت اچھے طریقے سے سمجھنے لگا تھا اور یقینا یہ جذبات اس کے لیے بہت مشکل پیدا کرسکتے تھے
مس تانیہ سے کہہ کر کھانا لگا دیجئے بہت وقت ہو گیا ہے ۔اس نے مس میری کو کچن سے نکلتے دیکھ کر کہا تھا وہ ہاں میں سر ہلاتی واپس اندر چلی گئیں۔
جب کہ وہ روحی کو لے کر فریش ہونے چلا گیا
°°°°°
سونے سے پہلے اس نے امی جان کو فون کرکے ان سے ان کی صحت کے بارے میں پوچھا تھا اور انہیں اپنا خیال رکھنے کے لیے بھی کہا تھا انہوں نے بھی اسے بہت ساری ہدایات دی تھیں
وہ اس سے دور تھیں لیکن تب بھی وہ اسکی فکر کر رہی تھیں وہ سچ مچ میں اس کی ماں جیسی ہی تھیں
نماز کے بعد وہ ماموں کے لئے اسپیشل دعائیں کرتی رہی تھی کہ اللہ پاک انہیں کچھ بھی نہ ہونے دے
بھائی کا سہارا ہی بہت ہوتا ہے بہنوں کے لیے اور یہ اس کی بد نصیبی ہی تھی کہ جو اس کا بھائی اسے یوں بے آسرا بے سہارا چھوڑ کر چلا گیا تھا بہن اپنے بھائی سے کچھ نہیں مانگتی سوائے سہارے کے لیکن اس کا بھائی تو اسے سہارا دینے کو بھی تیار نہ تھا ۔
وہ جب بھی اپنے بھائی کے بارے میں سوچتی تھی ایک دکھ سا اسے چاروں طرف سے گھیر لیتا تھا
کاش اس کا بھائی بھی ایسا ہوتا جس پر فخر کر پاتی ۔
جائےنماز تہہ کرتے ہوئےوہ بستر پر لیٹی تھی تانیہ اس کے ساتھ تھی امی جان کے گھر واپس آنے تک وہ یہیں پر رہنے والی تھی اسی کے بیڈروم میں وہ اس کی شکر گزار تھی کہ امی جان کی غیر موجودگی میں وہ اس کے پاس آ گئی تھی۔
ورنہ ایک مرد کے ساتھ اکیلے اس گھر میں رہتے ہوئے اسے بہت عجیب لگ رہا تھا وہ ایسا ہرگز نہیں چاہتی تھی بے شک ایام میں کسی طرح کی کوئی بری عادت نہیں تھی لیکن پھر بھی اسے اپنی عزت بے حد عزیز تھی وہ اس پر کسی طرح کا داغ نہیں لگنے دے سکتی تھی ۔
ویسے تو ایام اس کا محافظ تھا وہ اس کا مسیحا ثابت ہوا تھا اس نے اسے ان لوگوں سے بچایا تھا لیکن پھر بھی وہ کسی کی زبان پر اپنے لئے غلط لفظ نہیں آنے دینا چاہتی تھی اپنی عزت کی محافظ اپنے شوہر کے علاوہ اور کسی کو نہیں سمجھتی تھی ۔اور اس کی غیر موجودگی میں وہ خود اپنے آپ کو بہت سنبھالے ہوئے تھی
°°°°°°°
میرا بچہ کیا سوچ رہا ہے وہ ٹوٹیی کو اپنے ساتھ لگائے بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی جب وہ فریش ہو کر نکلا تو اسے کسی گہری سوچ میں دیکھ کر اس کے پاس ہی آ گیا ۔
بابا دانی تیا ایشا نہ ہو ستکا تہ دب شعد تاتو دھر آئے تو ام درواجا پکا بند تر دیں اول نہ تھولیں (بابا جانی کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ جب سعد چاچو گھر آئیں تو ہم دروازہ پکا بند کر دیں اور نہ کھولیں ) وہ سوالیہ انداز میں بولی۔
وہ کیوں میری جان کیا آپ نہیں چاہتی کے سعد چاچو ہمارے گھر آئیں وہ اسے اپنی گود میں رکھتے ہوئے اپنے ساتھ لگا کر پوچھنے لگا ۔
نی وہ دب آئیں گے تو دوشت تو ہمسہ تےلیے لے دائیں گے اول می نہی تاتی تی دوشت تو لے کل دائیں ۔میلی دوشت ہمسہ میلے پاش رہے(نہیں وہ جب آئیں گے تو دوست کو ہمیشہ کے لئے لے جائیں گے اور میں نہیں چاہتی کہ وہ دوست کو لے کر جائیں میری دوست ہمیشہ میرے پاس رہے)
اس نے اسے سمجھانے والے انداز میں کہا تھا جبکہ اب ایام سچ میں پریشان ہو گیا تھا وہ ابھی تک اس بات کو سوچ رہی تھی ۔
بیٹا ہیر تمہارے چاچو کی بیوی ہے اور وہ اسے لے کر جائے گا اپنے ساتھ وہ یہاں ہمارے گھر میں صرف مہمان ہے صرف چند دن کے لیے آئی ہے اسے اپنے گھر جانا ہے ۔اس نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا تھا وہ اسے اس بات کےلیے تیار کر رہا تھا کہ اسے واپس جانا ہے ۔
نی نہ ام اشے ہمسہ تےلیے یاں روت لے دیں (نہیں نہ ہم سے ہمیشہ کے لئے یہاں روک لیں گے )
اشے واپش نہ جانے دیں دے اشے چاتو شے چھوپا لیں دے(اسے واپس نہیں جانے دیں گے اسے چاچو سے چھپا لیں گے ۔)
یہ بھی نہیں ہو سکتا وہ تمہارے سعد چاچو کی بیوی ہے اور سعد چاچو اسے اپنے ساتھ لے کر جائیں گے اس نے بات کو ختم کرنا چاہا تھا جب روحی نے کچھ سوچتے ہوئے پھر سے کہا
تو اپ ہیل تو میلی بیوی بنا دے(آپ ہیر کو میری بیوی بنا دے)
وہ ہمسہ میلے پاش رے دی (وہ ہمیشہ میرے پاس رہے گی )
۔اس نے اپنے دماغ کا استعمال کرتے ہوئے کہا تھاتو ایام کے لبوں پر ایک لمحے کے لیے مسکراہٹ آرکی تھی کل وہ اس سے کہہ رہی تھی کہ وہ ہیر کو اپنی بیوی بنا لے اور جب اس بات پر اس نے اسے ہلکا سا گھور کر دیکھا تھا تو اس نے اپنی بات ہی بدل لی تھی آج اس کا کہنا تھا کہ ہیر کو اس کی بیوی بنا دیا جائے ۔
اسے سمجھ نہیں آتا تھا کہ اس کی بیٹی کے دماغ میں یہ ساری چیزیں آتی کہاں سے تھیں
بہت ہو گئی باتیں میرے خیال میں اب ہمیں سو جانا چاہیئے وہ اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے زبردستی سلانے کی کوشش کرنے لگا وہ ابھی بہت ساری باتیں کرنا چاہتی تھی اسے اپنی اور ہیر کی شادی کے لیے منانا چاہتی تھی ۔لیکن وہ اسے سلانے پر باضد تھا
اب شاید وہ صبح تک یہ ساری باتیں بھول جائے
°°°°°°
اس کی اچانک آنکھ کھل گئی تھی ایک بہت برے خواب سے وہ باہر نکل آئی تھی اپنے آپ کو کمرے میں محسوس کرتے ہوئے اسے سانس میں سانس آئی تھی
خود کو جنگل میں بھاگتے پا کر نہ جانے کب اس کی آنکھ کھل گئی وہ گہری سانس لیتی اٹھ کر بیٹھ گئی تھی ۔نجانے یہ برا خواب کس چیز کی نشاندہی کر رہا تھا لیکن وہ ایسے خوابوں سے بہت ڈرتی تھی ۔
یہ عجیب و غریب خواب اسے پہلی دفعہ آیا تھا اپنے گلے کو سکھا محسوس کرتے ہوئے اس نے لائٹ آن کی تھی اس کا ارادہ پانی پینے کا تھا لیکن ٹیبل پر خالی جگہ دیکھ کر وہ وہ پریشان ہوئی ۔
اس نے سوچا کہ وہ تانیہ کو جگا دے لیکن نہیں وہ سارا دن روحی کے آگے پیچھے گھومتی رہتی تھی یقینا تھک چکی ہو گی اس سوچ کے ساتھ اس نے اٹھ کر جگ اٹھایا اور باہر نکلنے لگی ۔
اس کا ارادہ خود ہی کچن میں جا کر پانی پینے کا تھا ۔
پہلے تو اس نے سوچا تھا کہ وہ دوبارہ سے سونے کی کوشش کرے لیکن وہ جانتی تھی کہ جب بھی اس کی آنکھ اس طرح سے رات میں کھلتی ہے تو وہ بنا پانی بھی نہیں سو سکتی تھی۔
اور اس وقت اس کے گلے کی حالت ایسی تھی کہ اب پانی پیے بنا گزارا بھی نہیں تھا ۔وہ جگ اٹھا کر باہر نکل آئی تھی اس نے ایک نظر دروازے کو دیکھا اور پھر سارے دروازے گن بھی لئے تاکہ وہ واپس اسی کمرے میں آئے اس دن کے بعد وہ دوبارہ ایسی غلطی نہیں کر سکتی تھی ۔
وہ تیزی سے سیڑھیاں تہہ کرتی نیچے کچن کی جانب آرہی تھی جب اندھیرے میں کوئی اسے اوپر کی طرف آتا نظر آیا ۔اس کا دل بے ترتیبی سے دھڑکنے لگا اس وقت یہاں بھلا کون ہو سکتا تھا۔
خوف سے اس کا دل کانپنے لگا تھا اس سے پہلے کہ وہ اوپر کی طرف بھاگنے کی کوشش کرتی اس کا پیر پھسلا اور وہ اگلے ہی لمحے اس آدمی کے اوپر جاگری تھی۔
شاید دوسری طرف سے بھی اس طرح کی امید کیسی نے بھی نہیں کی تھی وہ جو بالکل ریلیکس ہو کر اوپر کی طرف آ رہا تھا اچانک ہونے والے اس افتاد پر خود کو نہ سنبھال سکا اس کا پیر بھی ہیر کے وجود کے ساتھ ہی پھسلا وہ زمین پر جا گرا ۔اور اس کے اوپر ہیر گری تھی ۔
ان کا ایک ساتھ گرنا بے شک ایک اتفاق تھا لیکن اپنے لبوں پر اس کے لبوں کا لمس محسوس کرتے ایام سکت رہ گیا تھا۔
جبکہ ہیر کے پورے جسم میں جیسے ایک سنسناہٹ سی ہوگئی تھی اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اس طرح کا کچھ ہو جائے گا اس کا دل اس کے قابو سے باہر ہو چلا تھا ۔ہیر کی حالت خراب ہوگئی تھی ۔جب کہ وہ زمین پرپڑا خود بھی عجیب طرح کی کشمکش میں تھا ۔
ہیر پلیز میرے اوپر سے اٹھو۔۔۔۔۔وہ جو پورا وجود اس پر ڈالے کاپنے میں مصروف تھی اس کی آواز پر اگلے ہی لمحے اس سے دور ہوتے ہوئے پیچھے ہٹی جب کہ وہ بھی زمین سے اٹھتا جلدی سے سویچ بورڈ کی طرف آیا تھا
سارا ہال لمحے میں روشنی سے نہا گیا تھا ۔
آپ اتنی رات کو یہاں نیچے کیا کر رہی ہیں۔۔۔۔۔؟ وہ تھوڑی دیر پہلے والی سچویشن کو نظر انداز کرتے ہوئے اس سے سوال جواب کرنے لگا تھا شاید وہ اسے ریلیکس کرنے کی کوشش کر رہا تھا یا پھر اسے ایک اتفاق نام دے کر خود بھی بھلانا چاہتا تھا ۔یا شاید وہ اس پر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس کا گرنا محض ایک اتفاق ہے اس کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں ۔
وہ۔۔۔پ۔۔۔پانی۔۔۔۔۔۔
مس تانیہ نے آپ کے کمرے میں پانی نہیں رکھا بہت ہی غیر ذمہ دار ہوتی جارہی ہیں یہ ان کی تو میں صبح کلاس لوں گا آپ جائے پانی لے لیجئے وہ زمین پر آگے پیچھے نظر دوڑاتے ہوئے اس سے کہہ رہا تھا جب ہیر نے صوفے کی طرف پڑی فیڈر کی طرف اشارہ کیا ۔جو شاید اس کے گرنے کی وجہ سے کافی آگے چلی گئی تھی۔
یقینا وہ آدھی رات کو یہ اپنی بیٹی کا فیڈر بنانے ہی آیا تھا ۔
شکریہ وہ اس سے کہتے ہوئے اس کی طرف دیکھے بنا جلدی سے فیڈر اٹھا کر سیڑھیاں چڑھ کر اوپر چلا گیا تھا جب کہ ہیر کو تو پانی پینے کا بھی ہوش نہیں رہا تھا۔
وہ جگ وہیں پر رکھتی خاموشی سے اپنے کمرے کی طرف آ گئی تھی اس کی پیاس مٹ چکی تھی ۔
°°°°°°°
وہ بیڈ پر آکر لیٹی تب بھی اس کی ساری سوچیں ایام کی طرف ہی تھی وہ مسلسل اس کی سوچ پر سوار تھا اس کے ذہن میں اس وقت سوائے ایام کے اور کوئی نہیں تھا وہ بار بار اپنے لبوں پر اس کا لمس محسوس کرتی کانپ کر رہ جاتی ۔
اس کا دل اب تک نارمل سپیڈ پر نہیں آیا تھا ۔وہ اب اس شخص سے نظریں کیسے ملائے گی۔
یہ کیا ہو گیا تھا۔وہ آدمی اس کے بارے میں کیا سوچ رہا ہوگا ۔ ۔اگر کسی کو اس چیز کی بھنک بھی پڑ گئی تو ۔۔۔۔۔۔۔؟
نہیں یہ صرف ایک اتفاق تھا وہ اس پر گری تھی اس نے جان بوجھ کر یہ حرکت نہیں کی تھی یہ صرف ایک اتفاق تھا اور کچھ بھی نہیں ہیر خود کو سنبھالتی اٹھ کر بیٹھ گئی تھی نیند اس سے کوسوں دور تھی۔
ہیر چاہ کر بھی اس چیز سے باہر نہیں نکل پا رہی تھی ۔آج تک تو سعد بھی اس کے اتنے پاس کبھی نہیں آیا تھا۔جو اس پر حق رکھتا تھا جو اس کا محرم تھا اور یہ شخص آ گیا تھا ۔
مجھے نیچے جانے کی ضرورت ہی کیا تھی اگر پانی نہیں ملتا تو کیا مر جاتی وہ خود کو کوسنے لگی ۔
وہ اس چیز سے باہر ہی نہیں نکل پا رہی تھی یہ سوچ ہی اس کے لیے جان لیوا تھی کہ اگر اس بات کے بارے میں کسی کو پتہ چل گیا تو کیا ہوگا ۔
