60.8K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Wehshat E Junon) Episode 10

ِوہ گہری نیند سو رہی تھی جب آہستہ سے اس کے کمرے کا دروازہ کھلا اور اسی طرح بنا آواز بند بھی ہو گیا۔ دروازہ بند کرتے ہوئے وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اس کے پاس آیا تھا۔
اس کی گہری نگاہیں اس کے معصوم سے چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔ اس کے چہرے پر اب بھی خوف تھا وہ اب تک اس حملے سے باہر نہیں نکل پائی تھی اور اس کے ڈر کو دیکھتے ہوئے اسے ان لوگوں پر اور بھی زیادہ غصہ آ رہا تھا۔
اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کھڑے کھڑے ان سب کو شوٹ کر دے ۔ان کی وجہ سے وہ اتنی زیادہ خوفزدہ ہو چکی تھی کہ نیند میں بھی وہ ان لوگوں کے بارے میں سوچ رہی تھی۔
اسے خود پر غصہ آ رہا تھا کہ اس نے اس کا خیال کیوں نہیں رکھا اسے اس کے ساتھ سیکیورٹی گارڈ کو بھی بھیجنا چاہیے تھا ۔
اس کے معصوم سے چہرے سے نظریں ہٹاتا اس سے پہلے ہی اس کی نظر اس کی ننھی سی ناک میں الجھ گئی تھی اس کی ناک پر موجود وہ ننھاسا موتی چمکتے ہوئے اسے اپنی طرف متوجہ کر رہا تھا۔
اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھر گئی مونچھوں تلے اب لبوں پر تبسم بکھر گیا وہ بے حد آہستہ سے اس کی طرف جھکا تھا اس کا دل اسےکسی بےباک سی گستاخی پر اکسا رہا تھا نگاہیں باربار اس کی نتھ میں الجھ رہی تھیں ۔
اپنے دل کو وہ عجیب ہی ترنگ میں دھڑکتے ہوئے محسوس کر رہا تھا ۔دھڑکنوں میں ایک طوفان مچا ہوا تھا اس کا دل چاہا کہ وہ آگے بڑھ کر اسے چھو لے لیکن وہ ایسی حرکت نہ کر سکا تھا ۔وہ اس کے اتنے پاس کیوں آگیا تھا ۔وہ اگلے ہی لمحے اس کے بیڈ سے دور ہٹ چکا تھا پیچھے ہٹتے ہوئے اس نے خود کو ملامت کی۔
لیکن جیسے ہی اس نے دوبارہ اس کے چہرے کو دیکھا اس کی ملامت کہیں بہت دور جا سوئی اس کا دل پھر سے بے قرار ہواٹھا ۔یہ اس کو کیا ہوتا جارہا تھا اس کی دھڑکنوں میں یہ تلاطم کیوں مچ گیا تھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ مزید وہاں نہ رک کر خود کو اس امتحان سے نکالنا چاہتا تھا۔
ناچاہتے ہوئے بھی اس نے اپنے قدم باہر کی طرف بڑھا دیے تھے ہیرکوسوئے تقریبا آٹھ گھنٹے ہو چکے تھے ہر طرف اندھیرا چھا چکا تھا
چاچی جان بھی اپنے کمرے میں آرام کر رہی تھیں۔ انہوں نے تو رو رو کر اپنی حالت خراب کر لی تھی کہ نہ جانے ہیر کو کیا ہو گیا ہے ۔ہیر کو ان سب چیزوں سے نکلنے میں ابھی وقت درکار تھا وہ اپنے کمرے میں آیا اور اس کی بیٹی بیڈ پر سوئے ہوئی تھی
روحی اب بھی کافی زیادہ خوفزدہ تھی لیکن اس کے پاس اس کے باپ کی باہوں کا حصار تھا جو اسے ہر ڈر سے نکال سکتا تھا ۔
لیکن ہیر کے پاس ایسا کوئی سہارا نہیں تھا سعد کو ان سب چیزوں کے بارے میں انفارم کردیا تھا ۔اور سعد نے اس سے کہا تھا کہ پلیز لالہ میرے واپس آنے تک آپ ہی میری بیوی کے محافظ ہیں۔ اسے کچھ نہیں ہونا چاہیے اسے گھر سے باہر نہ نکالیں۔
سعد کا کہنا تھا کہ وہ ان سب چیزوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتا لیکن اس کا ڈر صاف بتا رہا تھا کہ وہ ان سب چیزوں کے بارے میں سب کچھ جانتا ہے اور سمجھتا ہے لیکن اس نے اسے کچھ بھی بتانے پر فورس نہیں کیا تھا
اسے لگتا تھا کہ سعد خود ہی اسے پوری بات بتا دے گا اس کی بیوی پر حملہ ہوا تھا اس کی بیوی کی جان جا سکتی تھی یہ صحیح وقت تھا کہ سعد سب کچھ اسے بتا دے لیکن اس نے کچھ بھی نہیں بتایا وہ کوئی راز چھپا کر رکھنا چاہتا تھا
لیکن وہ جانتا تھا کہ سعد اسے کچھ بتایا نہ بتائے۔وہ جلدی سب کچھ خود ہی پتا لگا لے گا
°°°°°°
تین دن گزر چکے تھے اس کا کھانا پینا سب کچھ اس کے روم میں ہی تھا کوئی اسے تنگ نہیں کرتا تھا۔
تانیہ روز تھوڑی دیر آکر اس کے پاس بیٹھتی تھی اسے باہر چلنے کو کہتی تھی لیکن وہ اس کمرے سے باہر نکلنا ہی نہیں چاہتی تھی شاید وہ کمرے کے اندر ہی خود کو محفوظ محسوس کرنے لگی تھی۔
لیکن کوئی بھی اسے اس بند کمرے میں نہیں رہنے دینا چاہتا تھا وہ یہاں انجوائے کرنے آئی تھی لیکن اس وقت بلکل کسی سہمی ہوئی بچی کی طرح تھی
اس کے ڈر کو وہ بہت اچھے طریقے سے سمجھتی تھی اسی لیے اسے فورس نہیں کرسکتی تھی وہ خود ہی اسے وقت پر کھانا اور میڈیسن دے کر جاتی تھی ڈاکٹر اسے چیک کرنے کے لیے وقت سے آتے رہتے تھے ۔
اسے لگتا نہیں تھا کہ وہ بیمار ہے لیکن پھر بھی اس کا علاج کروایا جا رہا تھا شاید اس کا ڈر کم کرنے کے لیے یا اسے اس چیز سے باہر نکالنے کے لئے
امی بھی کافی دیر اس کے پاس بیٹھ کر جاتی تھیں۔وہ اسے سمجھاتی کہ اب کچھ نہیں ہوگا اب وہ بالکل محفوظ ہے اور وہ اس گھر سے باہر نہیں نکلے گی اور نہ ہی ایسے لوگوں کی اس پر نظر پڑے گی ان کے مطابق یہ صرف ایک غلط فہمی تھی
وہ لوگ کسی غلط فہمی میں آ کر اس کو اغوا کر رہے تھے اور کچھ بھی نہیں ورنہ اس کے ساتھ بلاکسی کی کیا دشمنی ہو سکتی ہے۔
لیکن یہ چیز اسے کسی بھی طرح سے سکون نہیں لینے دے رہی تھی نہ جانے کیوں اسے لگ رہا تھا کہ وہ لوگ کسی غلط فہمی کی بنا پر نہیں بلکہ اسے ہی لینے کے لیے آئے تھے۔
۔
اگر ایسا تھا تو اس کا مطلب صاف تھا کہ وہ اب بھی محفوظ نہیں تھی وہ لوگ ایک دفعہ آکر اگر اسے اغوا کرنے کی کوشش کر سکتے تھے تو وہ دوسری دفعہ بھی آ سکتے تھے ۔اور یہی وہ ڈر تھا جس کی وجہ سے وہ اس کمرے سے باہر نہیں نکل رہی تھی اسے لگتا تھا جیسے ہر وقت کوئی اس پر نظر رکھے ہوئے ہے
اسے یقین ہو چکا تھا کہ کوئی ہے جو اس کی جان کا دشمن بنا ہوا ہے اور یہی ڈر اسے کسی طرف نہیں جانے دے رہا تھا
آج تو امی نے بھی اسے کہا تھا کہ اس کمرے سے باہر نکلو خود کو اس ڈر سے باہر نکالنے کی کوشش کرو۔لیکن وہ نہیں نکل پائی اور روحی بھی کتنی دیر اس کے پاس آکرضد کرتی رہی اس سے باہر لے کر چلنے کی۔لیکن وہ نہ مانی تو وہ اس سے روٹھ کر چلی گئی۔
روحی کو ناراض کرکے بھیجنا اسے اچھا تو بالکل نہیں لگا تھا لیکن شاید اس کی کنڈیشن کو نہیں سمجھ سکتی تھی تبھی اس سے ضد کر رہی تھی لیکن اس نے روحی کی ضد بھی نا مانی تھی ۔
اسے پتہ تھا وہ اس سے زیادہ دیر ناراض نہیں رہ پائے گی وہ کل بھی تو یوں ہی ناراض ہو کر چلی گئی تھی پھر صبح خود ہی واپس آگئی اس کے سامنے ناراضگی کی کوئی اہمیت نہیں تھی وہ خود ہی روٹھتی تھی اور خود ہی واپس آ جاتی تھی
°°°°°°
روحی میرا بچہ سیڈ کیوں ہے وہ اس کے پاس آکر بیٹھا جو اپنے ننھے ننھے ہاتھوں میں اپنا چھوٹا سا چہرہ تھامیں اداس سی بیٹھی ہوئی تھی ۔
بابادانی تاتی اتھی نی ہیں۔وہ ددی ہیں وہ بل نہ آتی نہ میلے شاتھ کلتی ہیں نا مدھے پھلاورج کے کلر نتاتی ہیں وہ ددی ہیں می نالاج ہوان شے (بابا چاچی اچھی نہیں ہیں وہ گندی ہیں وہ باہر نہیں آتیں نہ میرے ساتھ کھیلتی ہیں ۔نا مجھے فلاورز کے کلرز بتاتی ہیں وہ گندی ہیں میں ناراض ہوں ان سے وہ منہ پھلائے ہوئے بولی تھی ۔
جی سر میم کمرے سے نہیں نکل رہی میں نے بہت کوشش کی لیکن وہ میری بات مانتی ہی نہیں تانیہ بھی اس کے پیچھے کھڑی اسے بتانے لگی تھی اس نے صرف ہاں میں سر ہلایا اور اندر کی طرف قدم بڑھا دئیے
°°°°°°
آپ نے کیا تماشا بنایا ہوا ہے اس کمرے سے باہر کیوں نہیں نکل رہی ہیں آپ یہ چار دیواریاں کیا آپ کی حفاظت کریں گیں۔۔۔۔۔۔؟وہ اچانک کمرے میں داخل ہوا تھا
مجھے کہیں نہیں جانا میں یہی ٹھیک ہوں وہ نظریں جھکائے ہوئے بولی تھی ۔
اور آپ یہاں۔سے کیوں نہیں نکلنا چاہتیں کیا آپ مجھے بتانا پسند کریں گی وه سینے پہ ہاتھ باندھے اسے دیکھتے ہوئے بولا ۔
مجھے لگتا ہے کہ ہر وقت کوئی مجھ پر نظر رکھے ہوئے ہے یہ جو کچھ بھی ہوا ہے وہ اتفاقناً نہیں ہوا کوئی سچ میں مجھے لینےآیا تھا ۔ان لوگوں کا مقصد مجھے ہی اغوا کرنا تھا ۔
میں اس کمرے سے باہر نہیں نکلوں گی مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں جب سعد واپس آئیں گے تو میں یہاں سے چلی جاؤں گی ۔اس کے اچانک کمرے میں اندر آنے پر اس نے کوئی رد عمل نہیں دکھایا تھا اور نہ ہی پر کوئی برا اثر ہوا تھا ۔
یہ آپ کی صرف سراسر بیوقوفی ہے کہ یہ کمرہ آپ کی حفاظت کرے گا آپ کمرے سے باہر نکلیں گی۔ابھی اور اسی وقت اس حویلی کے اندر کوئی نہیں آ سکتا اور کوئی آپ کو کسی طرح کا نقصان نہیں پہنچا سکتا آپ مجھ پر اعتبار کرکے یہاں سے باہر نکل سکتی ہیں میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کو کچھ نہیں ہوگا۔
آپ کی وجہ سے میری بیٹی بہت زیادہ ڈسٹرب ہے ۔میں نے روحی کو اداس بیٹھے دیکھ کر اس سے پوچھا تو اس نے کہہ دیا کہ اس کی دوست باہر نہیں آ رہی اور اس وجہ سے وہ بہت زیادہ اداس ہے اس کی اداسی کو دیکھتے میں یہاں آیا ہوں۔
میں اپنی بیٹی کی آنکھوں میں کبھی دکھ نہیں دیکھ سکتا میں اپنی بیٹی سے بہت پیار کرتا ہوں میں نے اپنی بیٹی کو کبھی بھی اداس نہیں ہونے دیا میں اسے ہنستے کھیلتے دیکھنا چاہتا ہوں اسی لئے اس کا یوں پریشان ہونا مجھے بھی پریشان کر گیا ہے۔
میں آپ کو مکمل طور پر آپ کی مرضی پر چھوڑے ہوئے تھا میں نے یہی سوچا تھا کہ جب آپ خود بہتر محسوس کرے گی تو خود ہی کمرے سے باہر آ جائے گی۔
لیکن اتنا وقت گزرنے کے بعد بھی آپ باہر نہ آئی اور اب سب کو ڈسٹرب کرنے لگی ہیں۔ جو مجھے ہرگز منظور نہیں ۔
میری بیٹی بہت تھوڑے وقت میں ہی آپ کے بے حد قریب آچکی ہے۔اور میں اپنی بیٹی کو اداس نہیں دیکھ سکتا ۔وہ بولے جا رہا تھا جب کہ اس کی بات مکمل سننے کے بعد اس نے کچھ کہنا چاہا
آپ سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہے تھے وہ لوگ بہت خطرناک تھے وہ لوگ مجھے کیوں اغوا کر کے لے گئے تھے میں نہیں جانتی لیکن اگر آپ نہ آتے تو نہ جانے کیا ہو جاتا میں آپ کی شکر گزار ہوں کہ آپ نے میری خاطر اپنی جان کو خطرے میں ڈالا لیکن میں اپنے آپ کو مزید کسی مصیبت میں نہیں ڈالنا چاہتی اور نہ روحی کو۔۔۔۔۔”
آپ نے میری جان بچائی ہے اس کے لئے آپ کا شکریہ ۔ لیکن آپ ہر بار تو مجھے بچانے کے لئے نہیں آئیں گے یہاں آپ میرے ساتھ تھے لیکن ممکن تو نہیں کہ ہر بار آپ میرے ساتھ ہوں گے
میں ہمیشہ آپ کے ساتھ رہوں گا ہر قدم پر آپ کی حفاظت کروں گا میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ میرے ہوتے ہوئے آپ کو کچھ بھی نہیں ہوگا مجھ پر اعتبار کر سکتی ہیں آپ اس کی بات کاٹتے ہوئے وہ اس کی جانب آتا اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا ۔
ہیرتو چاہ کر بھی اس کے حق جتاتے انداز کو جھٹلا نہ سکی اور وہ اس کا ہاتھ تھامے اسے باہر لے گیا تھا
°°°°°°
اس کے باہر آنے پر سب بہت خوش ہوئے تھے روحی تو ناچ ناچ کر سب کو بتا رہی تھی کہ اس کی دوست واپس آ چکی ہے۔
امی جان نے بھی شکر منایا تھا کہ کسی کی بات کو سمجھ کر تو وہ اس کمرے سے باہر نکلی تھی ورنہ تو وہ کتنے ہی دنوں سے کمرے کی ہی ہو کر رہ گئی تھی ۔
تانیہ نے الگ سے آکر اسے گلے لگایا تھا اس کے باہر آنے پر اس نے خوشی سے اسے ویلکم کیا تھا۔بہت کم وقت میں وہ اس کی بہت اچھی دوست بن گئی تھی ۔اور ہیر خود بھی اسے بہت زیادہ چاہنے لگی تھی ۔
وہ آکر امی جان کے پاس بیٹھ گئی تھی اب وہ حویلی سے باہر نکلنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی تھی امی کا تو کہنا تھا کہ وہ دونوں باغ میں چلی جائیں لیکن اب اس کا ڈراسے کہیں بھی جانے کی اجازت نہیں دے رہا تھا
°°°°°°°
روحی کب سے آپ کو باہر چلنے کے لئے کہہ رہی ہے اب یہ مت کہیے گا کہ باہر جانے سے بھی آپ کو خوف محسوس ہو رہا ہے اگر آپ مجھ پر یقین کر کے یہاں تک آ سکتی ہیں تو تھوڑا سا اور یقین کر کے گھر کے باہر تک بھی جا سکتی ہیں حویلی کے اندر کوئی بھی نہیں آ سکتا۔
حویلی کی چاروں طرف گارڈ ہے کوئی بھی بنا اجازت اندر نہیں آ سکتا یہاں تک کہ آس پاس بھی کوئی انجان انسان نہیں آئے گا آپ اس حویلی میں آزاد ہو کر رہ سکتی ہیں اور بہت جلد ان لوگوں کے بارے میں سب کچھ جان کر آپ کو حویلی سے باہر نکلنے کا بھی موقع ملے گا۔
آپ یہاں گھومنے پھرنے آئی ہیں قید ہوکر رہنے کے لئے نہیں وہ لوگ جو بھی تھے ۔جلد ہی ان کے بارے میں سب کچھ پتہ لگا لیا جائے گا آپ اپنے دل سے یہ ڈر نکال دیں کہ کوئی آپ کو یہاں حویلی کے اندر کچھ کر سکتا ہے۔
اپنی بیٹی کے بار بار کہنے پر وہ باہر آ کر اسے سمجھا رہا تھا ۔ شاید اس کا ڈر کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا وہ اس سے زیادہ بات نہیں کرتا تھا ۔۔۔۔۔”
لیکن جب سے یہ حملہ ہوا تھا وہ اسے اکثر کچھ نہ کچھ سمجھآتا رہتا تھا اس کے کمرے میں بنا اجازت کبھی نہیں آیا تھا بلکہ آیا ہی نہیں تھا لیکن آج وہ بنا اجازت نہ صرف اس کے کمرے میں آیا تھا بلکہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے باہر بھی لے آیا تھا
اور وہ کسی بھی طرح کی مزاحمت نہیں کر سکی تھی ۔
نہ جانے کیوں اس کی بات ماننے پر مجبور ہوگئی تھی اور اب اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اس شخص پر یقین کرے اور اپنی زندگی کو آزادی سے جیے کم ازکم اس حویلی کے اندر تو اپنی مرضی سے رہ ہی سکتی تھی ۔
اسے اس ڈر سےتو نکلنا تھا پچھلے کچھ دنوں سے وہ بہت بری طرح ذہنی دباؤ کی حالت میں تھی اسے ان سب چیزوں سے باہر نکلنا تھا وہ مزید خود کو اس اذیت میں نہیں ڈالنا چاہتی تھی۔
یہ حقیقت تھی کہ وہ اس شخص پر یقین کرنے لگی تھی ۔وہ اس کے بھروسے اس حویلی میں آزادی سے رہ سکتی تھی اور وہ ایسا ہی کرنے والی تھی ۔
وہ اپنی بات مکمل کر کے خاموشی سے جا چکا تھا جبکہ اس کی بات کو سمجھ کر اس نے روحی کی تلاش میں نگاہیں اٹھائیں ۔
روحی جو کب سے منہ بنائے بیٹھی ہوئی تھی وہ صوفے سے اٹھ کر اس کے پاس آتے ہوئے اس کا ننھا سا ہاتھ تھام چکی تھی۔
چلو روحی باہر چل کر دیکھتے ہیں کہ کون کون سے نئے فلاورز آئے اس نے مسکراتے ہوئے اس کا ہاتھ تھاما توروحی کی آنکھوں میں چمک سی آ گئی ۔اور اگلے ہی لمحے وہ اسے ساتھ لیے باہر کی طرف جانے لگی تھی اس نے تانیہ کو پیچھے جانے کا اشارہ کیا تو وہ مسکراتے ہوئے باہر نکل گئی
°°°°°°°
سر ہم نے انہیں مار مار کر انہیں آدھ مرا کر دیا ہے لیکن یہ اپنی زبان کھولنے کو تیار ہی نہیں ہیں۔
نہ جانے انہیں کس طرح سے ٹرینڈ کیا گیا ہے سر مجھے ایسا لگتا ہے جیسے ان کا تعلق کسی مافیا گینگ سے ہے۔
میرا مطلب ہے سر کافی پاورفل لوگ ہیں ان کو رہا کرنے کے لئے ہمیں بہت فون کر چکے ہیں بہرحال ہم نے یہ بات چھپا رکھی ہے کہ ہم نے اس طرح کے کسی کیس میں ہاتھ ڈالا ہوا ہے لیکن پھر بھی وہ لوگ پر یقین ہیں
کہ اس طرح کا کوئی کیس ہمارے تھانے میں چل رہا ہے اس دن کے بعد ڈپٹی کمشنر کا فون تو نہیں آیا لیکن پھر سیاست سے جڑے کچھ لوگ ہمیں بار بار فون کر رہے ہیں۔
سیاست سے لوگوں کا فون آیا تو ہم نے یہی سوچا کہ کہیں نہ کہیں اس سے آپ کا بھی تعلق ہے لیکن پھر یہ لوگ آپ کی وائف کو کس علاقے سے باہر لے جانے کی کوشش کر رہے تھے جس کا مطلب ہے کہ ان کا تعلق باہر سے ہے اس علاقے سے نہیں
اور سر یہ لوگ ڈر نہیں رہے ان کے اندر موت کا ڈر بھی موجود نہیں ہے وہ ہر طرح کے سچوئیشن کو ہینڈل کرنا جانتے ہیں یہ اس کام میں نئے نہیں ہیں بلکہ بہت عرصے سے ان سب چیزوں میں لگے ہوئے ہیں
یہ ساری باتیں مجھے بتانے کی بجائے تمہیں اس کو حل کرنا چاہیے مجھے بس جاننا ہے کہ یہ لوگ میرے گھر کے فرد پر حملہ کیسے کر سکتے ہیں۔
ان لوگوں کا تعلق کس چیز سے ہے اور یہ کیا چاہتے ہیں یہ سب کچھ جاننا تمہارا فرض ہے اور اگلی دفعہ جب تم مجھے فون کرو توتمہارے پاس ساری انفارمیشن ہونی چاہیے
میں مزید یہ سب کچھ ہینڈل نہیں کر سکتا مجھے اب اس مسئلے کا کوئی حل چاہیے آگے تمہارا کام ہے۔اس نے غصے سے کہتے ہوئے فون بند کر دیا تھا ۔
ایک طرف ہیرکا ڈر اسے بری طرح سے ڈسٹرب کر رہا تھا اور دوسری طرف یہ لوگ اپنی زبان کھولنے کو تیار ہی نہیں ہو رہے تھے اور پولیس والے اب تک کچھ بھی پتہ لگانے میں کامیاب نہیں ہو رہے تھے
اور ایام سکندر کبھی نا کامیاب نہیں ہوا تھا وہ یہ سب کچھ ہلکےمیں نہیں لے سکتا تھا اسے ان سب کے بارے میں سب کچھ پتہ کرنا تھا°°°