60.8K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Wehsaht E Junoon ) Episode 34

کھانا تیار ہے ۔آپ ٹیبل پر آ جائیں میں بچوں کو لاتی ہوں۔فرح نے باہر آ کر کہا۔تو وہ دونوں اٹھ کر سامنے والے روم میں آ گئے۔
ان دونوں کے بیچ ابھی تک رحیم کی ہی ذات غورِ بحث تھی۔لیکن اس بارے میں ہیر کو کچھ بھی پتا نہیں تھا۔اس کے ذہین میں اس وقت ہمدان کی دونوں بیویاں تھی۔
جو آپس میں اتنے پیار ومحبت سے باتیں کر رہی تھیں۔
اسے تو ان دونوں کے ساتھ بہت مزا آرہا تھا۔یہ دونوں ہستی مسکراتی لڑکیاں اسے بہت اچھی لگی تھیں ۔
ہیر تم آج رات یہیں رک جاؤ نہ ہمارے پاس ویسے بھی تو تم دو دن میں واپس چلی جاؤ گی اور پھر تم ہمارے پاس ہی دو ڈھائی سال کے بعد آوگی ہم تو کبھی پاکستان نہیں گئے
بلکہ ہمارے گھر میں تو پہلی دفعہ کوئی لڑکی مہمان آئی ہے۔ ہمیں تمہارے ساتھ اتنا زیادہ مزہ آ رہا ہے کہ ہم بیان نہیں کر پا رہے پلیز تم ہمارے پاس رہ جاؤ آج رات ہم بہت باتیں کریں گے
فرح نے اس کے ہاتھ تھامتے ہوئے کہا فرح بہت کلیر اردو بولتی تھی حالانکہ اس کا تعلق سعودیہ سے ہی تھا جبکہ عائشہ کوشش کرتی تھی کہ اس سے اردو میں بات کرنے کے لیکن اس کے لئے تھوڑا سا مشکل تھا ۔
لیکن زیادہ نہیں کیونکہ ان دونوں کے شوہر کا تعلق پاکستان سے تھا ۔اس کے ساتھ وہ دونوں ہی اردو میں گفتگو کرتی تھیں
میں کیا کہہ سکتی ہوں اگر ایام نے اجازت دے دی تو ہم رک جائیں گے اور اگر نہیں تو جانا پڑے گا ۔اس نے ان سے کوئی وعدہ نہیں کیا تھا کیونکہ ابھی تک وہ ایام سے اس بارے میں بات نہیں کر پائی تھی ۔بلکہ کوئی بات نہیں کر پائی تھی کیونکہ وہ تو حمدان کے ساتھ ہی کھانا کھا رہا تھا جبکہ بچے بھی ان کے ساتھ ہی بیٹھے ہوئے تھے وہ تینوں اندر تھیں کیونکہ دونوں ہی پردے کی پابند تھیں۔
یا شاید اس معاملے میں ان کا شوہر سخت تھا سعودیہ کے مرد شاید ایسے ہی ہوتے ہیں یہاں اس نے بہت کم عورتوں کو بنا پردے کے دیکھا تھا یہاں زیادہ تر عورتیں اپنا مکمل پردہ کر رہی تھی ۔
تو تم جا کر اپنے شوہر سے بات کرو نا دیکھو تو تمہاری بیٹی بھی یہاں بہت کم مزے میں ہے وہ بھی یہاں بہت انجوائے کر رہی ہے اسے بھی تو ہماری طرح پیارے پیارے دوست مل گئے ہیں وہ دونوں بچوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولیں تو ہیر مسکرا دی۔
اس بات میں تو کوئی شک نہیں تھا کہ روحی یہاں آ کر بے انتہا خوش تھی اس کی تو مستاں ہی ختم نہیں ہو رہی تھیں ۔
جب کہ وہ تینوں ایک دوسرے کے ساتھ کھیل میں لگے ہوئے تھے کھانا کھاتے ہوئے بھی کوئی پتا نہیں اپنی چائنیز زبان میں کیا کیا باتیں کر رہے تھے ایک بچہ روحی سے تھوڑا بڑا تھا جبکہ دوسرا روحی سے چھوٹا تھا
لیکن اس کے باوجود بھی ان میں کمال کی دوستی ہو گئی تھی بالکل ہی ان تینوں کی طرح ۔ہیر نے انکے نمبر وغیرہ اپنے پاس سیو کر لیے تھے تاکہ وہ پاکستان جا کر کے ان سے رابطے میں رہ سکے
°°°°°°°
ہم کہاں جا رہے ہیں ایام اتنا مزا آرہا تھا۔وہ کتنا کہہ رہی تھیں کہ آج رات رک جائیں ۔ابھی تو میری دوستی ہوئی ہے ۔وہ دونوں ایک دوسرے سے اتنا پیار کرتی ہیں آپ اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔
بھلا سوتنوں میں اتنا پیار کیسے ہو سکتا ہے۔میں تو ماننے کو تیار ہی نہیں تھی کہ وہ دونوں آپس میں اس طرح کا رشتہ رکھتی ہیں ۔
بلکل بہنوں کی طرح ہیں وہ دونوں۔۔کسی چیز کو لے کر جلن و حسد نہیں ہے دونوں میں۔وہ جوش سے اسے بتا رہی تھی۔جبکہ وہ اس کے انداز پر مسکرا رہا تھا۔
ہاں یہ تو اچھی بات ہے نا کہ ان دونوں میں اتنا خوبصورت رشتہ ہے وہ ایک دوسرے سے جلن محسوس نہیں کرتی ایک دوسرے سے حسد محسوس نہیں کرتی ایسا صرف ایسے ملکوں میں ہوتا ہے اگر یہ پاکستان میں ہوتے تو حالات کچھ اور ہوتے ہیں یہ عام سی بات ہے یہاں کا ہر مرد اپنے پاس چار چار بیویاں رکھ سکتا ہے ۔
ان کی زندگی ہماری زندگی سے بہت الگ ہوتی ہے اور جہاں تک یہاں رہنے کی بات ہے تو ڈارلنگ میرا یہاں رہنے کا کوئی ارادا نہیں ہے ۔بلکہ سچ کہوں تو میرا یہاں اس سے ملنے آنے کا بھی کوئی ارادہ نہیں تھا وہ تو بار بار اتنا زیادہ کہہ رہا تھا کہ جب بھی سعودیہ آؤں اس سے ملنے ضرور آؤں ورنہ شاید میں یہاں نہیں آتا اور اصل میں اس کے ساتھ میرا ایک بزنس پروجیکٹ بھی چل رہا ہے ۔
ورنہ تمہاری سوچ سے زیادہ پہنچا ہوا انسان ہے ہمدانی میرا دوست ہے کافی اچھی دوستی ہے ہم دونوں میں لیکن اس کے باوجود بھی ہمدانی کی نیچر مجھ سے بہت الگ ہے ۔
وہ سب کچھ تو ٹھیک ہے ایام لیکن کیا ہو جاتا اگر ہم ایک رات وہاں رک جاتے ابھی تو عائشہ اور فرح کے ساتھ میری اتنی اچھی دوستی ہوئی تھی آپ بیکار میں ہمیں لے آئے کاش ہم زندگی بھر کے لیے یہیں رک جائیں ۔یہاں تو سوتنیں بھی ایک دوسرے سے پیار کرتی ہیں
پتہ نہیں اس کے منہ سے کیسے یہ الفاظ نکلے تھے وہ اسے دیکھنے لگا کیا وہ صرف یہاں اس لیے رہنا چاہتی تھی کہ اس فرح اور عائشہ کا رشتہ اس قدر پسند آیا تھا یا پھر وہ وقتی طور پر ان سے متاثر تھی ۔
میری جان اگر تم یہاں رہنا چاہتی ہو ہمیشہ کے لئے تو یہ مشکل ہرگز نہیں ہے تمہارا شوہر اتنی پاور تو رکھتا ہے کہ یہاں پر تمہیں ایک شاندار لائف سٹائل دے سکے لیکن تمہیں مجھے دوسری شادی کی اجازت دینی پڑے گی کیونکہ یہاں کے مردوں کا نارواج ہے ایک ساتھ دو دو تین تین بیویاں رکھنا وہ اسے دیکھتے شرارتی لہجے میں بولا ۔تو ہیر کی یہاں رہنے کی خواہش وہیں پر ہی دم توڑ گئی
اس نےبے حد غصے سے اس کی جانب دیکھا تھا اور اس کے اس طرح سے دیکھنے پر وہ آنے والے قہقےکا گلا گھونٹ نہ سکا تھا
°°°°°°°
صبح سویرے ہی وہ اسے اپنے ساتھ کہیں لے آیا تھا۔
اس نے بہت بار پوچھا کہ وہ لوگ کہاں جا رہے ہیں لیکن اس نے کہا کہ وہ وہاں پہنچ کر ہی بتائے گا۔
وہ بھی خاموش ہو گئی کیونکہ اتنے دنوں میں وہ اسے اتنا تو سمجھ گئی تھی کہ اگر وہ ایک بار بات ختم کر دے تو دوبارہ کبھی اس چیز پر بات نہیں کرتا تھا۔
اس لیے اس نے بھی کوئی بحث نا کی۔بلکہ مزے سے روحی کے ساتھ مل کر اسے تنگ کرنے لگی۔جبکہ وہ زیادہ ہمدانی سے فون پر ہی لگا رہا ۔
ہاں ہمدانی ہم یہاں پولیس سٹیشن پہنچ آئے ہیں تم کس طرف ہو بتاؤ مجھے میں اسی طرف آ جاتا ہوں وہ فون پر لگا ہوا تھا جب ہیر نے پولیس سٹیشن کا ذکر سن کر آگے پیچھے دیکھا یہاں موجود سارے ہی بورڈ عربی میں تھے ۔
پہلے اس نے بھی غور کرنے کی کوشش نہیں کی تھی کہ وہ اس وقت کہاں جا رہے ہیں لیکن اب اسے تھوڑے ہی فاصلے پر اوپر عربی میں لیکن تھوڑا سا نیچے انگش میں لکھا پولیس اسٹیشن بھی نظر آ گیا تھا ۔
وہ اسے یہاں کیوں لے کر آیا تھا بلکہ وہ خود یہاں کیوں آیا تھا وہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی تھی جو ابھی تک فون پر ہی مصروف تھا ۔
وہ ابھی تک اسی حیرت میں ڈوبی ہوئی تھی جب اس نے ہاتھ کے اشارے سے سامنے سے آتی گاڑی کو اشارہ کیا جس سے تھوڑی ہی دیر میں اسے ہمدان نکلتا نظر آیا تھا وہ تیزی سے قدم اٹھاتا ان کے پاس ہی آ کر رک گیا اس نے بڑے ہی احترام سے ہیرکو سلام کرتے ہوئے ایام کو مخاطب کیا تھا ۔
میں نے آفیسر سے بات کر لی ہے تم اندر جاکر اس سے مل سکتے ہو ملاقات کا وقت صرف چند منٹ ہے یہ بات یاد رکھنا میں نکلتا ہوں وہ اس سے ہاتھ ملاتا وہیں سے واپس لوٹ گیا تھا جب کہ وہ ہیر کو اپنے ساتھ اندر آنے کا اشارہ کر چکا تھا اسے دیکھتے ہی ایک آفیسر اس کے پاس آیا اور اسے اندر کی جانب جانے کا اشارہ کیا ۔
وہ ہیر کا ہاتھ تھام کر اندر آ گیا تھا جہاں کرسی پر ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا جسے پہچانے میں اسے زیادہ وقت نہیں لگا تھا ۔
ہیر بھاگتے ہوئے اس کے سینے سے لگی تھی جو پہلے تو اسے دیکھ کر حیران ہوا تھا پھر سنبھل کر اس سے ملنے لگا شاید وہ سب کچھ پہلے سے ہی جانتا تھا اسی لئے کچھ پوچھنے یا کہنے کی غلطی اس نے نہیں کی تھی ملاقات کا وقت بہت کم تھا ہیر کے آنسو صاف کرتے ہوئے اس نے تسلی دی تھی کہ وہ ٹھیک ہے ۔
ایام کو تو اس نے صرف دیکھا ہی تھا ۔شاید وہ بھی جانتا تھا کہ آج اگر وہ جیل میں ہے تو اس کے پیچھے کی کہیں نہ کہیں وجہ ایام خود ہی ہے ۔یا شاید وہ بےخبرتھا
ایام نے نہ تو اسے مخاطب کیا اور نہ ہی اس نے ایام سے کوئی بات کی تھی بس اس کے ہاتھ بھڑانے پر اس نے بھی مصافحہ کر لیا تھا ۔
°°°°°°°
اپنے بھائی سے مل کر وہ کافی پریشان تھی۔بھابھی سے تو اس کی ملاقات بھی نا ہو سکی تھی وہ بھی جیل میں تھی ۔اس کا بھائی جیل میں تھا ۔نجانے کب سے وہ اس حال میں تھا۔ایام بھی اس کی کوئی مدد نہیں کر سکتا تھا۔کیونکہ سعودیہ میں وہ کسی طرح کی پاور نہیں رکھتا تھا ۔
اگر وہ پاکستان میں ہوتا یا پاکستان کی کسی جیل میں ہوتا تو وہ اس کے بھائی کےلیے کچھ نا کچھ کردیتا لیکن اب اس کے لیے ممکن نا تھا۔وہ یہاں بےبس تھا۔اس جگہ کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتا تھا۔
وہ ہیر کو پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن یہاں آتے ہی ہیر نے بس ایک خواہش تھی کہ وہ اپنے بھائی سے ملنا چاہتی ہے وہ چاہ کر بھی اس کی اس خواہش کو رد نہ کر سکا تھا مشکل سے ہی سہی لیکن اس نے ہیر کو اس کے بھائی سے ملانے کی تیاری کرلی تھی
لیکن اب ہیر کے آنسو دیکھ کر اسے پریشانی بھی ہو رہی تھی اس نے بیکار میں ہی یہ سب کچھ کیا اسے ایسا ہی کرنا چاہئے تھا جیسے اس نے سوچ رکھا ہے اس نے ہیر کو یہی کہنا تھا کہ وہ اس کے بارے میں کچھ بھی پتہ نہیں کر پایا لیکن اس کی خوشی کی خاطر اس نے اس سے اس کی ملاقات کروا دی تھی ۔
ہیر یہاں میں کچھ نہیں کر سکتا میں بالکل بے بس ہوں سعودیہ کا قانون میری سمجھ سے باہر ہے تمہارے بھائی نے کسی کے ساتھ فراڈ کیا ہے اور اسے اس فراڈ کی سزا مل رہی ہے اس میں تمہاری بھابھی بھی شامل تھی اس لئے وہ بھی جیل میں ہے
اب اس کا فراڈ کیا ہے اور وہ کتنے دن تک جیل میں رہنے والا ہے اس بات کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا اگر مجھے کچھ خبر ہوتی تو میں ضرور کچھ نہ کچھ کرتا ۔
لیکن تمہاری خاطر میں ہمدانی سے بات کروں گا ہوسکتا ہے وہ اس معاملے کو حل کرنے میں ہماری کوئی مدد کر سکے لیکن پلیز اس طرح سے آنسو بہانہ بند کرو تمہیں پتا ہے نہ میں تمہارے آنسو نہیں دیکھ سکتا تمہاری آنکھوں میں یہ آنسو مجھے بے چین کر دیتے ہیں ۔
میری جان پلیز وہ اس کے آنسو اپنے ہونٹوں سے صاف کرتا اسے اپنے سینے سے لگاتا اس پریشانی سے نکالنے کی کوشش کر رہا تھا ۔
°°°°°°
تم ابھی تک رو رہی ہو ہیر میری جان میں نے کہا نا میں ہمدان سے بات کروں گا۔وہ ضرور کچھ نا کچھ کرے گا۔
وہ کیا کر سکیں گے ایام کیا وہ بھائی کو جیل سے چھڑوا سکتے ہیں ۔وہ پر امید ہوئی۔
ہاں شاید وہ کچھ کر سکے اس نے اندازاً کہا۔
کیونکہ ابھی تک تو اس نے ہمدان کو کہا ہی نہیں تھا کہ وہ رحیم کو جیل سے چھڑوا دے ۔کیونکہ ابھی تک تو اسے خود رحیم پر غصہ تھا۔وہ خود فلحال اسے معاف کرنے کوتیار نا تھا۔وہ اسے خود سزا دینا چاہتا تھا۔
لیکن ہیر کے آنسو دیکھ دیکھ کر وہ بے بس ہو رہا تھا ۔وہ جب سے واپس آئی تھی روئے جارہی تھی
°°°°°°°
ساری رات پریشان رہی تھی اپنے بھائی کو جیل میں اس حالت میں دیکھتے ہوئے اسے سکون نہیں ملا تھا جب کہ وہ جو یہ سوچ رہا تھا کہ ہیر بھائی سے ملکر پر سکون ہو جائے گی وہ مزید پریشان ہو چکی تھی اور وہ اس کی پریشانی کو دور نہیں کر پا رہا تھا وہ رحیم کو معاف نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن اس کے آنسو اسے ایسا کرنے پر مجبور کر رہے تھے ۔
بہت سوچ سمجھ کر رات اس نے حمدان کو فون کیا تھا اور اس کے بھائی پر سے اس کیس کو ختم کرنے کی بات کی تھی پہلے تو ہمدان اس چیز کے لیے راضی ہی نہیں ہوا وہ کسی قیمت پر رحیم کو معاف کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا جو اس کے ساتھ جھوٹ بول کر اپنی بہن کا سودا کر رہا تھا ۔
لیکن پھر آخر اس نے اپنے دوستی کی خاطر اسے ایسا کرنے کی حامی بھر لی تھی جس کے لئے وہ اس کا بہت شکر گزار تھا ہیر کی پریشانی کو دور کرنے کے لئے اس نے مسئلے کا حل تو نکال لیا تھا لیکن اب ہمدان اسے نہ تو اپنے گھر میں رکھنے کو تیار تھا اور نہ ہی وہ نوکری واپس کرنے کو جس کے بل بوتے پر وہ سعودی عرب میں 6 سال سے کام کر رہا تھا ۔
وہ اسے ڈیپورٹ کروا دینا چاہتا تھا لیکن ایام نے وقتی طور پر اسے ایسا نہ کرنے کے لیے کہا تھا وہ ان سے رحیم کے لیے ایک موقع مانگنے پر مجبور ہوگیا تھا رحیم کو تکلیف دینے کا مطلب تھا کہ ہیر کو تکلیف دینا اور وہ ہیر کو اب کسی طرح کی کوئی تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا۔
وہ ہیر کو بس خوش رکھنا چاہتا تھا اور اس کی خوشی اپنے بھائی کے سکون میں تھی تو اس کے بھائی کو بھی پرسکون کر چکا تھا ۔
اس کے باوجود بھی کہ رحیم کو چھڑوا دینا کہیں نہ کہیں اسے اپنی بے وقوفی لگ رہی تھی لیکن وہ ایسا کرنے پر مجبور تھا
°°°°°°
روحی سو رہی تھی۔جبکہ وہ دونوں اپنی تیاری مکمل کر رہے تھے۔وہ ائیرپورٹ کےلیے نکلنے لگے تو اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ایام نے دروازہ کھولا توسامنےاسے ہیر کا بھائی اور بھابھی کھڑے نظر آئے۔
آپ لوگ یہاں۔۔۔۔۔۔وہ حیران ہواتھا۔
ہاں ہم اپنی بہن سے ملنے آئے ہیں ۔رحیم نے مسکرا کر کہا۔جبکہ اپنے بھائی کی آواز وہ سن چکی تھی۔
وہ دروازے کی طرف آ کر اپنے بھائی کو دیکھ خوش ہو گئی۔اور اس کے سینے سے لگتی ملنے لگی۔وہ بھی کافی جوش سے اس سے مل رہا تھا ۔جبکہ ہیر کی بھابھی کی نظر ایام پر تھی۔
ایام کو اس کی نظریں کچھ عجیب سی لگ رہی تھیں ۔وہ کتنی چالاک عورت تھی اس سے وہ باخبر ہو چکا تھا وہ ان لوگوں کو یوں ہی تنہا چھوڑ کر باہر نکل گیا تھا جبکہ ہیراپنے بھائی کے سینے سے لگی اسےاپنے سامنے صحیح سلامت دیکھ کر خوش ہو رہی تھی ۔
خدا کا شکر ہے کہ آپ لوگ بالکل صحیح سلامت یہاں آ گئے ہیں مجھے آپ لوگوں کو ایسے دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی ہے اللہ پاک آپ لوگوں پر کوئی مصیبت نہ آنے دے ۔وہ بہت خوشی سے کہہ رہی تھی بے شک رحیم نے اس کے ساتھ بہت برا کیا تھا لیکن یہ ایک بہن کا دل تھا جو اپنے بھائی کے خلاف کچھ سوچ ہی نہیں سکتا تھا ۔
یہ سب کچھ تو ایام کی وجہ سے ہوا ہے کل پتہ نہیں کہاں سے آیام نے میرے کفیل کا پتہ لگایا اور اس سے پتا نہیں کون سی ڈیل کر کے مجھے آزاد کروایا اس کا بہت بہت شکر گزار ہوں میں شاید وہ زیادہ کسی سے بات نہیں کرتا کل بھی وہ کچھ نہیں بولا اور اب بھی چلا گیا میں تو اس کا شکریہ ادا کرنے یہاں آیا تھا ۔
وہ اسے تفصیل سے بتا رہا تھا ان سب دوران اس کی بھابھی کی نظر تو بیڈ پر لیٹی اس معصوم بچی پرتھی ۔
تمہاری شادی ایام کے ساتھ کیسے ہوئی میرا مطلب ہے تم نے اسے کہاں دیکھا اور کیسے ہوا یہ سب کچھ تم نے مجھے تو اس بارے میں کچھ نہیں بتایا میرے خیال میں تم نے تو یہ کہا تھا کہ آیام سعد کا کزن ہے لیکن یہ تمہارا شوہر کیسے بن گیا ۔
اور تم نے ہمیں کیوں نہیں بتایا کہ یہ اتنا امیر ہے ۔اس کے انداز سے ہی لگ رہا ہے کہ وہ کوئی عام آدمی نہیں اور پھر اس جگہ پر ہوٹل کا کمرہ لینا کسی عام پاکستانی کے بس کی بات نہیں ہے ۔
اس کی نظروں میں حسد ہی حسد تھا جسے کم ازکم ہیر سمجھ نہیں پا رہی تھی وہ تو فی الحال اپنے بھائی کو ٹھیک ٹھاک اپنے سامنے دیکھ کر خوش ہو رہی تھی
الحمدللہ بھابھی اللہ پاک کا دیا سب کچھ ہے اس نے مسکرا کر اتنا ہی کہا تھا ۔
اگر سب کچھ ہے تو ذرا اپنے بھائی کا بھی خیال کرو یہ بچی کون ہے اس کے بارے میں کچھ بتاؤ مجھے وہ پوری طرح سے روحی کی طرف متوجہ ہوگئی تھی ۔
یہ ہماری بیٹی ہے میرا مطلب ہے ایام کی پہلی شادی میں سے ان کی اولاد ہے جواب ہمارے پاس ہی ہے بہت پیاری ہے ۔
کیا مطلب یہ امیر زادہ پہلے سے شادی شدہ تھا ۔ہیر تم کون سا کنواری تھی اچھی بات ہے لیکن ذرا کنٹرول میں رکھنا سوتیلی تو سوتیلی ہوتی ہے ۔
زیادہ سر پر چڑھنے کی ضرورت نہیں ہے اور کوشش کرو کہ جلدی سے جلدی اپنی اولاد ہو جائے وہ جو روحی کو کافی متجسس ہو کر دیکھ رہی تھی اب بےزاری سے بولی توہیر کو اپنی بھابھی کی سوچ پر افسوس ہوا ہے لیکن وہ کچھ بھی نہیں کہہ سکتی تھی ۔
اس کی سوچ کبھی نہیں بدل سکتی تھی اور کسی کی سوچ بدلنا کسی کے بس کی بات بھی نہیں ہوتی وہ آدھے گھنٹے تک اپنے بھائی سے باتیں کرتی رہی تھی ۔لیکن پھر ایام نے آکر کہہ دیا کہ انہیں نکلنا ہے ۔
رحیم کے ساتھ اس نے لیا دیا رویہ رکھا تھا جبکہ روحی کو بیڈ سے اٹھاتے وہ وہیں پے ایک کام کرنے والے کو سارے بیک دے کر نیچے تک پہنچانے کا آرڈر دے چکا تھا ۔وہ ان کے ساتھ ہی باہر تک آئے تھے ۔
بھابھی تو گاڑی تک پہنچتی اسے اپنے دکھ کی داستانیں ہی سناتی رہی تھی کہ رحیم کی نوکری اب چھوٹ چکی ہے اسے جلد سے جلد نئی نوکری تلاش کرنی پڑے گی کیونکہ اس کے کفیل نے اسے صرف دو مہینوں کا ٹائم دیا ہے اپنی رقم واپس کرنے کے لئے ورنہ وہ اسے سعودیہ سے دھکے مار کر نکلوا باہر کرے گا اور اس میں کوئی شک نہ تھا کہ وہ ایسا کر سکتا تھا ۔
°…..