Wehshat E Junoon By Areej Shah Readelle50289

Wehshat E Junoon By Areej Shah Readelle50289 Last updated: 6 October 2025

60.8K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wehshat E Junoon

By Areej Shah

°°°°°°° السلام علیکم لالہ کیسے ہیں آپ فون کیا سب خیریت تو تھی نا ۔معاف کیجئے گا میں دن میں آپ کا فون اٹھا نہیں سکتا وہ میں کام میں بزی تھا ۔ وعلیکم سلام الحمداللہ میں بالکل ٹھیک ہوں سعد تم سناؤ کیسے ہو اور کیا پریشانی ہے تمہیں چاچی جان کہہ رہی تھی کہ تمہیں کوئی مسئلہ ہو گیا ہے اگر کوئی مسئلہ ہے تو مجھے بتاؤ میں تمہارا ہر مسئلہ حل کرنے میں پوری مدد کروں گا ۔تم اس معاملے میں مجھ پر یقین کر سکتے ہو ۔وہ دن میں بھی سعد لو فون کرتا رہا تھا لیکن اس نے فون اٹھایا اور اب رات میں اس نے خود ہی سے فون کر لیا کوئی پریشانی نہیں ہےلالا الحمداللّه سب کچھ ٹھیک ہے میں کام کے سلسلے میں ذرا لندن آیا ہوا ہوں انشاءاللّه میری واپسی ہو جائے گی ایک ڈیڑھ مہینے میں تب تک ہیر اور امی آپ کے ساتھ ہی رہیں گی میں سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ امی اور ہیر کو اکیلے چھوڑ کر کیسے جاؤں گا ۔پھر مجھے خیال آیا کہ آپ سے زیادہ میں کسی اور پر بھروسہ تو کر نہیں سکتا اسی لئے میں نے ان لوگوں کو آپ کے پاس بھجوا دیا ۔ ریلی سوری لالہ میں آپ سے مل کر بھی نہیں آ سکا پلیز اب ان کی ذمہ داری آپ کے سر ہے ان کا خیال رکھیے گا میں بھی بہت جلد واپس آ جاؤں گا بس کچھ دنوں کی بات ہے نہیں تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں میں ان کا خیال رکھوں گا تم نے مجھے اپنے مسئلے کے بارے میں نہیں بتایا دیکھو اگر اب بھی کچھ ہے تو مجھے بتا دو میں تمہارا ہر مسئلہ حل کر دوں گا تمہیں پریشان ہونے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔وہ اسے اپنے ساتھ کا یقین دلارہا تھا نہیں لالا ایسی کوئی بات نہیں ہے آپ بس ایسے ہی پریشان ہو رہے ہیں ۔میں تو بس اس لیے پریشان تھا کہ جانے سے پہلے آپ سے ملاقات نہیں ہوسکی وہ شاید اسے کچھ بھی نہیں بتانا چاہتا تھا کوئی بات نہیں جب تم آؤ گے تو ملاقات ہو جائے گی لیکن اگر کوئی پریشانی ہے تو پلیز مجھے بتاؤ وہ اب بھی زور دے رہا تھا سعد کو یقین ہو چکا تھا کہ وہ اس پر شک کر رہا ہے اسے یہ بھی ٹھیک سے اندازہ نہ تھا کہ امی نے وہاں پر کیا بتایا ہے اسی لیے وہ فی الحال اس معاملے میں کچھ بھی نہیں کہنا چاہتا تھا لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اس مصیبت کو کسی کے ساتھ شیئر بھی نہیں کر سکتا تھا وہ چاہ کر بھی کسی کو بھی اس بارے میں کچھ بتا نہیں پا رہا تھا ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی ہے تم مت بتاو اور ایک بات یاد رکھنا چاہے کوئی بھی مسئلہ کیوں نہ ہوں میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں تم مجھ سے کچھ بھی شیئر کر سکتے ہو جی لالہ آپ کا بہت شکر گزار ہوں آپ ہمیشہ سے میری بہت مدد کرتے آئے ہیں اگر کچھ بھی ہوا تو میں آپ کو ضرور بتاؤں گا اس نے فون بند کرتے ہوئے کہا جب کہ وہ فون جیب میں ڈال دیتے ہوئے آگے پیچھے دیکھنے لگا تھا وہ روحی کو ڈھونڈتا ہوا یہاں آیا تھا جو اس کے ساتھ چھپن چھپائی کھیل رہی تھی اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اس وقت وہ یہ بھول چکی ہوگئی گی کہ وہ اس کے ساتھ کھیل رہی ہے بلکہ ضرور اپنے ہی کسی کھیل میں مصروف ہو گئی ہو گی وہ اسے تلاش کرتے ہوئے کچن کی طرف آیا جہاں مس تانیہ اس کے لیے کھانا بنا رہی تھی یقیناً اس نے پھر سے کوئی فرمائش کر دی ہوگی ۔ وہ کھانے پینے میں بہت سست تھی جس کی وجہ سے اکثر وہ بہت سمارٹلی کام لیتا تھا وہ اس کی پسند کی چیزوں میں ہلتھی چیزیں ملا کر اس کے لئے ایک الگ سی ڈش تیار کرواتا تھا جسے کھانے میں وہ سستی سے کام نہ لے اور یہ طریقہ اس کے لیے کافی فائدہ مند بھی ثابت ہورہا تھا روحی میں آپ کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گیا اور آپ یہاں ہیں یہ تو چیٹنگ ہو گئی نہ میرے ساتھ ۔ایسا کون کرتا ہے اپنے بابا جانی کے ساتھ وہ اس کے ساتھ بیٹھ کر پوچھنے لگا جبکہ مس تانیہ مسکراتے ہوئے اپنا کام کرنے لگی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ یہاں بیٹی سیر ہے تو باپ سو اسیر ہے وہ بھی اسے تلاش نہیں کر رہا تھا بلکہ اپنے کاموں میں مگن تھا اپش بابا دانی می تو بول دید اب ہم شبا تھیلیں دے یہ توئی تائم اے تھیلنےتا روی شالے تام اپنے تائم پر ترتی اے (اوپس بابا جانی میں تو بھول گئی اب ہم صبح کھیلیں گے یہ کوئی ٹائم ہے کھیلنے کا پر روحی سارے کام اپنے ٹائم پر کرتی ہے) وہ اسے سمجھا رہی تھی جب کہ وہ صرف ہلاتے ہوئے اس کی بات کو سمجھنے والے انداز میں اس کے منہ میں نوالے بنا کر ڈالنے لگا ۔ اس کی کل کائنات اس کی بیٹی ہی تھی جس کے لئے وہ کچھ بھی کرنے کو تیار تھا ۔ کھانا کھانے کے بعد وہ اسے اٹھا کر اپنے کمرے میں سونے کے لئے جانے لگا تھا وہ سارا دن بے شک نوکروں کے ساتھ رہتی تھی لیکن وہ اسے اپنے ساتھ سولاتا تھا ۔ اس کا بس نہیں چلتا تھا کہ وہ ہر لمحہ ہر گھڑی اسے اپنے پاس رکھے اس کی روٹین بہت زیادہ ٹف تھی جس میں سےاپنی بیٹی کے لیے وقت نکالنا بھی اس کے لیے اکثر بہت مشکل ہو جاتا تھا ۔ لیکن پھر بھی وہ کیسے بھی اس کے لئے وقت نکالتا تھا رات کے وقت ہی سہی بابادانی تل شمبا والی تیانی اپ نے شنوئی تی (بابا جانی کل سمبا والی کہانی اپنے آگے سنائی تھی) وہ اس کے کندھے کے ساتھ لگی اسے یاد کروا رہی تھی نہیں جانو سمبا والی پوری ہو گئی تھی ہم پرستان والی کہانی پڑھ رہے تھے اس نے یاد کرتے ہوئے کہا تھا ۔ جبکہ روحی نےسوچنے کی بھرپور ایکٹنگ کی تھی اور پھر اس کے کندھے کے ساتھ چپک گئی اس کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ اسے کہانی سننے کو مل رہی تھی ۔ویسے بھی وہ جو بھی سناتا تھا وہ بھی اسے دو تین دن بھول ہی جانی تھی۔ °°°°°°°