Umar Bhar Ka Maan Toota by Kanwal Kanwal NovelR50649 Last updated: 28 April 2026
No Download Link
231.3K
7
Rate this Novel
Umar Bhar Ka Maan Toota by Kanwal Kanwal
مومنہ بہت بڑے بزنس مین جلال رزاق کی اکلوتی لاڈلی بیٹی ہے جس کے منہ سے نکلنے سے پہلے بات پوری کی جاتی ہے اسی وجہ سے بہت بدتمیز اور نک چڑی ہے
کالج میں بھی وہ کسی کو کم ہی منہ لگاتی ہے اس کی ایک ہی دوست ہے ثانیہ اسے بھی وہ مشکل سے برداشت کرتی ہے جب موڈ نا ہو اسے بھی منہ نہیں لگاتی
اور اس کی ماں شازمہ اسے جب بھی کچھ سمجھانے کی کوشش کرے وہ باپ سے شکایت کر کے ماں کو چپ کروا دیتی ہے بابا کی تو وہ پرنسز ہے ...
ہیلو سر ہم کب سے کھڑے ہے لڑکی گھر سے نہیں نکلی اب کیا حکم ہے ....
ہو ----کھڑے رہوں ادھر ہی مجھے وہ چاہے ہر حال میں میں نے پتہ کروایا ہے سیکنڈ ٹائم کلاس ہے جیسے میں نے سمجھایا ہے ویسا نہی ہوا تو تم لوگوں کی خیر نہیں اس نے گھمبیر لہجے میں کہا...
جج----جی سر آپ فکر نہیں کرو ...
ہو کام پر فوکس کرو...
یہ آج ابھی تک ڈرائیور کیوں نہیں آیا کدھر مر گیا چلو آج پیدل جاتی ہو نزدیک ہی تو گھر ہے وہ خود سے ہی باتیں کر رہی تھی وہ ایسی تھی مغرور نک چڑی من موجی....
ہائے اللہ کتنا سنسان لگ رہا ہے دن میں کتنی رونق ہوتی ہے وہ بیچ کے راستے سے جا رہی تھی گلیوں میں سے...
چلو چپ کر کے گاڑی میں بیٹھ جائوں کسی نے پستول اس کے سر پر تان کے کہا...
کک----کون ہو تم پستول دیکھ کر اس کی جان ہی نکل گئی...
جو بھی ہو چلو بیٹھوں ...
اس نے پسٹل کو بیگ مارا اور بھاگنے لگی وہ کوئی ڈرپوک لڑکی تھوڑی تھی...
اے رک رک جا وہ پیچھے سے اسے آوازیں دینے لگے...
وہ بہت تیز بھاگ رہی تھی ایسے کے کبھی مڑے گی نہی چاہے جو ہو جائے اس کا دل بہت تیز دھڑک رہا تھا ..
جو اس کا پیچھا کر رہے تھے انہیں بھی ہر حال میں چاہے تھی چاہے جو ہو جائے ورنہ ان کی بھی خیر تو نہی تھی..
بھاگتے بھاگتے اسے ٹھوکر لگی اور وہ منہ کے بل گری...
اس سے پہلے کے وہ پھر اٹھ کے بھاگنا شروع کرتی وہ اس کے سر پر پہنچ گئے چل اٹھ انہوں نے اس کے منہ پر پٹی باندھی اور گاڑی میں ڈال دیا ...
چھوڑو مجھے وہ چیخنے لگی انہوں نے بےہوش کرنے والی دوا اسے سونگھا دی ....
جی سر پکڑ لیا ہے اب کیا حکم ہے....
ہو------فارم ہائوس پر لے جائوں اس نے مختصر جواب دیا اور فون رکھ دیا....
میں تمہیں چھوڑو گا نہی ایسی موت مارو گا تمہاری نسلیں یاد رکھے گی اس نے نفرت اور غصے کی آگ میں جلتے ہوئے کہا
جتنی اذیت میں نے اٹھائی ہے سود سمیت واپس کرو گا یہ وعدہ ہے میرا تم سے اس نے پاس پڑا گلاس دیوار میں دے مارا اس کے ہاتھ میں کانچ لگ گیا
پر اسے پرواہ نہیں تھی اس نے سامنے پڑی تصویر پر اپنے خون کے قطرے گرانے شروع کر دے اب دیکھنا تمہارا کیا حال کرو
گا پل پل تڑپوں گے پر اذیت ختم نہیں کرو گا میرے برے دن ختم
اور تمہارے شروع پیارے -----تھو اس نے زمین پر تھوک دیا کوئی نام نہی ہمارے رشتے کا بس دشمنی نبھائوں گا تمہاری طرح.........
یہ میری مومی نظر نہیں آرہی جلال رزاق نے آتے ہی بیگم سے پوچھا...
آج سیکنڈ ٹائم کالج گئی ہے اور اب تو کافی ٹائم ہو گیا ابھی تک
نہی آئی پتہ نہی کیا بنے گا اس لڑکی کا بہت سر پر چڑھایا ہوا ہے آپ نے میری تو سنتی ہی نہیں..
ارے بیگم بس کرو میرا بچہ صیح جا رہا کوئی سر نہی چڑھایا ہوا اکلوتی لاڈلی بیٹی ہے میری ویسے کافی ٹائم ہو گیا کال کر پوچھو میں بھی زرا فریش ہو لو....
ارے بیگم کیا ہوا پریشان کیوں بیٹھی ہو جلال رزاق فریش ہو کے آئے تو بیگم ویسے ہی بیٹھی تھی پریشان لگ رہی تھی....
وہ مومی کا نمبر بند جا رہا ہے اور اس کی دوست سے پوچھا وہ کہہ رہی کب کی مومی تو نکل گئی گھر کے لئے...
تو ڈرائیور کدھر ہے اس سے پوچھو وہ کہہ کر باہر نکلے چوکیدار سے پوچھا آج مومنہ کو کالج چھوڑنے کون گیا تھا...
سر شہباز گیا تھا چھوڑنے اس کے بعد وہ آیا گاڑی روکی کہا کہ مومنہ میڈم نے کہا تھا وہ خود آ جائے گی اس کے بعد وہ نظر ہی نہی آیا.....
اوہ گاڈ یہ کیا ہو رہا ہے جلال صاحب گھبرا گئے ...
ساری رات گزر گئی مومنہ نہی ملی اپنی پوری کوشش کر لی تھی انہوں نے اب پولیس کو بتانا ضروری ہو گیا تھا.
