Thokar by Umm e Umair NovelR50704 Last updated: 23 May 2026
Rate this Novel
No chapters found.
Thokar by Umm e Umair
گھر سے نکلتے ہی ہوا کے تھپیڑے جسم کے آر پار ہو رہے تھے۔ دسمبر کی سردی میں ملتان کا درجہ حرات بھی معمول سے ذرا ہٹ کر سرد تھا۔برق رفتاری سے پھٹ پھٹ کرتا رکشہ سامنے سے آتا دکھائی دیا ۔ شاہستہ اسکو ہاتھ دے جلدی سے ہم نے گھر بھی تو واپس آنا ہے۔رکشہ پہ سوار ہوتے ہی ڈرائیور نے دوبارہ سے پھٹ پھٹ رکشے کو بھگانا شروع کر دیا۔
درگاہ پر پہنچتے ہی ایک عجیب منظر تھا ، اماں اور آپی تو چوکھٹ سے لے کر قبر تک کو چومے جا رہی تھیں۔
اگربتیوں سے نکلتا دھواں ، اور سر چکرا دینے والی تیز خوشبو ، ڈھول کی تھاپ پر ناچتے مجاور، لمبے بال اور ناخن، گلے میں موٹے منکوں والی تسبیحیاں لٹکائے اپنی موج مستی میں محو تھے ۔
چند ایک تو نشے میں دھت ادھر ہی کچی زمین پر نیم دراز تھے، جبکہ باقی ایک کونے میں سوٹا لگانے کے لئے ہتھیلی پر پاؤڈر ڈالے کچھ سگریٹ میں گھسیڑ رہے تھے اور باقی ماندہ ناک کے نتھنوں سے اوپر چڑھا رہے تھے ۔۔۔
کچی شراب، تمباکو، بیڑی، سگریٹ، گٹکھا، گانجا اور چرس مجاوروں کی مرغوبیت کا منہ بولتا ثبوت ہے، نشئیوں کے پکے ٹھکانے مزارات سے ملحقہ چبوترے اور ارد گرد کے ڈھکے چھپے بھنگ گھوٹنے والے ہیں جو اس غلاظت سے خود اور دوسروں کو بھی عادی بنائے ہوئے ہیں۔ نجانے کتنے کتنے دن نہاتے نہیں ہیں یا پھر کثرت نشہ انہیں دنیا و مافیا سے بےخبر رکھتا ہے۔
عجیب اللہ والے ہیں کہ قریب جاوء تو انکے بدبودار جسم سے کراہت محسوس ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر نشہ والی چیز حرام ہے"۔(صحیح مسلم:2003)
اور دوسری حدیث میں ارشاد ہے:
"اور نشہ آور چیز کا استعمال مت کرو۔"صحیح مسلم:977)۔۔۔۔
یہ کیسے اللہ کے ولیوں کا مقام ہو سکتا ہے ؟ جنھیں نا نماز کی فکر ہے نا طہارت کی کچھ خبر ہے بس نشے میں مست ابلیس کے نقش قدم پر چلتے چلے جا رہے ہیں ۔۔۔
درگاہ کے اندر داخل ہوتے ہی مدفون کی قبر پر بیش قیمت چاردیں سینکڑوں کی تعداد میں ناظر کو سوچنے پر مجبور کر رہی تھیں کہ نجانے کتنے زندہ مفلس لوگ باہر سردی میں ٹھٹھر رہے ہوتے ہیں۔ اور یہاں منوں مٹی تلے مدفون اس بزرگ کے اوپر چادروں کی بھرمار ہے ۔
اے ماہی بیٹی مانگ جو مانگنا ہے ۔ پاس کھڑی نند اور سانس نے تنبیہ کی، یہاں سے سب جھولیاں بھر کر ہی جاتے ہیں۔
اماں اور آپی قبروں اور چوکھٹ کی چوما چاٹی کے بعد ماربل سے مزین قبر کے دائیں طرف بیٹھیں اور بند آنکھوں سے اپنی گریہ زاری میں محو ہو گئیں ۔۔جبکہ ماہی نے چند دعائیہ کلمات پر اکتفا کیا اور چاروں طرف نگاہ دوڑانے لگی ۔
اکثریت عورتوں اور آوارہ نوجوانوں پر مشتمل تھی ، عورتیں عقیدت مندانہ انداز اپنائے بند آنکھوں سے گریہ زاری میں محو تھیں، ان میں سے تو بعض وقتا فوقتا قبر کو بوس و کنار اور سجدہ کرنے سے بھی گریزاں نہ تھیں ۔
"کیا وہ انکو اللہ کا شریک بناتے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتے حالانکہ وہ تو خود پیدا کیئے گئے ہیں۔اور وہ نہ انکی مدد کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی۔"(سورة الأعراف:191؛192)
بھلا منوں مٹی تلے مدفون کیسے انکی مدد کر سکتے ہیں؟ جو برزخی زندگی میں خود نجانے کس حال میں ہونگے ۔ جو نہ کسی کو سن سکتے ہیں اور نہ کسی کی فریاد رسی کر سکتے ہیں۔
سوچوں میں گم ماہین مزار کے اطراف میں موجود باقی قبروں کا موازنہ کرنے لگی جنکو بھی مختلف دیدہ زیب چادروں سے سجایا گیا تھا ۔
بعض عورتیں مزار سے باہر نکل کر اطراف میں موجود باقی قبروں پر آہ و زاری کر رہی تھیں ۔
کتنے سارے لفنگے نوجوان بھیڑ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نوجوان لڑکیوں کو چھو لینے کا موقع نہ ضائع کرنے کی ٹھان چکے تھے، وہ چاہے لڑکی کے کندھے، کوہلوں پر چٹکی کاٹنا ہو یا پھر یکدم اسکے گداز جسم کو ہاتھ لگانا۔
کتنے تو بس آنکھوں ہی آنکھوں میں اپنے اندر کی شیطانیت کی پیاس اشاروں کناہوں سے ہی پوری کر رہے تھے ۔
ماہی نے ایک نظر گھوم کر ساس نند کو دیکھا جو الٹے قدموں مزار سے باہر نکلنے کے لئے کوشاں تھیں ۔ ان تک پہنچنے کے لئے بھی گویا ایک ھدف تھا۔
کچھ سوچ کر ماہی ادھر ہی چند فٹ کے فاصلے پر قدیم بوہڑ کے درخت کے نیچے کھڑی ہوگئی ۔
درخت کے ساتھ بھی رنگ برنگے جھنڈے اور دھاگے بندھے لٹک رہے تھے جوکہ موسمی اثارات کے زیر اثر تھے۔ ہلکے ہاتھ سے کھینچو تو پھٹ جائیں ۔
ماہی نے جیسے ہی کپڑے کو پکڑ کر کھینچا اچانک چر کی آواز سے جھنڈے کا کپڑا ریزہ ریزہ ہو گیا ۔
اے ماہی کیا غضب کر رہی ہے پگلی۔۔؟ نجانے کسی کی بندھی مرادیں تو نے تہس نہس کر دی ہیں ۔
ابھی توبہ کر بزرگوں کے حضور ۔! گناہ گار ہو گئی ہے ۔!
عقب سے آتی اماں اور نند کی آواز میں خوف واضح تھا۔
اماں کیسی باتیں کرتی ہیں۔؟ ماہی نے لاپرواہی سے جواب دیا ۔
اے کچھ تو عقل کو ہاتھ لگا ، تجھے پہلے بھی سمجھایا تھا کہ یہ بڑی پہنچی ہوئی سرکار ہیں ۔ یہاں سے جھولی بھرنے کے بجائے بزرگوں کی بددعا نہ لیتی جائیو ۔
"ارے اماں جو خود اللہ سے مانگتے ہوئے مرے ہیں وہ بھلا ہمیں کیا دیں گے" ۔ جو خود اللہ کے محتاج تھے"۔۔
اے دماغ چل گیا ہے تیرا تو ، آہستہ بول کوئی مجاور نہ سن لے ورنہ بہت برا ہو جائے گا ۔
اے شائستہ تو دیکھ کیا بکے جا رہی ہے یہ اناڑی لڑکی؟
نند نے بھی ماہی کو گھوری سے نواز کر سر جھٹک دیا ۔
"اماں چھوڑیں اسے ، چلیں ابھی گھر چلتے ہیں۔" یہ تو بس بونگیاں مارتی رہتی ہے" ۔
اے بزرگوں کے نام کی نیاز تو بانٹتی جا ۔۔! مکھانے جلیبی یا مرسے لے لیتے ہیں ۔
اچھا اماں آپ ادھر بیٹھ جائیں اس چبوترے کے پاس ، میں بس ابھی لے کر آئی۔۔۔
"دیر نہ لگانا شائستہ" ۔۔۔
اماں ماہی آپکے پاس ہی ہے ، اب دیکھیں کتنے سارے عقیدت مندوں کا رش ہے ، دکانیں کچھا کھچ بھری پڑی ہے ۔ سبھی بزرگوں کی نظر و نیاز کے لئے بہتر سے بہترین کی خریداری کی چاہ میں لمبے انتظار میں کھڑے ہیں۔
