No Download Link
Rate this Novel
Episode 01
سنی انصاری ۔
اندھیری رات، نیون لائٹس سے جگمگاتے کلب کے اندر تیز موسیقی کی دھن پر مستی میں جھومتے لوگ، قہقہے، مہنگی شراب کے جام، اور ایک طرف وی آئی پی لاؤنج میں بلیک سوٹ میں ملبوس وہ شخص جو اس پورے منظر کا بادشاہ لگ رہا تھا ۔
پیسہ، شہرت، عورتیں… سب کچھ اس کے قدموں میں تھا۔ دبئی، لندن، نیویارک، جہاں بھی جاتا، محفلیں اس کے گرد سمٹ آتیں۔ عورتوں کے لیے وہ ایک خواب تھا، اور وہ ان خوابوں کو توڑنے کا ہنر خوب جانتا تھا۔ عشق؟ محبت؟ ان لفظوں پر وہ محض ہنستا تھا۔
سنی انصاری ۔انصاری گروپ آف انڈسٹریز کا سی ای او
دنیا اس کے لیے ایک کھلونا تھی، جسے جب چاہے، جیسے چاہے، کھیل سکتا تھا۔ اسے کسی اصول، کسی رواج، کسی اخلاقیات کی پروا نہیں تھی۔ زندگی اس کے لیے ایک پارٹی تھی، اور وہ اس کا بے تاج بادشاہ۔
ہر وقت ہائیلائٹ رہنے کا شوق ۔ سنی انصاری کی شخصیت ایک جاذبِ نظر کرشمہ تھی ۔ایک ایسا مرد جو دیکھنے میں ہی خطرناک حد تک دلکش تھا۔ اونچا قد، چوڑا سینہ، سخت مگر توازن میں تراشا ہوا جسم، جیسے قدرت نے ہر نقش سوچ سمجھ کر بنایا ہو۔
شہد رنگ آنکھیں ایسی تھیں کہ جو بھی ایک بار ان میں دیکھتا، پلک جھپکنا بھول جاتا۔ وہ آنکھیں کبھی شوخ مسکراہٹ سے لبریز ہوتیں، تو کبھی بے رحمی اور غرور کی چمک لیے ہوتیں۔
اس کے سیاہ گھنے بال ہمیشہ نفاست سے سیٹ ہوتے، ۔
مضبوط جبڑا، تیکھے نقوش، ہلکی سی شیو، جو اس کی مردانگی میں مزید شدت پیدا کرتی۔
لبوں پر ہمیشہ ایک بے پروائی بھری، جان لیوا مسکراہٹ سجائے رکھتا۔ایسی مسکراہٹ جو دلوں کو لبھاتی بھی اور توڑتی بھی۔ مہنگے ترین برانڈز کے سوٹ، خوشبو ایسی کہ فضا بھی مہک اٹھے، اور انداز ایسا کہ جس محفل میں جاتا، وہاں سب نظریں خودبخود اسی پر جم جاتیں۔
سنی انصاری ایک ایسا نام تھا، جو صرف لبوں پر آتا نہیں تھا، بلکہ دھڑکنوں میں اتر جاتا تھا!۔
ہیلو ہنڈسم یہاں اکیلے کیوں کھڑے ہو ۔؟؟
شہر کی سب سے بڑی ٹاپ ماڈل ایزل اس وقت اس کے سامنے جلوہ افروز تھی ۔
سنی نے اپنے مہنگے ترین مشروب کا گھونٹ لیا اور اپنی شہد رنگ آنکھوں سے اس لڑکی کو گھورا ۔ ہلکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر ابھری، وہی جان لیوا مسکراہٹ جس پر بے شمار دل فدا تھے۔
سنی انصاری نے بس ایک نظر اس پر ڈالی، پھر بے نیازی سے اپنے قیمتی مشروب کا گھونٹ بھرتے ہوئے
آرام سے کرسی پر ٹیک لگا کر بولا، “تم میرے ٹائپ کی لڑکی ہرگز نہیں ہو۔”۔اپنا ٹائم برباد مت کرو ۔۔
Leave me alone babe.
ایزل نے حیرت سے پلکیں جھپکائیں، پھر ادا سے مسکرائی۔ “اوہ رئیلی؟ اور تمہاری ٹائپ کیا ہے، مسٹر پرفیکٹ؟”۔۔۔ مجھ جیسی حسین لڑکی آج تک کبھی تمہارے کمرے کی زینت نہیں بنی ہو گی ۔
سنی نے ایک نظر اس کے میک اپ سے لتھڑے ہوئے چہرے کی طرف پھر اس کے بے حد بولڈ لباس پر ڈالی، پھر ہلکا سا قہقہہ لگایا۔ “تم جیسی لڑکیوں کو تو میں ڈیٹ پر بھی نہ لے کر جاؤں، کمرے میں لے جانے کی تو دور کی بات ہے!”۔
ایزل کا رنگ ایک پل میں سرخ ہو گیا۔ وہ شاید ایسی توہین کی عادی نہیں تھی۔ آس پاس موجود چند لوگ ان کی گفتگو سن چکے تھے، اور کچھ کے لبوں پر دبے دبے قہقہے بھی تھے۔
ایزل نے نخوت سے ناک چڑھائی، اپنے بالوں کو جھٹکا اور غصے سے بولی، “ہونہہ! تم جیسے مغرور اور گھمنڈی مردوں سے تو بہتر ہے میں کسی امیر بزنس مین کو پسند کر لوں!”۔
سنی نے ایک بار پھر وہی بے پروا مسکراہٹ سجائی، “شوق سے، لیکن یاد رکھنا… بزنس مین خریدتے ہیں مگر سنی صرف اشارہ کرتا ہے ۔!”۔۔مجھے نایاب چیز پسند ہے ۔ ایک استعمال شدہ لڑکی ۔۔وہ بھی سنی انصاری کے ساتھ ۔۔
No way.
“میں خوابوں میں نہیں، حقیقت میں جیتا ہوں… اور حقیقت یہ ہے کہ میں صرف اپنی پسند کا غلام ہوں!”
“میری زندگی میں دو ہی چیزیں اہم ہیں پیسہ اور اپنی مرضی، باقی سب فالتو باتیں ہیں!”
وہ تكبر سے بولا ۔
ایزل اپنی اس انسلٹ پیر پٹختی ہوئی وہاں سے چلی گئی ۔۔
سنی پرسکون انداز میں اپنی نشست سے اٹھا، کوٹ درست کیا اور ایک ہاتھ سے گلاس گھماتے ہوئے بار کی طرف بڑھ گیا، جیسے ابھی کچھ لمحے پہلے کسی کی عزتِ نفس کا جنازہ نہیں نکالا بلکہ بس یونہی، ایک عام سی بات ہوئی ہو۔
بار میں بیٹھے سب ہی لوگ اس شہر کی مشہور ماڈل کی ہوئی اس انسلٹ پر چہ مگوئیاں کر رہے تھے ۔
♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
مشعل انصاری
شہر کی سب سے بڑی انڈسٹری کی ڈائریکٹر ، مشعل انصاری، خود ساختہ اصولوں پر چلنے والی، دنیا کی پروا کیے بغیر اپنی مرضی جینے والی، اپنی پہچان بنانے والی۔ وہ انصاری انڈسٹری کی شہزادی تھی، لیکن نرم مزاجی اور روایتی نسوانیت جیسے الفاظ اس کی ڈکشنری میں نہیں تھے۔
“میں مردوں کا دماغ ٹھکانے لگانا خوب جانتی ہوں۔” یہ جملہ مشعل کے لبوں سے نکلتا تو جیسے کسی فرمان کی حیثیت رکھتا۔ وہ مردوں کے تکبر کو ان کے ہی غرور کے بوجھ تلے روندنا جانتی تھی۔ اس کی چال میں اعتماد تھا، آواز میں دبدبہ، اور آنکھوں میں وہ شعلے جو ہر دیکھنے والے کو جلانے کے لیے کافی ہوتے۔
وہ چاہتی تو نرمی برت سکتی تھی، مگر نہیں، وہ جانتی تھی کہ نرمی کمزوری بن سکتی ہے۔ “میرا جسم، میری مرضی” کا نعرہ وہ صرف کہتی نہیں تھی، اس پر عمل بھی کرتی تھی۔ جس لباس میں اسے خود سکون ملے، وہی اس کا انتخاب ہوتا۔ کسی کی پسند یا ناپسند کا بوجھ اٹھانے کا اسے کوئی شوق نہیں تھا۔
مشعل انصاری کے لیے دنیا ایک کھیل کا میدان تھی، اور وہ اس کھیل کی بے تاج ملکہ۔
خوبصورتی؟ ہاں، وہ بےحد حسین تھی، ۔سنی انصاری کی بہن تھی خوبصورت ہونا تو بنتا تھا ۔
لمبے قد پر ، بے عیب نقوش اسے سب میں منفرد رکھتے
صبح کے 10 بجنے والے تھے، مگر پوری کمپنی میں خاموشی تھی۔ کوئی ملازم اپنی جگہ سے ہلنے کی ہمت نہیں کر رہا تھا۔ استقبالیہ پر کھڑی ریحانہ بیگم بار بار گھڑی دیکھ رہی تھیں، ان کی نظریں ایلیویٹر پر جمی تھیں۔
“مس انصاری آ رہی ہیں!” کسی نے سرگوشی کی، اور اچانک پورے فلور پر ایک سنسنی دوڑ گئی۔
چمکتے ہوئے ہائی ہیلس کی مخصوص آواز فرش پر گونجی، اور ایلیویٹر کا دروازہ کھلتے ہی مشعل اندر داخل ہوئی۔ لمبی، دبنگ اور بےحد پروفیشنل مشعل انصاری کی موجودگی ہی کافی تھی کہ لوگ بنا کچھ کہے سیدھے کھڑے ہو جائیں۔
سفید پینٹ سوٹ میں ملبوس، سر پر سنہری براؤن بالوں کی چمکدار لہریں، اور چہرے پر وہی روایتی سرد مہری۔ اس کی نظریں جیسے ہی سامنے بیٹھے اسٹاف پر پڑیں، سب کے دل کی دھڑکنیں لمحے بھر کو رک سی گئیں۔
“یہ کیا مزاق ہے؟” اس نے ایک فائل اٹھا کر کانفرنس ٹیبل پر پٹخی۔ “یہ پریزنٹیشن کس نے تیار کی؟”۔
آفس کے سینئر مینیجر، کامران صاحب، ہڑبڑا گئے۔ “میڈم، عامر نے بنائی ہے، ۔
“مسٹر عامر، سامنے آئیں!” مشعل کی آواز تیز اور کاٹ دار تھی۔
عامر لڑکھڑاتے قدموں سے آگے آیا، پیشانی پر پسینہ چمکنے لگا۔
“یہ تم نے پریزنٹیشن بنائی ہے؟ واقعی؟ یہ کیا ہے، بزنس رپورٹ ہے یا کسی اسکول کے بچے کا ہوم ورک؟” مشعل نے سخت نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
اس نے سرد لہجے میں عامر کو گھورا۔ “تمہیں یہاں کام کرتے ہوئے تین سال ہو گئے ہیں، مگر اب بھی تمہیں بزنس پریزنٹیشن بنانی نہیں آتی؟ کیا میں تمہیں یہ بھی سکھاؤں؟”
“میم، میں نے پوری محنت کی تھی،
وہ پریشانی سے اپنی صفائی دیتا رہا ۔
“محنت؟” مشعل نے طنزیہ ہنسی ہنسی۔ “یہ کمپنی ایک ٹاپ لیول کارپوریشن ہے، اور مجھے کام میں پروفیشنلزم چاہیے، بہانے نہیں! اگر اگلی بار بھی اتنی ہی غیر سنجیدگی نظر آئی تو گھر بیٹھنے کے لیے تیار رہو!”۔
عامر نے ہکلاتے ہوئے کچھ کہنے کی کوشش کی، مگر مشعل نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا۔ “خاموش! مجھے بہانے نہیں سننے۔ اگر اگلی بار ایسی نکمی پریزنٹیشن بنی تو تمہاری جگہ کوئی اور ہوگا۔ اب دفع ہو جاؤ، اور شام تک مجھے پرفیکٹ پریزنٹیشن چاہیے!”۔
دفتر میں مکمل خاموشی چھا گئی۔ کسی کی ہمت نہیں تھی کہ ایک لفظ بھی بولے۔
مشعل نے فائل بند کی اور اسٹاف کی طرف دیکھا۔ “اگر کسی کو میرے طریقے پسند نہیں، تو دروازہ کھلا ہے۔ مگر اگر یہاں کام کرنا ہے، تو میرا اصول یاد رکھو میں صرف پرفیکشن کو قبول کرتی ہوں!”۔
مشعل نے سخت نگاہوں سے سب کی طرف دیکھا۔ “یہ کمپنی ایک ملٹی نیشنل برانڈ ہے، اور یہاں کام کرنے کے لیے دماغ کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں نے ایک پرفیکٹ پروپوزل مانگا تھا، نہ کہ یہ ناتجربہ کار بچوں کا رپورٹ کارڈ ! مجھے جاہل لوگ نہیں چاہییں، مجھے پروفیشنلز چاہییں!”۔
مشعل نے ایک نظر باقی سب پر ڈالی، جو خوفزدہ بیٹھے تھے۔ “اور باقی سب سن لیں! میں نے اپنی کمپنی میں نکمے اور سست لوگ برداشت نہیں کرنے۔ یا تو کام کرو، یا کسی اور جگہ جا کر کرسی گرم کرو!”۔
وہ سخت الفاظ بولتی ہوئی وہاں سے نکل گئی ۔کسی میں اتنی جرت نہیں تھی کہ وہ کوئی آواز نکالتے ۔
♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
براق قریشی
لمبا قد، کشادہ سینہ، اور سادہ مگر پرکشش انداز۔ براق انصاری جب کسی بھی ہجوم میں داخل ہوتا، تو نگاہیں خود بخود اس کی طرف مڑ جاتیں۔ گندمی رنگت میں ایک عجیب سی جاذبیت تھی۔ اس کی بھوری آنکھیں گہری اور سوچ میں ڈوبی ہوئی دکھائی دیتیں، جیسے ہر منظر کو پرکھ رہی ہوں، اور ہر انسان کو پڑھنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔
سادگی اس کے لباس سے جھلکتی تھی: عام طور پر شلوار قمیض یا پولو شرٹ اور جینز، مگر پہننے کا انداز ایسا کہ لگتا کوئی ماڈل ہو۔ ہاتھ میں ہمیشہ ایک گھڑی ہوتی، جو وقت سے اس کے مضبوط رشتے کی علامت تھی۔
براق انصاری ایک الگ سوچ رکھنے والا شخص ہے، جو عام روایات سے ہٹ کر اپنی راہ خود بنانے پر یقین رکھتا ہے۔ وہ دولت، کاروبار، اور خاندانی وراثت کی چکاچوند سے متاثر نہیں ہوتا، بلکہ اپنی زندگی کو ایک بڑے مقصد کے لیے وقف کر چکا ہے۔
بچپن سے ہی براق اپنے والد کی کاروباری دنیا میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا تھا۔ اسے لگتا تھا کہ پیسہ سب کچھ نہیں، بلکہ کسی کی زندگی بدل دینا اصل کامیابی ہے۔ شاید اسی سوچ کی وجہ سے اس نے اپنے والد کی خواہش کے خلاف جا کر اپنی دنیا خود بنانے کا فیصلہ کیا۔
اس کا سب سے قریبی ساتھی اور واحد دوست اس کا کزن معاذ تھا۔ معاذ اس کی زندگی کا وہ حصہ تھا، جس کے بغیر براق کچھ بھی نہیں تھا۔ دونوں بچپن سے ایک دوسرے کے رازدار، ہمراز اور بہترین ساتھی تھے۔ معاذ کو کاروبار کا شوق تھا، مگر وہ براق کی سوچ سے بھی بخوبی واقف تھا اور ہمیشہ اس کے فیصلوں میں اس کا ساتھ دیتا تھا۔
مگر براق کی اصل پہچان وہ خواب تھا، جو اس نے پاکستان میں سب سے بڑے ہوم ایج سینٹر کے طور پر پورا کیا۔
یہ وہ جگہ تھی جہاں وہ لوگ آ کر بس جاتے تھے، جنہیں اپنوں نے چھوڑ دیا تھا۔ ایسے ماں باپ، جن کی زندگی کا سہارا ان کے بچے ہوا کرتے تھے، مگر وقت نے انہیں اکیلا کر دیا تھا۔ کچھ کو ان کے اپنے بچوں نے ٹھکرا دیا، کچھ کے نصیب میں بے بسی لکھی تھی۔
“یہاں کوئی لاوارث نہیں… یہاں سب کے اپنے ہیں!”
یہ بات براق کے سینٹر کی پہچان بن گیا تھا۔
وہ خود ہر مہینے سینٹر میں جاتا، بزرگوں کے ساتھ بیٹھتا، ان کی کہانیاں سنتا، ان کے دکھوں میں شریک ہوتا۔ وہ صرف پیسے لگا کر پیچھے نہیں ہٹا تھا، بلکہ وہ اپنی زندگی کا مقصد ہی یہی بنا چکا تھا کہ ان والدین کو ایک نیا گھر دے، جنہیں ان کے بچوں نے بے گھر کر دیا تھا۔
“میرے باپ کے پاس بزنس ایمپائر ہے، میرے پاس یہ لوگ ہیں…” براق اکثر معاذ سے کہتا۔
اور معاذ ہمیشہ مسکرا کر جواب دیتا، “اور ان لوگوں کے پاس تم ہو براق!”۔۔اور تم روپے پیسے سے زیادہ قیمتی ہو ۔
براق اور معاذ دونوں دو سال کے لیے بیرون ملک گئے ہوئے تھے ۔۔دونوں کی دوستی پورے خاندان میں اسی لیے مہشور تھی کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے اسٹینڈ لیتے تھے ۔
اب ان دنوں کی واپسی اکھٹی تھی ۔
♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
معاذ قریشی ۔
وہ قد میں لمبا، چھ فٹ کے قریب، چوڑے کندھے اور مضبوط جسم کا مالک تھا۔
رنگ گندمی مگر چمکدار، جیسے سورج کی روشنی میں سونا دمکتا ہو۔
گہرے بادامی رنگ کی آنکھیں۔ اس کی آنکھیں بولتی تھیں ۔
چہرے پر ہلکی سی داڑھی جو اس کی شخصیت کو مزید پرکشش بناتی تھی۔
ناک تیکھے نقوش والی، ہونٹ درمیانے اور اکثر سنجیدہ مسکراہٹ لیے رہتے۔ جب وہ مسکراتا، تو چہرے پر ڈمپل پڑتے ۔
اس کی شخصیت کا سب سے پرکشش پہلو اُس کا وقار اور برداشت تھا۔ وہ ہر ماحول میں گھل مل جاتا، لیکن اپنی حدود اور اصولوں کو کبھی نہیں بھولتا تھا۔
دنیا کے کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ دھندلے تو ہو جاتے ہیں، مگر دل کی دیوار پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتے ہیں۔
معاذ قریشی کی زندگی کا سب سے بڑا زخم… اُس کی آنکھوں کے سامنے کبھی نہیں گیا۔
پلین کریش کی وہ خبر، جو ایک عام دن کو قیامت میں بدل گئی تھی۔ اُس دن معاذ صرف بارہ برس کا تھا، جب اُس کی ماں اور باپ، دونوں ایک ہی لمحے میں اس دنیا سے چلے گئے۔
ہوائی جہاز کے گرنے کی خبر نے پورے خاندان کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ مگر سب سے زیادہ وہ معصوم چہرہ تھا جو اُس دن کے بعد کبھی پہلے جیسا نہ رہا۔
لیکن قسمت نے اُسے تنہا نہیں چھوڑا۔
احسن قریشی، اس کے تایا، جنہیں معاذ ہمیشہ پاپا کہہ کر بلاتا تھا، اُسے اپنے سینے سے لگا کر لے آئے۔
“یہ میرے بھائی کی نشانی ہے… اور میرے لیے اپنے براق سے بھی بڑھ کر عزیز۔”
احسن قریشی نے نہ صرف معاذ کو محبت دی، بلکہ اُسے عزت، سہارے اور شناخت کا تحفظ بھی دیا۔
وہ اپنے سگے بیٹے براق اور معاذ میں کبھی فرق نہ کرتے۔
“معاذ، تم بس پڑھائی پر دھیان دو۔ باقی سب میں دیکھ لوں گا۔”
یہ الفاظ احسن صاحب اکثر دہراتے۔
اور معاذ؟
وہ اپنے اندر چھپی ٹوٹ پھوٹ کے باوجود، خاموشی سے جینے کا ہنر سیکھ گیا تھا۔ ماں باپ کی جدائی نے اُسے وقت سے پہلے بالغ کر دیا تھا، مگر تایا کی شفقت نے اسے بکھرنے نہیں دیا۔
وہ اب احسن قریشی کے گھر میں تھا۔ لیکن دل میں کہیں، وہ ماں کی لوری اور باپ کی گود کے خالی پن کو ہمیشہ محسوس کرتا رہا۔
ساتھ رہنے کی وجہ سے براق اور معاذ کی بہت گہری دوستی تھی ۔
دونوں کی جان بستی تھی ایک دوسرے میں اور آج پورے دو سال بعد ان دونوں نے اپنے قدم اپنی سر زمین پر رکھے تھے ۔
لمبے سفر کے بعد جہاز جیسے ہی رن وے پر رکا، براق نے کھڑکی سے باہر جھانکا، پھر گہری سانس لی۔
“گھَر کی خوشبو دنیا کی ہر پرفیوم سے بہتر ہے، معاذ!”
اس نے مسکرا کر کہا۔۔
براق کی نظروں میں وطن کی محبت اور کامیاب تعلیم کا نشہ تھا ۔
اسکی بات کو سنتے ہوئے معاذ نے جمائی لیتے ہوئے کہا، “بس یار، اب ناشتہ چاہیئے۔بڑی زبردست بھوک لگی ہوئی ہے ۔
دونوں دوست جیسے ہی امیگریشن سے نکلے، براق نے اپنے چشمے کو اسٹائل سے آنکھوں پر رکھا، اور بڑے فخر سے اعلان کیا،
“کراچی والو، براق اور معاذ واپس آ گئے ہیں !”۔
معاذ اسکی شرارتوں پر ہنس رہا تھا ۔
گاڑی میں بیٹھ کر جیسے ہی انہوں نے ایئرپورٹ سے باہر قدم رکھا، براق نے موبائل نکال کر سٹیٹس اپڈیٹ کیا:
“Home Sweet Home.Buraq is back.”
معاذ نے کندھے پر ہاتھ مار کر کہا،
“ابے یہ شاعری بند کر، پہلے ناشتے کی جگہ ڈھونڈ!”.۔
میں بھوک سے پاگل ہورہا ہوں یار ۔معاذ نے اکٹنگ کرتے ہوئے پیٹ پر ہاتھ رکھا ۔
بھائی تو پیٹ پوجا کے علاوہ بھی کوئی بات کر لیا کر ۔ابھی پلین میں اتنا سب کھا کر بھی تیرا پیٹ نہیں بھرا ۔اب صبر کر ۔روندو ۔۔
براق نے اسے تسلی دی مگر وہ بھی معاذ تھا ۔
کچھ دیر تو وہ خاموش بیٹھا رہا مگر صدر پوہنچتے ہی وہ پھر بول اٹھا ۔
گاڑی ابھی صدر کے ایک مشہور ناشتہ پوائنٹ کے پاس پہنچی تھی، جہاں حلوہ پوری، چنے اور لسی کی خوشبو پورے علاقے میں پھیلی ہوئی تھی۔
معاذ کی ناک جیسے ریڈار کی طرح کھل گئی۔
“ابے براق! حلوہ پوری…! دیکھ… دیکھ…! سامنے وہی دکان ہے… جہاں ہم نے آخری بار لڑائی کی تھی پوری پر!”
براق نے آنکھیں گھما کر کہا،
“ہاں، جب تُو نے دو بندوں کی پوری اکیلا کھائی تھی اور مجھے چنے دیے بغیر بھاگ گیا تھا!”۔
معاذ ہنسا،
“یار وہ دن بھی کیا دن تھے!”۔
گاڑی روکی، معاذ کود کر نیچے اترا، اور دکان کے باہر لگے تندور والے کو دیکھ کر خوشی سے چلاّیا:
“بھائی جان! دو پلیٹ حلوہ پوری، اکسٹرا چنے، اور جھاگ والی لسی…!”۔
براق گاڑی سے اترا تو ناک چڑھا کر بولا۔
“یار مجھے نہیں کھانی، بہت ہی ہیوی ہوتی ہے… ابھی پیٹ خراب ہو گیا تو؟”
معاذ کے منہ سے نوالہ نکلا
“کیا؟؟ تو پاکستانی نہیں، انگلستانی ہو گیا ہے کیا؟”
براق ہنسا،
“نہیں یار، بس تھوڑا خیال رکھنا چاہتا ہوں…”۔
معاذ نے فوراً دو پلیٹوں میں سے ایک پوری اٹھا کر براق کے منہ کے قریب کی،
“صرف ایک پوری کھا لے، پرانی دوستی کی قسم!”
براق نے پیچھے ہٹ کر کہا،۔
“نہیں کھانی، اور یہ جذباتی بلیک میلنگ بند کرو!”
معاذ نے منہ بھر کے پوری منہ میں ڈالی،
“تو نہ کھا، میں تیری بھی کھا لیتا ہوں… زندگی میں اصل خوشی یہی ہے، تیل میں تلی ہوئی پوری ۔
براق نے اسے دیکھا، پھر مسکرا کر سر ہلایا
۔”یار تُو کبھی نہیں بدلے۔چل واپس کر میری پوری ۔براق نے پوری معاذ کے ہاتھ سے چھینی ۔
معاذ ہنسا،۔
یہ اپنا وطن ہے اور یہاں کی ہر چیز سے محبت ہے ۔
وہ انسان ہوں یا حلوہ پوری ۔
معاذ کی بات پر براق نے سر اٹھا کا دیکھا ۔جی ہاں اور وہ ایک عدد انسان گھر پر ہمارا بےچینی سے انتظار کر رہا ہے ۔۔
براق نے اسے وقت گزرنے کا احساس دلایا ۔
ولیجہ کے ذکر پر معاذ کے چہرے پی ایک دلفریب مسکراہٹ آئی ۔دو سال سے اس کا چہرہ نہیں دیکھا تھا ۔دل تڑپ رہا تھا اسے دیکھنے کو ۔۔
بس اب نکلتے ہیں ۔۔چل اٹھ ۔۔۔کسی کا خیال دل میں آتے ہی وہ سب چھوڑ کر کھڑا ہوا ۔
اب کیا تکلیف ہے مجھے کھا تو لینے دو ۔براق نے احتجاج کیا ۔۔
نہیں اب بس بہت لیٹ ہوگئے ہیں یہ پھر کبھی کھا لینا ۔معاذ اس پی حکم صادر کرتا ہوا اسے گاڑی تک لایا ۔۔
وہ برے برے منہ بناتا ہوا دوبارہ سے بیٹھ گیا ۔اسے معلوم تھا معاذ اب کسی کی نہیں سننے والا ۔
♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
ولیجہ قریشی
ولیجہ قریشی ایک بے حد سادہ طبیعت کی حامل لڑکی، جسے ماں باپ کی لاڈلی ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے بھائیوں سبحان اور براق کی جان ۔۔
قریشی ۔سادگی کی مورت، محبت کی مٹی سے گندھی ہوئی، جسے دنیا کی چمک دمک نے کبھی متاثر نہ کیا۔
دیوار کے ساتھ رکھا آئینہ، آج خاص اہمیت اختیار کر چکا تھا کیونکہ اس کے سامنے کھڑی تھی ولیجہ قریشی۔
اس کے چہرے پر ہلکا سا بیس، آنکھوں میں کاجل کی ہلکی لکیر، اور ہونٹوں پر گلابی رنگ کی لپ اسٹک ۔
لباس میں اُس نے ہلکے نیلے رنگ کا لان کا سوٹ پہنا تھا، جو اُس کی گندمی رنگت پر خوب جچ رہا تھا۔ دوپٹہ بڑی نفاست سے سر کے ایک جانب رکھا ہوا تھا، اور کلائی میں صرف ایک باریک چاندی کی چوڑی۔
جو اسے معاذ نے جانے سے پہلے گفٹ کی تھی ۔
آج وہ عام دنوں سے مختلف لگ رہی تھی۔
آج وہ بہت خوبصورت لگنا چاہتی تھی بے پناہ۔
اس کی آنکھیں آئینے میں اپنے ہی عکس کو دیکھ کر کسی سوچ میں گم تھیں۔
“آج براق بھائی اور معاذ آ رہے ہیں…”
اُس نے مدھم لہجے میں خود سے کہا۔
ولیجہ بہت خوبصورت تھی… بے پناہ۔
ایسی خوبصورتی جو آنکھوں کو نہیں، دل کو مسحور کر دیتی تھی۔
اس کی شخصیت میں ایک خاص کشش تھی بغیر کوشش کے، بغیر نمائش کے۔ وہ چپ رہتی، تو بھی دل بولنے لگتا، وہ مسکراتی، تو جیسے فضا میں پھول کھل جاتے۔
اس کے لیے خوبصورتی صرف چہرے کی چمک نہیں، دل کی صفائی تھی۔ وہ صرف ظاہری طور پر نہیں، باطنی طور پر بھی حسین تھی۔ پانچ وقت کی نماز اُس کی زندگی کا حصہ تھی، روز تلاوت اُس کا سکون، اور دعا اُس کی طاقت۔
اکثر وہ گھر میں سب سے بحث کر بیٹھتی،
“نماز صرف فریضہ نہیں، دل کی روشنی ہے۔ سب کیوں نہیں پڑھتے؟”
وہ خفگی سے کہتی، اور سب مسکرا کر ٹال دیتے۔ مگر وہ ہار نہیں مانتی تھی۔
بچپن میں قرآن پاک پڑھا تو پھر زندگی بھر کھول کر نہیں دیکھا ۔مگر جب اس کی دوست فرا اس سے دےنی معلومات کی باتیں کرتی تو اس کی بھی کایا پلٹی وہ خود سے چیزوں کے سوال ڈھونڈنے لگی ۔۔نماز پڑھنے لگی ۔۔۔۔اللّه کو جاننے کا کھوج اس کو پانے کی جستجو اسے گھر والوں سے دور کر رہے تھے ۔۔
اسکا بڑا بھائی سبحان ،اسکی ماں نوشین انصاری ۔۔اس کو ٹوکتے رهتے ۔۔مگر وہ ان کی بات کو صبر سے پی جاتی ۔
آہستہ آہستہ وہ حجاب کی طرف راغب ہو رہی تھی ۔۔
مگر گھر والوں کا رویہ اور خاندان والوں کا مذاق اڑانا اس کا دل توڑ گیا ۔۔مگر وہ ہمت نہیں ہاری تھی ۔۔
معاذ اور ولیجہ کب ایک دوسرے کے قریب ہوئے پتہ ہی نہ چلا ۔۔براق اپنی بہن کے دل کا حال جانتا تھا ۔اور معاذ کا بھی ۔ اسے وہ دونوں ہی بے حد عزیز تھے ۔وہ دل سے خواہشمند تھا کہ یہ رشتہ ہو جائے ۔۔
ولیجہ معاذ کے جانے کے بعد پہلے تو بہت اداس رہتی ہر وقت اس سے ویڈیو كالز ۔۔ مسیج مگر آہستہ آہستہ وہ کم ہوتی گئی ۔معاذ کو بھی ولیجہ کا ایک دم پیچھے ہٹ جانا اچھا نہ لگا مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ ولیجہ میں ان دنوں کون سے بدلاو آرہا ہے ۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨
مسٹر اینڈ مسز انصاری ۔
کراچی کے مہشور “مسٹر اینڈ مسز انصاری” کراچی کے مشہور ترین بزنس ٹائیکون، عمارہ انصاری اور وہاج انصاری کی کہانی ہے۔ یہ دونوں علیٹ کلاس سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی زندگی کا زیادہ تر حصہ کاروبار اور عیش و عشرت میں گزرتا ہے۔ ان کی اولاد سنی اور مشعل بگڑی ہوئیں ۔۔
“دولت کے خمار میں نہ حرام کا پتا نہ حلال” ایک اہم حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ جب انسان دولت کے نشے میں مدہوش ہوتا ہے، تو وہ اپنے اعمال کی درستگی کو بھول جاتا ہے۔ دولت کی لالچ اور اس کے پیچھے دوڑنے کی وجہ سے آدمی نہ تو حلال رزق کی اہمیت کو سمجھتا ہے اور نہ ہی حرام سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی حالت ہے جہاں انسان اخلاقی قدروں اور اصولوں کو فراموش کر دیتا ہے، اور صرف اپنے مادّی فائدے کی تلاش میں ہوتا ہے، چاہے وہ راستہ صحیح ہو یا غلط۔
دونوں میاں بیوی اپنی اپنی زندگی میں مصروف ۔۔
کسی کے پاس بھی ایک دوسرے کے لئے وقت نہیں ۔۔۔
عمارہ یہ سنی کیا کرتا پھر رہا ہے آج کل کوئی ہوش ہے تمھیں ؟؟؟
بریک فاسٹ کے ٹیبل پر وہاج آج پھر سے گرج رہے تھے اور وجہ تھی سنی کا نیا سکینڈل ۔۔
ارے کیوں اتنا ہائپر ہوتے ہیں وہاج صاحب اب کیا کر دیا اس بیچارے نے ۔؟؟
عمارہ اپنے نیلز فائل کرتے ہوئے بولیں ۔۔
کیا کیا ہے ؟؟؟
وہ آج کل کسی نئی ہیروئن کے عشق میں گرفتار ہوگیا ہے ۔اسکی بیہودہ تصویریں وائرل ہورہی ہیں ۔۔۔میرا نام خراب ہورہا ہے ۔اپنے بیٹے کو سمجھاؤ ۔۔
وہ لڑکی اسکی کلاس نہیں ہے ۔۔۔
وہ شدید برهم ہوتے ہوئے بول رہے تھے ۔
عمارہ نے ایک نظر بس اٹھا کر اپنے شوہر کو دیکھا ۔
وہاج صاحب اپنے سکینڈلز بھول گئے کیا ؟؟
آپ سے تو بڑھاپا نہیں سمبھل رہا،وہ تو پھر جوان بچہ ہے ۔کیسے سمبھالے اپنی جوانی ۔اور سکینڈلز کا کیا ہے ۔۔جیسے اپنے چھپا لیتے ہیں ویسے ہی بیٹے کے بھی چھپا لیں ۔وہ گہرا تنز کرتی ہوئی چیئر پر بیٹھی ۔جوس کا گلاس منہ سے لگایا ۔
کیا بکواس کر رہی ہو ؟؟
وہاج نے جوس کا گلاس عمارہ سے چھین لیا ۔
عمارہ نے گہری سانس لیتے ہوئے دوسرا گلاس پکڑا اور اس میں جوس انڈیلنے لگی ۔
بکواس نہیں سچائی بتا رہی ہوں ۔آپ فکر مت کریں جیسے آپ کبھی نہیں پکڑے گئے ویسے ہی کبھی وہ بھی نہیں پکڑا جاے گا۔آپ کا بیٹا آپ سے زیادہ شاطر ہے ۔وہ کسی کو بھی گھر نہیں لاے گا ۔۔اور نہ ہی اپنی کسی چیپ ورکر کو کبھی منہ لگائے گا ۔اسکا لیول آپ سے کافی ہائی ہے ۔
Don’t worry darling
۔میں سمجھا دوں گی اسے ۔
وہ نخوت سے ناک چڑھاتے ہوئے بولیں ۔
وہاج خاموشی سے ناشتے کی ٹیبل سے اٹھ گئے وہ جانتے تھے کہ بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔
اور انہیں ڈر بھی تھا کہ کہیں انکی بیوی سارا حساب کتاب بے باک نہ کردے ۔اس لیے خاموشی سے اٹھ کر جانے میں ہی عافیت جانی ۔.دل میں چور جو تھا اور ایک ایک بات سچ بھی تھی ۔۔۔
♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
مسٹر اینڈ مسز قریشی ۔
احسن یہ ولیجہ کہاں ہے اسے نہیں معلوم کہ آج بھائی گھر دو سال بعد آرہا ہے ۔؟؟
نوشین اپنے کمرے سے خراب موڈ میں اپنے نائٹ ڈریس میں ہی برآمد ہوئیں ۔
ارے پتا نہیں دونوں لڑکے لیٹ ہو گئے ہیں ولیجہ کی کوئی کلاس تھی شاید وہ مس ہورہی تھی ۔کوئی بات نہیں آ کر مل لے گی ۔
وہ اپنی بیٹی کی سائیڈ لیتے ہوئے بولے ۔
نوشین قریشی نے غصے سے لب بھینچتے ہوئے احسن قریشی کی طرف دیکھا،
“آپ ولیجہ کو سمجھاتے کیوں نہیں؟ یہ بھوت سوار ہو گیا ہے اس پر! ہر وقت ملانی بننے کے خواب دیکھتی رہتی ہے!”
احسن قریشی نے ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے اخبار ایک طرف رکھا،
“نوشین، بچی ہے ابھی… کچھ دنوں میں خود ہی سمجھ جائے گی۔”
نوشین نے ناک چڑھاتے ہوئے کہا،
“نہیں، سمجھنے والی بات نہیں ہے، سمجھانے والی ہے! کبھی برقع، کبھی تسبیح، کبھی وعظ سنانے بیٹھ جاتی ہے۔ کل تو میری سہیلیوں کو بھی تبلیغ شروع کر دی!”
احسن قریشی نے بمشکل ہنسی روکتے ہوئے کہا،
“کم از کم کچھ تو اچھا کر رہی ہے… باقی لڑکیاں تو صرف فون پر لگی رہتی ہیں۔”
نوشین نے غصے سے پیر پٹخا،
“اچھا؟ یہ آپ کو اچھا لگ رہا ہے؟ مجھے تو لگتا ہے کل کو یہ ہمیں بھی داڑھی رکھنے کا کہہ دے گی!”۔
احسن ہنستے ہوئے لوٹ پھوٹ ہوئے ۔تو بیوقوف تم۔۔کو تھوڑی رکھواے گی ۔۔ہاہاہا مجھے بولے گی تو میری بیٹی کی خوشی کے لیے میں رکھ لوں گا ۔۔
احسن کو اپنی بیٹی سے بہت محبت تھی وہ بھلا کہاں سن سکتے تھے کچھ بھی اس کے خلاف ۔
“میں نے ولیجہ کے لیے لندن سے کپڑے منگوائے تھے، اور وہ پہن رہی ہے پچھلے محلے کی خالہ کا پرانا عبایا؟ حد ہے!”۔
احسن قریشی نے نرم لہجے میں کہا،
“نوشین، چھوڑو بھی… کپڑے سے عقیدہ تھوڑی بدل جاتا ہے۔”
نوشین کی آنکھوں میں غرور کا رنگ اور گہرا ہو گیا،
“آپ کو پتہ بھی ہے کہ قریشی خاندان کی لڑکیاں کیا پہنتی ہیں، کیا کھاتی ہیں، کیسے چلتی ہیں؟ ہم کوئی عام لوگ نہیں ہیں، احسن! ہم وہ لوگ ہیں جن کے دعوت نامے بھی گولڈن پرنٹ میں آتے ہیں!”
وہ آئینے میں خود کو دیکھتے ہوئے بولی،
“اور یہ ولیجہ… یہ تو جیسے کسی مدرسے کی استادنی بننے نکلی ہے! لوگ ہنسیں گے ہم پر۔”
احسن نے آہستہ سے کہا،
“لیکن اگر وہ خوش ہے اس میں؟”
نوشین نے غصے سے ناک سکوڑی،
“خوشی؟ خوشی سے زیادہ ضروری عزت ہوتی ہے، جو ہمارے پاس ہے… دولت، رتبہ، وقار… وہ سب جو ولیجہ شاید سمجھ ہی نہیں پارہی ۔
میں پہلے پہل اگنور کرتی رہی کہ یہ کوئی نیا ڈیئر ہو گا ۔کچھ نیا کرنے کا شوق مگر آج عبایا میں تو دیکھ کر مجھے آگ ہی لگ گیا گئی ۔۔۔
احسن نے پانی کا گلاس نوشین کو تھمایا ۔۔
کیوں غصہ کرتی ہو میری جان ٹھیک ہو جاے گی وقتی ہے ۔۔
“احسن! میں اس کو اس حلیے میں کسی سے نہیں ملواؤں گی، ہرگز نہیں!”
احسن قریشی نے حیرت سے پوچھا، “کس حلیے میں؟”
“اسی عبایا، اور سر پر دوپٹہ چپکائے ہوئے درویشنی لُک میں!”
نوشین کی آواز بلند ہوتی گئی، ” افف یہ لڑکی!”۔
وہ اٹھ کر کمرے میں چکر کاٹنے لگی،
“شادی نہیں کرنی اسے! یہی کہتی ہے! کہتی ہے کہ یہ دنیا کی قید ہے، بندھن ہے، وہ دین کی راہ پر چلنا چاہتی ہے۔”
“تو اچھی بات ہے نا نوشین، وہ اپنے مقصد میں سنجیدہ ہے۔” احسن نے نرمی سے کہا۔
“آپ کو سب کچھ اچھی بات لگتی ہے! میں نے کیا خواب دیکھے تھے اس کی شادی کے… ہال، ڈیزائنر لہنگا، کیٹرنگ، سوشل میڈیا پر ویڈیوز!”
نوشین نے آنکھوں پر ہاتھ رکھے جیسے کوئی بہت بڑا نقصان ہو گیا ہو،۔
“اور یہ لڑکی! یہ تو رشتے سے پہلے ہی انکار کر دیتی ہے کہ ‘میری ترجیحات الگ ہیں’۔”
پھر وہ رک کر بولی،۔
“کل کو لوگ کہیں گے نوشین قریشی کی بیٹی تو کسی سیدھے سادے مدرسے والے سے بیاہ گئی، وہ بھی نکاح مسجد میں! نہیں احسن، میں یہ برداشت نہیں کر سکتی!”۔
کچھ دولت پہ ناز کرتے ہیں
کچھ صورت پہ ناز کرتے ہیں
“اقبال!”۔
جن کے ہاتھ میں ہو دامنِ مصطفیٰ
وہ اپنے امتی ہونے پر ناز کرتے ہیں۔
(لمحہ فکریہ )
کیوں دیکھنا ہے ۔ہمارا معاذ ہے نا ۔اس سے بہتر کیا ہوگا ہماری بیٹی کے لیے ۔۔
احسن نے دھیمے لہجے میں کہا ۔
کیا؟ ؟؟؟
اس بھوکے ننگے کو دوں گی اپنی اکلوتی بیٹی ۔۔
No never ever mr Ahsan Qureshi.
سوچنا بھی مت ۔۔ساری عمر ھمارے ٹکڑوں پر پلا اب ہمارا داماد بنے گا ۔۔
سوچ بھی کیسے لیا ؟؟نوشین کے انداز میں تكبر بھرا تھا ۔
جسٹ شٹ اپ نوشین ۔
کیا بولے جارہی ہو ؟؟وہ بھوکا ننگا نہیں ہے ۔میرے بھائی کی آخری نشانی ہے ۔۔اور مت بھولو اسکا بات بہت کچھ چھوڑ کر مرا تھا اس کے لیے ۔۔ہماری بیٹی کو دو وقت کی روٹی کھلا سکتا ہے ۔۔
احسن کو نوشین کی بات دل پر لگی تھی ۔
اس کے خون کو کیسے برا بھلا بول سکتی ہے ۔
میری بات سن لیں ۔اگر تو آپ کے دماغ میں ایسی کوئی بھی الٹی سیدھی بات ہے تو اسے فورا نکال دیجئے اس لیے کہ یہ رشتہ کبھی نہیں ہو سکتا ۔۔۔
میں اپنی بیٹی کی شادی اپنے جیسے لیول کے خاندان میں کروں گی ایک ہی بیٹی ہے ۔میں یہ فیصلہ خود کروں گی اور سوچ سمجھ کر کروں گی ۔۔۔
معاذ کے تو ساتھ تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ولیجہ کی
شادی بہت اونچے خاندان میں ہوگی ۔۔۔
احسن بے بسی سے لب بھینچے اپنی بیوی کی کڑوی باتوں کو ہزم کر رہے تھے ۔۔۔
نوشین دولت ہی سب کچھ نہیں ہوتی ۔ہماری کلوتی بیٹی ہے گھر کی بچی گھر میں ہی رہے گی ۔غیر پتہ نہیں کیسے ہوں ۔یہ تو ہمارا اپنا بچہ ہے ۔
احسن نے ایک کمزور سی دلیل دینے کی کوشش کی جسے نوشین نے چٹکیوں میں اڑا دیا ۔
کیا ہو گیا ہے آپ کو احسن اپ ماس کو گھر داماد بنانے کا سوچے بیٹھے ہیں ۔
جگ ہسائی کرانی ہے خود پر لوگوں کو ہنسانا ہے ۔
بلکہ میں تو کہتی ہوں کہ اب وہ پڑھ کر آرہا ہے اپنا کاروبار سنبھالے اور اسے یہاں سے چلتا کریں بہت سنبھالیاں ہم نے اسے ۔۔
اب وہ اپنا اپ خود سنبھال سکتا ہے اس کا کاروبار اس کے حوالے کریں اور کسی اچھی جگہ اس کی شادی کروا دیں ۔۔۔
میں نے اسے بچپن سے اپنے گھر میں برداشت کیا اسے رکھا اس سے زیادہ کی امید مجھ سے مت رکھیے گا مجھ سے نہیں ہوگا میں کہہ دیتی ہوں احسن صاحب ۔
نوشین غصے میں پاگل ہوتی ہوئی پھنکار رہی تھی یہ سوچے اور سمجھے بغیر کہ دروازے پہ کھڑے دو نفوس اس کی ساری باتیں سن رہے تھے جس میں سے ایک کے پیر تو وہی منجمند ہو گئے تھے ۔۔
وہ وہیں پتھر کا ہوگیا تھا ۔
♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨♨🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
جاری ہے ۔
