Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz Readelle50198 Last updated: 27 August 2025
No Download Link
Rate this Novel
Tera Ishq Jaan Lewa
By Amreen Riaz
اس وقت وہ مسز رانا کے انتظار میں ایک کیفے میں بیٹھا کافی سے لطف اندوز ہو رہا تھا دو منٹ بعد ہی مسز رانا کیفے میں داخل ہوتی ادھر اُدھر دیکھتی اسے ہی تلاش کرنے کی کوشش میں تھی برزل ابراہیم نے کھڑا ہو کر اُسے اپنے طرف آنے کا اشارہ کیا تھا وہ اسے دیکھتی اس طرف چلی آئی۔ "اوہ تو تم ہو ابراہیم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"اپنا بیگ ٹیبل پر رکھے اپنے بالوں کو کان کے پیچھے کرتی وہ اس خوبرو مرد کو غور سے دیکھنے لگی۔۔ "جی اور یہ خاکسار آپکا بہت احسان مند ہے کہ آپ نے یہاں آ کر مجھے شرف بخشا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"اپنے سینے پر ہاتھ رکھتا وہ ایک ادا سے بولتا مسز رانا کو مسکرانے پر مجبور کر گیا۔ "باتیں اچھی کرتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" "لوگوں کو قتل بھی بہت اچھے سے کرتا ہوں،ٹرسٹ می۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"سکوائش کا گلاس لبوں سے لگاتا وہ مسز رانا کو چونکنے پر مجبور کر گیا۔ "کیا مطلب؟کونسی بات تھی جس کے لیے تم مجھے اکیلے اس انجان اور شہر کی آبادی سے دُور اس چھوٹے سے کیفے میں بُلایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" "آپ جیسی مشہور ہستی کو اگر اس شہر کے کسی فیمس کیفے میں بُلاتا تو اس وقت پورا میڈیا وہاں پر موجود ہوتا اور میں یہ نہیں چاہتا تھا کہ آپکی اور میری ملاقات کسی کی نظر میں آئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" "ایسی بھی کیا چیز ہے اس ملاقات میں جو کسی کی نظر میں نہیں آنی چاہیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"مسز رانا کے چہرے پر اُلجھن رقم تھی۔ "کسی مطلب آپکے شوہر مسٹر وقار رانا کی نظر میں نہیں آنی چاہیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" "کیا وجہ ہے اسکی،تم کھل کر بات کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"مسز رانا نے اپنے کٹ شدہ بالوں کو ایک ادا سے پیچھے کیا تھا وہ تھی تو لگ بھگ چالیس سال کے مگر اپنی عمر سے کم ہی دکھتی تھی اپنے فیشن اور فٹنس کی وجہ سے۔ "اوکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ سر ہلاتا ہوا ادھر اُدھر دیکھتا اب اُنکو پوری توجہ سے دیکھتا کہنے لگا۔ "اصل میں آپ کے شوہر نے مجھے آپ کو قتل کرنے کے لیے ہائر کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ بہت آسانی کے ساتھ اگلے کو جھٹکا دیا کرتا تھا اب بھی ایسا ہوا تھا مسز رانا آنکھیں پھاڑے اُسے دیکھ رہی تھی۔ "کیا مطلب ہے تمہارا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" "وہی بتانے لگا ہوں،ریلکیس میم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"اپنی جینز کی پاکٹ میں سے کچھ تصویرں نکال کر مسز رانا کے آگے رکھیں جن کو دیکھ کر اُنکی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ایک تصویر میں وہ اور اعزاز ناقابل نظر پوز میں تھے تو ایک تصویر میں وقار رانا اپنی سیکٹری کے ساتھ نازیبا حرکات میں نظر آ رہا تھا جبکہ ایک تصویر آفس کی تھی جہاں برزل ابراہیم وقار رانا سے پیسے لے رہا تھا۔ "یہ،یہ سب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"اُنکا وجود زلزوں کی لپیٹ میں تھا بے یقینی اور اپنا گناہ منظر عام پر آنے کی دہشت اُنکی آنکھوں میں صاف دیکھی جا سکتی تھی۔ "اعزاز،آپکا سیکٹری اور کلاس فیلو،جسکی محبت میں آپ یونی کی لائف میں مبتلا تھیں مگر وقار رانا کی دولت کی وجہ سے آپ کو اُسے چھوڑنا پڑا،مگر دس ماہ پہلے ہی وہ دوبارہ سے آپکی لائف میں آیا تو آپ خود کو روک نہ پائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ جیسے جیسے بول رہا تھا مسز رانا کا دل بیٹھا جا رہا تھا۔ "اس تصویر میں یہ ثمن ہے،جس کا افیئر آپکے شوہر کے ساتھ کچھ سالوں سے چل رہا ہے کیونکہ آپکی بے رُخی کی وجہ سے وہ اُسکی طرف راغب ہونا پڑا اور اب تو وہ اُس سے شادی کا خواہش مند ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" "اور یہ تصویر جس میں آپکے شوہر مجھے ایڈوانس کی رقم دے رہے ہیں آپکو اُنکی زندگی سے نہیں بلکہ اس دُنیا سے بھی آؤٹ کرنے کے لیے،کیونکہ اگر وہ آپکو طلاق دیتے ہیں تو ففٹی پرسنٹ جائیداد بھی آپکو دینی پڑے گی سو اگر آپکی موت واقع ہو جاتی ہے تو پھر ساری جائیداد اُن کو ملے گی،ویسے بھی وہ ایک سیاست دان ہیں تو طلاق دے کر اپنی سیاست خراب نہیں کریں گئے بلکہ آپ موت سے لوگوں کی ہمدردی حاصل کر کے اپنے ووٹ بڑھائیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"اپنی بات ختم کرتا وہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتا ان کے تاثرات کو غور سے دیکھنے لگا جو اتنے جھٹکوں کے بعد کچھ بھی بولنے کی پوزیشن میں نہ تھیں۔ "میں چھوڑوں گی نہیں اسے،ابھی پوچھتی ہوں وقار سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ غصے سے اُٹھنے لگیں مگر برزل ابراہیم نے روک دیا تھا۔ "کیا چاہتی ہیں کہ آجکی رات آپکی آخری رات ہو،اگر مرنے کی خواہش ہے تو جائیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"برزل کے پُرسکون انداز پر وہ نڈھال سی بیٹھ گئی۔ "تم مجھے بچانا چاہتے ہو کہ مارنا چاہتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" "اگر مارنا ہوتا تو اب تک پورے پاکستان میں یہ نیوز پھیل گئی ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"برزل ابراہیم کے کہنے پر وہ پُر یقین لہجے میں بولیں۔ "کیا تم میری مدد کرو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" "آپکی مدد کرنے ہی تو یہاں تک آیا ہوں،بس آپ مجھ پر یقین رکھے اور جو میں کہتا ہوں وہ کرتی جائیے،مگر ایک بات یاد رکھیے گا کہ وقار رانا کو ہرگز شک مت ہونے دیجئے گا کہ آپ سب جانتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"برزل ابراہیم کی بات پر وہ سر ہلا گئیں تو ابراہیم کے لبوں پر پُر سرار مسکراہٹ تھرکنے لگی۔۔ !___________________________________________!
