Taleem Or Taallum Ki Fazeelat O Takreem by Muhammad Tahir Ul Qadri Readelle50247 Taleem Or Taallum Ki Fazeelat O Takreem (Episode 01)
Rate this Novel
Taleem Or Taallum Ki Fazeelat O Takreem (Episode 01)
تعلیم اور تعلّم کی فضیلت و تکریم
اللہ تعالیٰ نے انسان کو دیگر مخلوقات پر جو شرف عطا فرمایا ہے اس کی اصل بنیاد علم ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
“قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ”
(کہہ دو: کیا علم والے اور بے علم برابر ہو سکتے ہیں؟)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ علم اور جہالت میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ علم وہ نور ہے جو انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے، اور جہالت ایسا اندھیرا ہے جس میں انسان حق و باطل، بھلائی و برائی میں فرق نہیں کر پاتا۔
تعلیم کی فضیلت
اسلام میں تعلیم کو سب سے زیادہ فضیلت دی گئی ہے۔ پہلی وحی کا آغاز ہی لفظ “اقْرَأْ” (پڑھ) سے ہوا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ تعلیم انسانیت کی بنیاد اور ترقی کا زینہ ہے۔
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
“علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔”
یہ حدیث تعلیم کی عمومی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ علم ہی وہ ہتھیار ہے جو جہالت، غربت اور پسماندگی کے خلاف لڑنے کی صلاحیت دیتا ہے۔
تعلّم (سیکھنے) کی عظمت
علم صرف کتابوں میں پڑھنے کا نام نہیں بلکہ اس پر غور و فکر، تدبر اور عمل کرنا بھی تعلّم کا حصہ ہے۔ سیکھنے کے عمل میں عاجزی، مستقل مزاجی اور محنت درکار ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جو شخص علم حاصل کرنے کی راہ پر چلتا ہے، اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔”
یہ روایت ظاہر کرتی ہے کہ علم کی تلاش صرف دنیاوی کامیابی نہیں بلکہ اخروی نجات کا ذریعہ بھی ہے۔
اہلِ علم کی تکریم
اسلام میں اہلِ علم کو بلند مقام دیا گیا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اللّٰهُ يَرْفَعِ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ”
(اللہ ایمان والوں اور علم والوں کے درجے بلند فرما دیتا ہے۔)
یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں علما، اساتذہ اور معلمین کی تکریم لازم ہے۔ استاد شاگرد کے لیے روحانی والد کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان کی عزت کرنا علم کی برکت کا ذریعہ ہے۔
نتیجہ
تعلیم اور تعلّم انسان کو وہ بصیرت عطا کرتے ہیں جس کے ذریعے وہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ اسلام میں تعلیم کو عبادت قرار دیا گیا ہے اور سیکھنے سکھانے والے کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک عظیم اجر کا مستحق ٹھہرایا گیا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ علم حاصل کرنے کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں اور اہلِ علم کی عزت و تکریم کو اپنی عادت۔
