Safaid Zehar by Abu Bakar NovelR50627

Safaid Zehar by Abu Bakar NovelR50627 Last updated: 10 April 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Safaid Zehar by Abu Bakar

یہ دو دن پہلے کے بات تھی سر سلطان کے قریبی دوستوں میں سے ایک جنکا نام سر احمد فراز تھا انکا ایک ہی اکلوتا سرفزند تھا جسکا نام افتخار تھا اسکی لاش سڑک کنارے اس حالت میں پڑھی ہوی تھی کہ منہ سے جھاگ نکل رہا تھا چونکہ سر احمد فراز نے عوام کی خدمت کے لیے دو تین فلاحی اسپتال قائم کیے اور وہ آے دن غریب عوام کی مدد کرتے رہتے تھے اسلیے عوام میں کھلبلی مچ گئ اور پولیس کو ایکشن میں آنا پڑا تنقیش شروع ہوی آخر کا تنقیش مکمل ہونے کی صورت میں جو معلومات ملیں وہ یہ تھیں کہ پوسٹمارٹم کی رپورٹ کہ رہی تھی کہ نوجوان کے معدے میں سفید پوڈر(ہیروئن) کی ایک بڑی مقدار ملی ہے جو کی افتخار کے موت سبب بنی آخر ایک دو ہفتہ تک تنقیش ہوتی رہی مگر کوی مدلل ثبوت نہ ملا کہ وہ کون تھا جس نے افتخار کو یہ پوڈر فراہم کیا پوسٹ مارٹم کی رپورٹ یہ بھی بتا رہی تھی کہ افتخار پہلے بھی سفید پوڈر کا استعمال کرتا رہا ہے دو ہفتوں میں عوام کا جوش و خروش میں کم ہوگیا اور پولیس والے بھی اکتا گۓ مگر سر احمد فراز اپنے بیٹے کی موت کو نہ بھلا پاۓ سر سلطان ان دنوں ایک کام کے سلسلے میں ملک سے باہر تھے جب وہ آے تو انہیں ساری باتوں کی خبر ہوی تو انہیں بہت دکھ ہوا انکے سامنے مرحوم افتخار کا چہرہ گھوم گیا ابھی اسکی عمرا بیس اکیس سال تھی پھر سر سلطان تعزیت کرنے کے لیے گۓ باتوں باتوں میں افتخار کے قاتل کی بات چھر گئ سر سلطان نے محسوس کیا کہ سر احمد فراز اپنے بیٹے کے قاتل کے نہ ملنے پر بہت غمگین ہیں اچانک سر سلطان کے ذہن میں عمران کا خیال آیا اگر عمران اس کیس پر کام کرنے پر رضامند ہو جاتا تو یقیناًتھورے ہی دنوں میں قاتل کی گردن ان کے ہاتھ میں ہوتی پھر انہوں نے عمران سے اس سلسلے میں بات کی پہلے تو اسنے طنزیہ لہجے میں کہا کہ واہ اب اس ملک کی سیکڑٹ سروس ایک قاتل کا سراغ لگاتی پھرے مگر جب سرسلطان نے افتخار کی والدہ کے رونے کا منظر کھنچا اور کہا کہ میرے خیال سے یہ پورا ایک گروہ ہے جو کے ہماری نوجوان نسل کو تباہی کی طرف دکھیل رہا ہے اور بھی دلیلیں دیں تو عمران کچھ سوچنے پر مجبور ہو گیا اسکی نظروں کے سامنے سے کئ دنوں سے اس قسم کی خبریں گزر رہیں تھیں مگر کچھ کیسس میں الجھا ہونے کی وجہ سے ان پر اتنا دھیان نہیں دے پایا تھااب وہ سوچ رہا تھا اس گروہ کا سدباب کر دینا چاہیے پتا نہیں یہ گروہ کتنے لوگوں کے گھر اجار چکا تھا اسنے اس کیس پر کام کرنے کی حامی بھر لی پھر اسنے اپنے طور پر تنقیش شروع کی پہلے تو اسنے اسکے سارے خاندان کے لوگوں کو کنگھالا ایک ایک سے پوچھ گوچھ کی مگر کوی بھی شخص ایسا نہ ملا کہ جس پر شک کیا جا سکتا ہو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *