Raaz Ki Raat By Sanaya Khan Readelle50101 Last updated: 20 July 2025
Rate this Novel
No chapters found.
Raaz Ki Raat
By Sanaya Khan
اس دفعہ وہ ہاسپٹل گئیں تو واپس گھر نہیں آئی بلکہ ہمیشہ کے لیے اُنھیں الوداع کہہ گئی اُسے لگا اُس کا دل بکھر گیا اب یتیم ہونےکا احساس ہوا جیسے سر سے سایہ اٹھ گیا اور تپتی دھوپ میں سر جھلس رہا ہو ۔۔۔۔۔۔ آنکھیں جتنا رو سکتی تھی رو کر چپ ہو گئی لیکن دل مسلسل روتا رہا زبان پر خاموشی کا تالا لگ گیا وہ اپنا سب کچھ بھولے چوبیس گھنٹے اُسے سنبھالتا اُس کا گم بھلانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔ ایسا کیسا ہو سکتا تھا کے عینا کو روتے دیکھ اُسے تکلیف نا ہو محبت کے رنگ پھیکے پڑ گئے تھے اور اُداسی گہری ہو گئی تھی شاداب ہوتا چہرہ مرجھا گیا تھا
کھانا کھا لو عینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اُس کا ہاتھ تھامے بولا اُس نے سر نفی میں ہلا دیا
کہتے ہیں اگر ہم اپنے عزیزوں کے جانے پر ایسے روتے رہے تو اُنھیں تکلیف ہوتی ہے کیا تم اپنی امی کو تکلیف دینا چاہتی ہو۔۔۔ اُس نے گالوں پر پھسلتے آنسو ہتھیلی میں جذب کرتے پوچھا عینا نے اُسے دیکھتے سر نفی میں ہلا دیا
تو پھر رونا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔بس دعا کرو اُن کے لیے شاہزین نے اُس کا سر سینے سے لگاتے ہوئے کہا
راحیل ایسا لگا رہا ہے سب ختم ہو گیا۔۔۔۔۔پوری دنیا ختم ہو گئی۔۔۔۔۔۔
وہ رونے لگی پھر سے۔۔۔۔۔۔اُس کا آخری سب سے عزیز رشتہِ اُس سے چھن گیا تھا ۔۔۔اُس تکلیف کو شاہزین نے بھی تو محسوس کیا تھا وہ بھی تو اسی طرح رویا تھا اپنی امی کے آگے۔۔۔۔۔۔ اُسے لگا تھا اُسے روتا دیکھ وہ واپس آجائیں گیں لیکن جانے والے واپس کب آتے ہیں جو وہ آجاتی اور اُس دِن کے بعد سے آج تک نہیں رویا تھا بس غصّہ کرنا آتاتھا اُسے لیکن وہ لڑکی تھی غصّہ نہیں کرتی تھی بس روتی رہتی تھی
_____ وقت کسی کے جانے سے نہیں رکتا زندگی اپنی رفتار سے چلتی رہتی ہے وہ بینک کا نوٹس ہاتھ میں لیے پریشان کھڑی تھی امی کو گزرے دو ہفتے سے زیادہ ہو گئے تھے اور اتنے دنوں میں وہ ایک بار بھی اسکول نہیں گئی تھی
اُسے بینک سے قسط بھرنے کے لیے نوٹس آیا تھا جو پچھلے مہینے کی تھی وہ نہیں جانتی تھی کے اُسے کیا کرنا ہے کیسے پیسے بھرنے ہے لیکن اُسے یہ گھر بچانا تھا کسی بھی طرح
پٹیل انکل ۔۔۔۔کیا آپ ابھی گھر آسکتے ہے۔۔۔مجھے اپنے جھمکے بیچنے تھے اس کی آواز پر شاہزین کے قدم رکے اور دھیان اس کی طرف لگا
جی ہاں مجھے پیسوں کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔ وہ مرجھائے چہرے کے ساتھ کھڑی بات کر رہی تھی
