Qismat Se Hari Mein Season 1 By Palwasha Safi Readelle50275

Qismat Se Hari Mein Season 1 By Palwasha Safi Readelle50275 Last updated: 28 September 2025

55.4K
19

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qismat Se Hari Mein

Season 1

By Palwasha Safi

وہ کھلے فضاء میں کھڑی تازی ہوا سے لطف اندوز ہورہی تھی موسم گرما کی رات تازہ ہوا اسے بہت مسرور کر رہی تھی۔ اپنے مرضی کے سادے قمیض شلوار پہنے سر پر چادر اوڑھے آج وہ عِدت کا دورانیہ پورا کر کے ایک ماہ دس دن بعد گھر سے نکلی تھی۔ سر آسمان کی جانب اٹھائے وہ آنکھیں موندھے اپنی آذادی کے اس پل کو محسوس کرنے لگی تھی جب اس کی آواز سنی۔ "تمہارا پاسپورٹ اور ٹکٹ۔۔۔" آرین نے دھیمے لہجے میں اسے مخاطب کیا۔ کرن نے چمکتی ہوئی آنکھیں کھولی اور پورا مسکرا کر اس کی جانب رخ کیا۔ "تھینکیو" اس نے خوش دلی سے شکریہ ادا کرتے ہوئے اس سے اپنے دستاویز تھامے جو دوسرے سرے سے آرین نے مظبوطی سے پکڑے ہوئے تھے۔ کرن کو لگا وہ اس کے ساتھ شرارت کر رہا ہے اس نے زور لگانا چاہا لیکن ٹکٹ پھٹ جانے کے خوف سے نہیں کھینچا اور تعجبی نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔ "تم واقعی جانا چاہتی ہو" آرین نے دل گرفتگی سے پوچھا وہ اب بھی کرن کے فیصلے سے مطمئن نہیں تھا۔ کرن نے اسی طرح پاسپورٹ کا سرا تھامے ہوئے سامنے دیکھا اور سنجیدہ ہوگئی۔ "میرے لیے اب یہاں کچھ نہیں بچا۔۔۔۔۔۔ میرا جانا بہتر ہے" کرن نے اسی با اعتماد لہجے میں جواب دیا۔ اس کے اندر کی ڈری سہمی لڑکی کو وہ ختم کر کے اب با اعتماد مظبوط عصاب کی مالکن بن چکی تھی۔ آرین نے پاسپورٹ کا سرا چھوڑا اور ہاتھ پہلو میں گرائے اس کے آمنے سامنے آگیا۔ "کرن میرا پروپوزل اب بھی موجود ہے۔۔۔۔۔۔ میں اور تم۔۔۔۔" اس نے پر امید انداز میں کہا۔ کرن کے ماتھے پر شکن در آئی۔ "پلیز آرین۔۔۔۔۔۔ اس کے آگے ایسا کچھ مت کہنا جس سے میرے قدم پتھر ہوجائے۔۔۔۔۔۔ میں اور تم اچھے دوست ہے۔۔۔۔۔۔ میں تمہاری بہت قدر کرتی ہوں۔" کرن نرمی سے اسے سمجھانے لگی۔ "مجھے رہائی دلوانے میں تم نے جس قدر روحان کے ساتھ مدد کی ہے وہ ناقابل فراموش ہے۔۔۔۔۔۔۔ بہت احسانات ہیں تمہارے مجھ پر" کرن چلتی ہوئی دو قدم آگے چلی گئی۔ آرین اپنی جگہ منجمد کھڑا رہا۔ "لیکن آرین۔۔۔۔۔ اب میں اپنے لیے جینا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔۔ بچپن سے شادی ہونے تک چچی کے اشاروں پر ناچتی رہی اور پھر رانا مبشر کے۔۔۔۔۔۔ مجھے کبھی خود سے اپنے لیے جینے کا موقع نہیں ملا" وہ اپنی خواہشات کا اظہار کر رہی تھی۔ اس نے پلٹ کر دیکھا آرین منہ بنائے وہی کھڑا تھا۔ وہ سر جھٹکتی ہوئی واپس اس کے پاس آئی اور اس کا ہاتھ تھام لیا ۔ آرین نے پہلے اپنے ہاتھ میں کرن کا نرم لمس محسوس کیا پھر مایوسی سے اس کی آنکھوں میں دیکھا "تم بہت اچھی لائف پارٹنر deserve کرتے ہو اور مجھے یقین ہے بہت جلد وہ تمہیں مل جائے گی۔۔۔۔۔۔ جو دوسروں کے ساتھ نیکی کرتے ہے اللہ تعالی انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتے۔۔۔۔۔" اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر وہ پیار سے سمجھا رہی تھی۔ "پر تمہیں کہی بھی اکیلے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ رانا کو 13 سال قید ہوئی ہے۔۔۔۔" آرین نے اسے پھر روکنے کے لیے جتن شروع کئے۔ "آرین۔۔۔۔۔ میں دنیا دیکھنا چاہتی ہوں۔۔۔۔ چچی کے اور پھر رانا مبشر کے پنجرے میں رہ رہ کر میں اکتا گئی ہوں اب الگ ملک جا کر نئے لوگوں سے ملنا چاہتی ہوں اپنی الگ پہچان بنانا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔ تم ہمیشہ سے چاہتے تھے میں اپنی مرضی کی مالکن بنوں۔۔۔۔۔ تو اب مجھے میرے طریقہ سے جینے دو"۔ کرن نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔ آرین اس کے آگے اور بحث نہیں کرنا چاہتا تھا اس لئے خاموش ہوگیا۔ " تم نے میرے لیے بہت کچھ کیا۔۔۔۔۔۔ ترکی گئے خلا سے ملنے والے رقم سے میرے لیے وہاں گھر لیا۔۔۔۔۔ میری مستقل رہائش کروائی۔۔۔۔۔ ایک لائبریری میں جاب بھی کروا دی۔۔۔۔۔ تھینکیو آرین۔۔۔۔ میں تمہاری بہت مشکور ہوں۔ " کرن نے خوشی سے محظوظ ہوتے ہوئے کہا۔ اپنے نئے سفر کے بارے میں سوچ کر ہی وہ مسرور ہو رہی تھی۔ "میری ایک نصیحت مانو گے" کرن نے معصومیت سے آرین کو دیکھ کر کہا۔ آرین بغیر کسی تاثرات کے اس کا ہاتھ پکڑے کھڑا رہا۔ "تم اپنے گاوں واپس چلے جاو۔۔۔۔۔ دو وقت کی روٹی ہی صحیح لیکن اپنے اپنوں کے ساتھ رہو۔۔۔۔۔۔۔ اس عمر میں تمہارے ماں باپ کو تمہارے سہارے کی ضرورت ہے تمہارے پیسوں کی نہیں۔۔۔۔۔۔۔ اور جتنی جلدی ہو سکے اپنے اماں کی پسند کی ہوئی لڑکی سے شادی کر لو۔" کرن نے مسکراتے ہوئے آبرو اچکا کر کہا۔ آرین منہ بھسورتے ہوئے رخ موڑ گیا۔ "آرین۔۔۔۔۔۔اینٹ سے بنا مکان تب گھر بنتا ہے جب اس میں اپنے ہو۔۔۔۔ رشتے ہو۔۔۔۔۔ پیار ہو۔۔۔۔۔ خوشی ہو۔۔۔۔۔۔ سب دکھ سکھ میں ساتھ ہو۔۔۔۔۔ تمہارے ماں باپ کو وہ گھر چاہیئے۔۔۔۔۔ تمہاری بیوی بچے ہو ان کا دل لگا رہے۔۔۔۔۔ سہارا دینے بیٹا پاس ہو وہ کمائی چاہیئے۔۔۔۔۔۔ تمہاری یہ دولت شہرت نہیں۔" کرن نے ہمدردی سے اسے رشتوں کا اپنی فیملی ہونے کا مطلب سمجھاتے ہوئے کہا جو کرن کے پاس نہیں تھی۔ آرین افسردگی سے لب مینچھے اسے دیکھتا رہا۔ "چلو اب منہ صحیح کرو۔۔۔۔ مجھے ہنسی خوشی رخصت کرو۔۔۔۔۔ میں تمہارے ساتھ گزارے ان لمحوں کو بھی یادگار بنانا چاہتی ہوں" کرن نے اس کا ہاتھ جھنجوڑ کر اس کے سر پر تھپکی دیتے ہوئے مخاطب کیا۔ آرین نے پلکیں جھپکا کر خود کو کمپوز کیا اور مسکرا کر کرن کے رخسار پر ہاتھ رکھا۔ "خوش رہو" اس نے دعا دیتے ہوئے کہا۔ وہ اسی طرح ہاتھ تھامے آگے بڑھنے لگے۔ ایرپورٹ کے دروازے پر پہنچ کر کرن نے اپنا پاسپورٹ اور ٹکٹ چیک کروایا اور آرین سے ہاتھ چھڑاتے ہوئے اندر جانے لگی۔ آرین نے دروازے کے باہر ہی کھڑے ہو کر ہوا میں ہاتھ لہراتے ہوئے اسے بائے کیا اور پلٹ گیا۔ کرن سنجیدہ انداز میں آنسو روکتی ایرپورٹ کے چمکتے فرش پر سامنے چلتی رہی اور مڑ کر دیکھنے سے گریز کرتی رہی۔ وہی آرین چلتے چلتے رکا اور بھیگی آنکھوں سے پلٹ کر دیکھا پر کرن سامنے چلتی رہی وہ نہیں پلٹی۔ آرین جانتا تھا وہ ایک دفعہ پھر اسے کھو چکا تھا اور اس دفعہ شاید ہمیشہ کے لیے۔ سرد آہ بھرتے ہوئے سر جھٹکتا وہ واپس مڑا اور ہاتھ جیب میں ڈال کر تیز تیز چل کر سڑک پر آگیا۔