Muhabat Yaqeen Itmad by Sumera Shareef Toor NovelR50432 Last updated: 9 December 2025
Rate this Novel
Muhabat Yaqeen Itmad by Sumera Shareef Toor
’’پاگل ہو تم تو.....بھئی وہ کوئی چور وور نہیں۔ میرا بیٹا ہے سب سے بڑا، پانچ ماہ سے پشاور گیا ہوا تھا اپنی بہن کے ہاں۔ اسے سر پرائز دینے کی عادت ہے۔ بغیر بتائے ہی صبح صبح چلا آیا۔ تم نے چونکہ اسے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا اسی لیے غلط فہمی ہو گئی ہو گی۔ ویسے وہ شکل کا اتنا پیارا ہے چور تو نہیں لگتا۔‘‘ اس کے مر مریں نرم ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں دباتے انہوں نے بتایا اور آخر میں کچھ شریر سے انداز میں چھیڑا تو اسے کچھ حیرت ہوئی۔
’’مگر اس نے تو مجھے.....‘‘وینزے نے انہیں اس کا روّیہ بتانا چاہا۔ پھر لب بھینچ لیے۔
’’بڑا سنجیدہ ہے کبھی کبھار دل چاہا دوسروں کو حیران کرنے کی بات آئی تو یوں چپ چپاتے بغیر بتائے گھر آتا ہے۔ خاص طور پر جب وہ گھر سے باہر ہفتہ ڈیڑھ ہفتہ یا مہینوں رہ کر آئے تو یونہی سر پرائز دیتا ہے۔ مشکوک لوگوں کے ساتھ رہتے رہتے اب خود بھی ایسی مشکوک حرکتیں کرنے لگا ہے کہ کوئی اجنبی پہلی ہی نظر میں دیکھے تو فوراً غلط سمجھ بیٹھے۔ ‘‘ چچی جان نے بھی بتایا ۔ وہ چپ رہی۔ اسے دیکھ کر اچھی خاصی الجھ گئی تھی۔ وہ اسے نظر سے ہی نہیں واقعی مشکوک لگ رہا تھا ۔
’’وجیہ! بہن کو کمرے میں لے جائو۔ سب کو کام دھندے پر نکلنا ہے۔ ہم ذرا کچن دیکھ لیں۔‘‘ بڑی امی نے وجیہ کو کہا تو دادی اماں نے پیار سے اسے خود سے جدا کر کے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا اور وجیہ کے حوالے کیا۔ وہ چپ چاپ اس کے ساتھ اس کے کمرے میں آگئی۔ دماغ تو ابھی بھی سنسنا رہا تھا۔ وہ ٹوٹلی غیر حاضر تھی۔ بستر پر لیٹتے ہی آنکھیں بند کر لیں۔
تھوڑی دیر میں ڈاکٹر بھی آگیا تھا۔ چیک اپ کے بعد اسے ’’ٹوٹلی پرفیکٹ‘‘ کہہ کر ایک دو ہدایتیں دیتے چلا گیا ۔ باقی سارا وقت وہ آنکھیں بند کیے لیٹی رہی۔
