Momin Ki Guriya By Wahiba Fatima Readelle50089 Last updated: 16 July 2025
Rate this Novel
Momin Ki Guriya
By Wahiba Fatima
گڑیا کو تو عشق کی راہوں میں صبر کے اعلی درجے کے درس حاصل تھے۔۔
تو وہ صبر کر گئی۔ اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا۔
ہاں گڑیا صبر کر گئی۔۔
زندگی کے دکھ ہمیشہ زندگی کے ساتھ ہیں
لوگ فانی ہیں مگر لوگوں کے دکھ فانی نہیں
پھر یوں ہوا کے مومن کی جان کو ایک مستقل روگ لگ گیا۔اپنی متاع حیات کے ہمیشہ کے لئے کھو جانے کا روگ۔۔جو اندر ہی اندر اسے نگلنے لگا۔۔ کھوکھلا کرنے لگا۔
کمر کا درد اب شدت اختیار کر چکا تھا۔ مومن کی شادی کی تیاریاں اپنے عروج پر تھیں۔
روح کی کمر تو اسی دن پوری طرح ٹوٹ چکی تھی جب عائشہ کے کسی نام نہاد عاشق نے اسے فون کر کے دھمکی دی کہ اگر بارات لے کر عائشہ کی دہلیز پر آئے تو گولی مار دوں گا۔
وہ پھر بھی خاموش رہا۔
اور پھر ایک دن ایسا آیا کہ وہ دکان پر ہی بے ہوش ہو گیا۔ اسے جلدی سے ہوسپٹل لے کر گئے۔۔ اب کی بار اس کے مکمل ٹیسٹ ہوئے تھے۔۔
ان روپورٹس میں جو تھا اگر اس وقت خاندان پر کھل جاتا تو قیامت سے پہلے قیامت آ جاتی۔۔
اسی لئے شبیر، احمد اور مومن نے وہ اندوہناک خبر سب سے چھپا لی۔
پھر یوں ہوا کے کمر پر بیک بون کی جگہ ایک زخم بن گیا۔ اور ٹانگوں پر زخم بنتے چلے گئے اور مومن کا جسم آہستہ آہستہ پیرالائز ہو کر سینے تک ساکن ہو گیا اور وہ بستر سے لگ گیا۔
ماں پوچھتی رہتی اسے کیا ہے
مومن بول دیتا،، کچھ نہیں ماں معمولی زخم ہی تو ہیں ،،بہت معمولی،، جلد ایسے ٹھیک ہو جائیں گے کہ پھر کبھی کوئی تکلیف نہیں ہوگی آپ کے بیٹے کو،،
ان دنوں میں ایک ایسا ہی سوگوار دن تھا جب مومن کی انگوٹھی واپس آ گئی یہ بول کر کہ اپنی صحت مند بیٹی کسی معزور شخص کے حوالے نہیں کر سکتے۔۔
مومن خاموش رہا ہاں اس بات پر ایمان جو تھا کہ پاکیزہ مردوں کے لئے پاکیزہ عورتیں ہیں۔۔
وہ سارا سارا دن بستر پر لیٹا رہتا ۔ شبیر اور احمد دیکھ بھال کر رہے تھے۔۔ وضوء کرا دیتے تو وہ بستر پر ہی لیٹ کر اشاروں سے نماز ادا کر لیتا۔
چھ ماہ گزر چکے تھے اسے بستر سے لگے۔ جب ایک دن گڑیا میکے رہنے آئی تو ماموں کے گھر بھی آ گئی۔۔ مومن کی یہ حالت دیکھ کر وہ چھپ کر خون کے آنسو روئی تھی۔ شوہر صاحب اس کی طرف دیکھے بغیر ہی شادی کے کچھ دن بعد سے ہی غائب تھے۔۔ مگر وہ کمال سہولت سے چہرے پر دھیمی سی مسکان لیے چھپا گئی تھی۔
مگر مومن جو اپنے شرابی اور عیاش کزن کے بارے میں سب جانتا تھا اب کسی طرح گڑیا کی زندگی کی حقیقت بھی اچھی طرح جان چکا تھا۔ اپنے والدین اور چچا کی خود غرضی بھی روگ بن کر دیمک کی طرح کھا گئی تھی اسے۔۔
مومن کچھ دن سے نا کچھ کھا رہا تھا نا میڈیسن لے رہا تھا۔
گڑیا نے ردا کے ساتھ ملکر اس کے لئے سوپ بنایا تھا۔ جب وہ دونوں سوپ لیے اس کے پاس آ کر بیٹھی تھیں۔۔
زخموں نے شدت اختیار کر لی تھی۔ اسی لئے اب گھٹنوں تک ہی لباس پہنایا جاتا تھا اسے ،،،مگر اوپر سے سفید پتلے سے کمبل سے وہ سینے تک اپنا وجود ڈھانپ کر رکھتا تھا۔۔
لیٹے لیٹے بازو اور ہاتھ دکھتے تھے جنھیں اکثر ہی ردا دبا دیتی تھی تو کچھ سکون پہنچتا تھا اسے۔
اب بھی ردا اسے سوپ پلا رہی تھی جب گڑیا آہستگی سے اس کے ہاتھ کی پشت دبانے لگی۔ وہ جانے کیوں خاموش رہا اور چپ چاپ سوپ پیتا رہا۔
سوپ پی چکا تو ردا سے بولا۔
ردا،، یہ گڑیا کی طرح میرے ہاتھ دبایا کرو پلیز،،، وہ خاموشی سے اسے دیکھے گئی۔۔
وہ رات بہت بھاری تھی۔۔ گڑیا کو کوئی کچھ نہیں بتا رہا تھا کہ اسے ہوا کیا ہے آخر؟
نا میں بے وفا نا اس نے کی بے وفائی
میرے بیچ آ گئی ربا،،،،، تیری خدائی
چنگا کیتا نئیں تو سلوک
ماہیا مینوں یاد آ گیا
ماری کوئل نے ایسی کوک ماہیا مینوں یاد آ گیا
میرے دل میں اٹھی اک ہوک ماہیا مینوں یاد آ گیا
