Mera Ishq Teri Justajo by Muntaha Chouhan readelle50017 Last updated: 17 June 2025
Rate this Novel
Mera Ishq Teri Justajo by Muntaha Chouhan
یہ ۔۔۔لو۔۔۔۔۔!! چلاٶ۔۔۔!! گن کو اس کے سامنے کیا۔ صلہ نے پہلے اسے دیکھا۔ پھر گن کو۔۔! اور کچھ سوچتے ہوۓ گن تھام لی۔ اسے الٹ پلٹ کر چیک کرنے لگی۔ ۔ سامنے نظر پڑی تو سبحان وہاں نہ تھا۔ وہ جو سامنے واس نظر آرہا ہے ناں۔۔۔۔۔!! اسکا نشانہ لو۔ اپنے کان کے پیچھے سبحان کی سرگوشی نما آواز سناٸی دی۔ ایک بار پھر سے دل کی اتھل پتھل ہوتی سانسوں کو سنبھالنےلگی۔ وہ بالکل اس کے پیچھے اسکے ساتھ کھڑا اسکی کپکپاہٹ محسوس کر رہا تھا۔ اسکاہونا سبحان کو عجیب سا فیل کر رہا تھا۔ جسے وہ خود بھی نہیں سمجھ پا رہا تھا۔ اور یہ ایک بے اختیاری عمل تھا۔ کانپتے ہاتھوں سے اس نے واس کا نشانہ باندھا ۔ لمبی سانس لی۔ اور ٹریگر پر دباٶ ڈالنا چاہا ۔ لیکن ہمت ہی نہ پڑ رہی تھی۔ گردن پلٹ کر سبحان کو دیکھا۔ جس کا چہرہ اسکی گردن کے ساتھ مس کر رہا تھا۔ اتنے میں سبحان ایک ہاتھ اسکی کمر میں لے جا کے اسے خود سے قریب کیا۔ اور دوسرے ہاتھ سے اسکے گن والے ہاتھ پے ہاتھ رکھا۔ صلہ نے سانس ہی روک لی۔ وہ اتنے قریب آجاۓ گا اس نے سوچا تک نہ تھا۔ لیکن ابھی وہ چاہ کے بھی کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ اسکالمس اسکے دل کو عجیب سی لے میں دھڑکا رہا تھا۔ وہ احساس جو آج سے پہلےکبھی نہ محسوس ہوا۔ اور وجہ ۔۔۔۔۔ سے انجان تھی۔ دونوں کی نظروں کا مرکز وہ واس تھا۔ دونوں کی انگلیوں کا دباٶ اک ساتھ ٹریگر پر بڑھا ۔ ایک دم گولی چلی۔اور واس کو توڑ کے رکھ دیا۔ گولی چلاتے ہوۓ وہ اپنی جگہ پے توازن برقرار نہ رکھ پاٸی۔ لیکن سبحان کے تھامے رکھنے سے وہ جلدی سنبھل گٸی۔ رکا سانس بحال ہوا۔ پہلے حیرت پھر خوشی سے دیکھا۔ واس ۔۔۔ ٹوٹ گیا۔۔۔۔۔۔۔! میں۔۔۔ میں۔۔۔ نے گولی چلاٸی۔۔۔ واس ۔۔۔ ٹوٹ گیا۔۔۔!! وہ بچوں کی طرح خوش ہورہی تھی۔ سبحان زیرِلب مسکایا۔ اور وہاں سے جانے لگا۔ پلیز۔۔۔سبحان۔۔۔۔۔!!یہ گن ۔۔مجھے دے دیں۔۔۔۔۔؟؟ اسکو چلانے سے تو آواز بھی نہیں آتی۔ بہت۔۔۔۔فن ٹاسٹک ہے یہ۔۔۔۔!! صلہ نے خوش ہوتےاس کے قریب آتے گن کی ڈیمانڈ کی۔ ڈیل میں ایسا کہیں نہیں لکھا۔ ۔۔۔ سبحان نے اسے سہولت سے انکار کرتے ڈیل یاد کراٸی۔ صلہ کے چہرے کی خوشی ایک دم ماند پڑ گٸ۔ جو سبحان کو بالکل اچھا نہ لگا۔ ہمممممممم۔۔۔۔ کیا ہم۔۔۔ دوبارہ ڈیل نہیں۔۔۔ کر سکتے؟؟ جس میں آپ مجھے۔۔۔ گن چلانے کی ٹریننگ دیں۔ اور ساتھ میں یہ ۔۔۔گن بھی۔۔۔۔؟؟ اپنے طیٸیں اس نے بہت کار آمد مشورے سے نوازا۔ تم۔۔۔۔۔۔۔!! دن بدن ۔۔۔ تمہاری ڈیمانڈز بڑھتی نہیں جارہیں۔۔۔۔؟؟ سبحان کے ماتھے پے تیوری پڑی۔ پللیزززززززززز۔۔۔۔۔۔!!! صلہ نے آنکھوں میں معصومیت لاٸے لجاجت سے کہا۔ اچھا۔۔۔۔۔۔۔! تو اسکے بدلے۔۔۔۔۔ مجھے کیا ملے گا۔۔۔۔؟؟ سبحان دھیرے دھیرے چلتا اس کے قریب آیا۔ صلہ اس کے پراسرار انداز پر اندر سے دہل کے رہ گٸ۔ وہ۔۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔۔!! صلہ سے بات نہ بن پاٸی۔ سبحان نے اس کے دونوں اطراف ہاتھ رکھ کےاسکے فرار کا راستہ روک اسے سمٹنے پے مجبورکیا۔ میں۔۔۔ تمہیں۔۔۔ گن چلانا سیکھاٶں گا۔۔۔۔ اور ۔۔یہ گن بھی دوں گا۔۔۔اور تم۔۔۔۔۔ اپنی تیسری شرط ۔۔۔ واپس۔۔لے لو۔۔۔ دھیرے دھیرے بولتا وہ صلہ کے کان میں صور پھونک گیا۔ حیرت سے صلہ کی آنکھیں ایک دم پھیل گٸیں۔ اور غصے سے سبحان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں۔ وہ اچھی طرح سمجھ رہی تھی کہ وہ کیا کہنا چاہ رہا ہے۔ نفی میں سر ہلاتی اس نے خود کو کچھ بھی غلط کہنے سے باز رکھا۔ یو۔۔ آر۔۔ سو۔۔ مین۔۔۔!! صلہ کو اسکی بات پے دکھ ہوا آٸیندہ ڈیمانڈ کرنے سے پہلےسوچ سمجھ لینا۔۔ کسی بھی۔۔۔ ڈیمانڈ کے لیے ۔۔کیا قیمت چکانی پڑسکتی ہے۔۔۔؟؟ سبحان بھی پیچھے ہوتے اسے کافی کچھ باور کرواگیا۔ وہ احساس۔۔۔۔ جو ایک پل پہلے۔۔ دونوں کے اندر جاگا ۔ اب اسکی جگہ پھرسے نفرت نے لےلی۔ سبحان اپنی کہہ کے جا چکا تھا۔ بےاختیار ہی صلہ کاہاتھ اپنے گال پر گیا۔ خاموش آنسو کب بہہ کر اسکے گالوں پے لڑھک آۓ۔ اسے خبر نہ ہوٸی۔ ✨✨✨✨✨
