Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Ashiyana By Umme Hania

سلطان آپ خوش نہیں۔۔۔ وہ ہاتھ مسلتے گویا ہوئی۔۔۔ دیکھو عروب ۔۔۔ وہ قدم قدم چلتا اسکی طرف بڑھا۔۔۔ اسکے ہر اٹھتے قدم پر عروب کو اپنی سانسیں تھمتی محسوس ہوئی۔۔۔ ناجانے کیوں اسکی چھٹی حس اسکے کسی خطرے کی نشاندہی کر رہی تھی۔۔۔۔ وہ قدم قدم چلتا اسکے مقابل آ کر بیٹھا۔۔۔ عروب سانس تک روک گی۔۔۔ دیکھو عروب۔۔ ہماری فیملی مکمل ہے جس میں مزید کسی فرد کی گنجائش نہیں۔۔۔ وہ نرم مگر سنجیدہ لہجے میں گویا ہوا۔۔۔ عروب جہاں کی تہاں رہ گئ۔۔۔ آ۔۔۔آپ کہنا کیا چاہتے ہیں سلطان۔۔۔لفظ ساتھ چھوڑنے لگے تھے۔۔۔ وہ سمجھ کر بھی اسکی باتیں سمجھنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔ وہی جو تم بہت اچھے سے سمجھ رہی ہو۔۔۔ صبح میرے ساتھ ہسپتال چلنا۔۔۔ وہ سنجیدگی سے کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ عروب کے دل کو ایک گھونسہ پڑا ۔۔۔ ایسے کیسے سلطان۔۔۔ آپ ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں۔۔۔ وہ سرعت سے اسکا ہاتھ تھام کر روک گئ۔۔۔ وہ اسقدر دل سوز بات پر سلطان پر چیخنا چلانا چاہتی تھی۔۔۔ مگر سمجھ چکی تھی مقابل پر اسکے چیخنے چلانے کا اثر الٹا ہی ہوگا۔۔۔ تبھی ملتجی گویا ہوئی۔۔۔۔ اولاد ہے یہ بھی آپکی۔۔۔ کوئی بھلا اپنی اولاد کے بارے میں ایسا کیسے کہہ سکتا ہے۔۔۔ ایک آنسو اسکی آنکھ سے ٹپکا۔۔۔ اندر کہیں دل کو ڈھرکا بھی لگا تھا۔۔۔ آج تک وہ سلطان کے خلاف نا جا پائی تھی۔۔۔ حتمی فیصلہ اسی کا ہوتا۔۔۔ کاش وہ اسے قائل کر لے۔۔۔ دل سے ہوک سی نکلی۔۔۔ میرے پاس اولاد ہے۔۔۔ یہ عروب کے نرم لہجے کا اعجاز ہی تھا کے وہ ابھی تک ہائپر نا ہوا تھا۔۔۔ اور تمہیں بھی انہیں اپنی اولاد ماننا چاہیے۔۔۔ بلاشبہ آپکے پاس اولاد ہے اور میں انہیں اپنی اولاد مانتی ہوں۔۔۔ مگر یہ بھی تو آپکی ہی اولاد ہے۔۔۔ اور آپ مجھ سے میرا ماں بننے کا فطری حق نہیں چھین سکتے۔۔۔۔ اندر دل کو کوئی مٹھی میں لے کر مسل رہا تھا۔۔۔ وہ فق ہوتی رنگت کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوتی اسکے مقابل آئی۔۔۔ یہ ہی تو بات ہے عروب۔۔۔ اگر تم ان بچوں کو اپنے بچے سمجھو تو خود کو اس حق سے محروم نا سمجھو۔۔۔رائٹرز پیج۔ ام ہانیہ آفیشل وہ سنجیدگی سے اسکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔۔۔ لیکن سلط۔۔۔۔ بس ۔۔۔ اب اس موضوع پر مزید بات نہیں ہو گئ۔۔۔ تم صبح میرے ساتھ ہسپتال چل رہی ہو۔۔۔ اسے کچھ کہنے کو لب کھولتے دیکھ وہ حتمی انداز میں کہتا اسکے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑاتا مڑ گیا جبکہ عروب اپنے خالی ہاتھ کو دیکھتی رہ گئ۔۔

_

Complete novel available  in DOWNLOAD LINK