Meherbaan By Sanaya Readelle50079 Last updated: 15 July 2025
Rate this Novel
Meherbaan By Sanaya Khan
وہ شام سے ہی کمرے میں بند تھی مغرب پڑھ کر لیٹی تھی جب نیند لگ گئی اور اب جاگی تو کافی رات ہوچکی تھی یہ بڑا سا روم تھا جہاں مہک مدیحہ حیا اور مائرا چاروں ساتھ ہی رہتی تھی جو گھر کے باقی کمروں کے مقابلے کافی بڑا تھا اور خاص اُن لوگوں کے لیے بنایا گیا تھا دو
کنگ سائز بیڈ تھے ایک پر مدیحہ اور مہک دوسرے پر حیا اور مائرا سوتے تھے اور آجکل ہانیہ بھی-- وہائٹ دیواروں پر خوبصورت پینٹنگ کی گئی تھی جو حیا نے بنائی ہوئی تھی اس کے علاوہ سب نے اپنی اپنی پسند سے اُسے ڈیکور کیا ہوا تھا
وہ آنکھیں مسلتی ہوئی اٹھ بیٹھی سائڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا کر وقت دیکھا تو پونے بارہ بج رہے تھے اُسے حیرت ہوئی کہ کسی نے اُسے
جگایا کیوں نہیں نا ہی کھانا کھانے کے لیے آواز دی حالانکہ سب ساتھ میں ہی کھانا کھاتے تھے اور ابرار صاحب کے حکم کے مطابق سب کا وہاں موجود ہونا ضروری تھا
شاید اپنے لاڈلے آرین کے آنے کی خوشی میں کسی کو دھیان نا رہا ہو
اس نے جل کر سوچا اطراف میں نظر ڈالی کے کسی کو ساتھ لیکر نیچے جائے اور کچھ کھانے کو لے آئے تو وہ چاروں سر تک چادر تانے سو رہی تھی
یہ سب تو اپنا اصطبل بیچ کر سورہی ہے لگتا ہے اکیلے ہی جانا پڑےگا
سوچ کر وہ بیڈ سے اُتری کمرے کے باہر آتے ہی ایکدم سے ساری لائٹ بند ہو گئی اور گھپ اندھیرا چھا گیا اُسے اندھیرے سے ویسے ہی ڈر لگتا تھا اور اب تو وہ اکیلی تھی اس نے گھبرا کر آواز لگائی
امی-----امی
لیکن کوئی جواب نہیں آیا وہ پریشانی سے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو مسلنے لگی
چاچی ----- امی
وہ اندازے سے چلتی واپس روم میں جانے کے لیے مڑی تب ساری لائٹیں روشن ہوئی اس نے پلٹ کر آگے آتے ہوئے نیچے جھانکا تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی ہال میں بڑی
ہی خوبصورتی سے سجاوٹ کی گئی تھی وہ سیڑھیاں اتر کر جیسے ہی نیچے آئی اس پر گلاب کے
پھولوں کی برسات ہوئی وہ دونوں ہاتھ پھیلائے مسکراتے ہوئے چہرہ اوپر کیے پتیوں
کو چہرے پر محسوس کرنے لگی اوپر سے مائرا اور ہانیہ کھڑے اس پر پھول برسا رہے تھے
ایک طرف سے گھر کے سارے افراد نکل کر باہر آئے اور ساتھ میں گاتے ہوئے اُسے وش
لان کا یہ حصہ خاص اس کے نام تھا جہاں ہر خوبصورت سے خوبصورت پھول اور پودے اکٹھا تھا جن کا خیال وہ خود رکھتی تھی اس وقت بھی ایک ہاتھ میں پائپ تھامے پودوں کو پانی دے رہی تھی گانا گاتے ہوئے دوسرا ہاتھ کبھی دہائی کے انداز میں پیشانی تک جاتا تو کبھی دل تک اور چہرے کے زاویے تو اللہ معاف کرے
اس دل پے لگا کے ٹھیس جانے وہ کونسا دیس جہاں تم چلے گئے جہاں تم چلے_------
کان کے قریب ایک انجانی آواز سے اُسے بریک لگ گیا
جانم دیکھ لو مٹ گئی دوریاں میں یہاں ہُوں یہاں ہُوں یہاں ہُوں یہاں
خوبصورت آواز دھیما لہجہ کسی نے اس کے گیت کا جواب دیا تھا ایک پل کو لگا وہم ہے تسلی کے لیے جب مڑی تو ساتھ میں پائپ بھی مڑا اور سامنے والے کو بن بادل برسات کے اچھے خاصے دیدار کروادیے بیچارہ پہلے تو گھبرایا اور دو قدم پیچھے ہوا لیکن اگلے ہی پل گھبراہٹ مسکراہٹ میں بدل گئی جبکہ مہک کے چہرے پر حیرانی کے سوا کچھ نہیں تھا پائپ اسی پوزیشن میں سامنے والے کو بھگو رہا تھا اور وہ شاک سی ہوکر یہ سوچ رہی تھی صبح سے پڑھے جانے والے ناول کا اثر تو نہیں جو یہ گمان ہو رہا ہے کے اس کا ہیرو سامنے کھڑا ہے
سفید رنگت خوبصورت نقوش چھ فٹ ہائیٹ سٹائل سے سیٹ کیے براؤن بال براؤن آنکھیں بلیک شرٹ بلیو جینس پہنے بلکل ویسا ہی تو ہے
کیا آپ کے یہاں ہر کسی کا ویلکم ایسے ہی کیا جاتا ہے
مہک کا ارادہ نہ پاکر بیچارے کو کہنا ہی پڑا وہ ہوش کی دنیا میں آئی اور کرنٹ کھاکر پائپ نیچے پھینکا
او تیری_------
ج--ج--جی و وہ ہ میں-----س س ----
وہ جب بھی گھبراتی لفظ اور آواز ساتھ ہی نہیں دیتے تھے
میں--- مجھے لگا
بہت افسوس ہوا جان کر کے آپ ہکلی ہے
وہ واپس دو قدم آگے آیا
