Meherbaan By Sanaya Readelle50079 Episode 27
Rate this Novel
Episode 27
صبح اُسکی آنکھ کھلی تو آرین بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھے بیٹھے سو رہا تھا اُسکا دایاں ہاتھ مہک کے بائیں ہاتھ میں تھا اسکائی بلیو شرٹ پر ڈارک بلیو جینز پہنے بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے ۔سوتے ہوئے بہت دلکش لگ رہا تھا مہک کی نظر ایک پل کو اس پر تھم گئ۔ آج پہلی بار اسے اتنے غور سے دیکھا تھا اُسکا رنگ ہلکا سانولا دلکش نقوش کالے سلکی بال ایک عجیب سی کشش تھی اُسکے چہرے میں ایک مستقل مسکراہٹ جو اُسکے شحصیت کو مزید نکھارتی تھی وہ شخص اچانک سے اسکی زندگی کا اتنا اہم حصہ بن گیا تھا
اُسکی نظروں کی تپش محسوس کرکے آرین نے آنکھیں کھولیں مہک نے گھبرا کر فوراً نظریں نیچے کر لی
تم ٹھیک تو ہو نا
آرین نے اُسکے ہاتھ پر گرفت مضبوط کردی
ہاں ۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔۔میں
وہ اپنا ہاتھ کھینچنے لگی آرین نے ہاتھ کی جانب دیکھا پھر خود ہی چھوڑ دیا
رات کو تمہیں۔۔۔۔ بہت تیز بخار تھا ۔۔۔بار بار اپنی امی کو پکار رہی تھی
وہ سیدھا ہوکر بیٹھا
ہاں ۔۔۔۔میں جب بھی بیمار ہوتی ہوں ۔۔۔۔امی سارا وقت میرے ساتھ ہی رہتی ہے۔۔۔۔۔ پڑھ کر دم کرتی رہتی ہے
وہ بھی اٹھ کر بیٹھ گئی آرین نے ایک گہری سانس لی ایک ہاتھ سر کے نیچے رکھے بیڈ سے سر ٹکائے اوپر دیکھنے لگا
مائیں سب ایسی ہی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے اب بھی یاد ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ میں جب تک سو نہیں جاتا تھا مام میرے سرہانے بیٹھی رہتی تھی۔۔۔۔۔۔ جب وہ کہانی سناتے ہوئے میرے بالوں کو سہلاتی تھی۔۔۔۔۔ دنیا جہان کا سکون محسوس ہوتا تھا۔۔۔۔۔ اللہ نے صرف ماں کے ہاتھوں میں وہ سکون دیا ہے۔۔۔۔۔۔ جو اور کہیں نہیں مل سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔آج بھی جب تھک کر آنکھیں بند کرتا ہوں اور مام کو یاد کرتا ہوں تو وہی سکون محسوس ہوتا ہے
وہ دھیمی آواز میں رک رک کر کہتا رہا
I m sorry
مہک کو لگا اُسنے اُسکی امی کی یاد دلا کر اُداس کر دیا اسلئے معافی مانگی آرین اُسکی جانب دیکھ کر خوبصورتی سے ہنسا
اب تو بیوی بن گئی ہو ۔۔۔۔۔اب بھی سوری۔۔۔۔۔ میڈم جی شاید آپکو پتہ نہیں بیویاں سوری کہتی نہیں شوہر سے کہلواتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ چلئے اب اگر آپ کی اجازت ہو تو بندہ کُچھ دیر سو جائے
وہ اُسکے جانب جھکتے ہوئے بولا اور سرہانہ ٹھیک کرنے لگا
آرین۔۔۔۔۔ آپ میری وجہ سے ساری رات جاگتے رہے۔۔۔۔۔۔
وہ شرمندگی سے بولی
تو کیا تمہیں اس حال میں چھوڑ کر سو سکتا تھا
اُسنے بات کاٹتے ہوئے کہا
I am so sorry۔۔۔۔
اُسنے پھر سے کہا آرین نے آنکھیں گھمائی اور سر نفی میں ہلایا پھر اٹھ کر اُسکے ایکدم قریب ہوا
اب اگر آئندہ تم نے سوری کہا نہ تو بدلے میں میں جو کرونگا اس کی ذمےدار تم خود ہونگی
وہ اُسکے آنکھوں میں جھانک کر بولا وہ گھبرا کر پیچھے ہوئی اور بیڈ سے اتر گئی
شام کو بڑے ہی عالیشان طریقے سے ولیمہ کا اہتمام کیا گیا تھا شہر کی مشہور ترین ہستیاں تقریب میں شامل تھی روشنی اور خوشبو سے سجے لان میں خوبصورت اسٹیج پر دونوں ایک ساتھ بیٹھے mad for each other
لگ رہے تھے آرین بلیک سوٹ میں اپنی خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ سب سے مبارک بعد وصول کر رہا تھا مہک بھی وائٹ خوبصورت ڈریس پہنے میک اپ قیمتی جویلری میں خوب سج رہی تھی ہر کوئی اُنکی جوڑی کی تعریف کر رہا تھا ملک صاحب کی خوشی بھی دیدنی تھی اُنکے بیٹے کی خواہش جو پوری ہو گئی تھی جس وجہ سے وہ اُداس رہتا تھا خود کو بھول چکا تھا ایک بار پھر اُسکی پرانی خوشی ہنسی سب کچھ لوٹ آیا تھا
تم روتی ہو تو مجھے اچھا نہیں لگتا
ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی وہ کانوں سے ایرنگ نکال رہی تھی کسی سوچ میں گم جب آرین اندر آیا اور بیڈ پر بیٹھ کر اُسے دیکھتے ہوئے بولا مہک نے اُسکی جانب دیکھا اور پھر سامنے دیکھ کر بالوں میں برش کرنے لگی
میں رو نہیں رہی۔۔۔۔
تم اپنی فیلنگ چھپا نہیں سکتی۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ شاید میں محسوس کر لیتا ہوں تمہاری ہر فیلنگ کو
وہ کف کے بٹن کھولتے ہوئے بولا مہک نے ہاتھ روک کر آئینے میں اسے دیکھنے لگی
مجھ میں اتنی طاقت نہیں ہے میں نہیں لڑ سکتی اپنے جذبات سے حالات سے
وہ دھیمے لہجے میں بولی اور اٹھ کر بیڈ پر دوسری جانب آکر بیٹھی
ایسا تمہیں لگتا ہے۔۔۔۔۔۔ لیکن پتا ہے مجھے کیا لگتا ہے
وہ اُسکی جانب گھوما
مجھے لگتا ہے اس کمزور سی چوہے کاکروچ سے ڈرنے والے لڑکی کے اندر ایک بہت مضبوط لڑکی چھپی ہے جو وقت آنے پر ہر حالت کا سامنا کر سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔بس ضرورت ہے اُسے باہر نکالنے کی اور پھر میں تو ہُوں ہی نہ ہر قدم پر تمہارے ساتھ
آرین نے اُسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا
بس۔۔۔۔۔۔ بھول جاؤ سب کُچھ۔۔۔۔۔ چھوڑ دو یے اُداسی
اُسکے لہجے میں التجا تھی
ایک چیز۔۔۔۔۔۔ صرف ایک چیز ہے آرین جو مجھے کچھ بھولنے نہیں دے رہی ۔۔۔۔۔۔کے میں کہاں غلط تھی ۔۔۔۔۔۔ میں خود سے ناراض ہُوں۔۔۔۔۔۔۔ خود پے غصّہ ہوں ۔۔۔۔۔۔ضرور میری کوئی بات میری کوئی حرکت اس سب کے وجہ ہے۔۔۔۔ لیکن میں جانتی تک نہیں کے وہ کیا ہے۔۔۔۔۔
بس۔۔۔۔۔۔ کچھ نہیں ۔۔۔۔۔۔کُچھ غلط نہیں کیا تم نے ۔۔۔۔۔۔۔میں کہہ رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔ تم کچھ غلط نہیں کر سکتی ۔۔۔۔۔۔۔پورا بھروسہ ہے مجھے تم پر۔۔۔۔۔۔اور میں پرمس کرتا ہوں تمہاری اس غلط فہمی کو بھی دور کر دونگا کے غلطی تمہاری ہے تمہارے سوالوں کا جواب ملےگا تمہیں۔۔۔۔۔۔۔
وہ بیڈ پر پیر کیے اُسکے قریب ہوا اور اُسکے آنسو صاف کیے
بس ۔۔۔۔۔اب چپ ہو جاؤ ورنہ پھر طبیعت خراب ہو جائیگی۔۔۔۔۔۔۔ چلو سو جاؤ
وہ سمجھاتے ہوئے بولا مہک بستر پر لیٹ گئی اُسنے اُسے چادر اُڑھائی اور سائڈ لائٹ آف کیا
Good night
وہ ہلکا سا مسکرا کر بولا مہک نے آنکھیں بند کی وہ چند لمحے اُسکے چہرے کو دیکھتا رہا پھر چنجنگ روم کی جانب بڑھ گیا
!*
کتنے خوبصورت ہے یہ
کھڑکی سے لان کا جائزہ لے رہی تھی جہاں بہت خوبصورت رنگ برنگے پھول لگے تھے اُسکے چہرے پر ایک خوبصورت مسکراہٹ آگئی
بالکل آپ کی طرح
ملک صاحب نے اسے دیکھ کر جواب دیا وہ گھبرا کر مڑی اور ندامت سے نیچے دیکھنے لگی
السلام علیکم۔۔۔ ڈیڈ
اُسنے اسی طرح سلام کیا
ہمیشہ خوش رہو
انھونے جواب دیکر اُسے دعا دی
یہ پھول آپ ہی کی طرح ہے ۔۔۔۔آپ بھی اگر ہنستی مسکراتی رہیگی تو ان پھولوں کی طرح اس گھر کی خوبصورتی میں اضافہ کرینگی
انھونے باہر کی جانب دیکھ کر کہا
جی ۔۔۔۔۔جی ڈیڈ۔۔۔۔۔۔
وہ پہلی بار اُنسے بات کر رہی تھی اسلئے گھبرا گئی ملک صاحب مسکرائے
آپ ہماری بیٹی ہے۔۔۔۔۔ اور ہم اپنی بیٹی کو اُداس نہیں دیکھنا چاہتے ۔۔۔۔۔۔۔ چلئے ناشتے کرتے ہے
انھونے اسکی جانب دیکھ کرکہا
اُسنے اُنکے ساتھ ہی ناشتہ کیا اور باتیں بھی کی اُنسے باتیں کرکے اسے واقعی اچھا لگا اور اُسکا ڈر بھی کم ہو گیا ناشتے کے بعد وہ روم میں آئی تو آرین بیگ میں فائلیں وغیرہ رکھ رہا تھا جس میں پہلے سے کچھ کپڑے رکھے ہوئے تھے مطلب وہ کہیں جانے کی تیاری کر رہا تھا
آپ کہیں جا رہے ہیں
اُسنے بیڈ کے قریب آکر کہا
میں نہیں ہم جا رہے ہیں
وہ فائل رکھ کر وارڈروب کی جانب جاتے ہوئے بولا
کہاں۔۔۔۔۔۔۔
اُسنے حیرت سے پوچھا
کچھ ٹائم سے میں کینیڈا میں تھا ۔۔۔۔۔وہاں ایک پروجیکٹ پر کام کر رہا تھا ڈیڈ کے بلانے پر یہاں آنا پڑا۔۔۔۔۔ لیکن اب واپس جانا ہے اب اکیلے تو جا نہیں سکتا سو۔۔۔۔۔
اُسنے بات ادھُوری چھوڑی
آرین پلیز آپ اکیلے ہی چلے جائیے میں
اکیلے چلا جاؤں تاکہ میرے پیچھے تم یہاں شوق سے روتی رہو
وہ دوبارہ کپڑے لینے جاتے ہوئے مڑ کر بولا
جی نہیں تم میرے ساتھ چل رہی ہو بس۔۔۔۔۔ جلدی پیکنگ کرو۔۔۔۔ آج شام تک نکلنا ہے۔۔۔۔ یہاں آنے کی وجہ سے بہت کام پینڈنگ پڑا ہے پتہ نہیں کیسے ہوگا
وہ بیگ پیک کرتے ہوئے پریشانی سے بولا
میری وجہ سے آپکو بہت پرابلم ہوئی نہ
اُسنے شرمندہ ہوکر کہا آرین اُسکی جانب دیکھنے لگا
سوری میں۔۔۔۔۔۔۔۔
اُسکے لبوں سے الفاظ ادا ہوتے اس سے پہلے آرین نے شہادت کی انگلی ہلکے سے اُسکے لبوں پر رکھ دی مہک نے نظریں جھکالی
شششش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُسنے قریب ہوکر مہک کی نم آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ہلکے سے کہا اور دھیرے سے انگلی ہٹائی
اُسکے چہرے پر آتے بالوں کو کاندھے کے پیچھے کیا اور جھک کر کان کے قریب ہوا اور دھیمی مدہوش آواز میں کہا
I love you۔۔۔۔۔۔
مہک نے نظریں اٹھا کر اُسکی آنکھوں میں دیکھا تو خوبصورتی سے مسکرایا بنا مڑے دھیرے دھیرے چار قدم پیچھے ہوا اور پھر مڑ کر باہر نکل گیا جب کے وہ اگلے کئی منٹ یونہی کھڑی اس دروازے کو دیکھتی رہی
