Matam Sang Shehnaayi Ke By Pareesha Mahnoor Readelle50236 Last updated: 14 September 2025
No Download Link
Rate this Novel
Matam Sang Shehnaayi Ke
By Pareesha Mahnoor
اماں کا فون تھا آنیہ کہہ رہی ہیں جلدی پہنچو دونوں۔دو لڑکیاں پیلا جوڑا پہنے ہاتھ مہندی سے بھرے ہوۓ تھے،سفید پاؤں ہلکے پیلے اور سبز رنگ کے کھسوں میں مقید تھے۔پاؤں پر مہندی سے بنے بیل بوٹے پاؤں کی مزید خوبصورت کر رہے تھے۔ دونوں رکشے میں سوار تھیں۔ اب پنکھ تو ہیں نہیں جو اڑ کر پہنچ جائیں آ رہے ہیں۔آنیہ بیزاری سے رکشے سے باہر کے دوڑتے منظر کو دیکھنے لگی۔سڑک پرگاڑیاں آ جا رہیں تھیں۔باقی دنوں کی نسبت ٹریفک قدرے کم تھا۔۔ تم نہ دیتی اتنے دور مہندی کا سوٹ تو نہ آنا پڑتا مجھ مایوں کی دلہن کو ۔۔وانیہ آنیہ کی طرف مڑ کر بولی جو بےپرواہی سے باہر دیکھنے میں مصروف تھی۔تنگ آ کر وانیہ بھی سامنےدیکھنے لگی۔۔ تبھی وہ چونکی۔ایک تیز رفتار ٹرک اس طرف آ رہا تھا۔دیکھنے میں پاگل ہاتھی معلوم ہوتا تھا۔۔ بھائ دیکھ ککک. . . . . وانیہ کی بات منہ میں ہی رہ گئ۔تیز رفتار ٹرک بہت زور سے آ کر رکشے سے ٹکرایا. تھا۔۔ رکشہ الٹا ہو کر بہت دور جا گِرا تھا۔آنیہ جو باہر کے منظر سے مخظوظ ہو رہی تھی۔ٹرک کی ٹکر سے وہ رکشے میں سے گھلاٹیاں مارتی ہوئ دور جا گِری۔سر سے بےتحاشہ خون بہنے لگا۔۔ہاتھ میں پڑی شگن کی چوڑیاں ٹوٹ چکی تھیں۔مایوں کا جوڑا لال ہو گیا تھا۔ جبکہ رکشہ بری طرح ٹوٹ چکا تھا۔وانیہ کی حالت آنیہ سے ذیادہ حراب تھی۔اس کے پورے وجود سے خون کی ندی بہہ رہی تھی۔۔ سڑک پر چاروں طرف خون ہی خون تھا۔۔مایوں بیٹھی دلہنیں نزع کی حالت میں تھی۔ ہاتھوں پر لگی مہندی کے سرح رنگ کو خون کے سرخ رنگ نے چھپا دیا تھا۔۔۔ دور کہیں قسمت کی آواز گونجی تھی۔۔ جب جب شہنائ بجتی ہے موت ساتھ ہی آتی ہے۔۔ ____________________________ بھیا یہ نیکلس دیکھیں آنیہ کو دوں گا کیسا ہے۔۔صائم نے ایک خوبصورت نیکلس ریان کی طرف بڑھایا۔۔ بہت خوبصورت ہے. . ریان نے اس کی چوائس کو داد طلب نظروں سے دیکھا تھا۔۔ اور یہ. . . ایک محمل کی ڈبیہ اس کے ہاتھ میں تھی جب کہ الفاظ منہ میں ہی رہ گۓ تھے۔اس کے سینے میں درد کی ایک شدید ٹیس اٹھی۔وہ آہ کر کے رہ گیا تھا۔۔ کیا ہوا ٹھیک ہو صائم تم۔۔ریان نے بڑھ کر اسے تھاما۔۔ . . جی بھیا بس دل میں اچانک درد کی ٹیس اٹھی پتہ نھیں کیوں۔۔صائم کا چہرہ بتا رہا تھا وہ درد اب بھی سینے میں موجود ہے۔تاثرات درد بھرے تھے. ۔۔۔. چلو تمہیں ہسپتال لے کر چلتا ہوں۔۔ریان پریشان ہو گیا تھا۔۔. اب ہارٹ پیشنٹ تو نہیں ہوں میں. . . . . اس نے ٹالا مگر اسے ایک دم سے گبھراہٹ محسوس ہوئ. . دل تیز تیز دھڑکنے لگا. . . . . . . . . . . اس نے بےاختیار دل پر ہاتھ رکھا. . . وہ سینے کو مسلنے لگا جیسے بہت گھٹن ہو رہی ہو. . . . . . . صائم تم ٹھیک نہیں ہو ۔۔ریان نے اسے صوفے پر بٹھا کر پانی کا گلاس تھمایا۔۔تم یہ پیو میں ماما کو بلاتا ہوں۔۔ریان کمرے سے باہر بھاگا۔۔ صائم کے دل کا درد بڑھ رہا تھا۔۔ماتھے پر پسینے کے ننھے ننھے قطرے نمودار ہونے لگے تھے۔۔وہ بےبسی سے سینے کو ایک ہاتھ سے مسل رہا تھا۔۔ اور سو میں سے دس محبت کرتے ہیں اور پانچ عشق زدہ ہوتے ہیں۔وہ عشق کے ان پانچ لوگوں میں عشق زدہ ٹھہرا تھا۔۔ ____________________________
