Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khuab Nagar Ka Humrahi by Abeera Hasan

یہ شہر کے مشہور کلب کے اندر کا ایک منظر تھا۔۔ یہاں رائن اپنے تین دوستوں کے ساتھ شراب کے گلاس پر گلاس چڑھاتے ہوئے مسلسل زارا کے بارے میں سوچ رہا تھا،۔۔
"اس کی ہمت کیسے ہوئی مجھے نہ کرنے کی۔۔؟؟؟ مجھے "پلے بوائے" کہا اس نے۔۔ مجھے۔۔؟؟؟ سمجھتی کیا ہے وہ خود کو۔۔؟؟ رائن کی فرینڈ شپ کو ٹھکرانے کی ہمت کیسے ہوئی اس کی۔۔؟؟؟" رائن نے زور سے چینختے ہوئے ہاتھ میں تھاما شراب کا گلاس فرش پر پھینک دیا تھا۔۔ کچھ دیر کو آس پاس کے لوگ ٹھٹھک کر اس کی طرف متوجہ ہوئے مگر یہاں آئے دن ایسے منظر عام سی بات تھے۔۔ اسی لئے اب بھی نشے میں دھت رائن کو دیکھتے ہوئے وہ سب لوگ دوبارہ سے اپنے مشغلوں میں مصروف ہوگئے تھے جبکہ اس کے دوست اس کے اس شدید ری ایکشن پر بری طرح گھبرا گئے تھے۔۔ جیک اور ایلیکس کے لئے رائن جیسے "کول مائنڈ" بندے کا اتنا شدید ری ایکشن خاصا شاکنگ تھا۔۔ ایسے میں رائن کے پاس بیٹھے ہینری نے دھیرے سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اس کا غصہ ٹھنڈا کرنا چاہا تھا۔۔
"ہےےےےے۔۔ کام ڈاؤن بڈی۔۔ غصہ مت کرو رائن۔۔ تم جیسا کول بندہ یوں غصے میں اچھا نہیں لگتا۔۔ بھول جاؤ اس لڑکی کو۔۔ بھاڑ میں جائے وہ۔۔ تمھیں کونسا لڑکیوں کی کمی ہے۔۔؟؟؟ چھوڑ دو اس "ایشیائی" لڑکی کا خیال۔۔ اپنے ملک میں کیا لڑکیاں مر گئی ہیں۔۔؟؟ تم کہو تو ابھی کے ابھی لائن لگا دوں تمھارے لئے لڑکیوں کی۔۔" ہینری، رائن کا بیسٹ فرینڈ تھا جو ہر جگہ اس کے ساتھ پایا جاتا تھا۔۔ زارا سے پہلی ملاقات والے دن بھی وہی اس کے ساتھ تھا اور آج بھی رائن اس کے سامنے ہی زارا کے پیچھے پیچھے گیا تھا۔۔ پھر کچھ ہی دیر بعد وہ غصے سے بھرا ہوا واپس آیا تھا تب بھی ہینری ہی اس کو شانت کرکے اپنے ساتھ یونیورسٹی سے باہر لے گیا تھا۔۔ اور پھر سارا دن اس نے رائن کو سمجھاتے ہوئے گزارا تھا مگر اس کا غصہ کم ہونے کے بجائے بڑھتا جا رہا تھا۔۔ اب بھی شام سے کلب میں بیٹھا وہ غصے میں نجانے شراب کی کتنی بوتلیں خالی کر چکا تھا۔۔
"نوووووو۔۔۔ نو وےےےےے۔۔ ہینری ی ی ی۔۔ کوئی اور نہیں چاہیئے مجھے۔۔ اب رائن کو وہی "ایشیائی" لڑکی چاہیئے۔۔ اب رائن کو زارا چاہیئے تاکہ اسے میں اچھی طرح بتا سکوں کہ رائن کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو ٹھکرا کر اس نے کتنی بڑی غلطی کی ہے۔۔" رائن چوٹ کھائے سانپ کی طرح پھنکارتے ہوئے بولا تھا۔۔ اس کے دل میں آگ لگی ہوئی تھی۔۔ اپنی بے عزتی اسے بھلائے نہیں بھول رہی تھی۔۔ اگر آج وہ زارا کو ایسے ہی جانے دیتا تو اس کا مطلب ہوتا کہ "رائن اینڈرسن" نے ایک معمولی سی "ایشیائی" لڑکی کے ہاتھوں شکست تسلیم کر لی ہے اور وہ اس لڑکی سے شکست کھانا نہیں چاہتا تھا۔۔
"ہینری۔۔ مجھے وہ لڑکی کل میرے فلیٹ پر چاہیئے۔۔۔" اس نے شراب کا آخری گھونٹ حلق میں انڈیلتے ہوئے اپنے پاس بیٹھے ہینری سے کہا تھا جو اس کی بات سن کر کچھ سوچتے ہوئے اثبات میں سر ہلانے لگا تھا۔۔

Complete PDF Novel Download Link Available

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *