Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kathan Rahen by Syeda Jaweria Shabbir

سحرش کو اس سے اس قدر ذلالت کی امید نہیں تھی وہ بے دم سی ہو کر جہاں کھڑی تھی وہیں بیٹھ گئ جیسے سارے راستہ بند ہوگئے ہوں ۔۔۔۔۔۔۔جہانگیر اس پر ایک نظر ڈال کر چلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرے ہوئے قدموں سے وہ بیڈ کی طرف آئی اور بھاری لباس اٹھا کر واش روم میں چلی گئ ۔۔۔۔ جو بھی تھا اسے اپنی عزت نفس جان سے زیادہ عزیز تھی جہانگیر نے کوئی راستہ ہی نہیں چھوڑا تھا ۔۔۔۔۔۔
وہ واش روم سے نکلی تو بیوٹیشن اسکے انتظار میں کھڑی تھی وہ چپ چاپ وہاں اکر بیٹھ گئ اور بیوٹیشن میک اپ کرنے لگی۔۔۔۔
" تو تم نفس کے غلام نکلے میں بھی تمہیں بتاوں گی تم کیسے اپنی حوس پوری کرو گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
سوگوار حسن پر میک اپ اس پر عروسی قیمتی جوڑا جو دیکھنے میں ہی لاکھوں کا لگ رہا تھا اس پر نازک سا قیمتی زیور اس پر سج کر اور جگمگ کررہا تھا سامان سے ہی جہانگیر کی حیثیت کا اندازہ ہورہا تھا لیکن اسے ان سب سے کوئی سروکار نہیں تھا جب دل ہی نہ ہو تو لاکھوں کا ہو یا کڑوروں کا ہو سب بے معنی لگتا ہے اسے اپنے گھر جانے کی لگی ہوئی تھی ۔۔۔۔
نکاح کے بعد جب سب کمرہ سے چلے گئے تو وہ جلدی سے واش روم کی جانب گئی وہ جہانگیر کےسارے ارادوں پر پانی پھیرنے کا طے کر چکی تھی ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
جہانگیر جب کمرہ میں آیا تو سحرش اپنے پرانے حلیئے میں نظر آئی البتہ چہرہ پر پانی کے قطرے ابھی بھی موجود تھے ۔۔۔۔
جہانگیر کو اندازہ تھا کچھ ایسا ہی ہوگا ۔۔۔
ہاں تو مسز جہانگیر کیسا لگ رہا ہے ۔۔۔۔ ؟؟
سحرش نے اس کو جواب دینا ضروری نہیں سمجھا اور اسکی طرف سے رخ پھیر گئ۔۔۔
۔ وہ اسکے قریب اکر بیٹھا اور وہ جھٹکے سے بیڈ سے اتر گئ۔۔۔۔
جہانگیر کو اسکی اس حرکت پر اپنی توہین کا احساس ہوا ابھی وہ جوابی کروائ ہی کرنے لگا تھا کہ اسکا موبائل تھرتھرایہ اس نے موبائل کو کان سے لگایہ۔۔ اسکے چہرے کے اتار چڑہاو سے پتا چل رہا تھا کہ یقینن کوئی سیریس بات تھی ۔۔۔۔۔۔
مجھے ابھی جانا ہے لیکن تم فکر نہ کرو بہت جلد ملاقات ہوگی یہ کہہ کر وہ کمرہ سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جس موقع کی تلاش میں تھی وہ موقع مل گیا تھا جہانگیر کو گئے ہوئے دو گھنٹے ہوگئے تھے باہر سے بھی کوئی بولنے کی آواز نہیں ارہی تھی رات کا ادھا پہر ہو رہا تھا سب سو رہے تھے اس نے سوچا اس سے اچھا موقع نہیں ملے گا گھر جاکر وہ جہانگیر پر ذبردستی نکاح کا کیس کردے گی ۔۔۔
وہ اٹہی اور ڈوپٹہ ٹھیک کرکے اپنے گرد اوڑھا اور کھڑکی کھولی ہوا کا جھوکا اسے چھو کے گزرا اس نے گہرائی دیکھنا چاہی لیکن گھپ اندھیرے کی وجہ سے کچھ نظر نہ آیا لیکن پھر بھی اللہ کا نام لے کر کودی اور دلخراش چیخ نے پرسکون ماحول میں ارتعاش پیدا کردیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جی یہ کیا کرلیا اپنے صاحب جی ہمیں چھوڑیں گے نہیں۔۔۔۔
ملازمہ اسکی چیخیں سن کر ڈور کر گھر کے پیچھلے حصے میں گئ جہاں سے چیخوں کی آواز اراہی تھی۔۔۔۔
سحرش روئے جارہی تھی درد ہی اتنا ہو رہا تھا اس سے کھڑا بھی نہیں ہوا جارہا تھا ۔۔۔ تھوڑی دیر میں جہانگیر بھی پہنچ گیا تھا اور اب سارے ملازم اس کے عتاب کا نشانہ بنے ہوئے تھے ۔۔۔ اب اسکا رخ سحرش کی طرف تھا جو اپنا پاوں پکڑے روئے جا رہی تھی ۔۔۔ لب بھینچ کر اس نے ملازمہ کو ڈاکٹر کو لانے کا کہا اور خود جھک کر سحرش کو اپنے بازووں میں اٹھایا اور کمرہ میں بیڈ پر لاکر بٹھایا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *