Jeene Bhi De Duniya Humme readelle 50036

Jeene Bhi De Duniya Humme readelle 50036 Last updated: 2 July 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

     Jeene Bhi De Duniya Humme

By Sidra Sheikh

وہ جیسےجیسے قدم بڑھا رہی تھی اسکے پاؤں میں بندھی پائل اس شخص کو اسکی موجودگی کا احساس کروا چکی تھیںوووہ جی "نایاب۔۔۔" "زاران۔۔۔" زاران کی نظریں اسکے قدموں پر گئیں تھیں جن پر وہ پائلیں شاید اس نے آج تک نہیں دیکھی تھی۔۔ اور نایاب جس کی نظریں زاران کے زخمی ہاتھ پر تھی بنا کچھ کہے اس نے زاران کی فرنٹ پاکٹ سے اسکا ڈئزائنر رومال نکال لیا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے زاران کے زخمی ہاتھ پر لپیٹ دیا تھا۔۔۔ "زاران اس طرح کی حرکت کرنے کی کیا ضرورت آن پڑی تھی آپ کو۔۔؟؟ اتنا خون نکل گیا آپ کبھی کبھی مجھے نا بچے لگتے ہیں۔۔۔" اس رومال کو اچھی طرح باندھتے ہوئے ڈانٹ بھی رہی تھی اسے "تم مجھے یہاں دیکھ کر حیران نہیں ہوئی۔۔؟ میرے یہاں آنےکی وجہ بھی نہیں پوچھی پر میری تکلیف پر تمہاری توجہ مرکوز رہی جیسے اس رات کو تھی۔۔؟؟" نایاب کی انگلیاں رک گئیں تھیں اور اس نے اپنے دونوں ہاتھ پیچھے کرلئے تھے جلدی میں "آہ۔۔۔آرام سے۔۔۔" ہاتھ چھوڑنے میں زاران کو درد محسوس ہوا تھا "زاران چلیں ڈاکٹر کے۔۔۔" "تم نے علاج تو کردیا ابھی ابھی۔۔۔ویسے بھی میرے درد کی دوا ڈاکٹر نہیں تم ہو۔۔" اب کے نایاب دو قدم پیچھے ہوگئی تھی نظریں جھکا کر۔۔۔ "زاران آپ یہاں کیسے۔۔؟ کس نے بتایا۔۔؟ اور کیوں آئے ہیں آپ یہاں۔۔؟؟ مجھے تو لگا تھا ابھی تک نکاح ہوگیا ہوگا سویرا سے۔۔" نایاب پھر سے وہی نایاب بن گئی تھی بنا کسی جذبات کو ظاہر کئیے "امی سے پوچھا تھا۔۔۔انکو بھی ایگزٹ نہیں پتا تھا۔۔یہاں میرا دوست بھی ہے اگر تم نا ملتی تو اس سے مدد لیتا پر تمہیں ڈھونڈ کر ساتھ لیکر ہی جانا تھا" زاران کے چہرے پر مسکان تھی نایاب التمش کو دیکھنے کی مسکان پر نایاب کے چہرے پر الگ غصہ تھا زاران کی بات سن کر "مجھے لے جانے۔۔؟؟ آپ مجھے یہاں چھوڑنے آئے تھے۔۔؟ میری انٹرنشپ ختم نہیں ہوئی تو کیسے چل دوں آپ کے ساتھ۔۔؟ اور چلوں ہی کیوں زاران۔۔؟" "نایاب مجھے تمہاری ضرورت ہے۔۔ امی زبردستی کر رہی ہیں میرےساتھ یہ تو سوچو دادی کی روح نہیں تڑپے گئی۔۔؟؟" زاران اب دادی کی باتیں کرکے جذباتی کرنا چاہتا تھا نایاب کو۔۔اسے پتا تھا نایاب کو دادی سے بےپناہ محبت تھی "دادی کی روح تو اس وقت تڑپی ہوگی جب آپ نے سویرا سے منگنی کی تھی اور میری شادی کے لیے رشتے ڈھونڈے تھے جب آپ نے کہا تھا میرے لیے آپ نہیں کوئی میٹرک پاس لڑکا ڈھونڈے دادی کی روح اس وقت دکھی ہوئی ہوگی جب آپ نے خاور جیسے شخص کے پلے باندھنے کی کوشش کی تھی مجھے اب تو دادی کی روح خوش ہوگی کیونکہ میں خوش ہوں اب آپ بھی خوش رہیے اور بھول جائیں مجھے کیونکہ میں یہاں خوش ہوں میں واپس انٹرنشپ کے بعد واپس آؤں گی"