Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Jeene Bhi De Duniya Hume by Sidra Sheikh

"نایاب تمہیں پتا ہے زاران کی منگنی ہو رہی ہے آج۔۔۔
پر تم سے نہیں سویرا سے۔۔۔ یو نو بیوٹی ود برین"
نایاب نے کاپی کا صفحہ پلٹ کر دیکھا تو دروازے پر سحر باجی کھڑی تھیں چھوٹے چاچو کی بیٹی
"سحر باجی میں بھی سوچ رہی تھی ابھی تک آپ کیوں نہیں آئی۔۔۔؟؟
آئیے آئیے۔۔۔ تو آپ آج لیٹ ہوگئی ہیں۔۔؟ سمجھ سے بالاتر ہےآپ سب باری باری آکر مجھے زاران کی منگنی کا سنا رہیں ہیں ایک ساتھ آجایا کریں۔۔۔"
نایاب نے ہنسی چھپاتے ہوئے کاپی پر پھر سے لکھنا شروع کیا تھا۔۔
پر سامنے کھڑی سحر باجی کو نایاب کا دو ٹوک جواب نہایت ناگوار گزرا جس پر چند قدم آگے بڑھ کر انہوں نے نایاب کا چہرہ اپنے ہاتھوں کی مظبوط گرفت میں لے لیا تھا۔۔
"نایاب اپنی تیز زبان کے وار مجھ پر نا کرو لڑکی آج تو غرور ٹوٹا ہے تمہارا۔۔۔
چار سال جس کی راہ دیکھی وہ واپس لوٹ کر آیا بھی تو کسی اور کے لیے۔۔؟
جب سویرا بتاتی تھی زاران اور وہ باہر کتنے نزدیک ہوئے۔۔اس وقت تو تم بہت اتراتی تھی یہ کہہ کر کے زاران ایسا نہیں ناؤ وٹ۔۔۔؟؟"
نایاب کی آنکھوں میں ایک ایسا جذبہ ایک ایسا درد سحر باجی کی بات سن کر ابھرا ضرور تھا پر کچھ سیکنڈ کے لیے۔۔
"سحر باجی مجھ سے زیادہ دکھ آپ لوگوں کو ہورہا ہے شاید۔۔
مجھے چار سال سے انتظار نہیں تھا۔۔۔نا میں رکی تھی نا میری دنیا۔۔
اگر زاران چار سال سے سویرا کے نزدیک ہوئے تو انکے لیے اچھی بات ہوئی نا منگنی ہو رہی۔۔
پر انکی منگنی سے میرے لیے کیا برا ہوا۔۔؟ سوائے آپ گھر والوں کے طنز اور طعنوں سے۔۔؟
مجھے دیکھیں میں کیا دکھی بکھری ہوئی روتی ہوئی لگ رہی ہوں۔۔؟؟"
سحر پوری طرح سے ہکی بکی رہ گئی تھی نایاب کی باتیں سن کر۔۔
پر سحر باجی کو زیادہ چوکنیہ نایاب کی اس گرفت نے کیا تھا جوسحر کے اس ہاتھ پر تھی جو نایاب کے چہرے کو پکڑے ہوئے تھا۔۔
"سحر باجی اگر آج آپ کی جگہ میری سگی بہن مجھے اس طرح سے پکڑے ہوتی تو شاید میں صبر کر جاتی۔۔۔پر آپ۔۔۔آپ میری کزن ہیں۔۔
رشتوں کی حدود ہوتی ہیں باجی۔۔۔ جو رشتے باتوں سے اذیتوں تک آجائیں انہیں حیثیت یاد دلا دینی چاہیے۔۔۔جیسے کہ اب آپ ہیں۔۔۔
ہمارے رشتے کا حسن خوش اخلاق بات چیت تھا۔۔۔ پر آپ نے باضابطہ ہاتھ اٹھا کر وہ ختم کر دیا ہے۔۔۔"
نایاب کی مظبوط گرفت کا اندازہ اسے ہوگیا تھا جب سحر باجی کے چہرے پر درد جھلکا تھا۔۔
"اب آپ جائیے۔۔۔اور باقی کا کوٹہ زاران کی منگنی کے بعد سویرا کے ساتھ آکر پورا کر لیجیئے گا۔۔۔"
اور نایاب نے مسکراتے ہوئے وہ ہاتھ جھٹک دیا تھا۔۔۔
"نایاب تمہیں تو میں۔۔۔"
"بس سحر۔۔۔ بہت ہوا اپنے کمرے میں جاؤ۔۔۔"
چھوٹی چاچی انیسہ پھپھو کے ساتھ دروازے پر کھڑی تھیں۔۔۔
"اسلام وعلیکم۔۔۔آپ لوگ تو غضب لگ رہیں ہیں۔۔۔لیڈیز۔۔۔"
نایاب اٹھ کھڑی ہوئی اپنی جگہ سے اور چمک آگئی تھی پھپھو اور چاچی کو سجے سنورے دیکھ کر۔۔۔
یہ نایاب التمش تھی۔۔۔یہ اسکا دل تھا جو ایک پل کو یاد رکھتا تھا پھر وہ ویسی ہوجاتی تھی۔۔
چاہے گھر کے بڑے ہوں یا چھوٹے۔۔۔۔
"بیٹا تم نے تیار ہونا شروع نہیں کیا ابھی تک۔۔؟"
پھپھو نے نایاب کے چہرے پر شفقت سے ہاتھ رکھ کر پوچھا۔۔۔
"پھپھو میری کونسی منگنی ہے آج۔۔ مجھے تیاری کی کیا ضرورت۔۔میں بس حاضری لگوانے آجاؤں گی۔۔۔"
نایاب نے نظریں چرائے اپنی بکس اکھٹی کرنا شروع کر دی تھی بستر سے۔۔
"نایاب سحر کی بات کا بُرا نا مناؤ بیٹا وہ بس۔۔۔"
"چاچی نہیں میں نے برا نہیں منایا۔۔۔ہاہاہاہا البتہ وہ برا منا گئیں ہیں۔۔۔"
"ہاہاہا۔۔۔انیسہ میں کہتی ہوں نا ہماری نایاب بہت نایاب ہے۔۔۔اب میں سکون کے ساتھ فنکشن اٹئینڈ کر سکتی ہوں۔۔۔"

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *