Ishq Zaat By Palwasha Safi Readell50260 Last updated: 23 September 2025
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Zaat
By Pareesha Mahnoor
زہرا آنٹی کے جانے کا سوگ کچھ کم ہوا تو ثمرین آنٹی نے کومل اور اس کے سسرال والوں کی دعوت کی تھی۔ باتوں باتوں میں زہرا آنٹی کو یاد کر کے سب آج بھی دکھی ہوجاتے۔ مسکان اس دن کمرے سے باہر آگئی تھی لیکن زوہیب کو نظرانداز کئے صرف ستارہ اور کومل کے ساتھ کام کرتی رہی۔ سب اس وقت کھا پی کر لاؤنج میں موجود تھے۔ مسکان کام نپٹا کر واپس اپنے کمرے میں آگئی۔ وہ وضو کر کے واشروم سے باہر آئی کہ دروازے پر دستک سنی۔ اس نے ناب گھما کر لاک کھولا تو زوہیب ایک جھٹکے سے اندر آیا۔ اس نے ہڑبڑا کر آس پاس دیکھا۔ مسکان:" زوہیب۔۔۔۔ کیا کر رہے ہے آپ۔" اس نے اضطراب سے کہا۔ زوہیب:" کیسی ہو تم۔" اس نے پیار سے اس کے کندھوں کو تھام کر پوچھا۔ مسکان کا اضطراب کم ہونے لگا۔ " ٹھیک ہوں آپ کیسے ہو" اس نے نرمی سے پوچھا۔ زوہیب:" میں ٹھیک نہیں ہوں۔۔۔۔ تم نے رابطے کے سارے طریقے بند کر دیے ہے۔۔۔۔ سم بند ہے سوشل اکاونٹس بند ہے گھر بھی آوں تو تم ملتی نہیں ہو۔۔۔۔ تو آخر میں تم سے رابطہ کیسے کروں۔" اس نے جعلی مایوسی سے کہا۔ مسکان نے اپنے کندھے چڑائے اور رخ موڑ لیا۔ " میں اب کوئی رابطہ نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔۔ میں کسی بھی طرح کے افیئر میں نہیں رہنا چاہتی۔۔۔۔ میں لوگوں کو خود پر تبصرہ کرنے کا پھر سے موقع نہیں دینا چاہتی۔۔۔۔۔۔ پلیز زوہیب سمجھنے کی کوشش کرو میں بہت مشکل سے ان سب سے نکلی ہوں۔۔۔۔ دوبارہ نہیں نکل پاوں گی۔" اس نے مایوسی سے کہا۔ زوہیب اس کے پاس آیا اور اس کا رخ اپنی طرف موڑا اور اس کی آنکھوں میں دیکھ کر گویا ہوا۔ زوہیب:" بس اتنی سی بات ہے۔۔۔۔۔ اس کا بھی مستحکم حل ہے میرے پاس۔" اس نے خوش دلی سے مسکر کر کہا۔ مسکان:" کیا۔۔۔" اس نے آبرو اچکا کر حیرانی سے پوچھا۔ زوہیب:"بتاتا ہوں آو میرے ساتھ۔" اس نے مسکان کا ہاتھ پکڑ کر چلتے ہوئے کہا۔ مسکان کا دل ڈوبنے لگا وہ مسلسل زوہیب سے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرتی رہی اور زوہیب مظبوطی سے اس کا ہاتھ پکڑے سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ سیڑھیاں چڑھ کر وہ اوپر آیا تو اسے زبردستی مسکان کا ہاتھ پکڑے دیکھ کر سب کھڑے ہوگئے۔ مسکان سب کو اپنی طرف یوں متوجہ دیکھ کر متذبذب سی ہوگئی اور سر جھکا دیا۔ ڈیڈ:" یہ کیا حرکت ہے زوہیب۔" انہوں نے سنجیدگی سے کہا زوہیب نے باری باری سب کو دیکھا اور لمبی سانس لے کر گویا ہوا۔ " میں مسکان سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔ اگر کسی کو کوئی اعتراض ہے بھی تو۔۔۔۔ وہ میرا مسئلہ نہیں ہے۔۔۔۔۔ میں اپنا فیصلہ کر چکا ہوں" اس نے بنا کسی تہمید باندھے سپاٹ انداز میں کہا۔ اس کی بات سن کر سب دنگ رہ گئے وہی مسکان بے یقینی سے زوہیب کو دیکھنے لگی۔ ڈیڈ:" تم ہوش میں تو ہو" انہوں نے بھی اسی سپاٹ انداز میں جواب دیا۔ زوہیب:" میں بلکل اپنے ہوش و حواس میں یہ کہہ رہا ہوں۔" اس نے سنجیدہ تاثرات بنائے کہا۔ بابا تنے ہوئے اعصاب سے قدم قدم زوہیب کے پاس آئے۔ انہیں قریب آتا دیکھ کر زوہیب نے مسکان کا ہاتھ چھوڑ دیا اور وہ دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔ بابا:" تم جانتے بھی ہو تم کیا کہہ رہے ہو۔۔۔۔ میری بیٹی کے ساتھ۔۔۔۔۔۔" زوہیب:" آپ کی بیٹی کے ساتھ جو بھی ہوا میں سب جانتا ہوں" ان نے نرم لہجے میں کہا۔ بابا:" اس کے باوجود بھی تم اس سے شادی کرنا چاہتے ہو۔ " انہوں نے حیرت سے پوچھا۔ زوہیب:" جی بلکل" اس نے اعتمادی سے کہا۔ ڈیڈ کے آبرو تن گئے۔ بابا:" دیکھو بیٹا شادی صرف دو انسانوں کا نہیں دو فیملیز کا بھی رشتہ ہوتا ہے۔۔۔۔۔ کیا تمہارے گھر والے اس رشتے سے راضی ہے۔" بابا کے سوال پر زوہیب نے نظریں گھما کر اپنی فیملی کو دیکھا جو شش و پنچ کھڑے تھے۔ " میری بیٹی مجھ پر بوجھ نہیں ہے۔۔۔۔ ہاں میں یہ ضرور چاہتا ہوں کہ اس کی شادی ہوجائے گھر گھرہستی بس جائے۔۔۔۔ لیکن ایک بیٹی کی زندگی سنوارنے کے لئے میں دوسری بیٹی کی شادی شدہ زندگی میں خلل نہیں ڈال سکتا۔" انہوں نے کونے میں کھڑی کومل کی طرف اشارہ کیا جو ماہی کو گود میں اٹھائے خاموش کھڑی تھی۔ "جب تک تمہاری فیملی راضی نہیں ہوجاتی میں تمہارا یہ پروپوزل منظور نہیں کر سکتا۔" انہوں نے سنجیدگی سے سمجھایا۔ اس سے پہلے زوہیب کچھ اور کہتا ڈیڈ شکیل چاچو اور باقی سب سے الوداع کرتے باہر نکل گئے۔ عثمان اور کومل بھی ان کے پیچے ہو لیئے۔ زوہیب نے بے بسی سے مسکان کو دیکھا اور آنکھوں کے اشارے سے "سب ٹھیک ہوجائے گا" ادا کرتے وہاں سے چلا گیا۔ مسکان اپنے کمرے میں آئی اور کانوں میں ہینڈفری لگا کر تلاوت سننے لگی۔ اس وقت وہ کچھ سوچنا نہیں چاہتی تھی وہ اپنے در پیش مسائل سے دور ہو کر سکون چاہتی تھی۔ بس یہ بات صاف ہوگئی تھی وہ زوہیب کی صاف گوئی کی دیوانی تو تھی ہی آج اس کی ہمت پر بھی فدا ہوگئی تھی۔ اسے زوہیب پر اور بھی زیادہ پیار آرہا تھا۔ اتنا سب ہونے کے باوجود بھی وہ اس کے لئے کھڑا ہوا وہ اسے اپنانا چاہتا ہے یہ دیکھ کر زوہیب مسکان کے لیے بہت معتبر ہوگیا تھا۔ دل ہی دل میں وہ زوہیب سے شادی ہوجانے کی دعا بھی کرتی رہی کیوں وہ سمجھ گئی تھی اگر کوئی اس کا بہادری سے ساتھ دے سکے گا تو وہ زوہیب ہی ہے
