Ishq Tera By Rimsha Hayat Readelle50129
Last updated: 4 August 2025
Ishq Tera
By Rimsha Hayat
میر نے اپنے ہاتھ کو آگ پر رکھا تھا میر کا ہاتھ بہت زیادہ جل گیا تھا لیکن میر کو کوئی پرواہ نہیں تھی ۔
میر نے اپنی بیوٹی کو تکلیف پہنچائی تھی اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میر اپنی بیوٹی کی تکلیف کو محسوس نہ کرے۔
جس ہاتھ سے میر نے حیاء کا ہاتھ گرم پانی میں ڈالا تھا میر نے اپنا وہی ہاتھ جلایا تھا ۔میر نے اپنے آپ کو سزا دی تھی ۔
میر کمرے میں آیا تو حیاء جاگ گئی تھی اور رو رہی تھی۔
میر حیاء کے قریب آکر بیٹھ گیا۔
حیاء ڈر کر پیچھے ہو کر بیٹھ گئ تھی۔
ہنی مجھ سے ڈرو نہیں میں کچھ نہیں کروں گا۔
میر نے پیار سے کہا ۔
اس کے لہجے میں اتنی نرمی تھی حیاء کو لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ وہی میر ہے جو تھوڑی دیر پہلے غصے میں تھا۔
یہ تو وہی میر تھا جو حیاء کے ساتھ پیار اور نرمی سے بات کر تا تھا ۔
حیاء کی نظر میر کے ہاتھ پر پڑی تو اپنا رونا بھول کر میر سے پوچھنے لگی۔
ی یہ آپ کو کیا ہوا ہے؟
حیاء نے میر کے ہاتھ کی طرف اشارہ کرتے اٹکتے ہوئے پوچھا۔
میر اس کی فکر مندی پر مسکرا پڑا۔
میں نے اپنے آپ کو سزا دی ہے میر نے نرمی سے کہا ۔
کیوں…..
حیاء نے حیرانگی سے پوچھا۔
بھلا کوئی انسان اپنا ہاتھ کیوں جلاۓ گا۔
میں نے اپنی پرنسز کو تکلیف پہنچائی تھی میر نے حیاء کا ہاتھ پکڑتے ہوۓ کہا۔
تو آپ نے اپنا ہاتھ کیوں جلایا آپ کو تو درد ہو رہا ہو گا نہ؟
حیاء نے میر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
ہمممم بہت زیادہ میر نے معصوم سی شکل بنا کر کہا۔
میں کریم لگا دوں حیاء نے میر سے پوچھا ۔
وہاں پڑی ہے میر نے side draw کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
حیاء نے کریم پکڑی لیکن اس سے کُھل نہیں رہی تھی۔کیونکہ اس کا ایک ہاتھ جلا ہوا تھا۔
لاؤ میں کھول دوں۔
میر نے کہا تو حیاء نے کریم میر کو پکڑا دی میر نے کریم کھول کر حیاء کو واپس دی۔
حیاء بہت آرام سے میر کے ہاتھ پر کریم لگا رہی تھی میر حیاء کی نرم نرم انگلیوں کا لمس اپنے ہاتھ پر محسوس کرسکتا تھا۔
اسے کریم سے اتنا سکون نہیں مل رہا تھا جتنا حیاء کے لمس سے مل رہا تھا۔
ہوگیا حیاء نے کہا تو میر ہوش میں آیا۔
حیاء کی نظر جب اپنے ہاتھ پر پڑی تو اسے پھر صبح ہاتھ جلانے والا واقعہ یاد آگیا۔
اس کے چہرے پر ڈر پھر سے چھا گیا تھا۔
میر نے نوٹ کیا تھا۔
مجھے آپی کے پاس جانا ہے یہاں نہیں رہنا حیاء نے تھوڑا پیچھے ہوتے ہوئے کہا۔
ہنی میری جان آج سے تم یہی رہو گئ اور تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
میرے پاس تمہارے لیے ایک surprise ہے میر نے حیاء کا دھیان بٹانے کے لیے کہا۔
کیا حیاء نے فوراً پوچھا۔
چلوں میرے ساتھ میر نے اُٹھتے ہوئے کہا حیاء بھی اس کے ساتھ چل پڑی۔
My innocent beauty
تم سچ میں بہت معصوم ہو ۔میر نے دل میں کہا۔
میر حیاء کو گارڈن میں لے آیا تھا حیاء نے جب وہاں پر بلی کے بچے کو دیکھا تو بھاگ کر اس کے پاس گئ۔
یہ وہی بلی کا بچہ تھا جو میر کی گاڑی کے نیچے آنے والا تھا۔
یہ کتنا soft ہے حیاء نے بلی کے بچے کو اُٹھاتے ہوئے اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ۔
تمہیں پسند آیا میر نے حیاء کے مسکراتے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا؟
بہت زیادہ thank u خان حیاء نے خوشی سے کہا۔
میر حیاء کو خوش دیکھ کر مطمئن ہو گیا تھا ۔ اور اس کا خان کہنا واللہ میر کی جان لینے کے لئے کافی تھا ۔
میں اس کا نام مانو رکھوں گی حیاء نے میر کو کہا ۔
ہمممم ٹھیک ہے لیکن میری ایک شرط ہے جب ہم دونوں ایک ساتھ ہونگے تو یہ تمہاری مانو ہمارے درمیان نہیں آۓ گی اوکے۔
میر نے حیاء کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
حیاء نے ہاں میں سر ہلایا ۔
اسے میر کی بات سمجھ نہیں آئی تھی کیونکہ اس کا سارا دھیان مانو کی طرف تھا۔
میر نہیں جانتا تھا کہ اس نے بلی کو لا کر کتنی بڑی غلطی کی ہے ۔
حیاء ابھی سے میر کی بات دھیان سے نہیں سن رہی تھی آگے کیا ہونا تھا۔
……………..
