Hai Ahle Wafa Ki Reet Alag By Neelam Riasat Readelle50379 Last updated: 17 November 2025
Rate this Novel
No chapters found.
Hai Ahle Wafa Ki Reet Alag By Neelam Riasat
دیکھ رہی ہیں آپ یہ میرے ساتھ کس قدر بتمیزی کے ساتھ بات کر رہی ہے ۔ اور آپ اسکو بڑا اچھا اور معصوم سمجھتی ہیں ۔ میں نہیں کہتا تھا کہ یہ سب ڈرامے کر رہی ہے ۔ایک دن اپنا اصل روپ دیکھائے گی اور اب دیکھ لیا آپ نے ۔ آج میرے ساتھ ایسے منہ ماری کر رہی ہے کل کو آپ کے ساتھ کرے گی ۔ آپ کی تو پسندیدہ بہو ہے آپ معاف بھی کر دیں گی ۔ مگر میں ہرگز معاف نہیں کرونگا اگر اس نے میری بیوی کے ساتھ ایسا کوئی رویہ رکھا ۔ ''
صدمے کے مارے وہ کتنی دیر کوئی جواب ہی نہ دے سکی ۔ بھرپور کوشش کرکے اپنے آنسوؤں کا راستہ روکتی رہی ۔ جب تھوڑی کامیابی ہوئی تو بولی ۔
'' کوشش کیجیے گا. وہ میرے سامنے نہ ہی آئے ۔ بات تو کوئی نہیں کروگی پر ہو سکتا ہے اسکو جان سے ضرور مار دوں ۔۔
'
''اگر تم مجھے انڈر پریشر کرنا چاہ رہی ہو ناں ۔ کہ تمہارے ڈر سے شادی نہیں کروں گا۔ تو محظ وقت ضائع کر رہی ہو ۔ ''
'' آپ میری بلا سے کل کے کرتے آج کریں ۔مگر مجھے تو سونے دیں ۔ ''
واپس کمبل کے اندر ۔
ضارب نے اسکے سر کو گھورہ پھر ماں کی طرف جتاتی نظروں سے دیکھا ۔ جنہوں نے نظروں سے ہی کہہ دیا ۔
'' یہ ہوئی نہ بات ۔'' پر زبان سے بولیں ۔
'' ضارب اسکی طبعیت ٹھیک نہیں ہے ۔ اب اسکو مزید تنگ نہ کرو ۔جاکر سو جاؤ ۔ ''
وہ.اُسی وقت تابعداری کے ساتھ دروازے کی جانب بڑھ گیا ۔
عافیہ نے کمبل کے اندر ہی دروازہ کُھلنے اور پھر بند ہونے کی آواز سُنی سارا ضبط جواب دئگیا ۔
آنسو رُکنے کانام ہی نہ لے رہے تھے ۔
سفینہ کی آواز آئی ۔ جو کہہ رہی تھیں ۔
'' اپنی مرضی سے یہاں آئی ہو تو اب رونا کیوں آرہا ہے ؟۔۔''
سسکیوں کو انڈر کنٹرول کرتی ہوئی بمشکل بولی ۔
'' کب رو رہی ہوں ۔''
سفینہ نے کسی کے اشارے پر دوبارہ پوچھا ۔
'' عافی تمہیں اتنا رونا آ کیوں رہا ہے؟۔ ''
'' مجھے خود نہیں علم اماں کیوں پر دل کرتا ہے۔ اتنا رؤوں کہ مر ہی جاؤں ۔ اماں کیا تھا ۔ اگر آپ کے بیٹے کے دل میں تھوڑی سی جگہ میرے لئے بھی ہوتی ۔ جو ابھی آئی ہی نہیں وہ جانِ جگر اور میں فقط آپ کی بہو۔۔۔۔ یہ کہاں کا انصاف ہے ۔ انسان کسی کے دل میں ڈیرے ڈال کر بیٹھ جائے اور خود اپنے دل کے دروازے بھی اگلے پر بند کردے ۔ ویسے اپبے شو میں بڑی انصاف اور سچائی کی باتیں کرتے۔۔۔۔۔ ''
اپنے جوش میں اُٹھ کے بیٹھ کر سفینہ کی جانب مُڑی تھی ۔ مگر دروازے کے قریب رکھی ۔ کُرسی پر وہ لائٹ بیلو جینز کی شرٹ اور کالے ڈریس ٹراؤزرز میں ٹانگ پر ٹانگ جمائے ایک ہاتھ گال کے نیچے رکھ اور دوسرا کرسی کے بازو پر رکھے بڑے اعتماد ' توجہ اور سنجیدیگی سے نہ صرف اسے سُن رہا تھا ۔ بلکہ اب دیکھ بھی رہا تھا۔ دونوں کی نظریں ملیں تو وہ اُسی سنجیدیگی سے بولا.۔
'' نہیں خیر اب میں اتنا بھی ظالم نہیں ہوں ۔ صرف اماں کی بہو ہی نہیں۔ تمہیں اپنے بچوں کی ماں بھی مان گیا ہوں ۔ اس سے زیادہ کیا چاہتی ہو ؟ ''
شرمندگی کے مارے اسکو سانپ سونگھ گیا ۔ کیا وہ کمرے سے گیا نہیں تھا ۔ جی چاہا چُلو بھر پانی میں ڈوب مرے ۔
عافیہ کی شکل دیکھ کر ضارب کو ہنسی تو بہت آئی مگر ہنسا نہیں بلکہ یہ سوچ رہا تھا ۔ اگر اسکو بتا دوں بیماری کے دوران کیا کیا دُکھ سُکھ کرتی رہی ہو تو اسکی حالت کیا ہو ۔
ہاتھ جھاڑتا ہوا اُٹھ کر کھڑا ہوا ۔
'' اپنی اماں کے ساتھ سونا چاہتی ہو تو شوق سے سو جاو ۔ صبح مجھے سات بجے اُٹھا دینا ایک مورننگ شو میں جانا ہے ۔ ''
اب کی دفعہ وہ وہاں سے چلا گیا ۔ عافیہ نے اپنی آنکھوں سے اُسے جاتے دیکھا ۔ پھر شکوہ بھری نظر اماں پر ڈالی ۔ جو ہنسی ضبط کرنے کے چکر میں لال ٹماٹر ہو رہی تھیں ۔
'' آپ نے اچھا نہیں کیا ۔ ''
سفینہ کی ہنسی دیر تک کمرے میں گونجھتی رہی ۔
عافیہ نے اُنہی کی گود میں سر چُھپایا ۔ سفینہ نے اُسکی پیشانی چ
وم کر ڈھیروں دُعائیں ۔ دیں ۔
Complete Novel Download link available