Dil Haara By Zeenia Sharjeel NovelR50400

Dil Haara By Zeenia Sharjeel NovelR50400 Last updated: 29 November 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Haara By Zeenia Sharjeel

Novel Code: NovelR50400

"مجھ سے اپنے بچے کا ثبوت مت مانگیے گا سائیں، ورنہ میں مر جاؤں گی" وہ تڑپ کر اپنے شوہر کو دیکھتی ہوئی بولی تھی جو کہ پہلے ہی اُس سے خفا ہوکر اُسے اکیلا حویلی میں چھوڑ کر چلا گیا تھا "تم نے اِسے میسج کرکے یہاں بلایا تھا یا نہیں" وہ اپنی بیوی کو دیکھ کر سوال اٹھانے لگا تو اُس کی بیوی نے اپنا لرزتا ہوا ہاتھ اپنے شوہر کے سر پر رکھا "آپ کی قسم کھا کر کہتی ہوں میں نے اِسے کوئی میسج نہیں کیا تھا" اُس کے قسم کھانے پر اس کا ہاتھ بری طرح اپنے سر سے جھٹک دیا گیا "دو دن پہلے بھی تم نے میرے سر کی قسم کھائی تھی،، وہ قسم سچی تھی یا جھوٹی تھی،، سچ سچ بتانا مجھے" بے انتہا سنجیدگی سے اُس نے اپنی بیوی سے پوچھا جو اپنے شوہر کی بات سن کر ایک پل کے لیے خاموش ہوگئی حویلی میں موجود تمام نفوس کی نظریں اس وقت ان دونوں پر ٹکی تھی "اگر میں آپ کو اس وقت پورا سچ بتا دیتی تو آپ مجھ سے خفا ہوجاتے مگر وہ بھی پورا سچ نہیں تھا سائیں۔۔۔ میں آپ کو اصل حقیقت۔۔۔" اُس نے بولنا چاہا تب اُس کے شوہر نے ہاتھ کے اشارے سے اسے مزید کچھ کہنے سے روکا "تم نے میری ناراضگی کے ڈر سے میری جھوٹی قسم کھائی یعنی اُس دن بھی یہ تم سے ملنے آیا تھا جو کچھ تمہارے بارے میں بولا گیا وہ سچ تھا۔۔ تو میں آج تمہاری قسم پر کیسے یقین کر لوں" وہ غضب ناک نظروں سے اپنی بیوی کو دیکھتا ہوا بولا اس کی آنکھوں میں اپنے لیے بے اعتباری دیکھ کر وہ تڑپ اٹھی تھی "جب تمہیں اس انسان کے ساتھ زندگی نہیں گزارنی تو کیوں اسے وضاحت دے رہی ہو آج اس کو ہم دونوں کے رشتے کی حقیقت سچ بتا دو" ملازموں کے بیچ جگڑا ہوا وہ بے خوف ہو کر بولا اپنے دشمن کی بات سُن کر وہ مشتعل انداز میں اپنے دشمن کی جانب اسکو مارنے کے لیے اس کی طرف بڑھا "رک جاؤ، اس کے گندے خون سے اپنے ہاتھ خراب مت کرو،، اچھا ہے جو اس وقت فیروز یہاں موجود نہیں ہے۔۔۔ میں اب کوئی خون خرابہ نہیں چاہتا۔۔۔ بے شک ہماری عزت کا جنازہ نکل چکا ہے۔۔۔ اپنی بیوی کو طلاق دے کر ابھی اسے، اس کے ساتھ رخصت کرو یہ میرا حکم ہے" شمشیر جتوئی جو سارے عرصے خاموش، چپ کا لبادہ اوڑھے صوفے پر بیٹھا تھا کھڑا ہوتا ہوا بولا۔۔۔ اپنے چھوٹے بیٹے کی موت کے بعد سے اس کی طبیعت میں وہ روعب اور طنطنعہ نہیں بچا تھا مگر حویلی میں آج بھی اس کے حکم کو بجا لایا جاتا "یہ اس حویلی سے اسی کے ساتھ جائے گی مگر میں اسے طلاق دے کر نہ تو آزادی بخشو گا نہ کسی کی دلی مراد پوری کرو گا۔۔۔ بیشک یہ میرے نکاح میں رہ کر ساری زندگی میرے اس دشمن کے ساتھ گزارے مگر میں اسے آزاد نہیں کروں گا" وہ اپنی بیوی کو غصے میں دیکھتا ہوا شمشیر جتوئی سے بولا اور قہر آلود نظروں سے اپنے دشمن کو دیکھتا ہوا وہاں سے جانے لگا کشمالا خاموش کھڑی سارا تماشہ دیکھ رہی تھی "سائیں۔۔۔ سائیں میری بات سنیں،، آپ بے شک مجھ سے خفا رہے یا مجھ سے بات نہیں کریں مگر میں یہاں سے نہیں جاؤں گی" وہ روتی ہوئی اپنے شوہر کے سامنے آ کر بولی اسے لگا اگر آج وہ اس حویلی سے نکل گئی تو اس کی زندگی سے بھی ہمیشہ کے لیے نکل جائے گی جسے وہ اپنی زندگی سمجھنے لگی تھی "چلی جاؤ اس وقت،، میری نظروں سے دور ہو جاؤ۔۔ کہیں یہ نہ ہو کہ تاریخ ایک بار پھر اپنے آپ کو دہرائے اور اس حویلی میں ایک بار پھر قتل ہو" وہ غضب ناک نظروں سے اس کے روتے ہوئے چہرے کو دیکھ کر بولا جس کی آنکھ میں آنسو اسے بے چین کر دیتے تھے۔۔۔ وہ سیڑھیاں چڑھتا ہوا اپنے کمرے میں جا چکا تھا اس کی بیوی ڈبڈبائی نظروں سے ابھی تک سیڑھیاں تک رہی تھی "چھوڑ دو اس بدبخت کو اور حویلی سے دور کرو ان دونوں بے شرموں کو" شمشیر جتوئی اپنے ملازموں سے بولتا ہوا وہاں سے چلا جبکہ کشمالا مسکراتی ہوئی اسے دیکھنے لگی جو اب تک سیڑھیاں دیکھتی ہوئی آنسو بہا رہی تھی *****