Dhongiya Shama By Tania Tahir Readelle50268 Last updated: 25 September 2025
Rate this Novel
Dhongiya Shama
By Tania Tahir
ولی کے کہنے کے باوجود بھی جاناں اسکے ساتھ نہیں گئ ۔۔ تھی جس پر سادام کو تو کافی خوشی تھی مگر ولی تلملا رہا تھا ۔ ۔ جاناں کی واپسی پر سب بہت خوش تھے فضل خان نے تو جشن کا علان کیا جسے سادام نے روکا کیونکہ وہ صرف فلحال ہاد کی شادی کرنا چاہتا تھا ۔۔۔ دوسری طرف ہاد بے حد خوش مسرور سا پھیر رہا تھا ۔۔۔۔ اور زریش کی جب سے دوبارہ جاناں سے بات چیت ہوئ تھی تب سے ۔۔ وہ جاناں کے کمرے میں بیبی کے پاس ہی پائ جاتی۔ سادام نے بھی توجہ نہیں دی ۔۔۔ وہ گھر میں داخل ہوا تو اسکی ماں نے کھانا لگا دیا تھا وہ خود آج کل بہت خوش رہنے لگیں تھیں ۔۔۔ بھلے وہ ایک بات کا بھی جواب نہیں دیتا تھا مگر ۔۔پھر بھی اسکا انداز پہلے جیسا نہیں تھا ۔۔ ہاں عنایت شادی یہیں حویلی میں ہو گا ۔۔ دونوں گاؤں کی شمولیت ہو گی ۔۔ اور سب کی شمولیت ہونی چاہیے کوئ ایک بھی نہ رہ جائے"اسنے یاد دہانی کرائ تو عنایت نے سمھجتے ہوئے سر ہلایا ۔۔۔ تبھی سادام کا فون بجا ۔۔۔ یس سادام فضل خان سپیکنگ "اسنے کہا ۔۔۔ تو دوسری طرف کی آواز سن کر وہ زر سا مسکرایا ۔۔۔ یس میم تم کو کوئ تنگی تو نہیں"وہ بولا ۔۔ زریش جو باہر ہی آ رہی تھی اسکے کان کھڑے ہوئے ۔۔ اسنے جھک کر کان لگائے ۔ ۔ اوہ ۔۔ہمارا آنا تو تھوڑا ۔شکل ہے تم ۔۔۔ آ جائے یہاں ۔۔ "اسنے کہا ۔۔۔ زریش کو غصہ آنے لگا۔ کون تھی یہ جس کو وہ میم کہہ رہا تھا ۔۔۔ اتنی خوش اخلاقی سے یہاں آنے کی دعوت دے رہا تھا۔ اوکے تمکو عنایت لے لے گا "اسنے کہا ۔۔ اور فون بند کر کے خاموشی سے کھانا کھایا ۔۔۔ اسکو فریش ہونا تھا ۔ تبھی عجلت میں اپنے کمرے میں آیا ۔۔ زریش کو پا کر اسنے تیوری چڑھائی ۔۔۔ یہ لیں آپکے کپڑے"زریش جلدی سے لباس اسکے سامنے لے آئ۔ تمھارا ہاتھوں کو زحمت ہی ہو رہا ہے "اسنے کپڑے کھینچتے طنزیہ لہجے میں کہا ۔۔ زریش نے گھور کر دیکھا ۔۔۔ تم اپنا مزاج نہ زمین پر لے کر آئے ۔۔ ہم بھولا نہیں ہے جو کچھ تم نے کیا ہے"وہ اسکا منہ جکڑتے بولا ۔۔ میں بھی نہیں بھولی ۔۔ "زریش منمنائ ۔۔ ہاں تمھیں کون سا یقین آیا ہے کہ ہم نے تمھارے ماں باپ کو نہیں مارا"وہ کپڑے پھینکتا بولا ۔۔۔ میں اپکو معاف کرتی ۔۔۔۔ چٹاخ ۔۔۔ "لفظ پورے ہونے سے پہلے ہی تلملاتا ہوا تھپڑ زریش کے منہ پر پڑا جس سے وہ دور جا گیری ۔۔۔ مگر سادام خان نے اسکو گریبان سے پکڑ کر سختی سے اس طرح جکڑ کے وہ زمین سے دو انچ اوپر ہو چکی تھی ۔۔۔ تمھارا جرت ۔۔ تمھارا جرت کیسا ہوا تم ۔۔تم ہمیں معاف کرے گا ۔۔ہمیں"وہ دھاڑا ۔۔ زریش کے رنگ فق ہوئے ۔۔ تم ہمہں معاف کرے گا "وہ اسکی گردن سختی سے دباتا چلایا ۔۔۔ میں ۔۔ نو۔ نواب جی"زریش کو سانس لینے میں دقت ہونے لگی چہرہ اسکی انگلیوں کے نشان سے سرخ ہو گیا ۔۔ آنسو لگاتار بہنے لگے۔۔۔۔ تمھارا اوقات ہماری محبت بڑھا رہا ہے صرف ورنہ کس میں جرت ہمارا سامنے اس طرح بولے ۔۔۔۔"وہ چلایا اور اسے دور جھٹکا ۔۔۔۔ زریش زمین پر گیری اور بری طرح رو دی ۔۔۔ مسلہ سارا یہ ہے ہم تم پر مرتا ہے مگر تم ۔۔۔ تم ایک دو ٹکے کا لڑکی ہے جس کو اپنا زندگی میں شامل کر کے ہم پچھتا رہا ہے سرا سر "وہ اسکے چہرے پر جھکتا پھنکارہ ۔۔۔ زریش اس سے بری طرح خوف زدہ ہو چکی تھی ۔۔۔ جبکہ سادام کو شدید تکلیف ہوئ تھی ۔۔۔ محبت کرنے والے محبوب کی نگاہ کے اتار چڑھاؤ کو جان لیتے ہیں ۔۔۔ اور یہ لڑکی ۔۔۔۔ اسنے مٹھیاں بھینچی اور ۔۔۔ واشروم میں چلا گیا ۔۔۔ جبکہ زریش وہیں سسکتی رہی گئ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تین دن گزرے اور فنگشنز کی ابتدا ہو گئ ۔۔۔ بیلا کو تو گویا سانپ سونگھ گیا تھا وہ بری طرح سہمی ہوئی تھی جبکہ ہاد نے سب سے پہلے نکاح کی تقریب رکھوائ تھی ۔۔۔ جاناں کی طبعیت بھی اب سمبھل گئ تھی مگر بچہ سمبھالنا اسکے لیے کافی مشکل عمل تھا ۔۔۔ ولی تین دن سے نہیں آیا تھا جبکہ ولی کے بہن اسکی خدمت کر کے حق ادا کر رہی تھی ۔۔ دل کی عداوت بھی نکل گئ تھی اور جاناں اسس ے پہلے جیسی ہو گئ تھی ۔۔۔ زریش اور سادام کی اس دن کے بعد ایک دوسرے سے بات نہیں ہوئ۔ ۔۔۔ سادام اسکی شکل بھی دیکھنے کا روادار نہیں تھا جبکہ ۔۔ گھر میں ایک اور فرد کا اضافہ وہ گیا تھا اور وہ وہی انگریزی تھی جو یہاں آ کر سادام کے آگے پیچھے پھیر رہی تھی ۔۔۔ سادام نے بھی جیسے قسم کھا لی تھی اسکی ہر بات ماننے کی ۔۔۔ سادام کے ساتھ ساتھ شھاب کا فلرٹ بھی عروج پر تھا ۔۔۔۔ جبکہ ہاد کو تو ہفتے قلیم کی دولت مل گئ تھی ۔۔۔ فیروز آج نکاح کی تقریب میں با مجبوری آیا تھا ۔۔۔۔ حالانکہ اسکا دادہ نہیں تھا ۔۔ سادام اس سے اسی طرح ملا ۔۔۔ جبکہ اسی طرح اسکی س حویلی میں کوئ اوقات نہیں تھی ۔۔۔ جس سے اسکے اندر غضب کی آگ مزید ہلکورے لینے لگی ۔۔۔۔ اور نکاح کے فنکشن کو تباہ کرنے کی وہ ٹھان چکا تھا ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
