Badli hai rut By Ayesha Tanveer Novel 20799
Cousin Marriage | Family Drama | Wata Sata | Emotional Romance | Social Issues

محبت، خاندان اور روایات کے درمیان ایک دل کو چھو لینے والی داستان۔
Emotionalآپ ادھر ادھر رشتہ ڈھونڈ رہی ہیں تو ماموں کے گھر بات کریں۔” واپسی میں ڈرائیونگ کرتے ہوئے راشد نے سرسری انداز میں کہا تھا۔
“وٹہ سٹہ ہو جائے گا، مجھے معلوم ہے بھائی کبھی نہیں مانیں گے۔ ویسے بھی مانہ ابھی چھوٹی ہے، پڑھ رہی ہے۔ میں تو تمہارے لیے کوئی ڈاکٹر لڑکی ڈھونڈوں گی۔” پھپھو نے فوری جواب دیتے ہوئے اسے بہلانا چاہا۔
“نہیں امی، مجھے شادی کرنی ہے، ہسپتال نہیں کھولنا۔ آپ بات تو کریں ماموں سے، میں مانہ سے ہی شادی کروں گا۔” اس کا سرسری لہجہ قطعی تھا، “وہ نہ مانے تو…” بھائی کا لہجہ عینی کو ڈرا گیا۔ الفاظ اس کی زبان سے سرسراتے ہوئے پھیلے تھے، “تو ہم ان سے سارے تعلق ختم کر لیں گے۔ اگر کوئی رکھنا چاہے تو وہ مجھ سے تعلق توڑ لے۔” راشد نے ایک نظر آئینے میں نظر آتے عینی کے خوفزدہ چہرے پر ڈالی اور کہتے ہوئے گاڑی کی رفتار بڑھا دی۔
مجھے ایسے ایک گھر میں دو رشتے پسند نہیں۔” ابو نے فوراً ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔
“خاندان میں تو رشتے ہو جاتے ہیں بھائی صاحب، یہ کوئی نیا بندہ ہو تو آپ کہیں۔ مانہ میری بھتیجی نہیں، بیٹی ہے، سینے سے لگا کر رکھوں گی۔” پھپھو نے پورا زور لگایا۔ انہیں راشد نے سکھا کر بھیجا تھا، وہ ہر صورت مانہ سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ پھپھو کے انداز پر ابو قائل تو نہ ہوئے مگر وقتی طور پر خاموش ہو گئے۔
“آپ نے صاف جواب کیوں نہیں دیا؟ مجھے وٹہ سٹہ نہیں کرنا ہے۔ آپ نے ضیا کا رشتہ تو یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ابھی مانہ کی شادی نہیں کرنی مگر انہیں انکار نہ کیا۔” پھپھو کے جاتے ہی امی ابو سے الجھی تھیں۔ مانہ نے چائے کے برتن سمیٹتے ہوئے حیرت سے ان کی بات سنی۔ ضیا کا رشتہ آیا، منع ہو گیا اور اسے پتا بھی نہیں چلا؟ ایسا کیسے ممکن ہے! دل نجانے کیوں ڈوب کر ابھرا تھا۔ اس کا دھیان سارا باہر سے آنے والی آوازوں پر لگا۔
“منع تو انہیں بھی نہیں کیا، وقت ہی لیا ہے۔ ضیا اچھا بچہ ہے مگر برائی کوئی راشد میں بھی نہیں۔ پھر خاندان کا ہی ہے۔” ابو نے سبھاؤ سے کہا تھا۔ انہیں ضیا خود بہت پسند تھا، اس لیے ایک دم منع نہیں کر سکے لیکن یہ بھی سچ تھا کہ اپنی ذات سے باہر رشتہ جوڑنا ان کی روایت نہیں تھا۔ مانہ کے ہاتھ سے شیشے کا پیالہ پھسل کر گرا اور زور دار آواز سے ٹوٹا۔ ایک چھناکا دل میں بھی ہوا تھا۔ “کیا ابو پھپھو کی بات ماننے والے ہیں؟” امی بے اختیار اٹھ کر پریشان سی کچن تک آگئیں، “کیا ہوا، کیا چوٹ تو نہیں لگی؟”
مانہ نے فرش سے کانچ چنتے ہوئے خوفزدہ نظروں سے انہیں دیکھا۔ “پھپھو کو منع کر دیں پلیز امی۔” اس نے لجاجت بھرے لہجے میں مدھم آواز میں کہا تھا۔ امی نے گہری نظر سے اسے دیکھا اور کچھ کہے بنا واپس لاؤنج میں چلی گئیں۔
“راشد سے ہزار گنا اچھا ہے ضیا۔ کاروبار، تعلیم، مزاج ہر چیز میں بہتر ہے۔ ایسے کون سے ہیرے جڑے ہیں ہماری ذات میں کہ باہر رشتہ کرتے ہوئے جڑ جائیں گے۔ ابھی لڑکی والے ہیں تو عینی کے ابا کا مزاج نہیں ملتا، لڑکے والے بن گئے تو اور آسمان پر چڑھیں گے۔” امی نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے اب کی بار واشگاف الفاظ میں انکار کیا تھا، انہوں نے بیٹی کا ساتھ دیا تھا۔ اب بیٹی کا عندیہ جان لیا تھا تو اسے کیوں اکیلا چھوڑتیں۔ ابو کسی سوچ میں گم تھے۔ جس طرح کے ان کے تعلقات تھے، وٹہ سٹہ تو وہ بھی نہیں چاہتے تھے۔
یہی انکار پھپھو کے گھر پہنچا تو فہیم کی شادی خطرے میں پڑنے لگی۔ پھپھو اور پھوپھا کے لیے اکلوتے بیٹے سے بڑھ کر کچھ نہیں تھا۔ “عینی! تم سمجھاتی کیوں نہیں ہو راشد کو؟” فہیم فون پر عینی سے الجھ رہا تھا۔
“میں اپنے بھائی کو دکھی نہیں کر سکتی۔ کوئی غلط خواہش تو نہیں کر رہا۔ شادی تو کرنی ہے تم لوگوں نے مانہ کی، تم اسے کیوں نہیں سمجھاتے؟ بہنوں کے لیے تو بھائی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا، کیسی بہن ہے تمہاری!” عینی نے اپنی جھنجھلاہٹ نکالی۔ سچ تو یہ تھا کہ وہ سب سمجھانے کی ناکام کوشش کر چکے تھے مگر راشد ٹس سے مس نہیں ہو رہا تھا۔
“مانہ کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں۔ ابھی تو امی ہی نہیں مان رہیں۔ بات بھی ٹھیک ہے، ہمارے رشتے کا مانہ سے کیا تعلق، انتہائی گھٹیا حرکت ہے یہ۔” فہیم نے ناگواری سے کہا۔
“مانہ کا واسطہ نہیں ہے تو ضیا کا رشتہ کیوں آیا ہے؟ ضیا کی وجہ سے ہی مامی منع کر رہی ہیں۔ ایسی بھی کیا طوفانی محبت کہ خاندان والوں کا لحاظ نہیں۔ تم مانہ سے بات کرو، وہ ضیا کے لیے منع کر دے۔ جب مانہ مان جائے گی، تو مامی خود ہی مان جائیں گی۔” عینی نے جل کر کہتے ہوئے فہیم کو راہ سجھائی تھی۔ فہیم کو مشورہ پسند آیا تھا۔ بچپن کی منگنیاں ہوں یا شادی سے پہلے کی محبتیں، یوں ہی عقل پر پٹی باندھ دیتی ہیں۔
1st Link
2nd Link
3rd Link
4th Link
Summary
بدلی ہے رُت ایشہ تنویر کا ایک جذباتی اور خاندانی اردو ناول ہے جو محبت، خاندانی روایات، وٹہ سٹہ، کزن میرج، قربانی اور رشتوں کی پیچیدگیوں کے گرد گھومتا ہے۔ مانہ، ضیا اور راشد کی زندگیوں میں آنے والے فیصلے نہ صرف ان کے مستقبل بلکہ پورے خاندان کے تعلقات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ محبت اور خاندان کی عزت کے درمیان ہونے والی کشمکش اس ناول کو ایک منفرد اور دل چھو لینے والی کہانی بناتی ہے۔
Badli Hai Rut by Ayesha Tanveer, Ayesha Tanveer Novel, Complete Urdu Novel, Family Drama Novel, Cousin Marriage Novel, Romantic Urdu Novel, Pakistani Urdu Novel
FAQs
Badli Hai Rut kis qisam ka novel hai?
Yeh aik romantic, emotional aur family drama Urdu novel hai jismein cousin marriage aur social issues ko bhi numayan kiya gaya hai.
Badli Hai Rut ki writer kaun hain?
Is novel ki writer Ayesha Tanveer hain.
Kya Badli Hai Rut complete novel hai?
Ji haan, yeh complete Urdu novel hai jo Novelistan par dastiyab hai.
Is novel ki kahani kis bare mein hai?
Yeh kahani mohabbat, cousin marriage, wata sata, family traditions aur mushkil faislon ke gird ghoomti hai.
Badli Hai Rut online kahan parh sakte hain?
Aap Novelistan par Badli Hai Rut complete Urdu novel online parh sakte hain.