Badla Pareeshy Khan NovelR50676 Last updated: 7 May 2026
Rate this Novel
No chapters found.
Badla Pareeshy Khan
آہل صبح کہ ٹائم واپس آیا تو آئمہ کو نماز میں روتا دیکھ کہ ٹھٹک گیا۔۔۔کتنی ڈرامے باز ہے یہ لڑکی۔۔۔سوچتا اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔ آئمہ نماز پڑھ کی بہت سکون محسوس کر رھی تھی وہ وہیں نیچے صوفے پہ سو گئی۔۔۔۔آہل جب نیچے آیا آئمہ کو سوتا دیکھ کے اس سا غصہ اور بڑھ گیا۔۔۔ہمیں بیچین کر کہ خود آرام سے سو رھی ھے۔۔۔آہل نے ٹھنڈا پانی آئمہ پہ اونڈیل دیا آئمہ گھبرا کہ اُٹھی۔۔۔اسے سمجھ نہیں آیا اس کہ ساتھ ایسا کیون ہو رھا ھے وہ ایک دم کھڑی ہو کہ آہل کو دیکھنے لگی۔۔۔مہارانی ہو کیا جو آرام سے سو رھی ھو آج کہ بعد میری اجازت کہ بغیر سونے یا کچھ بھی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ھے۔۔۔ورنہ ہر بات کی ایک سزا ھوگی یہان تمہارے لیے۔۔۔۔اب جاؤ جا کہ ناشتا بناؤ اور صرف میرے لیے نہیں یہیاں جتنے بھی نوکر ھیں ان سب کا ناشتا کھانا گھر کی صفائی اور ہر کام تم کروگی اور تم وہ کام بھی کروگی جو تمیہیں یہاں کہ نوکر کہیں گے۔۔۔اور جانتی ھو کیوں۔۔۔کیونکہ تمہاری حثیت اس گھر میں ان سب سے بھی گئی گذری ھے۔۔۔آئمہ نے ساری باتیں سنے کہ بعد بس اتنا کہا۔مجھے کھانا بنانا نہیں آتا دادی کہ گھر کبھی نہیں بنایا۔۔۔اس کا اتنا کہنا تھا کہ آہل نے اسے زوردار تھپڑ سے نوازا۔۔۔آئمہ دور جا گری اور رونے لگی آہل اس کہ پاس آیا اور کہا۔۔۔یہاں تمہیں منہ کھولنے کی اجازت نہیں ھے اور اس کہ بال اپنے ھاتھوں میں جکڑ لیے آئمہ درد سے کہرا اُٹھی۔۔۔۔آئندہ اگر بولا تو میں تمہیں اتنا مارون گا کہ ہ جو تمہارا مکار چھرا ھے نہ دھوکے باز اس کا نقشا بگاڑ دونگا۔۔۔۔آہل یہ کہتا آئمہ کو چھوڑتا چلا گیا۔۔۔آئمہ غم اور تکلیف کی شدت سے رونے لگی۔۔۔دادی اپنے تو کہا تھا کہ میں راج کرونگی۔۔۔۔پر یہاں تو کوئی نہیں جیسے میری پرواہ ہو۔۔۔
آئمہ کو آہل نے سرونٹ کواٹر میں رکھا ہوا تھا اور اس کی ہر بات ہر چیز پہ پابندی تھی وہ کہیں جا نہیں سکتی تھی ۔۔آج اسے داد دادی بہت یاد آرھے تھے اس نے ایک بار پوچھنے کا سوچا وہ سارا دن کام کرتی نوکروں کا کھانا بھی آہل اسے بنواتا اور کچھ ذرا سا خراب ہو جاتا آہل اسے دو تیں جڑ دیتا اور دروازے کے باھر کتنی کتنی دیر تک کھڑا رکھتا وہ بس اپنے آنسو ضبط کیے وھاں کھڑی رھتی اگر کہتی تو بھی کیسے بوڑھے دادا دادی کو وہ اس عمر میں دکھ نہیں دینا چاھتی تھی۔۔۔۔آج بہت خواہش تھی اپنے جان سے پیارے دادا دادی کو دیکھنے کی وہ صبح سے کام کرتی رھی آہل کہ سارے کام بھی آہل اسی سی کرواتا تھا آہل رات میں جتنی بار کافی پیتا اسے اُٹھواتا نہیں پینی ہوتی تو بھی جان بوجھ کہ بنواتا اور آئمہ بس چپ چاپ سب برداشت کر رھی تھی۔۔۔۔کوئی ایسا تھا نہیں جیسے وہ کچھ کہتی ایک دوست رانیہ تھی جو شادی ھو کہ امریکا شفٹ ہو گئی تھی۔۔۔اب وہ کبھی کبھی کال کرتی تو اسے وہ اپنے دکھ کیا بتاتے وہ بس اس کہ دکھ سن کہ اسے دلاسے دینے لگتی۔۔۔آہل جب آیا تو اسے کھانا دے آئمہ وہیں کھڑی ھو گئی ورنہ آہل جب تک کھانا کھاتا تھا وہ گیٹ کہ پاس کھڑی رھتی تھی اگر اسےتھوڑی دیر ھاجاتی آہل اسے مارنے سے باز نہ آتا وہ یہ سب جان بوجھ کہ کر رھا تھا اپنے دوست کا بدلا لینے کہ لیے اس کی نظر میں آئمہ دنیا کی سب سی بری لڑکی تھی جس کہ ساتھ وہ جس طرح کا سلوک چابے کر سکتا تھا۔۔۔۔آہل نے کھانا کھا لیا تو آئمہ کافی لی کہ آئی۔اور وہیں کھڑے رھ کہ انگلیاں آپس میں مروڑنے لگی۔۔۔۔کیا مصیبت پڑ گئی ھےجو میرے سر پہ نازل ہو گئی ہو۔۔۔۔وہ۔۔۔مہ۔۔۔۔میں کچھ کہنا چاھتی ھوں۔۔۔۔۔مجھے فضول بکواس سنے کی عادت نہیں اب تم جا سکتی ہو۔۔۔۔آئمہ کو آنکھیں نم ھو گئیں۔۔۔مجھے۔۔۔دادا دادی کہ پاس جانا ھے آئمہ کہہ کہ رونے لگی۔۔۔آہل کہ دل کو اس وقت کچھ ھوا۔۔۔پر اس نے صاف منع کرکہ آئمہ کو کمرے باھر نکال دیا۔۔
کتنے دیر رات تک آئمہ روتی رھی۔۔آہل نے دیکھا پر یہ سوچ کہ نظر انداز کردیا کہ اس نے بھی تو نبیل کو کتنا رلایا ھے۔۔۔۔آئمہ فجر کی نماز کہ بعد سے کام میں لگتی تھی اسے رات دیر تک کام کرنا پڑتا تھا۔۔۔جو اپنے گھر میں رانیوں کی طرح رھتی تھی آہل نے اسکہ ساتھ نوکروں سے بد تر سلوک کیا ہوا تھا شروع میں وہ بیمار ہو جاتی کام کر کہ پر اب اسے عادت پڑ گئی تھی بس جیسے اُٹھتی کام میں لگ جاتی تھی۔۔۔۔پر نماز اور قرآن باقائدگی سے پڑھتی تھی اب بھی اور اس کی یہی بات آہل کو پریشان کرتی کہ کوئی کتنا ڈرامہ کر سکتا ھے اور ڈرامہ تب ھو جب میں دیکھوں میں تو بے ٹائم آتا ہوں اور تب بھی میں نے اس لڑکی کو عبادت کرتے اور خدا کہ سامنے روتے دیکھا ھے۔۔اب آہل کی سمجھ سے باھر ہو گیا تھا سب وہ سمجھ ھی نہیں پا رھا تھا کہ کیا غلط ہے کیا صیح۔۔۔وہ اسی سوچ میں ڈوبا ڈراونگ کر رھا تھا کہ آگے کوئی چیز آئی اور وہ اپنا توازن برقرار نہیں رکھ پایا اور گاڑی سیدھی جا کہ کھائی میں گر گئی
