Aroosi By Kainat Zehra NovelR50444 Last updated: 15 December 2025
Rate this Novel
No chapters found.
Aroosi By Kainat Zehra
Novel Code:50444
“ تمہیں ایک دفعہ منع کیا تھا تمہاری اس موٹی عقل میں بات کیوں نہیں آتی کیا کرنے گئی تھی وہاں؟ میری اجازت کے بغیر تم اس شخص سے ملی بھی کیسے؟” وہ اس کا بازو زور سے تھامے اسے گھسیٹ کر اوپر لے جارہا تھا وہ مسلسل اس سے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اس کی گرفت بہت مضبوط تھی وہ چاہ کر بھی ہاتھ نہیں چھڑوا پارہی تھی۔ “ تم ہوتے کون ہو مجھے اجازت دینے والے؟ تم ایک مکار جھوٹے انسان ہو” وہ اسی طرح ناکام کوشش کرتے ہوئے اس کے پیچھے پیچھے چلتی کمرے تک آگئی تھی۔احان نے کمرے میں آتے ساتھ کمرے کا دروازہ بند کردیا اور ایک جھٹکے میں اس کا ہاتھ چھوڑا۔ “ تم جانتی ہو الیسا زاہد کچھ لوگ اس قدر ڈھیٹ اور موٹی چمڑی کے مالک ہوتے ہیں کہ ان پر سختی کرنی پڑتی ہے” الیسا کا بازو لال پڑ چکا تھا اس کے ہاتھ کی چھاپ پڑ چکی تھی۔ “ تم ہوتے کون ہو مجھ پر روب جمانے والے مجھ پر حکم چلانے والے؟” الیسا کی آواز آج اس کے سامنے پہلے سے بہت اونچی تھی آج وہ سر اٹھا کر اس کے سامنے چیخ رہی تھی۔ اس نے احان کو بے ساختہ بالوں میں ہاتھ مارتے ہوئے اپنا غصہ کم کرنے کی کوشش کرتے دیکھا تھا۔ “ اگر تم میرے منہ سے ہی سننا چاہتی ہو کہ میں تمہارا کون ہوں تو سنو میں تمہارا قانونی اور شرعی شوہر ہوں” الیسا کا دل چاہا وہ اس کی بات پر قہقہ لگا کر اس کا مذاق بنائے لیکن وہ محض اسے نفرت بھری نگاہوں سے دیکھے گئی وہ شخص اسی نفرت کے قابل تھا۔ “ تم ساری دنیا کو بیوقوف بنا سکتے ہو کہ میں تمہاری بیوی ہوں مجھے نہیں” اس نے منہ سے انگارے اگلتے ہوئے کہا۔ “ احان علی تم سے پہلے بھی کہہ چکا ہے کہ اس کو وضاحتیں دینا پسند نہیں تم نے جو بکواس کرنی ہے کرو لیکن اب اس گھر سے باہر قدم رکھ کر دیکھاو مجھے” “ رکھوں گی.... میں تمہاری سر خرید غلام نہیں ہوں احان علی میں ایک آزاد لڑکی ہوں جس کو آزادی سے جینے کا حق حاصل ہے” “ ہاں سچ کہا تم ایک آزاد خیال لڑکی ہو گھٹیا سوچ کی قید میں آزاد خیال لڑکی ہو تم وہ لڑکی ہو جو نا صرف اپنے ماں باپ کے لیے باعث شرم ہے بلکہ اپنے شوہر کے لیے بھی شرمندگی کا باعث ہے” وہ اپنے لیے اس قسم کے الفاظ ہر گز برداشت نہیں کرسکتی تھی کبھی بھی نہیں کرسکتی تھی وہ شخص اسے باعث شرم ہونے کا طعنہ دے رہا تھا وہ لڑکا جو خود شرابی تھا وہ لڑکا جو خود عیاشی سے باپ کا پیسہ اڑا رہا تھا؟ “ تم مجھے یہ بات کر رہے ہو احان علی؟ تم؟ ایک شرابی... عیاش آدمی مجھے باعث شرم ہونے کا طعنہ دے رہا ہے ہاو سٹرینج اپنے باپ کا قاتل شخص مجھے باعث شرم ہونے کا طعنہ دے رہا ہے” وہ اس پر ہنسی تھی اس نے قہقہ لگایا تھا اور یہ اس کی تذلیل میں قہقہ لگایا گیا تھا وہ احان علی سے اور بھی گھٹیا الفاظ کی امید کرتی تھی لیکن اب کی بار شاید اس نےبہت گہرا وار کیا تھا اب احان علی کے پاس کہنے کو کچھ نا تھا وہ اپنے باپ کا قاتل تھا اور ایک قاتل کے پاس کہنے کو اور ہو بھی کیا سکتا ہے؟ احان غصے میں لال پیلا پڑتے زور سے اس کمرے کے دروازے کو کھولتے وہاں سے جاچکا تھا۔الیسا زاہد کو اس وقت دلی تسکین ملی تھی آخر اس نے احان علی کو آئینہ دیکھایا تھا اس قاتل شخص کو آئینہ دیکھایا تھا۔
