Zameen Ke Aansu By Sayedda Kashif Readelle50250

Last updated: 20 September 2025

49.1K
26

Zameen Ke Aansu

By Sayyedda Kashif

ماما کیا بات ہے آج آپ جاگی نہیں ہے طبیعت تو ٹھیک یے نا اپکی۔۔۔جب حنا بیگم کمرے میں کتنی دیر تک سو رہی تھی تو حورعین بے کمرے میں داخل ہوتے ہی کھڑکی کے پردے ہتاتے ہوۓ کہا۔۔ لیکن پھر بھی حنا بیگم نہیں جاگی تو حورعین ان کے پاس گئ ۔۔۔ ماما ماما اٹھیں نا۔۔ ماما آپ کیو نہیں اٹھ رہی ماما۔۔۔ ر ر ریحانننننننن پ پ پاپاااااا اپیییییی کہا ہے سب جلدی ادھر آۓ ماما نہیں اٹھ رہی۔۔۔ جب حنا بیگم نا اٹھی تو حورعین نے روتے ہوۓ سب کو آواز دی سب بھاگتے ہوۓ کمرے میں آۓ ۔۔ کیا ہوا حور بیٹا۔۔۔بلال صاحب نے کمرے میں داخل ہوتے ہی کہا ۔۔ پاپا ماما کو کیا ہوا۔۔۔ حور نے حنا کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔۔ حنا حنا۔۔۔۔بلال نے جب اسے اٹھایا تو وہ نہیں اٹھی وہ جا چکی تھی۔۔۔ بیٹا اپکی ماما اللہ کے پاس چلی گئی۔۔بلال نے حور کو گلے لگاتے ہوۓ کہا۔۔۔ ن ن نہیں آپ جھوٹ بول رہے ہے ر ر یحان بولو نا پاپا جھوٹ بول رہے یے دیکھنا ماما ابھی اٹھیں گی یہ مذاق کر رہی ہے ماما بس بہت ہوگیا مذاق چلے اٹھے ماما ماماااااااااااا۔۔ حور نے انھیں اٹھایا لیکن وہ نہیں اٹھی وہ تو مر چکی تھی جا چکی تھی حور زمین پر گیر کر بلک بلک کر رو رہی تھی۔۔ یہ کیا ہے۔۔۔بلال صاحب نے حنا کے پاس پرا ایک سفید کاغذ اٹھایااور کھول کر پرھنے لگے میری پیاری بیٹی حور۔۔ اور پیاری بہن مریم۔۔۔ میں کتنے سالوں سے یہ تکلیف اپنے دل میں لیے بیٹھی ہو جو آج میں اس میں لیکھ رہی ہو۔۔ پہلے تو مریم میں تمھاری اور حور کی گناہ گار ہو کیونکہ میں نے بدلے کی آگ میں بہت برا گناہ کیا ہے اور تم سے بدلا لینے کے لئے میں نے تم سے تمھاری بیٹی جو الگ کروادیا کیونکہ میں تمھیں بابا کی موت کا زیمدار مانتی تھی ۔ اس لئے تم سے بدلہ لنے کے لئے میں نے بلال کے ذریعے شیخ سے حور کو خریدہ تھا کیونکہ میں حور پر ظلم ستم کر کے اپنی بدلے کی آگ ختم کرنا چاہتی تھی۔ لیکن بلال کے حور سے پیار کی وجہ سے میں ظلم نہی کر سکی اور حور کو اپنالیا لیکن میں تمھیں یہ بتانے کی ہمت نہیں کر سکی کیونکہ میں تمھاری اور حور کی نفرت کا سامنا نہیں کر سکتی تھی۔ حور ہی تمھاری بیٹی ہے تمھاری دوسری بیٹی ہو سکے تو مجھے معاف کردینا تمھاری بد نصیب بہن حنا جو اللہ کو پیاری ہونے جا رہی ہے خوش رہو ۔۔ جسے ہی بلال صاحب نے وہ خط پرا تو زمین پر گیر پرے اور رونے لگے۔۔۔ کیا ہوا بابا کیا لیکھا ہے اس میں۔۔۔ بلال کو روتا دیکھ کر حورعین ان کے پاس آئی اور وہ خط اٹھا کر پرھنے لگی۔۔۔ جسے جسے وہ خط پڑھتی گئ انسو لہو بن کر اسکی آنکھوں سے بہنے لگے ۔۔۔۔ کیاہوا حور بیٹا کیا لیکھا ہے مریم نے حور سے کہا تو اس نے خط آنہں دیا اور حنا کے سینے لگ کر رونے لگی۔۔۔ ماما یہ کیا کر دیا آپ نے مجھے ایک بار بتا دیا ہوتا۔۔۔ میری بچی میری حور۔۔۔ مریم نے حورعین کو گلے لگایا اور رونے لگی۔۔۔ اخر کار سچائی کا پردہ فعاش ہوچکا تھا اور مریم کی تینوں بیٹیاں انہیں مل چکی تھی۔۔۔۔ لیکن شیخ اور حنا کی موت سب کو یہ سبق دے گئ کے برائی سدا نہیں رہتی اور اسکو ایک نا ایک دن ختم ہونا ہوتا ہے چاہے کچھ بھی ہوجاۓ۔۔۔۔ نا زمین اپنی نا آسمان اپنا۔۔ نہیں دنیا میں کوئی مقام اپنا۔۔۔

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!