Teri Yaad Shakh-e-Gulab By Kanwal Akram Readelle50378

Teri Yaad Shakh-e-Gulab By Kanwal Akram Readelle50378 Last updated: 17 November 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Yaad Shakh-e-Gulab By Kanwal Akram

کِس منہ سے جاوں احراز؟ خود کو منہ دِکھانے لائق چھوڑا ہے کیا میں نے؟" اُس نے یاسیت سے سوال کیا تو احراز لب بھینچ گیا

"اِسی لیے کہتے ہیں کہ جلدی کا کام شیطان کا کام ہوتا ہے۔ تُجھے سب کُچھ سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے تھا۔ جو تُو نے کیا اُس سے صِرف تیری ہی نہیں اُس لڑکی کی بھی زندگی برباد ہو گئی جِو تیرے نام پہ بیٹھی ہے۔" احراز نے کہا۔

"جانتا ہوں۔ پتہ نہیں عقل کہاں چلی گئی تھی میری جو وہ سب کر بیٹھا میں۔ تب ویسا کُچھ نا کرتا تو آج وہ کوہِ نور سی لڑکی میرے پاس میرے ساتھ موجود ہوتی۔ اپنی کم ظرفی کا ثبوت دیا تھا میں نے۔" وہ آنکھیں بند کیے بولا۔ لہجے میں پچھتاوا بھرا تھا۔

"اب بھی کُچھ نہیں بِگڑا۔ تُو واپس جا معافی مانگ لے وہ معاف کر دیں گی۔" ابراز نے اُس تسلّی دی۔

"وہ معاف کر دے گی کیونکہ بہت اچھی ہے وہ مگر باقی سب معاف نہیں کریں گے مُجھے۔ سوچتا ہوں ایسی سزا ہی نا سُنا دیں کہ میری جان نِکل جائے۔" اُس کے لہجے میں خدشے تھے کُچھ کھو دینے کے خدشے۔

"دیکھ باری! جو ہونا تھا وہ ہو چُکا باقی سب کبھی نہیں چاہیں گے کہ اُن کی بیٹی کی زندگی خراب ہو جائے تُو ایک بار جا تو سہی۔ اُن کے سامنے جا کے معافی مانگ لے۔" احراز نے سمجھایا۔

"ٹھیک ہے حوصلہ پڑا تو چلا جاؤں گا ورنہ روز کی طرح بغیر مِلے ہی واپس آ جاؤں گا۔" اُس نے افسردگی سے کہا تو احراز گہرا سانس بھر کر رہ گیا۔

"اچھا سُن۔ کل میں اور ماہم بچوں کو لے کر باہر جا رہے ہیں اور تُو بھی ساتھ چل رہا ہے میں نا ہرگِز نہیں سُنوں گا۔" احراز نے دو ٹوک کہا۔

"میں کیسے چل سکتا ہوں یار۔ وہ تیری فیملی ہیں۔" اُس نے اِنکار کرنا چاہا۔

"تُو بھی میری فیملی ہے باری! بھائی ہے تو میرا۔ کل دس بجے تیار رہنا میں تُجھے پِک کر لوں گا۔" احراز نے دو ٹوک کہا تو وہ بے بس سا ہو گیا۔

"ٹھیک ہے۔" اُس نے کہا۔ دو چار باتیں کرنے کے بعد اُس نے کال کاٹ دی۔ گیلری کھولی اور اُس دُشمنِ جان کی تصویریں دیکھنے لگا جو کبھی وہ ڈیلیٹ نہیں کر پایا تھا جانے کیوں۔

  Complete Novel Download Link available