Pachtawaye Inteqam By Nishal Aziz Readelle 50371
Last updated: 17 November 2025
No Download Link
767.3K
21
Pachtawaye Inteqam (Epiosde 1)Pachtawaye Inteqam (Epiosde 2)Pachtawaye Inteqam (Epiosde 3)Pachtawaye Inteqam (Epiosde 4)Pachtawaye Inteqam (Epiosde 5)Pachtawaye Inteqam (Epiosde 6)Pachtawaye Inteqam (Epiosde 7)Pachtawaye Inteqam (Epiosde 8)Pachtawaye Inteqam (Epiosde 9)Pachtawaye Inteqam (Epiosde 10)Pachtawaye Inteqam (Epiosde 11)Pachtawaye Inteqam (Epiosde 12)Pachtawaye Inteqam (Epiosde 13)Pachtawaye Inteqam (Epiosde 14)Pachtawaye Inteqam (Epiosde 15)
Pachtawaye Inteqam By Nishal Aziz
آدھی رات کو وہ اپنے خوبصورت کمرے میں محوئے خواب سکون کی نیند سورہی تھی،اور سکون کیوں نہ ہوتا اسے،آج خوش بھی تو اتنی تھی وہ،پر اس بےخبر نازک لڑکی کو نہیں معلوم تھا کہ یہ سکون چند پل کا ہے،عجیب سی گھٹن پر رات کے دوسرے پہر اچانک نتاشہ کی آنکھ کھلی،اسے لگا کوئی پوری طرح اسکے نازک وجود پر ہاوی ہے جسے وہ روم میں مکمل اندھیرا ہونے کی وجہ سے دیکھ نہیں پارہی تھی،اندھیرا!
اچانک اسکے خواب آور دماغ میں جھماکا ہوا وہ پٹ سے مکمل آنکھیں کھول گئی،اسکے روم میں اندھیرا کیسے،وہ تو لائٹس اون کر کے سونے کی عادی تھی پھر یہ اندھیرا کیسے،گھٹن بڑھنے پر نتاشہ نے اٹھنا چاہا مگر اگلے ہی پل اسکے چہرے پر خوف کے آثار نمایاں ہوئے یہ دیکھ کر کہ اسکے نازک ہاتھ کسی کی مضبوط گرفت میں مقید تھے،اس نے گھبراکر آنکھیں بند کر کے کھولیں اور ٹھیک سے تھوڑا بہت اپنے اوپر سوار اس وجود کو دیکھنا چاہا پر مکمل اندھیرے میں نتاشہ کو صرف دو چمکتی آنکھیں دکھیں تھیں،اپنے چہرے سے حد درجہ نزدیک،
“ک۔۔۔کون۔۔۔ہے۔۔؟۔۔۔چھ۔۔۔چھوڑو۔۔۔”
وہ خوف سے زرد پڑتے چہرے کے ساتھ ہکلاتے ہوئے پوچھنے لگی تبھی اسکے ہاتھ پر “Z” کی سخت گرفت اور سخت ہوئی تو نتاشہ سسک کر رہ گئی
اپنی گردن پر جھلسادینے والی گرم سانسیں محسوس کر کے وہ تڑپتے ہوئے چیخنے لگی مگر معائے افسوس کے زرا سی آواز نکلنے سے پہلے ہی اسکے منہ پر بھاری ہاتھ رکھ دیا گیا تھا،وہ وحشت سے آنکھیں پھاڑے مقابل خود پر سوار اس شخص کی کالی چمکتی آنکھوں کو دیکھنے لگی،جس میں جلتے شعلے نتاشہ کی جان ہوا کرنے لگے تھے۔
“آج کا تمہارا فیصلہ تمہاری لائف کا سب سے برا فیصلہ تھا۔۔۔۔تمہیں یہ نہیں کرنا چاہیے تھا ڈارلنگ۔۔۔پر اب کیا ہوسکتا ہے۔۔۔۔اب اپنی بربادی کے لیے تیار ہو جاؤ لڑکی۔۔۔۔”
وہ اسکے کان کے قریب اپنے بھنچے ہوئے لب لاتے ہوئے پھنکارا جبکہ نتاشہ بڑھتے ہوئے خوف کے باعث رونے لگی۔۔۔اسکی ہچکیاں سن کر “Z” کے لب پراسراریت میں مسکرائے تھے اس نے ایک نظر نتاشہ کی خوف سے پھیلیں ہیزل رنگ آنکھوں کو دیکھا پھر اسکے چہرے پر جھکتا ہوا اسکے ٹھنڈے پڑتے گال پر اپنے تشنہ لب رکھ گیا،نتاشہ تڑپی تھی،اسکا گرم لمس تھا یا کیا نتاشہ کو لگا اسکے گال پر کسی نے کھولتا ہوا پانی انڈیل دیا ہو۔
“پھر ملیں گیں ڈارلنگ۔۔۔”
گال پر سے لب ہٹا کر وہ غراکر بولتا ہوا اس پر سے اٹھا اور کھڑکیوں کے پاس جاتے ہوئے گھپ اندھیرے میں ہی کہیں غائب ہوگیا۔
اسکے جانے کے بعد نتاشہ کی آواز جیسے حلق میں اٹکی تھی،زندگی میں پہلی مرتبہ اسے کسی نے اس قدر بری طرح ڈرایا تھا اور ڈرایا بھی نہیں دھمکی دے کر گیا تھا،زندگی برباد کرنے کی،وہ بیڈ شیٹ کو اپنے نازک ہاتھوں میں دبوچے بمشکل حلق کے بل چلائی تھی۔
اسکا چیخنا تھا کہ علوی مینشن کی لائٹس آن ہوئیں،کچھ دیر تک وہ پیلے پڑتے چہرے کے ساتھ یونہی لیٹے رہی،تبھی طاہر علوی دھاڑ سے روم کا دروازہ کھولتے ہوئے اندر داخل ہوئے ساتھ ہی انہوں نے روم کی ساری لائٹس اون کیں۔۔انکے پیچھے روم سے باہر چند ملازم کھڑے تھے۔
“کیا ہوا میری بچی۔۔۔”
انہوں نے ٹینشن سے نتاشہ کے پاس آتے ہوئے پوچھا
مانوس آواز سنتے ہی نتاشہ جھٹ سے اٹھی اور بھاگتے ہوئے جاکر طاہر علوی کے گلے لگ گئی۔
“پاپا۔۔۔پاپا۔۔۔و۔۔وہ۔۔ک۔۔۔کوئی۔۔۔”
وہ بری طرح ڈری ہوئی تھی اسی لیے انکے گلے لگے ہکلا کر بولنے کی کوشش کرنے لگی
“کیا بیٹا۔۔۔کیا کوئی۔۔۔ادھر دیکھو اپنے پاپا کو دیکھو۔۔۔”
انہوں نے الجھ کر اسے نرمی سے خود سے دور کرنا چاہا جس پر نتاشہ نے اور جکڑ کر انہیں پکڑ لیا،طاہر علوی کو تشویش ہوئی کیونکہ کبھی نتاشہ رات کو اس طرح نہیں چیخی تھی،ہاں وہ ڈرتی تھی اندھیرے سے تبھی روم کی لائٹ اون کر کے سوتی پر۔۔۔ابھی اسکا اتنا ڈرنا انہیں پریشان کر گیا۔
“میرا بچہ۔۔۔کیا ہوا ہے آپ کو۔۔۔اور پہلے یہ بتاؤ روم کی لائٹس کیوں آف کی ہوئی ہے آپ نے”
اسے خود سے دور کر کے سامنے کرتے ہوئے انہوں نے پوچھا
“می۔۔۔میں۔۔نے۔۔نہ۔۔۔نہیں۔۔کی۔۔۔پاپا۔۔۔وہ۔۔۔اس۔۔۔اس نے کیں۔۔۔وہ۔۔۔وہاں پر۔۔۔تھا۔۔۔می۔۔۔میرے۔۔۔اوپر۔۔۔پھر
وہا۔۔۔وہاں۔۔گیا۔۔۔نہی۔۔۔نہیں۔۔۔ابھ۔۔ابھی۔۔تھا۔۔۔”
وہ ٹوٹے لفظوں میں انہیں بتانے لگی
“ریلیکس۔۔۔ریلیکس۔۔۔نتاشہ ادھر دیکھو ضرور آپ نے کوئی برا خواب دیکھا ہے۔۔پاپا کو دیکھو۔۔۔سب ٹھیک ہے کوئی نہیں ہے یہاں پر۔۔۔آئیں چلیں سوجائیں۔۔۔میں یہیں ہوں آپ کے ساتھ۔۔۔”
وہ اسکے کپکپاتے وجود کو دونوں بازوؤں سے پکڑ کر اسے بیڈ تک لائے نتاشہ مسلسل نفی میں سر ہلاتے ہوئے رورہی تھی۔
“پا۔۔پا۔۔میں۔۔ن۔۔نے۔۔۔خو۔۔خود۔۔دیکھ۔۔دیکھا۔۔”
“کچھ نہیں ہے۔۔۔میں یہیں پر ہوں بیٹا آپ سوجاؤ۔۔۔”
وہ اسکی بات کاٹتے ہوئے نرمی سے بولے ساتھ ہی اسے زبردستی لیٹا دیا۔۔۔پھر جب تک وہ سو نہیں گئی طاہر علوی وہیں پر بیٹھے رہے۔
“سنو۔۔۔کوارٹر میں جانے سے پہلے ہر طرف ایک نظر دوڑالینا۔۔۔”
نتاشہ کے سونے کے بعد وہ گیٹ کے باہر ملازمین کو ہدایت دے کر جانے لگے۔۔۔ساتھ ہی ایک آخری نظر سوتی ہوئی نتاشہ پر ڈالی۔۔۔۔۔جسکا نازک وجود سوتے ہوئے بھی ہلکا سا لرزرہا تھا انہوں نے احتیاطاً دو ملازمائیں اسکے روم میں بھیجیں۔۔۔
