Mein Anmol By Umme Hania Readelle50345 Last updated: 28 October 2025
Rate this Novel
No chapters found.
Mein Anmol By Umme Hania
ارے او مہارنی تمہیں یہاں آرام کرنے کے لئے نہیں لائے اٹھو جلدی اور ناشتہ بناو ۔ اس جلاد صفت عورت نے ڈھار سے کمرے کا دروازہ کھولا اور جھٹکے سے بیڈ پر محو استراحت ایک نازک سے وجود سے لحاف کھینچ کر اتارا۔ وہ نازک وجود شاید اس سب کے لئے تیار نہیں تھا اسی لئے وہ یکدم ہربرا کر اٹھی۔ نیلے کانچ سے سمندر میں خوف ہچکولے لینے لگا تھا۔ آنکھوں کی سرخی اسکے ساری رات روتے رہنے کی چغلی کھا رہی تھیں۔ وہ اپنے کپکپاتے وجود کو سمبھالتی لمحے کے ہزارویں حصے میں بیڈ سے اترتی جوتا پہن چکی تھی۔ شکل مومناں اور کرتوت کافراں۔ تمہارے پچھلوں نے بھی اپنا گند ہمارے سر لاد دینے کی اتنی جلدی کی کہ کچھ سوچنے کی مہلت تک نہ دی بے حیا عورت شہرینہ نے اسکی بازو مڑور کر کھینچتے ہوئے کمرے سے باہر لا کر اسے لاوئنج میں دھکا دیا دھکے سے اوندھے منہ وہ زمین پر گری بروقت دونوں ہاتھ زمین پر لگا کر اس نے خود کو مکمل طور پر زمین بوس ہونے سے بچایا ۔ یہ ذلت اسکی قسمت کے کاغذ پر جلی حروفوں میں کندہ کر دی گئ تھی وہ دن رات اپنے مقدر کے بنتے بگڑتے حالات و وقعات میں محض اپنا قصور تلاش کرتی رہتی ۔ کہاں وہ غلطی کی مرتکب ہوئی تھی کیا محبت کرنا اسکا جرم ٹھہرا تھا۔ سامنے صوفے پر برجماں اخبار پڑھتے اسکے شوہر نے ایک نظر بے تاثر نگاہوں سے اسکو دیکھا اور پھر سے اخبار پڑھنے میں مصروف ہو گیا۔ شوہر کی اسقدر نظراندازی پر کئ آنسو پلکوں کی بار پھلانگ کر بہہ نکلے تھے۔ وہ اپنی کمر اور پیٹ کے نیچلے حصے سے اٹھتی شدید درد کی لہروں کو نظرانداز کرتی ہتیھلیوں پر وزن ڈالتی اٹھی اور ڑگر کر اپنے آنسو صاف کرتی کچن میں گھس گئ۔ تمہارے آنسو اتنے بے مول نہیں ہیں کہ یوں اتنی بے دردی سے بہایا جائے۔ سوچ کے تخیل پر اس نقش کے ابھرتے ہی آنسوں میں مزید روانی آگئ تھی۔ اس نےآنکھیں زور سے میچتے سر کو نفی میں ہلا کر ان تمام یادوں سے پیچھا چھڑوانا چاہا۔ یارم کاش تم میری زندگی میں کبھی نہ آتے۔ کاش میں تم سے محبت نہ کرتی۔ کاش میں تمہیں اپنے رب سے کبھی نا مانگتی۔ کاش میرا رب میری دعاوں پر کن کہتا تمہیں کبھی میری قسمت میں نہ لکھتا۔ کاش تمہارا نام میرے نام کے ساتھ کبھی نہ جڑتا۔ حسرتوں کا ایک طویل جہاں تھا جیسے وہ آباد کئے بیٹھی تھی پلکوں سے انمول موتی ٹوٹ ٹوٹ کر گرتے اسکی ذات کو مزید بے مول بنا رہے تھے۔ شہرینہ ابھی تک باہر اونچی آواز میں اسکی ذات کے قصیدے پڑھ رہی تھی۔ اسے باہر بیٹھے اپنے شوہر کی بے حسی پر مزید شدت سے رونا آیا۔
Complete novel available in DOWNLOAD LINK
