Justuju Thi Khaas Ki By Yusra Readelle50054 Last updated: 10 July 2025
Rate this Novel
Justuju Thi Khaas Ki
By Yusra
نجانے کیوں میری چھٹی حس مجھے بھاگنے کا الارم دے رہی تھی نجانے باپ بیٹی دونوں پاگل ہیں ایک جہنم تک پہنچا آئی دوسرا خوف سے جان نکال رہا تھا اب شک ہو رہا تھا جو اب تک ہوا ہے کیا ہوا بھی ہے یا یہ سب میرا خیالی پلاؤ ہے؟؟؟ میں نے ارد گرد دیکھا انکے اور میرا علاوہ کوئی نہیں تھا کہیں میں کسی بھوتیا حویلی میں تو نہیں آگیا؟؟؟ تھوک نگلتے میں نے چچا کو دیکھا جنہوں نے اب کے خوفناک قہقہ لگایا۔۔۔ ” جب تک رابی نا چاہے کوئی اسکے سائے کو بھی چھو نہیں سکتا۔۔ تم ڈر کیوں رہے ہو کوئی خوفناک جن نہیں میں“ وہ جیسے میرے چہرے پر لکھی تحریر پڑھ چکے تھے۔۔۔ ” پھر یہ عجیب سے انداز میں مسکراے کیوں؟؟ “ میں نے پھٹی پھٹی آواز میں نہایت معصومیت سے پوچھا بابا کتنا کہتے تھے نماز پڑھ لو بلاؤں سے محفوظ رہو گئے لیکن لعنت ہے مجھ پر جو انکی ایک نا سنی۔۔۔۔ ” دو منٹ میں آتا ہوں “ وہ زور سے میرے کندھے پر ہاتھ مار کر (دوستانہ انداز میں بھاری ہاتھ )اندر چلے گئے میں اپنی جگہ سن سا کھڑا رہا اب تو دنیا جہاں کا ہوش تک نا تھا آخر مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے تھے؟؟؟ میں جب تک سوئے ذہن کو الرٹ کرتا وہ میری طرف آتے دیکھائے دیے۔۔ ” آپ کہاں گئے تھے؟؟ “ انہیں اپنے روم سے نکلتا دیکھ مجھے حیرت نے آن گھیرا بے شک جاتے ہوے نہیں دیکھا لیکن اب کے نظریں وہیں اٹکیں تھیں۔۔۔ ” جب کسی کی جاسوسی کرتے ہیں تو خاص خیال رکھتے ہیں کوئی چیز ادھر سے ادھر نا ہو تم نے چارٹ پپرز کا بنڈل دائیں طرف رکھا تھا رابی کو اگر تھوڑا سا بھی شک ہوتا وہ کبھی مجھے اپنے رازوں کا امین نہیں رکھتی۔۔۔ “ میں ان کے قریب آتے ہی دور کھسکا جنہوں نے پھر ایک بار خوفناک قہقہ لگایا۔۔۔ ” یار ڈرو نہیں پانچ وقت نمازی ہوں نا ہی کوئی میری بیٹی پر جن کا سایہ ہے اندر میرے کمرے میں چلو سب بتاتا ہوں “ میرے کھسکنے کے ساتھ خوفزدہ انداز پر وہ چوٹ کر گئے اور مجھے اپنے ساتھ لیکر بلکے باقاعدہ کھنچتے ہوئے کمرے میں چلے آئے۔۔۔ ” کون سے راز؟؟ اور آپ کو کیسے پتا؟؟ “ میں نے اندر آتے ہی تسبیح اور جانماز کو دیکھتے بلکل نارمل انداز میں پوچھا۔ جن کا سایہ نہیں ہے لیکن سائیکو کیس دونوں لگ رہے تھے۔۔ ” میں ساری زندگی اس کی حفاظت نہیں کر سکتا آبی وہ اب تو مجھے خاص بتاتی بھی کچھ نہیں میرا دل بہت کمزور ہے میں نے اسے مضبوط بنایا تھا اب ڈر لگتا ہے کہیں کوئی غلطی تو نہیں کی؟؟ دوسروں کے لئے وہ ہمیشہ خود کو مصیبت میں ڈالتی ہے۔۔۔ “ انکا انداز بلکل کسی ہارے ہوے جواری کی طرح تھا جب کے لہجہ فکرمند، محبت سے لبریز بیٹی کی چاہت میں۔۔۔ ” مجھے ایک لفظ سمجھ نہیں آرہا۔۔ اور کیا آپ چاہتے تھے وہ سب میں دیکھوں “ ذہن میں اچانک سے جھماکہ ہی تو ہوا تھا باہر انہوں نے ایسا ہی کچھ کہا تھا۔ انکے اثبات میں سر ہلانے پر میں چونکا بیٹی کی طرح انہوں نے بھی میرے لیے پہیلیاں بٌھجانے کو رکھ دیں۔ ” کیوں “ ” تاکے اگر کل کہیں وہ پھنسے تو تم اسکا ساتھ دو “ انکا یہ اعتماد مجھے عجیب لگا بھلا اتنا بھروسہ؟؟؟ اس شخص پر جسے وہ جانتے بھی نا تھے؟؟؟ ” آپ کو کیوں لگا میں اسکے لئے سہی بندا ہوں “ دل میں امڈتا سوال زبان پر آہی گیا۔۔ ” جس دن تمہارا نانتھ کا فائنل پیپر تھا یاد ہے تمہیں؟؟ تم نے ایک بوڑھے آدمی کی جان بچائی تھی بلاخوف و جھجک ایک پولیس آفسر کی پٹائی بھی کی تھی کیوں کے اُسے اُس آدمی کی جان سے زیادہ چالان کی فکر تھی؟؟؟ اس دن اس لمہے میں نے اپنی بیٹی کی آنکھوں میں تمہارے لئے پسندیدگی دیکھی تھی جب تم نے کہا تھا ” یہ دنیا بھی جنّت بن سکتی ہے اگر لوگ احساس کریں تو “ گھر آکر تم نے یہ کہہ کر سب کا منہ بند کرادیا پھر کتنے ہی پولیس سٹیشن کے
