Ek Sitam Aesa Bhi By Momina Shah Readelle50287 Last updated: 6 October 2025
No Download Link
Rate this Novel
Ek Sitam Aesa Bhi By Momina Shah
گلابی آنچل اوڑھے وہ لڑکی سرسوں کے کھیت میں بھاگتی ہوئ پگڈنڈی پہ قدم لڑکھڑانے سے بچانے کو کبھی کبھی ہاتھوں کو ہوا میں اونچا کرکے اپنا توازن برقرار کر رہی تھی۔ " میرب رک "۔ پیچھے سے اسکے پیچھے دوڑتا وہ لڑکا اسے مزید تیزی سے بھاگنے پہ مجبور کر رہا تھا۔ " میں نہیں رکنے والی ، خبیث انسان"۔ وہ بھاگتی ہوئ پھولی ہوئ سانسوں سمیت بولی۔ " سن میرب میری بات تو سن لے"۔ اسنے اسکے پیچھے بھاگتے کہا۔ " میں نہیں رکونگی اتنی پاگل تھوڑی ہوں"۔ اسنے سلگ کر کہتے جیسے ہی قدم سڑک پہ رکھے اسکا پیر مڑا وہ گری پر ہمت کرکے وہ دوبارہ اٹھی تھی۔ اونچی نیچی سڑک پہ بھاگتے بھاگتے اسنے پیچھے مڑ کے دیکھا وہ اب اسکے پیچھے نہیں تھا بھاگنا اسنے اب بھی نہیں چھوڑا تھا کہ یکدم اسکا نازک وجود کسی فولادی وجود سے ٹکرایا ڈر و خوف کے مارے اسکے حلق سے چیخ بر آمد ہوئ، اسکے چیخنے پہ مقابل کے ماتھے پہ شکنوں کا جال بچھا تھا۔ " چیخو مت"۔ اسنے اسے خود سے دور جھٹک کر کہا۔ " جی معافی ۔۔ "۔ اسنے سر پہ آنچل درست کرکے سائڈ سے نکل جانا چاہا کہ مقابل کی آواز پہ وہ رکی۔ " اتنی صبح تن تنہا اکیلی عورت کھیتوں سے نکل کر بھاگتی آرہی ہو لڑکی۔۔!!! کیا کرنے گئ تھیں"۔ اسنے کرخت لہجہ میں پوچھا۔ اسکی بات کا مفہوم سمجھتے میرب کے تو سر پہ لگی اور تلوں پہ بجھی۔ " کہنا کیا چاہ رہے ہیں آپ"۔ اسنے سلگ کر اسکے مقابل آتے کہا۔ " وہی جو تم کرکے آرہی ہو"۔ وہی سرد بے تاثر لہجہ۔ " آپ ہوتے کون ہے مجھ پہ اتنا گھٹیا الزام لگانے والے"۔ میرب نے مقابل کھڑے شخص کو جلتی آنکھوں سے گھورا۔ " اس گاؤں کا اگلا سردار"۔ اسنے گردن اکڑا کر کہا۔ " گاؤں کے اگلے سرادر ہیں تو سرداروں والی حرکت کریں ایسی گری ہوئ باتیں اکثر شخصیت بھی گرا دیتی ہیں"۔ اسنے ایک ایک لفظ چبا کر کہا۔ بہروز چوہدری کی آنکھیں تعجب سے سے پھیلی تھیں۔ وہ تو اس لڑکی کو کوئ عام لڑکی سمجھ رہے تھے ، پر شاید یہ عام دکھنے والی لڑکی بے حد خاص انداز و اتوار رکھتی تھی۔ جسکا اندازہ انہیں بخوبی ہوچکا تھا۔ " بہت خوب "۔ اسنے آنکھوں میں ڈھیروں چمک لیئے کہا۔ اسنے اسکی بات پہ آنکھیں گھمائ اسنے قدم ایک بار پھر آگے بڑھانے چاہے تھے کہ وہ اسکی آواز سن کر رکی۔ " دن کا اجالا بھی مکمل نہیں نکلا ، اور تم جوان جہاں لڑکی گھر سے باہر نکلی پھر رہی ہو"۔ اسنے قدرے سنجیدگی سے کہا۔ " یہ۔۔۔۔ آپلے لینے اماں نے بھیجا تھا"۔ وہ تنک کر واپس اسکے مقابل آئ ہاتھ میں پکڑے آپلوں کا تھیلا اسکی آنکھوں کے پاس لے جا کر لہرایا۔ " کیا تمہاری اماں کو خبر نہیں ہوئ کہ تم حسین ہو جوان ہو تمہارے ساتھ کچھ بھی ہوسکتا ہے"۔ وہ اسے بغور تکتے بولا۔ تو غصہ سے اسکے نتھنے پھول گئے۔ اور وہ بنا مزید کچھ کہے اپنے گھر کی طرف قدم بڑھا گئ۔ ♡♡♡♡♡
