Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Eid e Muhabbat by Hadia Mughal

واہ بیگم!! "آج دال تو بہت مزے کی بنی ہے۔لگتا ہے خاص اپنے ہاتھوں سے بنائی ہے۔"بڑے بھیا کی آواز,کمرے سے باہر کھڑی شفا نے بھی سنی تھی۔
اشتیاق سے اپنی تعریف سننے کے لیے وہ بھی تھمی۔
جی میں نے اپنے ہاتھوں سے بنائی۔لیجیے اور کھائیے۔نوالہ فاحد کے منہ کی جانب بڑھاتی بڑی بھابھی مصنوعی سا شرما کر بولی تھیں۔شفا کی آنکھیں حیرت سے پھٹی۔دال تو اس نے بنائی تھی پھر بھابھی اپنی تعریف کیوں کررہی تھی؟؟ ایسا صرف وہ سوچ
بول کر پہلے سے گال لال مزید لال نہیں کرسکتی تھی۔
جلدی سے کھانا کھا لو پھر ابیہا اور عبید کوتیار کرنا باہر آئسکریم کھانے چلیں گے۔اپنی جان کو میں کافی دن سے گھمانےبھی نہیں لے کر گیا۔
فاحد بھائی کا رومینٹک موڈ آن ہوچکا تھا ۔شفا نے اب کھسکنا ہی ضروری سمجھا تھا۔
لیکن ایک حسرت نے شدت سے سراٹھایا تھا کہ کیا اس کا شوہر بھی اسے ایسا ہی چاہنے والا ہوگا سراہنے والا ہوگا۔ایسے بہت سے سوال ذہن میں ادھم مچاتے تھے لیکن کاموں میں مصروف ہوکر سوال سارے دم توڑجاتے۔"
کیا تم بھی مجھے ایسے ہی چاہو گے جیسے میرے بھائی بھابیوں کوچاہتے ہیں؟؟
آئینے میں دیکھتی وہ پھر خود سے مخاطب تھی۔
چوبیس کی ہوچکی تھی ۔دل میں امڈتے جذبات اب سر اٹھانے لگے تھے۔بھائی بھابھی کے محبت کے مظاہرے دیکھتی ہزاروں خواہشیں مچلتی کہ اس کا بھی چھوٹا,ساگھر ہو۔جہاں وہ بھی ٹھاٹ سے رہے۔
اپنے شوہر کو ناز نخرے دکھاۓ ۔لیکن شاید یہ اس کی خیالی پلاؤ تھی۔
کیونکہ حقیقت میں ایسا ہونا ممکن نہیں تھا"۔گھر والوں کا ایسا کوئی ارادہ نہیں لگتا تھا کہ اس کی شادی کریں گے کیونکہ مفت کی نوکرانی کو کون خوشی خوشی رخصت کرتا ہے۔
دکھتی کمر کی وجہ سے وہ چارپائی پر لیٹی اور موبائل ہاتھ میں تھاما۔
سکرین پر تین چار میسجز موجود تھے۔اور اسی ان نون نمبر سے تھے۔
ہیلو شفا! "آپ کی آواز بہت پیاری ہے۔میں مجبور ہوکر آپ کو دوسری مرتبہ کال کرگیا تھا۔اس کے لیے سوری"
مقابل کا میسج اس کے ماتھے پر بل لایا لیکن ایک تسکین بھی ہوئی کہ کسی نے اس کی تعریف کی ہے۔
پلیز مجھے تنگ نہ کریں اور میرا نام آپ کو کیسے پتہ چلا۔؟؟
تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر وہ اس سے سوال پوچھ بیٹھی۔
"وہ کسی نے آپ کو پکارا تو میں نے بھی سن لیا۔بس آپ کا نام اور آپ کی آواز نے مجھے مجبور کیا۔"مقابل نے پھر وضاحت کی۔
لیکن اس مرتبہ اس نے جواب نہیں دیا تھا۔اور موبائل سائڈ پر رکھ کر کھلی آنکھوں سے چھت کو گھورنے لگی۔
کیا واقع ہی میری آواز پیاری ہے۔؟؟ یہی آخری سوچ اسے نیند کی وادیوں میں دھکیل گئ تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *