Deedar E Ishqam By Areej Shah Readelle50290 Last updated: 6 October 2025
No Download Link
Rate this Novel
Deedar E Ishqam
By Areej Shah
یہ چھوٹی سی سزا رات کو کمرے میں نہ آنے کی ۔جانتا ہوں یار تم بہت بزی تھی رات کو اتنا کام جو کرنا پڑتا ہے لیکن یہ سارے کام کرنے کے لئے گھر میں اور بھی لوگ موجود ہیں تم فی الحال اپنے شوہر کی خدمت کرو جو تم سے بہت کچھ کہنا چاہتا ہے ۔ آرزو میں اپنے کیے کیلئے بہت شرمندہ ہوں میں تم سے معافی مانگنا چاہتا ہوں ۔ جو کچھ بھی ہو اسے بھول جاؤ ہم ایک نئی زندگی کی شروعات کریں گے اور میرا اس لڑکی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ۔ باقی باتیں رات کو کمرے میں آنے کے بعد اور آج رات کمرے میں ضرور آنا تمہارے لیے سرپرائز ہے ۔ وہ مسکراتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا جب کہ آرزو کو اس کی ایک ایک بات جھوٹ لگی تھی وہ کیسے اس کی اس رات کی وہ باتیں بھول جاتی۔ جب اس نے اپنی پہلی رات کی بیوی کو یہ کہہ کر ٹھکرا دیا تھا کہ وہ اس کی محبت نہیں مجبوری ہے ۔ وہ صرف اس کی ماں کی بہو ہے اس کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں وہ کیسے بھول جاتی ان باتوں کو جو اس کمرے میں رہ کر اس نے کسی اور سے کی تھی ۔وہ کسی اور کو اپنی محبت کا یقین دلاتا تھا ۔آج وہ کہتا ہے کہ تا میہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ جب کہ تا میہ اس کی اور اپنے رشتے کی گہرائی تک اس پر ظاہر کرچکی تھی ۔ وہ صرف اپنی ماں کی ممتا کی قیمت چکانے کے لئے اس کے قریب آ رہا تھا ۔ آرزو کا دل چاہا کہ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دے ۔آخر کیوں وہ ہر انسان کی نفرت کی حصے دار بنتی ہے کیوں اسے کسی کی سچی محبت نہیں ملتی 💕 عون کافی دیر سے اس کے کمرے میں آنے کا انتظار کر رہا تھا لیکن وہ تھی جو کمرے میں آنے کا نام نہیں لے رہی تھی باہر لوگوں کا کافی رش تھا مہندی کی رسم ادا ہو رہی تھی تھوڑی دیر کمرے میں بیٹھے رہنے کے بعد وہ بھی اٹھ کر باہر چلا گیا تاکہ آرزو کو خود کمرے میں لے کے آ سکے ۔ آج دوپہر میں وہ آرزو کے اتنے قریب گیا لیکن آرزو نے اسے کچھ نہ کا مطلب یہی تھا کہ وہ بھی یہ رشتہ نبھانا چاہتی ہے شاید وہ بھی اسے پسند کرتی ہو یہ بات سوچتے ہوئے اس کا دل الگ ہی ترنگ میں دھڑکا اس نے ایک نظر ہال پر ڈالی جو اسے کچھ خاص پسند نہیں آیا یہ کیا گھرمیں شادی ہے اور یہ ہال سجایا گیا تھا اس گھر میں سینس نام کی چیز کسی میں ہے ہی نہیں اس نے سامنے کھڑے سمیر اور حارث کو دیکھا جن کی محنت سے یہ ہال جگمگا رہا تھا ۔ اگر میں اس ہال کو سجاتا تو کم از کم ان سے بہتر سجاتا وہ ایک افسوسناک نظر پورے ہال پر ڈالتا آرزو کو ڈھونڈنے میں مصروف ہوگیا 💕 آرزو بیٹا او رسم کرلو ۔وہ جو کب سے آرزو کو ڈھونڈ رہا تھا زبیدہ کی آواز کی فورا پلٹا وہ سامنے ہی سبز چوڑیدار کے اوپر پیلی شارٹ فراک پہلے لمبا سادوپٹہ سر پر سجائے اتنی پیاری لگ رہی تھی کہ عون کو لگا کہ اب اپنے آپ پر کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا ہے ۔ شاید اس سے زیادہ خوبصورت لڑکی عون نے کبھی دیکھی ہی نہیں تھی ۔ عون کا دل چاہا کہ اسے ساری دنیا سے چھپا کر اپنے دل میں رکھ لے۔ اس سے پہلے کہ آرزو اس کے قریب سے گزرکر رسم ادا کرنے اسٹیج پر جاتی عون نے اسکا ہاتھ پکڑا سب اپنی وائف یا ہسبنڈ کےساتھ رسم اد آ کر رہے ہیں تم اکیلے چل دی مجھے ساتھ لے کر نہیں جاؤگی وہ شرارت سے کہتا اس کے ساتھ چل دیا۔ آرزو نے ایک نظر اسٹیج سے اترتی تامیہ کی طرف دیکھا جو ان دونوں کو دیکھ کر اپنی جلن کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی عون نے مضبوطی سے اس کا ہاتھ تھاما اور اسٹیج پر چڑآنے لگا ۔ اکسکیوزمیم آپ پلیز اتر جائے اس نے تامیہ سے کہا ۔ جو آرزو کو سخت نظروں سے گھورتی اسٹیج سے نیچے اتر گئی ۔ آرزو کو اس کے ارادے خطرناک لگے جبکہ وہ یہ سمجھ نہیں پائی تھی کہ عون اسے اس طرح سے اگنور کیوں کر رہا ہے جبکہ کچھ فاصلے پر کھڑی زبیدہ بیگم کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا جو اپنے سامنے اپنی بہو اور بیٹے کو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں اسٹیج پر چڑھتے ہوئے دیکھ رہی تھی
