Atish e Ishq Mein Sulgay Rafta Rafta by RJ Writes 20262

Last updated: 22 August 2025

Atish e Ishq Mein Sulgay Rafta Rafta by RJ Writes

”آہ۔۔۔“ وہ ہنوز سینہ جلاتی سوچوں میں شدت سےغرق ہوا تھا،جب حمزہ اس کی پشت دیکھتا ہوا دبے قدموں کمرے میں چلا آیا۔
معاًاس کی معصوم آنکھیں سامنے ٹیبل پر رکھے والٹ کے ساتھ سگریٹ پیک،لائٹر کو دیکھ کر چمک اٹھی تھیں۔
”سگریٹ۔۔۔“ ننھے دل کی ابھرتی خواہش پر لبیک کہتا وہ بےآواز دوڑتا ہوا ان چیزوں کی طرف لپکا۔
ایسے میں ہنوز تلخ خیالات میں گھرا رمیض اپنے بھانجے کی موجودگی کو قطعی محسوس نہیں کرپایا تھا۔
اُس روز فلم کی دیکھا دیکھی،حمزہ نے بھی سگریٹ نکال کر چھوٹے لبوں کے بیچ دباتے ہوئے ایک محتاط نگاہ پلٹ کر رمیض پر ڈالی تھی۔۔۔جو ہنوز منہ موڑے کھڑکی سے باہر جھانکتا اسموکنگ کر رہا تھا۔
”ٹِک۔۔۔“ کی آواز کے ساتھ اس نے آگ کے ننھے شعلے سے بمشکل سگریٹ کو سلگایا۔پھر جلدی سے سانس اندر کھینچا تو،،،حلق سے پھوٹتا کھانسی کا دورہ جہاں رمیض کو ٹھٹھک کر پلٹنے پر مجبور کرگیا تھا۔۔۔وہیں کمرے کی دہلیز پر کھڑی زلیخا نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنے بچے کی جانب دیکھا۔
”حمزہ۔۔۔۔۔؟؟؟فوراًپھینکو اسے۔۔۔۔!!!“ چیخ کر اس تک آتی وہ اس کے ہاتھ کی ڈھیلی گرفت سے سگریٹ چھین کر پھینک چکی تھی۔
رمیض بھی اپنا سگریٹ پھینکتا پریشان سا قریب چلا آیا تھا۔۔۔
”ما۔۔ما۔۔۔۔۔“ کھانسی سے سنبھلتا وہ بمشکل سنبھلا تو ضبط ٹوٹنے پر زلیخا کا ہاتھ اٹھا اور ”چٹاخ“ کی آواز کے ساتھ حمزہ کی نازک گال پر انگلیوں کے سرخ نشان چھوڑ گیا۔
”بس کردیں آپا۔۔۔۔۔؟؟؟بچہ ہے وہ۔۔۔۔“ نتیجتاً حمزہ کے سہم کر رونے پر رمیض نے مٹھیاں بھینچ کر زلیخا کو ٹوکا تھا۔
وہ حقارت و غصے سے اسے دیکھنے لگی۔
ہاں۔۔۔ہاں وہ خود بھی تو حمزہ کے سامنے سینہ تان کر اسموکنگ کررہا تھا۔۔۔اور ساتھ ہی ساتھ اس کے معصوم بچے کو بھی۔۔۔اففف۔۔۔۔!!!
سوچتے ہوئے زلیخا کا دماغ مزید گھوما۔۔۔
”اور تم۔۔۔۔؟؟؟بڑے ہوکر بھی ایسی گھٹیا حرکت سکھاؤ گے میرے بچے کو۔۔۔سگریٹ نوشی۔۔۔؟؟؟میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی رمیض۔۔۔۔مانا کہ اس کا باپ نہیں ہے۔۔۔مگر ماں ابھی زندہ ہے اس کی۔۔۔اور اس قابل بھی کہ اپنے بچے کو اچھے برے کی تمیز سکھا سکے۔۔۔سوتمھیں کچھ سکھانے کی ضرورت نہیں ہے سمجھے تم۔۔۔۔“ کرخت لہجے میں بولتی ہوئی وہ اپنے تیز دھار لفظوں سے رمیض کی جلتی آنکھوں میں حیرت بھر گئی تھی۔
اس دوران جلتے گال پر اپنا ننھا ہاتھ جمائے،حمزہ اپنی ماں کے بھڑکنے پر آنسو بہاتا مزید سہم چکا تھا،سو جبھی کچھ بول نہیں پارہا تھا۔
”میں نے کچھ نہیں کیا آپا۔۔۔۔بہتر ہوگا کہ آپ اپنی یہ غلط فہمی دور کر لیجیے۔۔۔پلیز۔۔۔“ اِس صاف الزام پر ماتھے پر بل ڈالے وہ قدرے سرد لہجے میں گویا ہوا۔
پھر تاسف بھری نگاہ حمزہ پر ڈالی جو سرخ چہرے کے سنگ مسلسل سسکتا ہوا فی الوفت کچھ بھی بولنے کے قابل نہیں تھا۔
”مجھے تمھارے بارے میں کوئی بھی غلط فہمی پالنے کا شوق نہیں ہے رمیض۔۔۔تم کیا ہو یہ میں اچھے سے جانتی ہوں۔۔۔بہتر ہوگا آئندہ میرے بچے سے کوسوں دور رہنا تم۔۔۔۔“ بےدردی سے بولتی ہوئی وہ اگلے ہی پل حمزہ کو بازو پکڑ کر کمرے سے نکلتی چلی گئی۔
”شِٹ۔۔۔۔۔۔۔“ پیچھے رمیض نے خود سے دو سال بڑی بہن کے خراب رویے پر قدرے بے بسی سے نیچے گرے سگریٹ کو بوٹ تلے مسلا تھا۔۔۔

Download Link

Direct Download

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Categories: Age Difference Crime Fiction Crime Thriller Forced Marriage Based Gangster base mystery Romantic Urdu Novel Rude Hero Based Suspense Thriller
Tags: age difference based Forced marriage Gangster Based Revenge Based Novels Romatic urdu novels Rude hero Suspense Urdu Novels

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *