Alif By Umhera Ahmad readelle50105
Last updated: 20 July 2025
No chapters found.
Alif By Umhera Ahmad
طلحہ مٹی ہو گیا … میں مٹی بھی نہیں ہو سکتا … اس دنیا سے جانے کی باری میری تھی مہلت اس کو نہیں ملی۔
اس عمر میں جو غم میرے حصے میں آیا ہے وہ جھیلا نہیں جا رہا۔ یہ جو گھر ہے جس میں میں رہتا ہوں
یہاں کی ہر شے ہر دیوار کے ساتھ اس کی یادیں لپٹی ہیں۔ میں ہر روز صبح اس کی یادوں کو درختوں کی بڑھی ہوئی
شاخوں کی طرح کاٹ کر باہر پھینک آتا ہوں وہ رات تک پھر سے اگ آتی ہیں۔ پرانی یادوں کی رہ جانے والی جڑوں میں
سے میں یہ فصل کاٹتے کاٹتے تھکنے لگا ہوں۔
گھر طحہ سے خالی ہو گیا اس کی یادوں سے خالی ہونے کو تیار نہیں۔

