Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Sy Muhabat Lazim Hai by Ujala Naaz

اس نے ساری رات جاگ کر گزاری تھی وہ پوری رات سوچتی رہی تھی مگر اسے کوئی سوراخ نہ ملا تھا ایسا کوئی بھی نہیں تھا جس پر وہ شک بھی کرسکے اسکی تو کوئی دوست بھی نہیں تھی پھر وہ کون تھا ؟ یہ سوچ اسے پاگل کر رہی تھی ۔ اسے ابھی پتہ لگا تھا کہ کوئی اس سے ملنے آیا ہے وہ ڈر گئ تھی کہیں پھر کچھ ایسا نہ ہوجائے ؟ وہ ابھی گیسٹ روم میں آئی تھی جب سامنے محد کو دیکھ کر اسنے لمبی سانس لی تھی ۔ شکر ہے
’’ کیسی ہو؟ ’’ وہ اس کے سامنے آکر بولا تھا
’’ ٹھیک ہوں’’ اس نے جواب دیا تھا
’’ ہاں وہ تو تمہاری آنکھیں بتا رہی ہیں ’’ اس نے اسکی آنکھیں دیکھی تھیں جو کہ رات پھر جاگنے کی وجہ سے لال تھیں
’’ میری نیندیں اڑ چکی ہیں ساری رات سوچ کر بھی کوئی سرا ہاتھ نہیں آیا ’’ وہ بہت پریشان تھی
’’ تم ابھی ان باتوں کو چھوڑو اور اپنا سامان لے کر آو’’ اس نے کہا تھا
’’ سامان کیوں ’’ وہ سمجھی نہیں تھی
’’ تمہارے رہنے کا انتظام ہوگیا ہے جاؤ اب سامان لاو’’ اس نے اسے جانے کا کہا تھا
’’ اوک ’’ وہ کہہ کر پلٹی تھی اور تھوڑی دیر بعد ایک بیگ ہاتھ میں لئے واپس آئی تھی اس نے اسکے ہاتھ سے بیگ لیا تھا اور گاڑی میں جاکر رکھا تھا تھوڑی دیر بعد اس نے ایک فلیٹ کے آگے گاڑی روکی تھی اور اسے ایک اپارٹمنٹ میں لے آیا تھا جس میں ضرورت کی ساری چیزیں موجود تھیں
’’ یہ اپارٹمنٹ تم نے خریدا ہے ؟ ’’ اس نے پوچھا تھا
’’ نہیں میرے ایک دوست کا ہے وہ ملک سے باہر ہوتا ہے تو چابیاں میرے پاس ہوتی ہیں’’ اس نے اسے سچ نہیں بتایا تھا وہ جانتا تھا کہ اگر اسے پتہ لگا کے اس نے اسکے لئے یہ خریدا ہے تو وہ کبھی بھی یہاں نہیں رہے گی
’’ اچھا ۔۔بہت خوبصورت ہے ’’ اس نے تعریفی نگاہوں سے پورے اپارٹمنٹ کو دیکھا تھا
’’ مجھ سے کم ’’ اس نے اترا کر کہا تھا
’’خوش فہمی ہے ’’ وہ بھی جواب دینے کو تیار تھی
’’ آپکی ’’
’’ آپکی ’’ اس نے بھی رکنا کہا تھا
’’ اچھا ٹھیک ہے تم اب اپنا سامان سیٹ کرو میں کچھ کھانے کو لاتا ہوں ’’ وہ کہہ کر پلٹا تھا اور ارسا اپنا بیگ لے کر کمرے میں گئ تھی
تھوڑی دیر بعد وہ کھانا لے کر آچکا تھا محد نے زبرستی اسے کھانا کھلایا تھا کھانے کے بعد اس نے چائے بنائی تھی وہ اس وقت چائے پر رہے تھے جب اس نے پوچھا تھا
’’ محد ’’
’’ ہاں کہوں ’’ وہ چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے بولا تھا
’’ تمہاری پاپا سے بات ہوئی ؟ ’’
’’ ہاں کل رات ہوئی تھی’’ اس نے چائے کا کپ رکھتے ہوئے کہا تھا
’’ کیسے ہیں وہ ؟ ٹھیک تو ہیں نا؟ ’’ وہ پریشان ہوگئ تھی
’’ ہاں بلکل ٹھیک ہیں اب گھر میں ہی تھے تم پریشان مت ہو ’’
’’ وہ مجھ سے ناراض ہیں محد وہ مجھ سے بات بھی نہیں کرینگے’’ وہ اب پھر سے رونے لگی تھی
’’ ایک تو تم یہ آنسوؤں کا سیلاب کہا سے لاتی ہو؟ ’’ وہ اسکی آنسوؤ سے چڑ گیا تھا
’’ چپ ہوجاؤ اب ورنہ میں بھی ناراض ہوجاؤنگا ’’ اس کے کہنے پر اس نے فوراً سے اپنے آنسو صاف کئے تھے وہ اسکی حرکت پر مسکرایا تھا
’’ گڈ اب تم گھر والوں کی طرف سے بلکل پریشان نہیں ہوگی وہ تمہارے اپنے ہیں جب حقیقت پتہ لگے گی تو مان جائیں گے ہمیں بس اب اس شخص کا پتہ لگانا ہے ’’ وہ اب اسکی سوچ کا رخ بدل رہا تھا
’’ تم ٹھیک کہتے ہو مگر ہم کیسے معلوم کریں گے؟ ’’
’’ یہ تو سوچنا ہوگا ارسا اتنا آسان کام نہیں ہے یہ ’’ اس نے کہا تھا
’’ محد میرا موبائیل کھو گیا ہے ۔۔ تمہیں کال کرنے کے بعد جانے کہا گر کیا ؟ ’’ اسے اب اپنے فون کا خیال آیا تھا
’’ میرے پاس ایک ایکسٹرا رکھا ہے تم لے لینا اور سم بھی آج لے لینگے ہم ’’ اس نے یہ مسئلہ بھی حل کیا تھا
’’ تھینک یو محد’’ اس نے کہا تھا
’’ کس لئے ؟ ’’ اس نے پوچھا تھا
’’ میرا ساتھ دینے کے لئے ’’
’’ ساتھ دینے والوں کا شکریہ ادا نہیں کیا جاتا ’’ اس نے اسکی طرف دیکھ کر کہا تھا وہ مسکرائی تھی
’’ کل سے یونیورسٹی جانا شروع کرو اب تمہارے امتحان قریب ہیں ’’ اس نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا تھا
وہ بھی اس کے ساتھ کھڑی ہوئی تھی
’’ میں صبح تمہیں لینے آؤنگا تیار رہنا ’’ اس نے سر ہلایا تھا وہ اب یہاں سے چلا گیا تھا اس نے دروازہ لاک کیا تھا
وہ اب اس اپارٹمنٹ میں اکیلی تھی۔۔ اس نے اپنا سامان کمرے میں رکھا تھا ۔۔ وہ یہاں اکیلی تھی۔۔۔ اسے لگا کہ وہ اس دنیا میں اکیلی رہ گئ ہوتی اگر محد جیسا دوست اسکے ساتھ نہ ہوتا ۔۔ کل اسے یونیورسٹی جانا تھا ۔۔ جانے اب وہ کیسے پڑھ پائے گی؟ اسے بس ایک ہی پریشانی تھی وہ اس مسئلے کا حل چاہتی تھی ۔۔ اسے ڈر بھی لگ رہا تھا کہیں وہ شخص اسکے آس پاس ہی نہ ہو؟ اچانک اسکی نظر اپنے ہاتھ پر پڑی تھی ۔۔ وہ انگوٹھی اب بھی اسکے ہاتھ میں تھی ۔۔ مگر وہ سائز میں بہت چھوٹی تھی ۔ وہ اسے نکا نہیں سکتی تھی مگر وہ اسے برداشت بھی نہیں کر سکتی تھی اس نے اپنا بیگ اٹھایا تھا اور باہر نکلی تھی۔محد اپنی گاڑی اسکے لئے چھوڑ گیا تھا ۔ وہ اسی گاڑی بھی بیٹھ کر آگے بڑھی تھی ۔۔
تھوڑی دیر بعد اس نے گاڑی ایک جیورلر کی شاپ کے آگے روکی تھی اور گاڑی سے نکل کر اندر آئی تھی
سامنے ہی اسے ایک لڑکا نظر آیا تھا جو کسی کسٹمر کو سیٹ دکھا رہا تھا
’’ ایکسکیوزمی ’’ اس نے اس لڑکے کو مخاطب کیا تھا
’’ جی میم کہیں ؟ ’’ وہ اسکی طرف متوجہ ہوا تھا
’’ مجھے یہ رِنگ نکلوانی ہے ۔۔ ہاتھ میں پھنس گئ ہے ’’ اس نے اپنا ہاتھ آگے کرتے ہوئے کہا تھا
’’ اوو مجھے افسوس ہے کہ آپکی اپنی ایکسپینسو رِنگ خراب ہوجائے گی مگر ہم اسے ریپئیر کر لیں کے ’’ اسے اسکی رَنگ خراب ہونے کا بہت افسوس ہورہا تھا اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ اسکی رِنگ کو کٹ کر کے اسکی انگلی سے نکال چکا تھا ۔۔
’’ یہ رہی آپکی رِنگ ۔۔ آپ کہیں تو میں اسے ٹھیک کر کے کل تک دے سکتا ہوں ’’ اس نے پروفیشنل انداز میں کہا تھا ۔۔ ارسا کے ایک نظر اس رِنگ پر ڈالی تھی جس پر ایک موتی چمک رہا تھا
’’ نہیں مجھے یہ نہیں چاہیئے آپ رکھ لیں اسے ’’ وہ کہہ کر پلٹنے ہی والی تھی جب شاپ کیپر نے اسے کہا تھا
’’ یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ میم ۔۔ یہ ڈائمنڈ ہے اور اسے مجھے دے رہی ہیں ؟ ’’ وہ اسکی بات پر چونکی تھی
’’ کیا کہا آپ نے ؟ ’’ اس نے حیرانی سے پوچھا تھا
’’ یعنی آپ نہیں جانتی ؟ یہ جو چیز چمک رہی ہے میم اسے ڈائمنڈ کہتے ہیں ’’ وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا اور ارسا حیران تھی ۔۔ ’’ڈائمنڈ ؟ ’’ وہ اسے ڈائمنڈ دے کر گیاب تھا ؟ اتنی ایکسپینسو انگھوٹھی ۔۔؟ اسکا مطلب یہ تھا کہ وہ کوئی عام انسان نہیں تھا ۔۔ یقیناً وہ ایک امیر آدمی تھا ۔۔ !!
اسےڈائمنڈ کی پہچان نہیں تھی یہ تو وہ جانتی تھی کہ یہ رِنگ قیمتی ہے مگر یہ ڈائمنڈ ہوسکتا ہے؟ ایسا اس نے نہیں سوچا تھا۔ وہ رِنگ اسی حالت میں لے کر باہر آئی تھی ۔۔ دماغ اب یہ سوچنے پر لگا تھا کہ آخر وہ کون ہو سکتا ہے ؟ محد کے علاوہ تو کوئی بھی ایسا شخص نہیں تھا جسے وہ جانتی ہو یا جو اسکا دوست ہو ۔۔ لڑکوں سے دوستی تو وہ ویسے بھی نہیں رکھتی تھی ۔۔ ابھی وہ اپنی کار کے پاس پہنچی ہی تھی کہ اسے ایک بار پھر چونکنا پڑا تھا ۔۔ گاڑی کے اندر ونڈسکرین وائپر پر ایک پیپر لگا تھا ۔ اس نے آگے بڑھ کر اسے اٹھا کر پڑھا ۔۔ اور وہ حیران رہ گئ تھی ۔۔خوف کی ایک لہر اسکے پورے جسم پر پھیل رہی تھی اس نے آس پاس نگاہیں دوڑائیں تھی مگر وہاں کوئی ایسا نہیں تھا جو اسکی طرف متوجہ ہو ۔۔ پھر بھی اسے محسوس ہورہا تھا کہ جیسے سب اسے ہی دیکھ رہے ہیں ۔۔ اس نےایک بار پھر اس کاغذ پر لکھی تحریر پڑھی تھی
’’ انگوٹھی نکال دینے سے نکاح نہیں ختم ہوتا ۔۔ ڈئیر وائف ’’
وہ فوراً سے گاڑی میں بیٹھی اور تیزی سے وہاں سےنکل گئ تھی ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *