Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel NovelR50397 Payar Howa Tha (Episode 7)
No Download Link
Rate this Novel
Payar Howa Tha (Episode 7)
Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel
“مطلب وہ تم تھے زیاد یعنٰی مال میں تم نے مجھے پہلی مرتبہ نہیں دیکھا تھا بلکہ اس دن دیکھا تھا۔۔۔ اور وہ لڑکا جب اسکول بس میں پھول لےکر آیا وہ پھول مجھے تم نے بھیجے تھے۔۔۔ اُف میرے ساتھ ساری ٹیچرز حیران رہ گئی تھی کہ یہ حرکت بھلا کس انسان کی ہے اور میں سگنل کھلنے کی وجہ سے تمہیں دیکھ بھی نہیں پائی”
عرا کے چہرے پر حیرانگی والے تاثرات دیکھ کر زیاد اسمائل دیتا عرا کو دیکھنے لگا
“تب تم تک رسائی حاصل نہیں کر پایا تھا پھر بعد میں پل پل اس لمحے کو یاد کر کے پچھتایا تمہیں ڈھونڈا مگر دو سال بعد تم مجھے اُس دن شاپنگ مال میں دوبارہ نظر آگئی اور تب بھی قسمت نے ساتھ نہیں دیا لیکن اس انویٹیشن کارڈ سے امید بن گئی بہت دعائیں کی تھی میں نے کہ تیسری مرتبہ تم مجھے مل جاؤ”
بیڈ پر عرا کے قریب بیٹھا ہوا وہ عرا کا مہندی سے رچا حنائی ہاتھ پکڑے نرم لہجے میں اسے سب بتانے لگا
“اور تیسری مرتبہ ملنے پر فوراً ہی تم نے آئی لو یو بول دیا”
عرا وہ دن یاد کرتی ہوئی گھور کر زیاد سے بولی جس پر زیاد ہلکا سا ہنسا
“تو محبت کا اظہار کرنے کے بعد ہی تو سارے معاملے تہہ ہوئے اگر اس دن اپنی محبت کا اظہار نہ کرتا تو تم اتنی جلدی میری بیوی بنی میرے کمرے میں نہیں بیٹھی ہوتی”
زیاد عرا سے بولتا ہوا اُس کے مزید قریب آیا
“کیا تمہیں اُس دن میرا آئی لو یو بولنا برا لگا تھا”
وہ عرا کا چہرہ تھامے اس سے پوچھنے لگا زیاد کا لہجہ بات کرنے کا انداز نظروں کا زاویہ ایسا تھا کہ عرا کی پلکیں بےساختہ جھک گئیں
“آج بولو گے تو بالکل بھی برا نہیں لگے گا”
وہ آہستہ آواز میں پلکیں جھکاتی ہوئی بولی اس کی بات پر زیاد کھل کر مسکرا دیا وہ عرا کا تھاما ہوا ہاتھ اپنے چہرے کے قریب لایا
“مگر میں آج صرف لفاظی سے کام نہیں لوں گا تم سے کتنا پیار ہے اور کتنی شدت سے اس پل کا انتظار کیا ہے یہ تمہیں میرے ہر انداز ہر عمل سے معلوم ہوجائے گا”
اس نے عرا سے بولتے ہوئے اس کی پیشانی پر اپنے ہونٹ رکھے زیاد کے ہونٹوں کا لمس اپنی پیشانی پر محسوس کر کے وہ حیا سے اپنے آپ میں سمٹ گئی
“میں آج کی رات یہ پل یہ لمحات اپنے اور تمہارے لیے یادگار بنانا چاہتا ہوں تھینک یو میری زندگی میں آنے کے لیے”
زیاد نے بولتے ہوئے عرا کے گال پر اپنے ہونٹوں کا شدت بھرا لمس چھوڑا جس کی حدت محسوس کر کے اس کا گال دہکنے لگا تو عرا نے شرم سے اپنی آنکھیں بند کرلی
“تھینکس میرا ساتھ قبول کرنے کے لیے”
زیاد عرا کو اپنے بازوں میں بھر کر لہجے میں خماری لیے اس سے بولا
“تھینکس مجھے یہ حسین لمحہ دینے کے لیے”
زیاد عرا کے کان میں پیار بھری سرگوشی کرتا ہوا اس کی گردن پر جھک کر اپنے ہونٹوں سے اس کی شہ رگ کو چھونے لگا اپنی گردن پر زیاد کے ہونٹوں کا لمس محسوس کر کے عرا نے شرماتے ہوئے اپنے لب آپس میں بھینچے۔۔۔ زیاد نے اس کو یوں شرماتے ہوئے دیکھا تو وقت ضائع کیے بغیر اپنے موبائل سے عرا کی تصویر کیپچر کرنے لگا جس پر عرا حیرت سے اس کو دیکھنے لگی
“یار تم اس وقت شرماتی ہوئی اتنی پیاری لگ رہی ہو بعد میں جب میری محبتوں کی عادی ہوجاؤ گی تب شاید روز روز اس طرح کے ایکسپریشن نہ دے پاؤ اس لیے ابھی سے اس وقت کو میں نے اپنے پاس قید کرلیا ہے”
زیاد عرا کے یوں حیرت سے دیکھنے پر اس کو بتانے لگا
“تم کتنے آگے کی سوچ رہے ہو ابھی میں کوئی ایسی بھی نروس نہیں ہو رہی ہوں”
وہ زیاد کو گھورتی ہوئی اپنی جھجھک کو زیاد کے سامنے کم کرتی بولی جس پر زیاد نے مسکراتے ہوئے سائیڈ ٹیبل کی دراز سے ایک خوبصورت سا جیولری کیس نکالا
“ابھی جو آگے ہوگا تب میں آپ کا کانفیڈنس دیکھ لوں گا مسز زیاد سکندر”
زیاد نے معنٰی خیزی سے بولتے ہوئے اس کیس میں موجود خوبصورت سا ڈائمنڈ کا نیکلس نکالا جس پر عرا کی نظریں ٹھہر گئی
“یہ بہت زیادہ خوبصورت لگ رہا ہے زیاد”
عرا بےاختیار اس نازک سے نیکلس کو چھوتی ہوئی بولی جو اس کو پہلی نظر میں ہی اٹریکٹ کیا تھا وہ نیکلس دکھنے میں جتنا نازک اور خوبصورت تھا عرا کو اندازہ تھا وہ کافی مہنگا نیکلس ہوگا جو زیاد نے اس کے لیے لیا تھا
“لیکن میری بیوی کی خوبصورتی کے اگے اس کی خوبصورتی پھیکی پڑ رہی ہے ٹھہرو اب یہ زیادہ خوبصورت لگے گا”
زیاد نے وہ نیکلس عرا کے گلے میں پہنا دیا
“میرے پاس بہت کم تعداد میں قیمتی چیزیں موجود ہیں مگر ان سب چیزوں میں تمہارا دیا ہوا یہ نیکلس میرے لیے بہت زیادہ قیمتی ہے اس لیے نہیں کیونکہ یہ بہت مہنگا ہوگا بلکہ اس لیے کیونکہ یہ تمہاری طرف سے شادی کے بعد دیا جانے والا پہلا تحفہ ہے اِس لیے اِس کی اہمیت میری نظر میں باقی دوسری چیزوں سے بہت زیادہ ہے تھینک یو سو مچ مجھے اس طرح مان بخشنے کے لیے”
عرا کے بولنے پر زیاد کے چہرے پر مسکراہٹ آئی
“میری نظر میں تم سے زیادہ قیمتی شے کوئی دوسری نہیں ویسے اگر تمہیں میرا تھینکس کرنا ہے تو تھوڑا قریب آکر محبت سے کرو بےشک میری طرح نہیں مگر تھوڑی بہت تو محبت دکھاؤ یار تمہارا شوہر ہوں اب میں”
زیاد عرا کو دیکھ کر چھیڑنے والے انداز میں بولا تو عرا اس کی بات کا مفہوم سمجھ کر بلش کر گئی
“تم اس وقت اپنی باتوں سے مجھے کتنا تنگ کررہے ہو زیاد”
عرا کے بولنے پر زیاد ایک مرتبہ دوبارہ ہنسا
“باتوں سے تنگ نہیں کرو تو پھر کسی اور طریقے سے کرلوں اجازت ہے”
زیاد عرا کے نزدیک آتا ہوا سنجیدہ لہجہ اپنائے اس سے پوچھنے لگا وہ جس چیز کی اجازت طلب کررہا تھا عرا کا دل بری طرح دھڑکنے لگا وہ بناء کچھ بولے اپنی نظریں جھکا گئی زیاد نے نرمی سے اس کو باہوں میں لیتے ہوئے عرا کے سر پر سیٹ کیا ہوا دوپٹہ اتار دیا عرا کے دل میں عجیب سی ہلچل مچنا شروع ہوگئی
“بولو خراب کردوں تمہاری لپ اسٹک مائنڈ تو نہیں کروں گی”
زیاد اس کو نروس ہوتا دیکھ کر شوخ بھرے لہجے میں پوچھنے لگا جس پر عرا نظریں اٹھا کر اس کو گھورتی ہوئی بولی
“تم کتنے بدتمیز ہو”
عرا نے جیسے اپنی حالت پر خود رحم کھاتے ہوئے زیاد کو بتایا جو اس کے ہونٹوں پر انگوٹھا پھیر رہا تھا عرا کے منہ سے اپنی تعریف سن کر وہ عرا سے بولا
“مجھ سے پوچھ رہی ہو یا پھر مجھے بتارہی ہو اگر تم مجھ سے پوچھ رہی ہو کہ میں کتنا بدتمیز ہوں تو میری جان سنو تمہارا شوہر بہت زیادہ بدتمیز ہے جس کا اندازہ تمہیں ابھی تھوڑی دیر میں ہوجائے گا”
زیاد نے اس کو اپنے حصار میں لیتے ہوئے اپنے ہونٹ پورے استحاق سے اس کے گلابی ہونٹوں پر رکھ دیے جس پر عرا کا دل بری طرح دھڑکا وہ عرا کے ہونٹوں پر یونہی اپنے ہونٹ رکھے اس کی کمر پر اپنے بازووں سے حصار باندھ کر پیچھے بیڈ پر جھکتا ہوا عرا کو بیڈ پر لٹانے کے بعد اس کی گردن پر جھک گیا۔۔۔ عرا گہری سانس منہ سے خارج کرتی اپنی آنکھیں بند کر کے زیاد کو شانوں سے تھام چکی تھی جو اس کی گردن پر جھکا ہوا جگہ جگہ اپنی محبت کی مہر ثبت کیے دے رہا تھا تبھی دروازے پر ہونے والی دستک نے زیاد کے کام میں خلل ڈالا وہ ایک دم بیڈ سے اٹھ کر عرا کے شرم سے سرخ چہرے پر نظر ڈالتا ہوا کمرے کا دروازہ کھولنے لگا تب تک عرا بھی اپنے حواس درست کرتی اٹھ کر بیٹھ چکی تھی
“بھائی۔۔۔ بھائی وہ ماہی”
دروازہ کھولنے پر عشوہ گھبراہٹ کے مارے اتنا ہی بول پائی
“کیا ہوا ماں کو”
زیاد عشوہ کا گھبرایا ہوا چہرہ دیکھ کر اس سے پوچھنے لگا تو عرا بھی بیڈ سے نیچے اتر کر ان دونوں کے پاس چلی آئی
“معلوم نہیں اچانک ماہی کی طبیعت خراب ہوگئی ہے وہ آپ کو بلا رہی ہیں پلیز آپ جلدی سے اُن کے کمرے میں آجائیے”
عشوہ پریشانی کے عالم میں زیاد سے بولتی ہوئی دوبارہ مائے نور کی کمرے کی طرف بڑھی
“کیا ہوگیا آنٹی کو اچانک۔۔۔ میں بھی چلوں تمہارے ساتھ”
زیاد عشوہ کے پیچھے مائے نور کے کمرے میں جانے لگا تو عرا کی آواز پر زیاد کے قدم تھمے وہ مڑ کر عرا کا چہرہ دیکھنے لگا جس پر فکر چھلک رہی تھی زیاد نے عرا کے گال پر اپنا ہاتھ رکھا
“کبھی کبھار اُن کو انسائٹی (anxity) ہوجاتی ہے کوئی فکر والی بات نہیں ہے میں آتا ہوں تھوڑی دیر میں تم یہی میرا ویٹ کرو”
زیاد عرا کو اپنے انتظار کرنے کا بولتا ہوا مائے نور کے کمرے کی جانب بڑھ گیا تو عرا دوبارہ کمرے میں آگئی اور بیڈ پر بیٹھنے کی بجائے ٹہلتی ہوئی زیاد کے واپس آنے کا انتظار کرنے لگی
***
“ماں کیا ہوا ہے آپ کو مجھے بتائیں کیا محسوس کررہی ہیں آپ”
زیاد مائے نور کے کمرے میں آکر بیڈ کی جانب بڑھتا ہوا نڈھال سے انداز میں بیڈ پر لیٹی ہوئی مائے نور سے پوچھنے لگا جو زیاد کو اپنی جانب آتا دیکھ کر زیاد کے سینے سے لگ کر رونا شروع ہوچکی تھی
“میرا دل بند ہوجائے گا زیاد مجھے لگ رہا ہے کہ میں اب زندہ نہیں رہوں گی میں اکیلی ہوچکی ہوں بالکل تنہا شاید اب میں مرنے والی ہوں”
مائے نور زیاد کے سینے سے لگی خوف کے مارے روتی ہوئی بولی
“جاؤ عاشو تم اپنے کمرے میں جاؤ ماں ٹھیک ہیں میں یہی اُن کے پاس موجود ہوں تم اپنے روم میں جاکر ریسٹ کرو”
زیاد پریشان کھڑی عشوہ سے بولا تو وہ مائے نور کو دیکھتی ہوئی زیاد کی بات مان کر اپنے کمرے میں چلی گئی
“یہاں دیکھیں میری طرف کچھ نہیں ہورہا آپ کو میں آپ کو کچھ نہیں ہونے دوں گا آپ جانتی ہیں ناں آپ کا بیٹا آپ سے کتنی محبت کرتا ہے پھر ایسے کیوں خود کو تنہا محسوس کررہی ہیں میں آپ کے پاس موجود ہوں عاشو آپ کے پاس ہے اب تو ریان بھی واپس آجائے گا پھر آپ کیوں خود کو اکیلا محسوس کررہی ہیں”
زیاد اپنے سینے سے لگی مائے نور کے آنسو صاف کرتا ہوا اسے بالکل بچوں کی طرح ٹریٹ کرنے لگا ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا تھا جب وہ اضطراب کی کیفیت کا شکار ہوئی تھی پہلے بھی اس کی طبیعت یونہی بگڑ جاتی تھی
“بات عاشو یا پھر ریان کی نہیں ہے تم میرے بڑے بیٹے ہو میں تمہیں اپنے سے دور جاتا ہوا نہیں دیکھ سکتی زیاد وہ۔۔۔ وہ تمہیں مجھ سے دور کرنے یہاں آئی ہے وہ تمہیں مجھ سے چھین لے گی میں تمہیں اپنے سے دور ہوتا بالکل نہیں دیکھ سکتی، میں جی نہیں پاؤں گی”
مائے نور نے بولتے ہوئے اب دوبارہ سے رونا شروع کردیا تھا جس پر زیاد پریشان ہوگیا
“ماں آپ نہ جانے کیا سوچ رہی ہیں وہ بیوی ہے میری اور آپ ماں ہیں۔۔۔ مجھے آپ سے کوئی بھی دور نہیں کرسکتا نہ تو عرا نہ ہی کوئی دوسرا۔۔۔ یہ سب بےمعنٰی سی باتیں ہیں آپ ایسا بالکل مت سوچیں”
زیاد مائے نور کو نرمی سے سمجھاتا ہوا بولا
“تم کو اس سے شادی نہیں کرنی چاہیے تھی ذیاد اس کے باپ نے اس رات میرے ساتھ۔۔۔
مائے نور روتی ہوئی بولی زیاد کے چپ کروانے پر بھی وہ مسلسل روئے جارہی تھی
“کچھ نہیں ہوا تھا اس رات۔۔۔
آپ نے ہم تینوں سے بولا تھا ناں اُس رات کا ذکر ہمارے درمیان دوبارہ نہیں ہوگا تو پلیز اب دوبارہ آپ یہ بات مت دہرائیں اس رات کچھ نہیں ہوا تھا ماں کچھ بھی نہیں”
زیاد مائے نور کا چہرہ تھامے ایک ایک لفظ پر زور دیتا ہوا بولا تو مائے نور چپ ہوکر زیادہ کا چہرہ دیکھنے لگی
“وہ رات میرے لیے قیامت سے کم نہیں تھی اس رات میرے ساتھ طارق نے وہ سب کیا جو میں تم لوگوں کو نہیں بتاسکی تھی جو ایک ماں کبھی بھی اپنی بیٹوں سے شیئر نہیں کرسکتی اُس رات اس لڑکی کے باپ نے میری عزت کو پامال کیا تھا تمہاری ماں کی عزت کو پامال کیا تھا اس انسان نے جس کی بیٹی کو تم نے اپنی بیوی بنالیا ہے۔۔۔ اُس رات تم نے آنے میں دیر کردی تھی زیاد بےشک تم نے اُس انسان کو مار ڈالا مگر اس سے پہلے ہی وہ مجھے رسوا کرچکا تھا”
مائے نور کے منہ سے یہ انکشاف سن کر زیاد سکتے اور بےیقینی کی کیفیت میں مائے نور کا چہرہ دیکھنے لگا اس نے اپنے دونوں ہاتھ مائے نور کے چہرے سے ہٹائے اور بیڈ سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا
“جھوٹ۔۔۔ بالکل جھوٹ۔۔۔ ایسا نہیں ہوسکتا اس نے ایسا کچھ نہیں کیا تھا ماں بول دیں پلیز آپ جو بھی بول رہی ہیں وہ سب کچھ جھوٹ ہے ناں” زیاد صدمے کی کیفیت میں مائے نور کو دیکھتا ہوا بولا
“پوری سچائی یہی ہے جو میں آج تمہیں بتارہی ہوں اُس رات تمہاری ماں کی عزت محفوظ نہیں رہی تھی اُس شیطان کے ہاتھوں”
مائے نور زیاد کا چہرہ دیکھتی ہوئی بولی جو اس انکشاف کے بعد تاریک پڑ چکا تھا جنون کی کیفیت میں اچانک ہی اس نے کمرے میں موجود بڑے سائز کی ایل ای ڈی پر زوردار مُکا مارا
“جھوٹ ہے، جھوٹ ہے۔۔۔ بولیں یہ سب جھوٹ ہے ورنہ میں سب کچھ تباہ و برباد کر ڈالوں گا آپ بولیں آپ جھوٹ بول رہی ہیں”
وہ غُصے اور جنونی کیفیت میں چیخنے کے ساتھ ایل ای ڈی پر مُکے مارتے ہوئے اپنا ہاتھ بھی زخمی کرچکا تھا”
مائے نور اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر رونے لگی تب زیاد نے غصے میں روتی ہوئی مائے نور کو دونوں بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کیا
“پہلے کیوں نہیں بتایا آپ نے یہ سب مجھے اور اب کیوں بتارہی ہیں۔۔۔ بولیں”
وہ غُصے میں مائے نور کو بازو سے پکڑ کر چیخا تکلیف کی شدت سے اس وقت زیاد کی آنکھیں جلنے لگی تھی
“میں مانتی ہوں مجھے تمہیں یہ بات اُسی وقت بتانا چاہیے تھی جب تم عرا سے شادی کرنے کی بار بار ضد کررہے تھے لیکن تمہاری آنکھوں میں اُس لڑکی کی محبت دیکھ کر میں بےبس ہوگئی تھی مگر اب اپنے مجرم کی بیٹی کو اپنے بیٹے کی بیوی کی روپ میں دیکھ رہی ہوں تو میرا دل تڑپ رہا ہے مجھے اُس کے باپ کی حرکت یاد آرہی ہے کیسے اس نے مجھے۔۔۔
مائے نور اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی زیاد سے بولی تو زیاد مائے نور کی بات مکمل ہونے سے پہلے اس کے کمرے سے جانے لگا
“اُس لڑکی سے تعلق ختم کرلو ذیاد”
مائے نور کی آواز پر زیاد کے قدم پل بھر میں رکے وہ پلٹے بغیر یا مائے نور کو کچھ بولے بنا اس کے کمرے سے باہر نکل گیا
****
کمرے میں ٹہلتے ہوئے اب اُس کے پاؤں بری طرح شل ہوچکے تھے زیاد کا انتظار عرا اُس کے کمرے میں پچھلے دو گھنٹے سے کررہی تھی مگر زیاد کا کچھ آتا پتہ نہ تھا اِس لیے عرا تھک کر بیڈ پر پاؤں اوپر کر کے پیچھے ٹیک لگاتی ہوئی ریلیکس انداز میں بیٹھ گئی
اس نے ابھی تک نکاح کا ڈریس چینج نہیں کیا تھا ساری جیولری ابھی بھی پہنی ہوئی تھی کیونکہ زیاد نے اس کو اپنا انتظار کرنے کا بولا تھا جبھی عرا دلہن کے روپ میں زیاد کے واپس آنے کا انتظار کرنے لگی اور یونہی بیڈ پر بیٹھے پیچھے سر ٹکائے اس کی آنکھ لگ گئی ایک مرتبہ پھر وہ خواب میں اس شہر سے دور کھنڈر نما قبرستان میں پہنچ چکی تھی
اندھیری رات میں وہ کھلی قبر میں لیٹی ہوئی تھی سر پر بیلچے سے دی جانے والی ضرب اتنی شدید تھی کہ اس کے سر سے خون نکلتا ہوا جو عرا کے چہرے کو بھگوئے جارہا تھا اور وہ کالے لباس میں انسان دوبارہ اپنے چہرے پر مکھوٹا سجا چکا تھا اور مسلسل بیلچے سے اس گہری قبر کو مٹی سے بھر رہا تھا تب اس کی نظر قبر سے باہر زیاد پر پڑی۔۔۔ عرا پریشان ہوکر اس مکھوٹے والے انسان کو دیکھنے لگی اگر زیاد سامنے کھڑا تھا تو اُس مکھوٹے کے پیچھے کس کا چہرہ تھا
“زیاد پلیز مجھے اِس قبر سے باہر نکالو۔۔۔ پلیز مجھے بچالو”
وہ زیاد کی جانب دیکھتی ہوئی اسے مدد کے لیے پکارنے لگی لیکن زیاد بالکل خاموش کھڑا اسے دیکھے جارہا تھا اور مکھوٹے سے چہرہ چھپائے انسان اس کو زندہ دفن کرنے کی جدوجہد میں لگا تھا تب عرا کی آنکھیں اپنی موت کا سوچنے سے پہلے ہی بند ہوچکی تھی شاید وہ امید ہار چکی تھی زیاد کی خاموشی بتارہی تھی وہ اس کی مدد کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا
“نہیں نہیں پلیز نہیں”
سر کو نفی میں ہلاتی ہوئی عرا نیند سے بےدار ہوتی ہڑبڑاتی ہوئی جاگی۔۔۔ پوری آنکھیں کھول کر اُس انجان کمرے کا جائزہ لیتی ہوئی چاروں طرف دیکھنے لگی حواس بحال ہونے پر اُس کو یاد آیا وہ اس وقت زیاد کے کمرے میں موجود زیاد کے واپس لوٹ آنے کا انتظار کررہی تھی گھڑی میں ٹائم دیکھنے پر عرا کو حیرت ہوئی صبح کے پانچ بج چکے تھے یعنٰی رات گزر چکی تھی اور صبح کی آمد ہونے کو تھی مگر زیاد اپنے کمرے میں اُس کے پاس نہیں آیا تھا عرا بیڈ سے نیچے اتر کر آئینے کے سامنے کھڑی اپنے سجے سنورے روپ کو دیکھنے لگی یوں بیٹھ کر سونے سے اس کا جسم اکڑ چکا تھا شدید تھکن کے احساس سے وہ وارڈروب کی جانب بڑھی اور اپنے لیے آرام دہ سوٹ نکالنے لگی کیونکہ کل شام سے وہ نکاح کے لباس میں موجود تھی اپنی ساری جیولری اتار کر آرام دہ لباس زیب تن کیے وہ بیڈ پر ریلیکس انداز میں لیٹ گئی تھوڑی دیر پہلے آنے والا خواب یاد کر کے اُسے عجیب سی گھبراہٹ ہونے لگی
“یہ کوئی عام سا خواب ہوگا اس کا حقیقت سے کیا تعلق ہوسکتا ہے بھلا مجھے زیاد کے بارے میں ایسا نہیں سوچنا چاہیے۔۔۔ عرا دل میں اپنے آپ سے مخاطب ہوتی بولی اور دوبارہ آنکھیں بند کرکے سونے کی کوشش کرنے لگی تھکن کے سبب جلد ہی اُس کی دوبارہ آنکھ لگ گئی
****
مائے نور کے کمرے سے وہ اپنے کمرے میں جانے کی بجائے اسٹڈی روم میں چلا آیا تھا اس کے کانوں میں مسلسل مائے نور کا بولا ہوا جملہ گونج رہا تھا
“اس لڑکی سے تعلق ختم کرلو۔۔۔ اس کے باپ نے میرے ساتھ”
اپنے کانوں میں بار بار گونجنے والی بازگشت سے پریشان ہوکر وہ زور سے دھاڑا
“ول یو شٹ اپ”
اُس کے دھاڑنے کے بعد اسٹڈی روم میں گونجنے والی آوازیں اب بند ہوچکی تھی تب زیاد نے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھاما اور لیدر کے صوفے پر نڈھال سے انداز میں بیٹھ گیا
“کیسے ختم کرلوں اس سے اپنا تعلق۔۔۔ یہ ٹھیک نہیں میں ایسا نہیں کر پاؤ گا”
وہ بےبسی لہجے میں سمائے بولا گھڑی میں بجنے والے گھنٹے کی آواز پر اس نے سر اٹھا کر دیوار پر لگی گھڑی کو دیکھا جہاں صبح کے سات بج چکے تھے رات تمام ہوکر اب صبح میں خود کو ڈھال چکی تھی نہ جانے وہ کتنی دیر سے اسٹڈی روم میں موجود تھا ہارے ہوئے انداز میں اٹھ کر وہ اپنے بیڈ روم میں جانے لگا
****
عرا گہری نیند میں سو رہی تھی تب اسے اپنے چہرے پر انگلیوں کا لمس محسوس ہوا جس کے سبب اُس کی نیند آنکھوں سے رخصت ہوئی عرا نے آنکھیں کھولی تو زیاد کا چہرہ اسے اپنے اوپر جھکا نظر آیا وہ بیڈ پر اس کے بےحد قریب بیٹھا غور سے اُس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا عرا کو آنکھیں کھولتا دیکھ کر زیاد نے عرا کے گال پر رکھا اپنا ہاتھ پیچھے کرلیا
“تم واپس کب آئے”
عرا نے زیاد سے پوچھتے ہوئے اٹھ کر بیٹھنا چاہا تو زیاد نے اس کو کندھے سے پکڑ کر واپس بیڈ کر لٹا دیا
“لیٹی رہو”
اُس کا لہجہ تحکم بھرا اور انداز بےحد عجیب سا عرا نے بےاختیار اپنے کندھے پر موجود زیاد کا ہاتھ دیکھا اس کے ہاتھ میں نرمی کی بجائے سختی کا عنصر شامل تھا جس انداز میں زیاد نے اس کا کندھا پکڑ کر اسے بیڈ پر واپس لٹایا تھا عرا اس کے عجیب و غریب انداز پر حیرت کرتی اس کو دیکھنے لگی
“کیا کچھ ہوا ہے زیاد”
عرا زیاد کا چہرہ دیکھ کر اس سے پوچھنے لگی کیونکہ اُس کے چہرے کا تاثُر بہت عجیب تھا وہ بےحد عجیب انداز میں عرا کو دیکھ رہا تھا جس سے عرا کو خوف سا محسوس ہوا
“بہت برا ہوا ہے جو بھی ہوا ہے۔۔۔ جو مجھے کل رات معلوم ہوا وہ صحیح نہیں تھا ویسا نہیں ہونا چاہیے تھا عرا ویسا اُس رات ہرگز نہیں ہونا چاہیے تھا”
ذیاد عرا سے بولتا ہوا اپنا ہاتھ اپنے چہرے پر پھیرنے لگا عرا نے دیکھا اُس کے ہاتھ کی انگلیاں زخمی تھی عرا اُس کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگی جو اس کی سمجھ سے بالاتر تھی
“ایسا کیا ہوگیا ہے جو تم اتنے پریشان لگ رہے ہو مجھے بتاؤ یہ تمہارے ہاتھ پر کیا ہوا اور آنٹی کی طبعیت کیسی ہے اب”
عرا زیاد کو اس طرح پریشان دیکھ کر اس سے پوچھنے لگی لیکن وہ عرا کی بات کا جواب دینے کی بجائے اب اپنے بالوں میں انگلیاں پھنسائے نچلا ہونٹ دانتوں تلے دباکر کچھ سوچ رہا پھر عرا کی طرف دیکھتا ہوا اچانک اس نے اپنے ہاتھ بالوں سے نکال کر زور سے بیڈ پر مارا تو خوف سے عرا کے منہ سے چیخ نکل گئی وہ سہمے ہوئے انداز میں دائیں جانب چہرہ کرکے اُس کے مضبوط ہاتھ کو دیکھنے لگی جو اب بیڈ پر موجود گلاب کی پتیوں کو اپنی مٹھی میں بھر کر انہیں مسل رہا تھا عرا نے یونہی بیڈ پر لیٹے ہوئے زیاد کی جانب دوبارہ دیکھا وہ اُس کے چہرے پر خوف کی پرچھائیاں دیکھنے لگا انگلیوں پر موجود جمے ہوئے خون سے اب پھولوں کی پتیاں بھی آہستہ آہستہ خون سے رنگنا شروع ہوگئی۔۔۔ عرا کو آج صبح دیکھا ہوا خواب یاد آنے لگا
“کیا ہوا ڈر لگ رہا ہے مجھ سے”
وہ عرا کا چہرہ دیکھتا ہوا اُس سے پُرسکون انداز میں پوچھنے لگا جس پر نہ تو عرا نے اقرار کیا تھا نہ ہی انکار۔۔۔ زیاد کا یہ بدلا ہوا انداز لب و لہجہ سب ہی مختلف تھا بہت عجیب سا۔۔ زیاد اپنے ہاتھوں میں پھولوں کی سرخ پتیوں کو عرا کے چہرے پر گرا کر اپنے ہاتھ اس کے چیرے پر رگڑنے لگا زیاد کی عجیب و غریب حرکت پر عرا نے ڈر کر رونا شروع کردیا
“زیاد تمہیں اچانک کیا ہوگیا ہے مجھے ڈر لگ رہا ہے تم سے پلیز اس طرح مت کرو”
عرا میں اُٹھ کر بیٹھنے کی یا پھر زیاد کو روکنے کی ہمت نہ تھی وہ یونہی لیٹی ہوئی سسکتی ہوئی زیاد سے بولی
زیاد نے عرا کو روتا ہوا دیکھا تو اپنا ہاتھ اُس کے چہرے سے ہٹالیا عرا اپنا چہرا صاف کرتی اٹھکر پیچھے بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔۔۔ ذیاد عرا کے ڈرے سمہے وجود کو دیکھنے لگا وہ اپنے سامنے موجود اِس لڑکی کو روتا ہوا نہیں دیکھ سکتا تھا نہ اُس کا دل دکھانا چاہتا تھا مگر جو کچھ اُسے مائے نور سے پتہ چلا تھا زیاد کو دل چاہ رہا تھا وہ سب کچھ تہس نہس کر ڈالے پھر اُس نے ایسا ہی کیا۔۔۔
چاروں طرف سے پھولوں سے سجایا ہوا بیڈ اور سفید جالی کے پردے بیڈ سے اکھاڑ ڈالے۔۔۔ ڈریسنگ ٹیبل پر موجود سجے ہوئے پھولوں کو بھی ہاتھ مار کر دور پھینکا تو عرا اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھتی خود اپنی چیخوں کو روکنے کی کوشش کرنے لگی زیاد نے خوف سے سسکتی ہوئی عرا کو دیکھ کر ہاتھ میں پکڑا ہوا کرسٹل کا ڈیکوریشن پیس پھنکنے کی بجائے واپس رکھا اور چلتا ہوا عرا کے پاس آنے لگا عرا زیاد کو اپنے پاس آتا دیکھ کر بری طرح کانپنے لگی
“کیوں ڈر رہی ہو مجھ سے تمہیں کیا لگ رہا ہے میں تمہیں نقصان پہچاؤ گا۔۔۔ میں تمہیں ہرٹ نہیں کرسکتا یو آر مائے لو کم ہیر ادھر آؤ میرے پاس”
زیاد عرا کو اپنے سے خوفزدہ دیکھ کر اس کو بازو سے پکڑ کر بیڈ سے اٹھاتا ہوا اپنے بازوں میں بھر چکا تھا
“میں نے۔۔۔ میں نے رات میں ویٹ کیا تمہارا پر تم نہیں آئے تو میری آنکھ لگ گئی تھی”
عرا زیاد کے سینے سے لگی اُس کو بتانے لگی عرا کو یہی وجہ سمجھ آئی تھی اُس کے شدید غصے کی کیوکہ زیاد نے جانے سے پہلے اُسے اپنا انتظار کرنے کو کہا تھا مگر وہ لباس تبدیل کرکے سو چکی تھی یہی وجہ ہوسکتی تھی جو زیاد کو غصہ آگیا ہو۔۔۔ عرا کی بات سن کر وہ عرا کے ریشمی سنہری بالوں کو چومتا ہوا بولا
“اچھا کیا سو گئی تھی اِٹس اوکے میں تم سے خفا نہیں ہوں جاؤ جاکر فریش ہو آؤ پھر بریک فاسٹ کرنے کے لیے چلتے ہیں”
اب کی مرتبہ بات کرتے ہوئے زیاد کا لہجہ نارمل تھا عرا اس کے سینے سے سر اٹھاکر زیاد کو دیکھنے لگی عرا کے یوں دیکھنے پر زیاد نے مسکرانے کی کوشش کی
“آئی لو یو میری جان لو یو سو مچ”
زیاد عرا کے گال کو اپنی انگلیوں سے چھوتا ہوا اسے یقین دلانے لگا کہ وہ اس سے پیار کرتا ہے وہ بھلا اِس لڑکی کو کیسے ہرٹ کرسکتا تھا کیسے اُس معصوم لڑکی کو اُس کے باپ کے کیے کی سزا دیتا جسے یہ تک معلوم نہ تھا کہ اب اُس کا باپ اِس دنیا میں نہیں۔۔۔ کل رات مائے نور سے حقیقت جان کر بھی زیاد کے دل یا ضمیر نے گوارا نہیں کیا کہ وہ عرا سے اُس کے باپ کی حرکت کا بدلہ لے لیکن اپنے اندر کی بےبسی اور غصہ وہ پھر بھی نکال گیا
عرا زیاد کے یوں اچانک بدلے رویہ پر خاموشی سے بناء کچھ بولے زیاد کا چہرہ دیکھنے لگی عرا کو محسوس ہوا جیسے کل رات زیاد اپنے کمرے سے جانے کے بعد کچھ بدل سا گیا تھا عرا کو اس کے اس رویہ کی وجہ سمجھ نہیں آئی اب وہ خاموشی سے زیاد کی زخمی انگلیاں دیکھ رہی تھی مگر کچھ بولی نہیں
“ایسے کیا دیکھ رہی ہو میں وہی زیاد ہوں جو تم سے پیار کا دعوا کرتا ہے اور یہ کچھ نہیں ہوا میرے ہاتھ کو معمولی سے چوٹ ہے بس”
زیاد عرا کا چہرا دیکھ کر نرمی سے اُسے بولا
“میں شاور لےکر آتی ہوں”
عرا زیاد کی بات کا جواب دیے بغیر بولی اور وارڈروب سے کپڑے نکالنے لگی تو زیاد بیڈ پر لیٹ کر گہری سوچ میں ڈوبا چھت کو گھورنے لگا عرا نے واش روم جانے سے پہلے ایک نظر زیاد پر ڈالی وہ غائب دماغی میں لیٹا ہوا تھا جیسے اس وقت کمرے میں موجود نہ ہو عرا اس کو دیکھ کر بناء کچھ بولے شاور لینے چلی گئی
****
شاور لینے کے بعد عرا واپس آئی تو کمرا پہلے کی طرح سمٹا ہوا تھا ہر چیز ترتیب سے موجود تھی زیاد نے خود بھی لباس تبدیل کیا ہوا تھا… اس کے آنے سے پہلے شاید وہ اپنے زخمی ہاتھ پر آئینمنٹ لگا رہا تھا عرا کو دیکھ کر ہاتھ میں پکڑی ٹیوب دراز میں رکھتا وہ مکمل طور پر عرا کی جانب متوجہ ہوا
“چلیں”
عرا آئینے کے سامنے کھڑی بالوں کو برش کرنے کے بعد زیاد سے بولی
“ایسے نہیں میری جان۔۔۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے مجھے تمہارا سجا سنورا روپ اچھا لگتا ہے۔۔۔ پہلے صحیح سے ریڈی ہو میرے لیے”
زیاد عرا سے بولتا ہوا خود صوفے پر بیٹھ گیا اور عرا کو تیار ہوتا دیکھنے لگا ڈریس کی مناسبت سے لائٹ سی جیولری پہننے کے بعد وہ ہلکا پھلکا میک اپ کرتی تیار ہوچکی تھی تب زیاد صوفے سے اٹھ کر عرا کے پاس آیا
“یو ار لوکنگ سو بیوٹی فل” ستائشی نظروں سے عرا کا جائزہ لیتا ہوا ٹیبل پر موجود اپنا دیا ہوا نیکلس عرا کو پہنانے لگا عرا نے اُس کے انداز میں اپنائیت تو محسوس کی تھی مگر کل رات والی شوخی اب اُس کے انداز میں دور دور تک موجود نہ تھی
“مجھے اچھا لگتا ہے تمہارا یہ سجا سنورا روپ میرے لیے زور اسی طرح سج سنور کر رہنا۔۔۔ آؤ باہر چلتے ہیں”
ذیاد عرا کو دیکھتا ہوا بولا عرا نے اپنا سر زیاد کی بات میں ہلاتے ہوئے اس کے بڑھائے ہوئے ہاتھ اپنا ہاتھ رکھ دیا جسے تھام کر زیاد کمرے سے باہر نکل گیا
****
“اب کیسی ہے ماہی آپ کی طبیعت”
عشوہ ڈائینگ ہال میں آئی تو ناشتے کی ٹیبل پر مائے نور کو پہلے سے موجود پایا کرسی کھینچ کر بیٹھتی ہوئی عشوہ مائے نور سے اس کی طبیعت پوچھنے لگی
“کل رات کافی اسٹریس فیل کررہی تھی لیکن اب بہتر ہوں مگر تم کیوں اس قدر ڈسٹرب لگ رہی ہو کیا نیند پوری نہیں ہوئی تمہاری”
مائے نور اس وقت ہشاش بشاش سی عشوہ کے سامنے بیٹھی ہوئی عشوہ کو جواب دینے کے ساتھ اس کی آنکھیں دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی جو نیند کی خماری لیے ہوئی تھی
“ڈسٹرب نہیں ہوں ایسا لگ رہا ہے انتظار طویل ہوچکا ہے نہ جانے ریان کب آئیں گے کب اُن کو اپنے سامنے دیکھ سکوں گی کل رات سے یہی سوچے جارہی ہوں”
عشوہ کی بات سن کر مائے نور مسکرائی
“بےفکر رہو ڈارلنگ جب ریان آجائے گا تو اُس کو واپس جانے نہیں دو گی نہ اِس ملک سے نہ تمہاری زندگی سے”
مائے نور کی بات پر عشوہ دل سے مسکرائی تبھی ڈائینگ ہال میں زیاد چلا آیا جس کی طرف دیکھ کر مائے نور مسکرائی مگر زیاد کے ساتھ عرا کو دیکھ کر اُس کے لب واپس سکڑ گئے اور زیاد کے ہاتھ میں عرا کا ہاتھ دیکھ کر مائے نور کا موڈ خراب ہونے لگا کل رات اتنا سب کچھ جاننے کے باوجود اُس کا فرمابردار بیٹا اب بھی اِس لڑکی کا ہاتھ تھامے ہوئے تھا یہ بات مائے نور کو پسند نہیں آئی
“مارننگ ماں”
زیاد عرا کا ہاتھ چھوڑ کر مائے نور کی جانب بڑھا معمول کی طرح اپنائیت سے اس کے بالوں پر بوسہ دیتا ہوا اسے سلام کرنے لگا جس پر مائے نور مسکرائی
“اب کیسی طبیعت ہے آپ کی آنٹی”
سلام کے بعد عرا کے پوچھنے پر مائے نور نے عرا کی جانب احسان کرنے والے انداز میں دیکھا
“بہتر”
سلام کا جواب دیئے بغیر وہ عرا کو ایک لفظ بول کر ناشتے میں مصروف ہوگئی اس کے تاثرات بالکل سنجیدہ ہوگئے مائے نور کا رویہ عرا کے ساتھ عشوہ اور زیاد کو بھی محسوس ہوا
“سٹ”
زیاد عرا کے لیے کرسی کھینچ کر اس کو بیٹھنے کا بولتا ہوا خود عرا کے برابر والی کرسی پر بیٹھ گیا خود ہی وہ پلیٹ اٹھا کر عرا کی پلیٹ میں ناشتہ کے لوازمات ڈالنے لگا عرا نے نظریں اٹھاکر زیاد کا چہرا دیکھا جو حد سے زیادہ سنجیدہ تھا ایک نظر اس نے مائے نور پر ڈالی جو ناشتہ کرتے ہوئے ایسے ظاہر کررہی تھی جیسے بہت مجبوری میں وہاں بیٹھی ہو عرا کی نظریں عشوہ پر جا ٹہری جو اُسی کو دیکھ رہی تھی اچانک ایک دوسرے سے نظریں ملنے پر عشوہ مسکرائی
“واؤ یہ نیکلس بہت خوبصورت لگ رہا ہے تمہارا”
عشوہ عرا کے گلے میں موجود اس کے نیکلس کی تعریف کرتی ہوئی بولی جس پر مائے نور نے بھی سر اٹھا کر عرا کی جانب دیکھا
“تھینکس یہ مجھے زیاد نے کل رات گفٹ کیا تھا”
عرا اسمائل دے کر آہستہ آواز میں عشوہ کو بتانے لگی عرا کے منہ سے یہ بات سن کر مائے نور زیاد کو دیکھنے لگی جو اپنی جانب مائے نور کی اٹھتی نظریں دیکھ کر اپنی پلیٹ میں املیٹ رکھنے لگا جبکہ مائے نور نے دوبارہ عرا کے چہرے پر دیکھا اُس کے چہرے پر مسکراہٹ سجی ہوئی تھی مائے نور کا دل چاہا وہ اِس لڑکی کے چہرے پر سجی اس مسکراہٹ کو نوچ ڈالے
“اٹس رئیلی بیوٹی فل کاش کہ یہ نیکلس میرا ہوجائے کیا ایسا ممکن ہے”
مائے نور کے منہ سے یہ جملہ سن کر عرا، زیاد اور عشوہ تینوں ہی اُس کی جانب دیکھنے لگے جبکہ مائے نور ابرو اچکا کر زیاد کو دیکھنے لگی زیاد اپنی ماں کی بات جان گیا اس نے ایک سنجیدہ نظر عرا کے چہرے پر ڈالی پھر اس سے بولا
“عرا یہ نیکلس اتار کر ماں کو دے دو”
پہلے تو عرا کو مائے نور کی بات تھوڑی عجیب سی لگی تھی مگر اب جو زیاد اس کو بول رہا تھا وہ مائے نور کی بات سے بھی زیادہ عجیب تھی یہ نیکلس تو اس کی منہ دکھائی کا تحفہ تھا اور منہ دکھائی کا تحفہ جو شوہر کی جانب سے ملا ہو وہ بھلا کیسے کسی دوسرے کو دیا جاسکتا تھا
“مگر زیاد یہ تو تمہارا دیا ہوا ویڈنگ گفٹ ہے”
بےحد آہستگی سے عرا نے زیاد کے سامنے اعتراض کرتے ہوئے بولا جس پر زیاد نے آنکھیں دکھاتے ہوئے عرا کو گھورا
“سنا نہیں تم نے میں کیا بول رہا ہوں فوراً اتارو اسے”
زیاد کا لہجہ سخت اور انداز حکم دیتا ہوا تھا عرا اس کے گھورنے پر ہی سہم گئی تھی خاموشی سے اپنے گلے میں پہنا ہوا نیکلس اتارنے لگی جسے اتارنے ہوئے نہ صرف اسے خود برا محسوس ہورہا تھا بلکہ سامنے بیٹھی عشوہ کو بھی افسوس ہوا جانے کیوں اس نے اس نیکلس کی تعریف کردی اور عرا کی شادی کی پہلی صبح ہی اس کے ساتھ ایسا سین کری ایڈ ہوگیا
عرا نے نیکلس اتار کر بناء کچھ بولے اسے زیاد کی جانب بڑھایا زیاد نے عرا سے نیکلس لیتے ہوئے اس کے بجھے ہوئے چہرے پر ایک خاموش نظر ڈالی اور کرسی سے اٹھ کر وہ مائے نور کی جانب بڑھا جو اس ساری صورتحال کو بہت خوش ہوکر دیکھ رہی تھی خاص طور پر عرا کا چہرے، جہاں اب مسکراہٹ نہیں تھی زیاد خود سے ہی مائے نور کو نیکلس پہنانے لگا جس پر مائے نور فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ عرا کو دیکھنے لگی عرا کی نظریں زیاد سے ہوتی مائے نور کے چہرے پر سجی مسکراہٹ سے ٹکرائی عرا کو محسوس ہوا جیسے مائے نور کی مسکراہٹ اُس کا مذاق اڑا رہی تھی
“ایکسکیوز می”
عرا آہستگی سے بولتی ہوئی کرسی سے اٹھی اور زیاد کے کمرے کی جانب بڑھ گئی زیاد نے عرا کو جاتے ہوئے دیکھا اسے برا محسوس ہوا تھا جبھی وہ بھی عرا کے پیچھے جانے لگا
“زیاد واپس آکر بریک فاسٹ کملیٹ کرو اپنا”
زیاد کے قدم مائے نور کی آواز پر رکے
“آپ ناشتہ شروع کریں میں آتا ہوں تھوڑی دیر میں”
زیاد مائے نور سے بولتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا تو مائے نور نے غصے میں سر جھٹکا
“اب تم کہاں جارہی ہو اپنا ناشتہ تو مکمل کرلو”
ٰعشوہ کے اٹھنے پر مائے نور اس سے بولی
“بھر گیا پیٹ”
وہ مائے نور کی طرف دیکھتی ہوئی بولی
“عاشو واپس بیٹھو اور خبردار جو اب تم اس نے معمولی سی لڑکی سے بات کی۔۔۔ میرے بیٹے کی دی ہوئی چیز پر ایسے خوش ہورہی تھی جیسے اپنے باپ کے گھر سے لائی ہو”
مائے نور نہوست سے بول کر سر جھٹکتی ہوئی ناشتہ کرنے لگی عشوہ بھی خاموشی سے اپنا ناشتہ کرنے لگی
****
