Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel NovelR50397 Payar Howa Tha (Episode 6)
No Download Link
Rate this Novel
Payar Howa Tha (Episode 6)
Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel
پچھلی بار کے مقابلے میں اِس مرتبہ وہاں آنے پر ماحول عجیب سے تناؤ کی شکل اختیار کیے ہوئے تھا مائے نور ٹانگ پہ ٹانگ رکھے لٹ مارے انداز میں صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی تو عالیہ نے بھی اُن لوگوں کی دوبارہ آمد پر کوئی خوش اخلاقی کا مظاہرہ نہیں کیا تھا وہ بھی بےزار سے انداز میں صوفے پر بیٹھی دکھائی دے رہی تھی زیاد نے ہی خود سے دو سے تین مرتبہ کوئی بات کی تھی جس کا عالیہ نے ہاں ہوں کر کے جواب دیا اور پھر خاموش ہوکر بیٹھ گئی تزئین ٹیبل پر چائے کے ساتھ چند لوازمات رکھ کر جاچکی تھی مائے نور نے کسی بھی چیز کو ہاتھ نہیں لگایا تھا اور نہ ہی عالیہ نے اخلاقاً اُس کو کچھ لینے کے لیے کہا تھا زیاد نے آگے بڑھ کر چائے کا کپ اٹھالیا تھا تب کچھ دیر بعد کمرے میں مائے نور کی آواز گونجی
“آپ عرا کو بلوالیں ہمیں کہیں اور بھی جانا ہے ہم لیٹ ہورہے ہیں”
وہ کلائی پر باندھی گھڑی میں ٹائم دیکھ کر بےزار سے انداز میں بولی تو زیاد مائے نور کو دیکھنے لگا
“تزئین عرا کو یہاں بھیج دو”
عالیہ نے مائے نور کو جواب دیے بغیر وہی بیٹھے بیٹھے تزئین کو آواز لگائی تو زیاد نے بےدلی سے چائے کا کپ واپس رکھ دیا چند سیکنڈ بعد ڈرائینگ روم میں عرا آئی تو زیاد کی مسکراتی نظروں نے اُس کو دیکھا وہ بلیک اینڈ وائٹ کلر کے قمیض ٹراوذر میں سمپل سی اسے اپنے دل میں اترتی محسوس ہوئی
“السلام علیکم آنٹی کیسی ہیں آپ”
عرا شناسائی بھری مسکراہٹ سے مائے نور سے ملنے آگے بڑھی تو مائے نور نے اُٹھ کر اُس سے ملنے کی زحمت نہیں کی بلکہ رکھائی سے بناء مسکرائے اُس کے سلام کا جواب دیا۔۔۔ عرا جو توقع کررہی تھی کہ مائے نور اٹھ کر اسے گلے لگا کر بچپن کی طرح خوشی سے مسکرا کر ملے گی مگر ایسا کچھ نہ ہوا تھا اس نے ہچکچاتے ہوئے خود ہی مائے نور کے آگے مصافے کے لیے ہاتھ بڑھایا جس پر مائے نور نے اس کے ہاتھ کو ہلکا سا چھو کر پیچھے کرلیا عالیہ نے اس ردِ عمل پر ناگواری سے اپنا سر جھٹکا جبکہ زیاد بڑی حیرت سے مائے نور کا یہ انداز دیکھنے لگا اسے دلی طور پر مائے
نور کے اس رویے پر دکھ پہنچا تھا
“اب یونہی سر پر کھڑی رہوگی کیا اپنی آنٹی کہ ارے جتنا انہوں نے ملنا تھا مل لیا اب ٹک بھی جاؤ صوفے پر”
عرا کی مائے نور سے انسلٹ ہوتے دیکھ کر عالیہ بھی مروت کیے بغیر عرا کو انہی لوگوں کے سامنے گھرکتی ہوئی بولی تو عرا شرمندہ سی ایک سرسری نظر زیاد پر ڈال کر ٹیبل کے پاس آئی
“آپ لوگوں نے تو کچھ لیا ہی نہیں”
عرا ٹیبل پر رکھے لوازمات کو دیکھ کر بولی اور چائے کا کپ اٹھاکر مائے نور کی طرف بڑھانے لگی
“رہنے دو اِن تکلفات کی ضرورت نہیں ہے ہم بس یہاں رشتے کی بات کرنے آئے تھے تمہاری پھپھو سے”
مائے نور نے ہاتھ کے اشارے سے عرا کو روک کر عالیہ کو دیکھتے ہوئے جتایا تو زیاد لب بھینچ کر ضبط کرتا ہوا مائے نور کو دیکھنے لگا عرا چائے کا کپ واپس رکھ کر خاموشی سے سنگل صوفے پر بیٹھ گئی
“رشتہ کی بات کیا کرنی ہے بہن بس لڑکا لڑکی ہی راضی ہیں جبھی آپ کا بیٹا یہاں آپ کو دوبارہ لےکر آگیا ہے جو آپ لوگوں کی ڈیمانڈ ہو وہ آپ بتادیئے گا اپنی حیثیت کے مطابق جتنا مجھ سے ہوسکا میں پوری کرنے کی کوشش کرو گی”
عالیہ مائے نور کے رشتے والی بات پر طنزیہ لہجے اختیار کرتی ہوئی بولی اور جہیز کے متعلق پوچھنے لگی
“واٹ ڈیمانڈ، اگر ڈیمانڈ سے مطلب آپ جہیز سے ریلیٹ کوئی بات کررہی ہیں تو ہمارے خاندان میں لڑکی والوں سے جہیز لینے کا رواج نہیں ہے اور ویسے بھی اللہ کا دیا ہمارے پاس سب کچھ موجود ہے بس آپ اتنا بتادیں کہ ہمہیں رخصتی کے لیے کب آنا ہوگا دوبارہ”
مائے نور نامحسوس گرد اپنی شرٹ پر سے جھاڑتی ہوئی عالیہ کو دیکھ کر بولی تو عرا نے نظریں اٹھاکر ایک نظر زیاد پر ڈالی جو مسلسل ضبط کیے خاموشی سے بیٹھا اپنی ماں کا انداز دیکھ رہا تھا لیکن مائے نور زیاد کو مکمل طور پر نظر انداز کرتی عالیہ کو دیکھتی ہوئی بات کررہی تھی اور عالیہ ناک منہ چڑا کر صوفے پر بیٹھی ہوئی بےزار سے انداز میں مائے نور کی باتوں کا جواب دے رہی تھی بھلا ایسے رشتہ کب اور کہاں ہوتے ہیں عرا نے سوچتے ہوئے بےدلی سے دوبارہ اپنا سر جھکالیا اور اپنے ہاتھ میں موجود زیاد کی پہنائی ہوئی انگوٹھی دیکھنے لگی
“ایسا کریں آپ لوگ اتوار کو عرا کو لینے یہاں آجائیں اُس دن زیاد کی آفس سے چھٹی بھی ہوگی وہ مصروف بھی نہیں ہوگا تب ہی گھر میں سادگی سے نکاح کے بعد ہم عرا کی رخصتی کردیں گے”
مائے نور اگر کم نہ تھی تو عالیہ نے بھی کوئی کثر نہیں چھوڑی تھی اس کے مقابلے میں آنے کی اس طرح شادی اور اتنی جلدی رخصتی کا سن کر کمرے میں موجود نفوس عالیہ کو دیکھتے رہ گئے
“اتنی جلدی بارات آئی مین ایسے کیسے پاسیبل ہوسکتا ہے ابھی تو میرا چھوٹا بیٹا بھی پاکستان میں موجود نہیں ہے ایسے ہمارے ہاں شادیاں نہیں ہوتی ہیں نو وے ہر فنکشن پراپر طریقے سے ہوگا ود گڈ پریزنٹیشن شادی کے ایونٹ کم سے کم بھی چھ سے سات ہوگیں پراپر ارینجمنٹ کے ساتھ”
مائے نور عالیہ کے خیال کو رد کرتی ہوئی بولی مگر اب کی مرتبہ زیاد گفتگو میں حصہ لیتا ہوا بولا
“ٹھیک ہے ہم سنڈے کے دن یہاں عصر کے بعد آجاتے ہیں تب ہی نکاح کے بعد عرا کو اپنے ساتھ رخصت کرکے لے جائیں گے”
زیاد کی بات سن کر مائے نور کے ساتھ عرا بھی حیرانگی سے اُس کو دیکھنے لگی مگر اب زیاد عالیہ کی طرف دیکھتا ہوا اس کی اگلی بات کا جواب دیتا ہوا حق مہر اور دوسری باتیں طے کررہا تھا
****
“کیا مطلب وہاں سب کچھ اتنی جلدی طے بھی کرلیا تم نے ایسی کیا آفت پڑی تھی یار تھوڑا انتظار تو کرلیتے میری فلائٹ منڈے کو تھی یعنٰی تمہارے نکاح والے دن کے اگلے ہی دن میرا پاکستان آنا ہوگا”
ریان جیولری شاپ سے زیاد کی بیوی کے لیے خوبصورت سا ڈائمنڈ کا پینڈن لےکر ابھی باہر نکلا تھا تب موبائل پر زیاد کی بات سن کر وہ افسوس کا اظہار کرتا ہوا بولا۔۔۔ اس وقت وہاں نیویارک کی نائٹ لائف پوری طرح بےدار نظر آرہی تھی
“میں نے اکیلے کچھ تہہ نہیں کیا تھا اُس کی پھپھو کی مرضی پر صرف اپنی رضامندی دی ہے ورنہ ماں تو کسی بھی معاملے میں کچھ خاص دلچسپی نہیں لے رہی تھیں”
زیاد آفس سے جلدی نکلتا ہوا کار ڈرائیو کرنے کے ساتھ ریان کو بتانے لگا جس طرح کے ماحول میں وہاں اس کے رشتے کی بات چیت چل رہی تھی زیاد کو یہی مناسب لگا تھا کہ وہ اتوار کے دن سیدھے سادے طریقے سے نکاح کے بعد عرا کو رخصت کرکے اپنے ساتھ لے آتا اگر وہ مائے نور کی بات کو اوپر رکھتا ہوا سارے فنکشنز کو ترتیب دیتا تو جتنے دن فنکشن ہوتے اتنے ہی دن مائے نور اور عرا کی پھپو کے درمیان مذید باتیں نکل کر دوسرے لوگوں کے بھی سامنے آتیں
“ماں اور تمہارے کسی معاملے میں انٹرسٹ نہ لیں یہ تو میں مان ہی نہیں سکتا زیاد سکندر ویسے سب کچھ ٹھیک ہے ناں پاکستان میں”
ریان اپنی گاڑی میں بیٹھتا ہوا سیٹ بیلٹ باندھ کر زیاد سے پوچھنے لگا اب وہ مونٹی کو راستے سے لیتا ہوا اپنے اپارٹمنٹ میں جانے کا ارادہ رکھتا تھا
“ہاں یار سب ٹھیک ہے بس تم جلدی سے یہاں آجاؤ مین ایونٹ تو ریسپشن کا ہے جو تمہاری موجودگی میں ہوگا نکاح تو بس گھر کے چند افراد پر مشتمل سادہ سی تقریب ہے”
زیاد ریان سے بولتا ہوا کال رکھ چکا تھا کیونکہ سامنے عرا کی پھپھو کا گھر موجود تھا آج اسے عرا کو نکاح کے ڈریس کے لیے اپنے ساتھ لےکر جانا تھا
***
“اندر آؤ گے”
عرا ذیاد کی کار سے باہر نکلنے سے پہلے اس پوچھنے لگی وہ عرا کو اپنا من پسند ڈریس دلوا کر اِس وقت عرا کو اُس کے گھر چھوڑنے آیا تھا
“تم دل سے چاہ رہی ہو کہ میں تمہارے گھر آؤں یا اخلاقاً مجھ سے آنے کا پوچھ رہی ہو”
زیاد عرا کا چہرہ دیکھتا ہوا اچھے موڈ میں اُس سے پوچھنے لگا جس پر عرا ہلکا سا مسکرائی
“میں دل سے چاہ رہی ہوں تم تھوڑی دیر کے لیے گھر آجاؤ”
عرا مسکراتی ہوئی آنکھوں میں نرم تاثر لیے زیاد سے بولی جس پر وہ بھی مسکرا دیا
“تمہاری پھپھو تو مائنڈ نہیں کریں گی میرے آنے پر”
زیاد تھوڑا کنفیوز ہوکر عرا سے پوچھنے لگا جس پر عرا اپنی ہنسی چھپا نہ سکی
“مجھے لگ رہا ہے تم تھوڑا سا ڈر سے گئے ہو میری پھپھو سے”
عرا کے بولنے پر زیاد خود بھی ہنسا
“غلط زیاد سکندر اور کسی سے ڈر جائے ایسا ناممکن ہے”
زیاد بولتا ہوا خاموش ہوا تو عرا اُس کی کار سے نیچے اتر گئی زیاد بھی سارے شاپنگ بیگز لےکر کار سے باہر نکل آیا
“سنو پھپھو اِس وقت گھر پر موجود نہیں ہیں”
عرا کے اطلاع دینے پر وہ ہنستا ہوا عرا کو دیکھنے لگا
“جبھی تم نے اتنی دلیری دکھاتے ہوئے مجھے گھر آنے کی آفر کی ہے ورنہ تو عرا اپنی پھپھو سے بہت زیادہ ڈرتی ہے”
زیاد عرا کو دیکھتا ہوا شرارت سے بولا جس پر عرا مسکراتی ہوئی گھر کا دروازہ کھولنے لگی وہ دونوں گھر کے اندر داخل ہوئے
“یہ بتاؤ کیا لو گے چائے یا کافی”
عرا زیاد کے ہاتھ سے سارے شاپنگ بیگز لےکر ایک سائیڈ پر رکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی تبھی زیاد نے اس کو بازو سے پکڑ کر اپنا دوسرا ہاتھ عرا کی کمر میں حمائل کرکے عرا کو خود سے قریب کیا
“نہ چائے نہ کافی بس ایک عدد کس”
زیاد اس کے ہونٹوں کو دیکھتا ہوا عرا سے بولا تو عرا کا دل اُس کی بےباکی پر زور و شور سے دھڑکا
“تم فری ہورہے ہو”
عرا زیاد کو اپنے اس قدر نزیک دیکھ کر نروس ہوتی بولی ساتھ ہی اس نے اپنے چہرے کا رخ دوسری جانب کیا جتنا قریب وہ اس وقت کھڑا اس کو جس انداز میں دیکھ رہا تھا عرا کا دل اندر ہی اندر بری طرح دھڑکنے لگا وہ زیاد کی جانب دیکھنے سے گرہیز کرنے لگی
“اپنی ہونے والی بیوی سے فری ہونا کوئی بری بات تو نہیں۔۔۔ اور چائے کافی کی آفر تم نے ہی کی لیکن اس وقت مجھے جو چاہیے وہ میں نے تمہیں بتادیا”
زیاد نے عرا کا بازو چھوڑ کر اُس کا چہرہ اپنی جانب کیا
“تم بھول رہے ہو میں ابھی صرف ہونے والی بیوی ہوں ہوئی نہیں ہوں اس لیے ابھی تمہارا فری ہونا نہیں بنتا اور چائے یا کافی کا پوچھنا مہمان نوازی کی علامت ہوتا ہے اس لیے میں نے تم سے پوچھا”
عرا آرام سے اس کے حصار سے نکلتی ہوئی بولی تو زیاد کافی بدمزہ سا ہوا
“یعنٰی تم اچھی مہمان نواز نہیں ہو لگتا ہے شادی کے بعد تمہں مہمان نوازی کے گُر بھی سیکھانے پڑے گیں۔۔۔ اوپر سے اتنے دن گزر چکے ہیں معلوم نہیں یہ سنڈے اب کی مرتبہ کیو اتنا لیٹ ہوگیا ہے یار”
زیاد کے بےقرار لہجے پر عرا کو ہنسی آگئی
“اچھا اداس مت ہو تمہیں یہ ڈریس اور جیولری پہن کر دکھاتی ہو”
عرا زیاد کی بات کو اگنور کرتی ہوئی اس کی توجہ اپنے نکاح والٹ ڈریس کی طرف دلاتی ہوئی زیاد سے بولی
“کوئی ضرورت نہیں ہے اس طرح تو تم میرے جذبات کو مزید ہوا دو گی”
زیاد کے بولنے پر عرا نفی میں سر ہلاتی ہوئی مسکرانے لگی
“اگر میں تمہیں اس دن مال میں نہیں ملتی تو پھر تم کس سے شادی کرتے”
عرا زیاد کو دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی تو زیاد نے آہستگی سے دوبارہ اس کی کمر پر اپنے دونوں بازو باندھ کر عرا کو اپنے حصار میں لےلیا
“بوڑھا ہونے سے پہلے میں تمہیں ڈھونڈ ہی لیتا اتنا تو مجھے خود پر یقین تھا کنورا نہیں رہنے والا تھا میں ساری عمر”
زیاد کی بات سن کر ایک مرتبہ پھر عرا نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا زیاد عرا مسکراہٹ میں کھوسا گیا
“سنو تم زیاد سکندر کو شروع سے ہی بہت خوبصورت لگتی ہو آئی لو یو”
وہ عرا کو اپنے حصار میں لیے سنجیدگی سے بولا اور اپنی پیشانی عرا کی پیشانی سے ٹچ کرتا ہوا انکھیں بند کرکے اسے باہوں میں لیے عرا کی مہک کو محسوس کرنے لگا
“شاپنگ پر جانے سے لےکر اب تک تم پانچ بار آئی لو یو بول چکے ہو”
عرا کے بتانے پر زیاد آنکھیں بند کیے ہلکا سا مسکرایا
“یہ تین لفظ اب تم ساری زندگی میرے منہ سے سنتی رہوگی میں چاہتا ہوں تمہیں ہر پل میری محبت کا احساس رہے تاکہ کوئی دوسرا تمہیں کبھی نہ نظر آئے”
زیاد کے دل میں اپنے لیے جذبات دیکھ کر وہ اندر سے سرشار تھی وہ خواب جو اُس رات اُس نے دیکھا تھا اُس خواب کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ تھا تزئین صحیح بول رہی تھی
“تم بچپن میں ایسے نہیں تھے”
عرا اُس کی قربت پر اُس کے انداز پر زیاد سے بولی
“میں بہت کم عمر سے تمہارے لیے فیلنگز رکھتا تھا مگر تم پر کبھی اپنی فیلنگز کو ظاہر نہیں ہونے دیا”
زیاد نرم لہجے میں عرا کو بتانے لگا
“یعنٰی تم بچپن سے ہی اتنے رومینٹک تھے”
عرا نے آہستگی سے اس کی پیشانی سے اپنی پیشانی ہٹائی تو زیاد نے آنکھیں کھول کر عرا کو دیکھا
“نہیں میں بچپن میں زیادہ رومینٹک نہیں تھا لیکن اب میں تمہیں زیادہ اچھے طریقے سے بتاسکتا ہوں کہ شادی کی بعد ہسبینڈ اور وائف ایک ساتھ رہ کر کیا کرتے ہیں۔۔۔ یاد آیا آپکو کچھ مس عرا”
زیاد عرا کو دیکھ کر شرارت بھرے انداز میں بولا تو عرا کو اپنی بچپن میں پوچھی ہوئی بےوقوفی والی بات پر شرمندگی محسوس ہوئی وہ زیاد کو گھور کر رہ گئی
“اس وقت میرے پوچھنے کا وہ مطلب تھوڑی تھا میں تو یہ پوچھنا چاہ رہی تھی کہ ہسبینڈ اور وائف ایک ساتھ کیسے رہتے ہیں”
عرا اپنی کم عقلی والی بات کو معقول بناتی ہوئی زیاد سے بولی تو زیاد نے اسمائل دیتے ہوئے اسے دوبارہ خود سے قریب کرلیا
“اچھا تو یعنٰی تمہیں اُس وقت معلوم تھا ہسبینڈ اور وائف ایک ساتھ رہ کر کیا کرتے ہیں”
وہ بالکل سنجیدہ لہجے میں عرا کو دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“جی نہیں میں اُس وقت چھوٹی اور معصوم بچی تھی تمہاری طرح بگڑی ہوئی بالکل بھی نہیں تھی تم جو اتوں کو چھپ چھپ کر موویز دیکھا کرتے تھے سب یاد ہے مجھے”
عرا برا مناتی ہوئی زیاد سے بولی اس کا انداز ایسا تھا زیاد کو ہنسی آگئی
“اچھا ایسے ناراض تو مت ہو یار یہ بتادو تم ابھی تو جانتی ہو ناں ہسبینڈ اور وائف ایک ساتھ کیا کرتے ہیں یا پھر مجھے سنڈے کے دن پہلے تمہیں پورا پروسس سمجھانا پڑے گا”
زیاد عرا کو دیکھتا ہوا شرارت سے پوچھنے لگا تو اُس کی بات پر عرا کی نظریں جھک گئیں
“تم اِس وقت ایسی باتیں کرتے ہوئے بالکل فضول انسان لگ رہے ہو”
عرا اس کی شوخ نظروں کو دیکھ کر اپنی جھینپ مٹاتی ہوئی زیاد سے بولی
“اور تم اس طرح شرماتی ہوئی بچپن کی طرح معصوم اور بہت کیوٹ سی بچی لگ رہی ہو”
زیاد قریب سے اس کے چہرہ کا ایک ایک نقش اپنے دل میں اتارتا ہوا بولا
“زیاد آنٹی خوش نہیں لگ رہی تھی جب وہ دوبارہ یہاں آئی تھی کیا میں انہیں تمہارے لیے پسند نہیں آئی”
وہ زیاد سے کب سے یہ بات پوچھنا چاہ رہی تھی مگر جھجھک کے مارے پوچھ ہی نہیں پائی تھی ابھی کچھ سوچتی ہوئی زیاد سے پوچھنے لگی تبھی زیاد کے چہرے کے تاثرات بالکل سنجیدہ ہوگئے وہ عرا کو دیکھنے لگا
“تم اُن کے بیٹے کو دل و جان سے پسند ہو تو انہیں بھی آجاؤ گی اور ماں کے رویے کو تم زیادہ فیل مت کرنا پلیز تھوڑا وقت لگے گا وہ ٹھیک ہوجائیں گیں”
زیاد عرا کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لیے نرمی سے سمجھاتا ہوا بولا مائے نور کے رویے پر اسے بھی کافی دکھ ہوا تھا مگر زیاد یہ بات سمجھ گیا تھا مائے نور نے صرف اس کی خوشی کی خاطر اس رشتے کے لیے حامی بھری ہے
“ہماری شادی کے بعد سب ٹھیک ہوجائے گا تمہیں پورا یقین ہے”
عرا زیاد سے پوچھنے لگی نہ جانے کیوں اسے انجانے اندیشے اور وہم گھیرے میں لینے لگے
“آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہوجاتا ہے اور تم اتنا کیوں سوچ رہی ہو میں ہوں نہ تمہارے ساتھ”
زیاد اس کا چہرہ تھامے عرا کو یقین دلاتا ہوا بولا وہ عرا کے بےحد قریب کھڑا تھا اس لیے عرا کا چہرہ دیکھ کر اسے بولا
“سنو جب تم مجھے کس نہیں کرنے دے رہی تو مجھے اتنے قریب بھی مت آنے دو کیوکہ اب میرا دل چاہ رہا ہے میں تمہیں باہوں میں لےکر زبردستی کس کر ڈالوں”
وہ بولتا ہوا عرا کو اپنے بازوں میں بھر کر اس کے ہونٹوں پر جھکنے لگا تبھی عرا نے فوراً اسے پیچھے دھکیلا
“زیاد تم۔۔۔ اُف تمہارا دماغ کب سے بس کس کرنے پر لگا ہے اب تم سنڈے سے پہلے تم یہاں بالکل مت آنا۔۔۔ تم بڑے ہوکر بہت خطرناک ہوگئے ہو”
وہ جھینپتی ہوئی زیاد کو دیکھ کر بولی تو زیاد ہنستا ہوا صوفے پر بیٹھا
“خطرناک تو میں بہت زیادہ ہوں میرے خطرناک ارادوں سے تم سنڈے کے دن بچ کر دکھانا”
زیاد عرا کا شرم و حیا سے سرخ پڑتا چہرہ دیکھ کر اسے تنگ کرنے والے انداز میں بولا تو عرا اس کو گھور کر کچن میں اس کے لیے کافی بنانے چلی گئی
****
بروکلین کا پارک آج بھی روز معمول کی طرح پُر رونق اور آباد تھا وہ جاگنگ ٹریک پر جاگنگ کررہا تھا جاگنگ کی وجہ سے اس کا سانس پھول رہا تھا راؤنڈ کمپلیٹ ہونے پر اس نے بینچ پر بیٹھ کر اپنے کانوں سے ہینڈ فری اتارے اور ساتھ ہی اپنے موبائل پر لگا ہوا ٹریک بند کیا وہ سستانے والے انداز میں بینچ پر بیٹھا تبھی ایلکس بھی اپنا راؤنڈ کمپلیٹ کر کے اُس کے پاس پہنچ کر بینچ پر ریان کے برابر میں بیٹھ گئی
“ایرک بتارہا تھا تم پاکستان جارہے ہو”
ایلکس ریان سے بات کا آغاز کرتی ہوئی بولی اس دن کے بعد اُن دونوں میں دوبارہ صلح ہوچکی تھی اور صلح کرنے میں پہل ایلکس نے کی تھی
“ہاں زیاد کی شادی ہے میں نے اسے بولا تھا کہ میں اُس کی شادی پر ضرور آؤں گا پھر کافی عرصہ ہوگیا ہے اپنی فیملی کو دیکھے ہوئے”
ریان ایلکس کے پوچھنے پر اُس کو بتانے لگا
“اور مجھ کو کیوں نہیں بتایا تم نے اپنے پاکستان جانے کے متعلق”
ایلکس ریان کو دیکھ کر اس سے شکوہ کرتی ہوئی پوچھنے لگی
“کیونکہ مجھے نہیں لگا تھا کہ یہ تمہارے لیے کوئی اہم بات ہوگی”
وہ ایلکس کو دیکھ کر لاپروا انداز میں بولا
“تم ہر بات کو میرے نظریے سے نہیں سوچ سکتے ریان سکندر، یہ بولو تم نے مجھے اہمیت ہی نہیں دینا ضروری سمجھا کہ مجھے اپنے پاکستان جانے کا بتادیتے”
وہ ناراضگی جتاتی ہوئی ریان سے بولی جس پر ریان نے ہلکے سے ہنس کر اپنا سر جھٹکا
“تم جذباتی ہورہی ہو یہ ایک نارمل سی بات ہے”
ریان ایلکس کو دیکھتا ہوا بولا
“اور واپس کب آؤ گے”
ایلکس ریان کو دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی جس پر ریان نے ایک مرتبہ دوبارہ لاپرواہی سے اپنے شانے اچکائے
“ابھی تو پاکستان گیا ہی نہیں دیکھو واپس کب آنا ہوتا ہے”
ایلکس جانتی تھی دو دن پہلے اس نے اپنی جاب سے ریزائن دیا تھا تبھی وہ اتنا ریلکس ہوکر بول رہا تھا۔۔۔ ریان خاموش ہوا تو ایلکس بھی خاموشی سے اُس کا چہرہ دیکھنے لگی
“واٹ ہیپن” ریان اس کے یوں دیکھنے پر ایلکس سے پوچھنے لگا
“تمہارے جانے کے بعد میں تمہیں مس کروں گی”
وہ ریان کے پوچھنے پر اس کو دیکھتی ہوئی بولی جس پر ریان اس کو دیکھ کر دوبارہ ہنسا
“تم سچ میں جذباتی ہو رہی ہو”
اس نے ایلکس کو ایک مرتبہ پھر بولا
“اور وہ جو اس دن ہمارے بیچ ہوا تھا”
ایلکس کی اِس بات پر ریان کنفیوز ہوکر اس کا چہرہ دیکھنے لگا اور تعجب کرتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“ایلکس آج تمہیں کیا ہوگیا ہے ہمارے بیچ کبھی کوئی کمٹمینٹ نہیں رہی نہ ہی ہم دونوں کسی ریلیشن میں ہیں ہم دونوں ایک دوسرے کے صرف اچھے دوست ہیں اور اس رات ہمارے درمیان جو کچھ ہوا اس میں صرف میری مرضی شامل نہیں تھی ان فیکٹ تم ہی میرے روم میں آئی تھی اور وہ سب چاہتی تھی اگر تمہیں یاد ہو تو”
ریان اس کو یاد کروانے کے ساتھ ساتھ سیریس ہوکر بولا
“تو میں کب ان ساری باتوں سے انکار کررہی ہوں لیکن کیا اس کے بعد تمہیں کچھ فیل نہیں ہوا کوئی احساس یا پھر کچھ بھی”
ایلکس ایک مرتبہ پھر ریان کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی جس پر ریان پہلے تو چونکا پھر ایلکس کو دیکھتا ہوا بولا
“ہاں فیل ہوا تھا ایک احساس جس کو تم گلٹ کا نام دے سکتی ہو۔۔۔ میں اس رات والی حرکت کے بعد اندر سے خود کو گلٹی محسوس کررہا ہوں اس رات مجھے تمہارے ساتھ وہ سب نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ تم میرے لیے میری ایک اچھی دوست ہو اور میں تمہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتا”
ریان ایلکس کو دیکھ کر بولا تو وہ ریان کو دیکھ کر مسکرا دی
“کیا تمہیں کبھی کسی سے لو ہوا ریان کبھی کوئی لڑکی جو تمہیں بہت اچھی لگی ہو” ایلکس بینچ کے پیچھے ٹیک لگا کر ریان کو دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی تو ایک بھولا بسرا چہرہ بچپن کی یادوں سے نکل کر اُس کے ذہن کے پردوں پر چھاتا چلاگیا ساختہ ہی ریان کیے ہونٹ کچھ کہنے کے لیے کھلے پھر واپس سکڑ گئے وہ اُن معصوم یادوں کو کبھی اپنے دل اور دماغ پر حاوی نہیں ہونے دیتا تھا
“لڑکی اچھی لگنے کا مطلب اگر لو ہوتا ہے تو مجھے تم سے بھی لو ہے ایلکس کیوکہ تم بھی میری نظر میں ایک اچھی لڑکی ہو”
ریان بات کو گول مول کرتا ہوا اس کی جانب دیکھ کر بولا تو ایلکس گھور کر اسے دیکھنے لگی
“تمہاری نظر میں لو کی ڈیفینیشن کیا ہے ریان میں یہ پوچھنا چاہ رہی ہوں”
ایلکس ریان کو سمجھاتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی
“پیار تو بےاختیاری عمل کا دوسرا نام ہے اگر کسی کو دیکھ کر مجھے اپنے دل پر یا خود پر قابو نہ رہے تو پھر سمجھو مجھے اُس سے پیار ہوگیا ہے لیکن ابھی تک ایسا کوئی حادثہ ریان سکندر کے ساتھ پیش نہیں آیا۔۔۔ یہ جو میرا دل ہے ناں بہت ڈھیٹ شے ہے یہ اتنے آرام سے کسی پر نہیں مر مٹ سکتا اب تم خود سوچ سکتی ہو جو لڑکی اس دل پر حکومت کرے گی وہ کوئی معمولی لڑکی تو ہو نہیں سکتی”
ریان ایلکس کو بولتا ہوا بینچ سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا
“آج اگر فری ہو تو میرے ساتھ قریبی مال تک چلو کچھ گفٹس وغیرہ خریدنے ہیں مجھے پھر تمہیں اچھا سا بریک فاسٹ بھی کرواؤں گا”
ریان کلائی پر باندھی ہوئی واچ میں ٹائم دیکھتا ہوا ایلکس سے بولا تو ایلکس اس کے ساتھ مال جانے کے لیے تیار ہوگئی
****
“عاشو ابھی تک ریڈی نہیں ہوئی تم یار ہم لوگ اچھے خاصے لیٹ ہوگئے ہیں”
زیاد عشوہ کے کمرے میں آتا ہوا اس سے بولا جو بالکل ریڈی کھڑی اپنے ہیلز پہن رہی تھی
“ویٹ تو کریں یار آپ کو تو اتنی جلدی ہے اپنے نکاح کی ڈھنگ سے تیار ہی نہیں ہونے دیا آپ نے مجھے”
عشوہ کے منہ بناکر بولنے پر زیاد پوری انکھیں کھول کر اُس کی تیاری دیکھنے لگا
“پچھلے تین گھنٹے سے تم تیار ہی ہورہی ہو اور ابھی تک مطمئن نہیں ہوں اپنی تیاری سے لڑکی۔۔۔ آجکل تو لڑکیاں اتنی دیر اچھے لڑکے کو پرپوزل کو ایکسیپٹ کرنے میں نہیں لگاتی”
زیاد کے بولنے پر وہ سینڈل پہن کر کمرے سے باہر نکل آئی مائے نور بھی قیمتی سی ساڑھی میں ملبوس اپنے کمرے سے باہر آچکی تھی
“یہ رؤف کہاں ہے کب سے نظر ہی نہیں آرہا”
مائے نور زیاد کو دیکھتی ہوئی ڈرائیور کا پوچھنے لگی جو اس کو صبح سے دکھائی نہیں دے رہا تھا جس کی وجہ سے اُس کے باہر کے کام رہ چکے تھے
“رؤف کو تو میں نے آج عرا کی پھپھو کی طرف بھیج دیا تھا اور اس کی ڈیوٹی لگادی ہے وہ عرا کو پارلر چھوڑنے جائے گا اور واپس لے کر آئے گا”
زیاد کی بات سن کر ایک پل کے لیے مائے نور کا منہ بن گیا لیکن زیاد کا خوشی سے جگمگاتا ہوا چہرہ دیکھ کر اگلے ہی پل وہ مسکرا دی
“مائی آج میں بہت خوش ہوں”
زیاد مائے نور کے پاس آکر اُس کو دونوں شانوں سے تھامتا ہوا بولا وہ جانتا تھا مائے نور اس طرح خوش نہ تھی جیسے اسے اپنے بڑے بیٹے کی شادی کے موقع پر خوش ہونا چاہیے تھا مائے نور زیاد کے ماہی کہنے پر مسکرائی
“صرف تمہاری خوشی کا ہی سوچا ہے میں نے”
وہ پیار سے زیاد کے گال پر ہاتھ رکھ کر تھپتھپاتی ہوئی اسے بولی
“عرا بہت اچھی ہے آپ دیکھیے گا جب وہ سکندر ولا میں آئے گی تو آپ کو بہت جلد اپنی نیچر سے امپریس کرلے گی”
زیاد مائے نور کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر اسے یقین دلاتا ہوا بولا
“چلو دیکھ لیں گے”
مائے نور مسکرا کر بولی اب وہ اپنے پاس کھڑی عشوہ کو دیکھنے لگی
“میں کیسی لگ رہی ہوں مجھے تو آپ دونوں دیکھ ہی نہیں رہے ہیں”
عشوہ لائٹ فروزی کلر کے خوبصورت سے ڈریس میں مائے نور کی توجہ اپنی جانب دلاتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی
“میری بیٹی دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی ہے میری نظر میں اس سے زیادہ پیاری کوئی دوسری لڑکی ہو ہی نہیں سکتی دیکھو زیاد آج ہماری عاشو کتنی پیاری لگ رہی ہے”
مائے نور دل سے خوش ہوکر عشوہ کو دیکھتی ہوئی زیاد سے بولی
“ماں تین گھنٹے کی تیاری کے بعد تو اُس کو اچھا لگنا ہی تھا”
زیاد غیر سنجیدہ ہوکر عشوہ کو دیکھتا ہوا بولا
“بھائی میں ناراض ہوجاؤں گی آپ سے”
عشوہ آنکھیں دکھاتی ہوئی زیاد سے بولی جس پر وہ اور مائے نور ہستے ہوئی باہر نکلنے لگے
****
“عرا بنت طارق عظیم آپ کو زیاد سکندر ولد شہریار سکندر کے نکاح میں بیس لاکھ روپے مہر سکہ رائج الوقت کے عوض دیا جاتا ہے آپ کو زیاد سکندر سے نکاح قبول ہے”
تیسری مرتبہ اجازت لینے پر اس نے تیسری بار “قبول ہے” ہے بول کر نکاح نامے پر سائن کیے تو نہ جانے کیوں اُس کے دل پر بوجھ سا بڑھنے لگا آنسو خود بخود آنکھوں سے قطار کی صورت نکل پڑے تزئین اور شہرینہ اُس کو گلے لگاکر مبارک باد دینے لگی اور روتی ہوئی عرا کو خاموش کروانے لگی زیاد کو اپنی زندگی میں شامل کر کے آج اس کو (طارق) اپنے ڈیڈ کی شدت سے یاد آئی تھی تبھی عالیہ تزئین کو ہٹا کر عرا کے پاس آکر بیٹھ گئی
“پھپھو”
عرا کے پکارنے پر عالیہ نے اس کو پیار کرنے کے ساتھ اپنے گلے لگالیا
“میں آج اپنے فرض سبکدوش ہوگئی میری اپنی تو شادی نہیں ہوئی جو میری اولاد ہوتی تمہیں اور تزئین کو ہی بیٹیوں کی طرح پالا ہے آسان نہیں ہوتا لڑکی ذات کو پالنا ان کی پرورش کرنا بناء کسی سہارے کے مگر اللہ نے سب آسانیاں پیدا کردی۔۔۔ زیاد اچھا لڑکا ہے مجھے امید ہے وہ تمہیں آگے خوش رکھے گا تمہاری ساس کے متعلق تو میں کچھ نہیں کہہ سکتی مگر اب تمہارا اصل ٹھکانہ زیاد کا گھر ہی ہے اپنے شوہر کی ہر بات کو اہمیت دینا میری زندگی آج ہے کل نہیں تمہیں اب اپنی ساری زندگی زیاد کے ساتھ ہی گزارنی ہے اس کے علاوہ اب تمہارا کوئی قریبی رشتہ دار نہیں ہے جو ہے وہ بس زیاد ہے اِس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا”
عالیہ کی باتیں سن کر عرا کا دل مزید اداس ہونے لگا وہ دور کھڑی اپنی جانب دیکھتی مائے نور کو دیکھنے لگی جو نکاح ہوجانے کے بعد نہ تو خود اس کے پاس آئی تھی اور نہ ہی اس نے اپنے ساتھ کھڑی عشوہ کو اس کے پاس آنے دیا تھا
“ماہی آپ ایسے ری ایکٹ کیوں کررہی ہیں عرا فیل کرے گی ہمیں ملنا چاہیے اسے جاکر وہ اب بھائی کی زندگی میں شامل ہوچکی ہے ہماری فیملی کا حصہ بن چکی ہے”
عشوہ نے جب مائے نور کی طرف سے پیش قدمی نہیں دیکھی تو وہ خود عرا کے پاس جانے لگی تھی تب مائے نور نے عشوہ کی کلائی پکڑ کر اس کو عرا کے پاس جانے سے روک دیا وہاں موجود دوسری خواتین بھی اُن دونوں کی طرف دیکھے جارہی تھی یہ سب کچھ عشوہ کو بہت عجیب سا لگ رہا تھا
“میں اس لڑکی کو یہی احساس دلانا چاہتی ہوں کہ وہ میری بیٹے کی زندگی میں شامل ہوکر زبردستی ہماری فیملی کا حصہ نہیں بن سکتی ہے میں اس لڑکی کو زیاد کی زندگی میں برداشت نہیں کرسکتی ہوں کیونکہ زیاد میری پہلی اولاد ہے، میرا بڑا بیٹا۔۔۔ میرا سب سے زیادہ خیال رکھنے والا اور احساس کرنے والا بیٹا۔۔۔ پہلی مرتبہ میں نے اِس لڑکی کی وجہ سے زیاد کی انکھوں میں اپنے لیے بغاوت دیکھی تھی اپنے اُس بیٹے کی انکھوں میں جس نے اپنی ماں کو ہرٹ کرنے والے انسان کو قبر میں اتار دیا تھا۔۔۔ اِس لڑکی کی اتنی اوقات نہیں ہے جس کے لیے زیاد یوں دیوانہ ہوا جارہا ہے میں زیادہ دن تک اس لڑکی کو زیاد کی زندگی میں ٹکنے نہیں دو گی اس لیے اِس وقت زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے”
مائے نور عشوہ کو دیکھتی ہوئی بولی تو عشوہ بےیقین سی ہوکر شاکڈ کی کیفیت میں مائے نور کو دیکھنے لگی
****
“ہے تمنا تمہیں اپنی دلہن بنائے۔۔۔ تیرے ہاتھوں پہ مہندی اپنے نام کی سجائیں۔۔۔ تیری لے لیں بلائیں، تیرے صدقے اتاریں۔۔۔ ہے تمنا تمہیں اپنی دلہن بنائے
دھیمی آواز میں گانے کے بولو کے ساتھ اس نے اپنے سامنے کھڑی عرا کے چہرے سے گھونگٹ اٹھایا تو عرا نے پلکیں اٹھا کر زیاد کو دیکھا عرا کے سجے سنورے روپ کو دیکھ کر زیاد کی دھڑکنوں نے بےاختیار شور سا مچا دیا وہ مہبوت سا عرا کے دلہن بنے روپ کو دیکھ کر مسکرانے لگا
“آہم آہم آہم۔۔۔ ہم ابھی یہی موجود ہیں”
شہرینہ ان دونوں کی اپنے موبائل سے تصویریں لیتی ہوئی زیاد کو دیکھ کر شرارت سے بولی تو وہ ہنس دیا
اس وقت مائے نور ریان کی آنے والی کال پر اس سے بات کررہی تھی تب عشوہ عرا کے پاس چلی آئی
“بہت بہت مبارک ہو آپ دونوں کو میری دعا ہے کہ آپ دونوں کی جوڑی کو کسی کی نظر نہ لگے عرا آپ سچ میں بہت خوبصورت ہیں ویسے بھی میرے بھائی کی چوائس عام سی ہو ہی نہیں سکتی میں آپ دونوں کے لیے دل سے بہت خوش ہوں”
عشوہ عرا سے ملتی ہوئی اس سے بولی تو زیاد اسمائل دیتا ہوا اس سے دیکھنے لگا
****
روشنیوں سے جگمگاتے ہوئے سکندر ولا کے کار پورچ میں آگے پیچھے دونوں گاڑیاں آکر رکیں دونوں گاڑیوں کی ڈرائیونگ سیٹ پر ڈرائیور موجود تھے ایک گاڑی میں عشوہ کے ساتھ مائے نور موجود تھی جبکہ دوسری گاڑی سے زیاد عرا کا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر نکال رہا تھا تب مائے نور بھی اپنی گاڑی سے اتری
“کل رات تک ہی ریان کا آنا ہوگا ابھی تو وہ سفر میں ہے۔۔ او گاڈ آج تو میں بری طرح تھک گئی ہوں عاشو پلیز یہاں آؤ میرے پاس ذرا مجھے کمرے تک تو چھوڑ آؤ”
مائے نور عرا کو مکمل طور پر نظر انداز کرتی ہوئی زیاد کو ریان کی آمد کا بتانے کے ساتھ ہی عشوہ سے بولی جو گاڑی سے باہر نکل کر عرا اور زیاد کی جانب بڑھ رہی تھی تب زیاد نے مائے نور کی طرف دیکھا
“آپ کو کیا ہوگیا ہے ابھی تھوڑی دیر پہلے تو آپ بالکل ٹھیک تھیں”
زیاد عرا کا تھاما ہوا ہاتھ چھوڑ کر مائے نور کی طرف قدم بڑھاتا ہوا اس سے پوچھنے لگا آج اس کے لہجے میں فکرمندی کی بجائے حیرانگی تھی جو مائے نور کو بری طرح کھٹکی
“تمہاری توجہ دوسری طرف سے ہٹے تو تمہیں اپنی ماں کی حالت نظر آئے”
مائے نور نے دس قدم کے فاصلے سے دور کھڑی عرا کو دیکھتے ہوئے نہوست سے سر جھٹکا تو عرا چہرے پر حیرت لیے مائے نور کو دیکھنے لگی اتنے سالوں بعد ملنے پر زیاد کی ماں کا یہ رویہ۔۔۔ نہ جانے کیوں اُس کا دل اندر سے اداس ہونے لگا
“اِس طرح ویلکم کریں گی آپ گھر میں میری وائف کا”
زیاد افسوس بھری نظر مائے نور پر ڈالتا ہوا بےحد آہستگی سے مائے نور کو دیکھتا ہوا بولا
“تمہیں اپنی بیوی کے ویلکم کی پڑی ہے یہاں بےشک تمہاری ماں مر جائے”
مائے نور غصے میں زیاد کو دیکھتی ہوئی غرائی جس پر زیاد پریشان ہوگیا
“پلیز ماں ایسے سخت الفاظ کیوں استعمال کررہی ہیں آپ اپنے لیے آئیے میں آپ کو آپ کے کمرے میں چھوڑ کر آجاتا ہوں”
وہ آگے بڑھ کر مائے نور کا ہاتھ پکڑتا ہوا بولا تو مائے نور نے اس کا ہاتھ جھٹکا
“اپنی بیوی کو اپنے کمرے میں لےکر جاؤ اور عاشو کو یہاں بھیجو میرے پاس”
مائے نور کا لہجہ حکم دیتا ہوا تھا عشوہ خود ہی چل کر مائے نور اور زیاد کے پاس آگئی دس قدم دور سہی چہرے کے تاثرات بتانے کے لیے کافی تھے کہ زیار اور مائے نور میں اِس وقت کیا بحث چل رہی تھی
“بھائی آپ عرا کو روم میں لے جائیے میں ماہی کو ان کے روم میں چھوڑ آتی ہوں”
عشوہ نے زیاد سے بولتے ہوئے مائے نور کا ہاتھ تھام لیا تو زیاد بناء کچھ بولے اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گیا جہاں گاڑی کے دروازے سے باہر عرا ابھی تک اس کی منتظر کھڑی تھی
“بہتر محسوس نہیں کررہی ہیں ماں اس لیے تھوڑی اپ سیٹ ہیں”
عرا کے بناء کچھ پوچھے ہی زیاد عرا کا چہرہ دیکھتا ہوا اسے بتانے لگا
“آنٹی کے اپ سیٹ ہونے کی وجہ میں تو نہیں ہوں”
نہ چاہتے ہوئے بھی عرا دل میں آئی بات اس سے پوچھ بیٹھی
“کیسی بات کررہی ہو وہ تمہاری وجہ سے کیوں اپ سیٹ ہوگیں تمہیں میری بیوی بناکر وہی اس گھر میں لےکر آئی ہیں ماں کے لیے کوئی بھی غلط بات میں تمہارے منہ سے نہ سنو آؤ اندر چلتے ہیں”
زیاد عرا کا حنائی ہاتھ تھام کر اسے اپنی ہمراہ گھر کے اندر لے جانے لگا۔۔۔ تو لان میں موجود ڈوک ہاؤس میں اسے کُتا نظر آیا جس نے عرا کو زیاد کے ساتھ دیکھ کر غُرانا شروع کردیا۔۔۔ عرا اُس کتے کو دیکھ کر ڈر گئی کیوکہ بچپن میں ایسے ہی پالتو کُتے نے اُس کو زخمی کیا
“شیرو جاؤ یہاں سے”
زیاد عرا کو ڈرتا ہوا دیکھ کر اس کُتے سے بولا جو زیاد کے پاس آرہا تھا زیاد کی بات مانتا وہ وہی رک گیا تو عرا زیاد کو دیکھنے لگی
“ڈرو مت یار اسے ریان لےکر آیا تھا جب ہی چھوٹا سا تھا تھوڑے دنوں بعد یہ تمہیں پہچاننے لگ جائے گا”
زیاد عرا کا ہاتھ تھام کر اسے اندر لےجاتا ہوا بتانے لگا
وہ پہلی بار زیاد کی دلہن بن کر اس گھر میں آئی تھی مگر یہاں اس کا استقبال کرنے والا کوئی بھی نہ تھا ہال کا راستہ عبور کرکے زیاد اس کو اپنے کمرے میں لےکر آیا زیاد کا روم کسی لگثری بیڈ روم سے کم نہ تھا بیڈ روم میں موجود فرنیچر روم میں موجود ایک ایک چیز اپنے منہ سے اپنا معیار بتانے کے لیے کافی تھی اس نے بیڈ روم کو پھولوں سے ڈیکوریٹ کیا ہوا تھا عرا بیڈ روم میں ایک ایک چیز کا بغور جائزہ لیتی ہوئی زیاد کو دیکھنے لگی جو اپنے بیڈ روم کا دروازہ بند کر کے اس کے پاس آیا
****
“ماہی آپ عرا کی نفرت کے آگے یہ بھی نہیں دیکھ پارہی ہیں بھائی کس قدر خوش ہیں آپ اُن کی خوشی کا حساس کرتے ہوئے عرا کو قبول کرلیں”
مائے نور جب اپنا ڈریس چینج کرکے روم میں واپس آئی تو عشوہ مائے نور کے کمرے میں ہی موجود تھی وہ مائے نور کو دیکھ کر اس کو سمجھاتی ہوئی بولی
“اس انسان کی بیٹی کو قبول کرلوں جس نے میرے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی اگر اسُ رات اس لڑکی کا باپ اپنے ارادے میں کامیاب ہوجاتا تو کیا زیاد پھر ایسی لڑکی کو اپنی بیوی بنانے کا سوچتا جس کے باپ نے اس کی ماں کی عزت پامال کی ہو”
مائے نور غصے میں کھولتی ہوئی عشوہ سے بولی
“نہیں پھر بھائی کبھی بھی عرا کو قبول نہیں کرپاتے کیونکہ کوئی بھی مرد اس لڑکی کو دلی طور پر قبول نہیں کرسکتا جس لڑکی کا باپ یا بھائی اس مرد کے گھر کی عزت کو پامال کرچکا ہو لیکن ہم سب جانتے ہیں اُس رات بھائی نے ایسا نہیں ہونے دیا تھا انہوں نے آپ کی عزت کو محفوظ کرنے کے لیے اپنے ہاتھوں سے اُس شخص کی جان لےلی تھی جس نے آپ پر بری نظر ڈالی”
عشوہ مائے نور کو سمجھاتی ہوئی بولی مگر مائے نور کا ذہن کہیں اور بھٹکنے لگا (اگر وہ زیاد کو بولتی ہے کہ اس رات طارق نے اس کے ساتھ۔۔۔)
“ماہی آپ کا غصہ حق پر سہی مگر اپنے غُصے کو اپنی انا کو ایک طرف رکھ کر صرف بھائی کے متعلق سوچیں پلیز”
عشوہ مائے نور کو خاموش دیکھ کر اس کو مزید سمجھاتی ہوئی بولی مگر مائے نور کو ایک دم چکر آیا عشوہ اُس کو سنبھالنے کے لیے تیزی سے مائے نور کی جانب بڑی
“ماہی کیا ہوگیا اچانک آپ کو”
وہ مائے نور کو پکڑ کر بیڈ پر بٹھاتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی جس کے چہرے پر اچانک تکلیف کے اثار نمایاں ہونے لگے تھے
“پا۔۔۔نی”
مائے نور مشکل سے اپنے منہ سے آواز نکال پائے عشوہ تیزی سے بیڈ روم میں رکھے جگ سے گلاس میں پانی نکالنے لگی
“ماہی پلیز آنکھیں کھولیں پانی پی لیں مجھے بتائیں آپ کیا فیل کررہی ہیں”
عشوہ مائے نور کی حالت دیکھ کر گھبراتی ہوئی پوچھنے لگی مائے نور نے بمشکل دو گھونٹ پانی پیا اور گلاس دور کرتی ہے عشوہ سے بولی
“زیاد کو بھیجو میرے پاس اس کو کہو یہاں میرے پاس آجائے”
مائے نور اپنے دل پر ہاتھ رکھتی ہوئی چہرے پر تکلیف لیے عشوہ سے بولی
“ٹھیک ہے میں بھائی کو بلاکر لاتی ہوں آپ یہاں ٹیک لگائیں”
عشوہ پریشانی کے عالم میں مائے نور کو بیڈ پر بٹھاتی ہوئی اس کے کمرے سے نکل کر زیاد کے کمرے میں جانے لگی
****
