Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel NovelR50397 Payar Howa Tha (Episode 5)
No Download Link
Rate this Novel
Payar Howa Tha (Episode 5)
Payar Howa Tha By Zeenia Sharjeel
اندھیری رات میں ڈوبا ہوا وہ شہرِ خاموشاں جو کئی سال پرانی قبروں سے آباد تھا۔۔۔ شہر سے کافی دور اِس پرانے کھنڈر نما قبرستان میں رات کے دوسرے پہر عرا یہاں تنہا موجود تھی زمین پر قدم پڑتے ہی سوکھے بکھرے پتے اُس کے پاؤں تلے روندھے اپنی زندگی ہارے جارہے تھے سوکھے پتوں کی آواز ماحول کو پراسرار بنارہی تھی نہ جانے کون سی ایسی کشش تھی جو اُسے یہاں زندگی سے دور اِن قبرروں میں سوئے ہوئے مردوں کی جانب کھینچ لائی تھی وہ یہاں کیوں موجود تھی اُسے یہاں کون لایا تھا عرا کو کچھ علم نہ تھا وہ صرف اتنا جانتی تھی ایک انجان سی قبر جو اس کو اپنی جانب بلارہی تھی عرا کے قدم خود بخود اس قبر کی جانب بڑھتے چلے جارہے تھے
اس گہرے گڑھے میں جھانکتی ہوئی جیسے وہ اچانک اپنے حواسوں میں لوٹی تو خود کو قبرستان میں موجود پاکر بری طرح گھبرا گئی
“یہ۔۔۔ یہ تو قبرستان ہے ۔مم۔۔۔ میں یہاں کیسے آگئی کو۔۔۔ کون لایا ہے مجھے یہاں”
وہ قبرستان میں نظریں دوڑاتی ہوئی خوفزدہ سی چاروں اعتراف دیکھتی چلی گئی جہاں گہرے سناٹے کا راج تھا اپنے پاؤں کے پاس بالکل نیچے گڑھا دیکھ کر وہ خوفزدہ ہوگئی جیسے یہ بالکل تازہ قبر کھودی گئی تھی
“عرا۔۔۔ اُس کے پاس مت جانا عرا”
کان میں کی گئی سرگوشی پر عرا ڈرتی ہوئی اپنے چاروں سُو دیکھنے لگی مگر وہاں آس پاس کوئی نہ تھا پھر یہ آواز کس کی تھی یہ آواز جیسے اس نے برسوں بعد سنائی دی گئی ہو مگر وہ اس آواز کو پہچان نہیں پائی تھی آخر یہ شخص کون تھا اور اُس سے کیا کہنا چاہتا تھا
“کون ہے یہاں پر”
عرا ڈرتی ہوئی زور سے بولی خوف سے اس کی اس کی اپنی آواز لڑکھڑا گئی تب ایک دوسری آواز اس کے کانوں میں گونجی
“عرا”
سناٹے کو چیرتی ہوئی اپنے نام کی پکار پر وہ خوفزدہ سی پیچھے مڑ کر دیکھنے لگی
تبھی اچانک کسی نے اسے قبر کے اندر دھکا دیا عرا کے منہ سے دہشت کے مارے چیخ نکلی وہ اس گہرے گڑھے کے اندر جاکر گری
“کون ہو تم”
عرا خوفزدہ سی اس آدمی سے پوچھنے لگی جو اُس کالی اندھیری رات میں خود بھی کالے رنگ کے لباس میں موجود تھا اور کالے رنگ کا مکھوٹے سے اس نے اپنا چہرہ چھپایا ہوا تھا وہ بیلچے سے مٹی کو اس گڑھے میں ڈالنے لگا جس میں عرا گری ہوئی تھی۔۔۔ خوف کے مارے عرا کا دل بند ہونے لگا عرا نے ہمت کرکے اس قبر سے باہر نکلنے کی کوشش کی تبھی اس آدمی نے ہاتھ میں پکڑا بیلچہ عرا کے سر پر مارا عرا اُس قبر کے اندر دوبارہ جاگری اس کے سر سے خون رواں ہونے لگا اب اس میں دوبارہ اٹھنے کی سکت نہ تھی خاموشی سے وہ اس آدمی کو دیکھنے لگی جو اس گڑھے کو بیلچے کی مدد مٹی سے بند کررہا تھا
“کون ہو تم۔۔۔ میں نے کیا بگاڑا ہے تمہارا۔۔۔ کیوں مارنا چاہتے ہو مجھے”
عرا خوفزدہ سی اس سے پوچھنے لگی تب اُس آدمی نے بیلچے کو ایک طرف پھینک کر اپنے چہرے سے مکھوٹا ہٹایا
حیرت بےیقینی سے عرا کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی اُس کو قبر میں زندہ دفن کرنے والا آدمی کوئی اور نہ تھا بلکہ زیاد تھا
“زیاد”
زیاد کا نام پکارتی ہوئی جیسے وہ گہری نیند سے جاگی اور لمبے سانس لیتی ہوئی خوفزدہ سی کانپنے لگی اُس کا دل ابھی بھی خوف کے مارے بری طرح لرز رہا تھا ہاتھ پیر سن ہونے لگے
“تم نے ابھی سے راتوں کو زیاد کے خواب دیکھنا شروع کردیے توبہ ہے کتنی زور سے چیخ ماری ہے میرے تو کان کے پردے ہی پھٹ گئے”
تزئین خود بھی عرا کے چیخنے پر نیند سے بیدار ہوچکی تھی لیکن عرا کے چہرے پر خوف اور ماتھے پر پسینہ دیکھ کر وہ حیرت زدہ سی ہوگئی اور بیڈ سے اٹھتی ہوئی کمرے کی لائٹ کھولی
“کیا ہوگیا تمہیں تم ٹھیک تو ہو”
تزئین عرا کے چہرے کو دیکھ کر اس سے تشویش سے پوچھنے لگی
“وہ خواب میں۔۔۔ زیاد۔۔۔ زیاد تھا وہ مجھے۔۔۔ مجھے جان سے مارنے کی کوشش۔۔۔ تزئین میں خواب میں ڈر گئی تھی زیاد نے مجھے مارنے کی کوشش کی” بےربط بولے ہوئے جملوں کے بعد اس نے تزئین کو اپنا پورا خواب سنایا جس پر تزئین غُصے میں اُسے گھورنے لگی
“کوئی ڈھنگ کا خواب نہیں دیکھ سکتی تھی تم اپنے اور زیاد کے بارے میں یعنٰی اس بیچارے کو تم نے اپنے خواب میں کوئی کلر ہی بنادیا تمہارا بھی کوئی جواب نہیں عرا قسم سے”
تزئین عرا کا مذاق اڑاتی ہوئی بولی اور کمرے کی لائٹ بند کرکے دوبارہ بیڈ پر لیٹ گئی عرا بھی اس کے برابر میں خاموشی سے لیٹ گئی اور تھوڑی دیر پہلے آنے والے خواب کے بارے میں سوچتی ہوئی تزئین سے بولی
“تزئین مس ساجدہ خوابوں کے متعلق کہتی ہیں کچھ خواب ہمارے لاشعور کا حصہ ہوتے ہیں جن کا حقیقی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا مگر کچھ خواب ہمیں انڈیگیشن دینے کے لیے آتے ہیں تاکہ ہمہیں اچھے برے حالات کی آگاہی دے سکے نہ جانے کیوں یہ خواب دیکھ کر آج مجھے کچھ ڈر سا محسوس ہورہا ہے زیاد کا اچانک میری زندگی میں آنا۔۔۔ ایک دم اس کا پرپوز کردینا”
عرا تزئین سے اپنے دل کی بات شیئر کرتی ہوئی بولی۔۔۔ اور خواب میں بھی تو کوئی اُس کو روک رہا تھا شاید اس کا اشارہ بھی زیاد کی طرف تھا۔۔۔۔جبکہ تزئین کو اپنی اس کزن کی عقل پر ماتم کرنے کا دل چاہا
“مس ساجدہ کی باتوں کو تمہارے علاوہ کوئی دوسری ٹیچر سیریس نہیں لیتی عرا خدا کے لیے تم یہ جاسوسی ناول پڑھنا اور ہارر موویز دیکھنا بند کردو انہی کی وجہ سے تمہیں ایسے بےتکے خواب دکھائی دیتے ہیں بےوقوف لڑکی۔۔۔ تم اس قدر لکی ہو اس کا تمہیں اندازہ نہیں زیاد سے شادی کرنے کے بعد میں تمہارے فیوچر میں ابھی سے ٹھاٹ باٹ دیکھ سکتی ہوں نہ تو تمہیں یہ سٹریل سی ٹیچنگ کرکے بچوں سے مغز ماری کرنی ہوگی نہ ہی گھر کے اِن عجیب و غریب کاموں کے لیے تمہیں پابند رہنا پڑے گا اپنی مرضی کی عیش و عشرت والی زندگی ہوگی تمہاری جس طرح کا تم نے زیاد کے بزنس اور اس کے گھر وغیرہ کے متعلق بتایا ہے مجھے تو ابھی سے تمہارے فیوچر پر رشک آرہا ہے اور تم ہو کے ان فضول سے خوابوں کو بنیاد بناکر بلاوجہ اندیشے پال رہی ہو جن خوابوں کا نہ کوئی حقیقت سے تعلق ہے نہ ہی کوئی سر نہ پیر”
تزئین اس کو سمجھاتی ہوئی بولی تو عرا ریلیکس ہوگئی
“شاید تم ٹھیک کہہ رہی ہو مجھے اپنے لیے اچھا سوچنا چاہیے شہرینہ بھی یہی کہہ رہی تھی”
عرا تزئین سے بولی
“شہرینہ بالکل ٹھیک کہہ رہی تھی شاید نہیں تمہیں یقیناً اپنے لیے اچھا ہی سوچنا چاہیے اب اگر تمہیں خواب میں ریڈ نفلیگز نظر آئے تو تم ان کو ذرا بھی سیریس نہیں لوگی اور اب سو جاؤ ورنہ اسکول کے لیے لیٹ ہو جائیں گے تو میڈم تاج کا لیکچر سننا پڑے گا صبح صبح”
تزئین بولتی ہوئی کروٹ لےکر لیٹ گئی تو عرا بھی سونے کی کوشش کرنے لگی
****
“یہاں رہتی ہے عرا، آئی مین اُس کی پھپھو اِس ایریئے میں رہتی ہیں”
یہ ایک نارمل سطح کا علاقہ تھا جہاں متواسط مڈل کلاس طبقہ بستا تھا عرا کی پھپھو کا گھر زیاد کے گھر کی طرح بڑا اور عالیشان نہ تھا جہاں زیاد مائے نور کو عرا سے ملوانے کے لیے لایا تھا
“ماں آپ صرف یہ بات اپنے ذہن میں رکھیں عرا آپ کے بیٹے کو بےحد پسند ہے”
زیاد کے بولنے پر مائے نور زیاد کو دیکھ کر مسکرا دی اور اُس کے ساتھ ہی گاڑی سے نیچے اتری۔۔ وہ دونوں عرا کی پھپھو کے گھر میں داخل ہوچکے تھے
“آپ زیاد کی امی ہیں مجھے لگا کوئی بڑی بہن یا پھر بڑی بھابھی وغیرہ ہوگیں آپ تو ماشاللہ کافی ینگ ہیں”
سلام دعا کے بعد جب مائے نور اور عالیہ صوفے پر بیٹھی تو عالیہ مائے نور کو دیکھ کر بولی کیونکہ مائے نور شروع سے ہی ایسے جملے سنتی آرہی تھی اس لیے ابھی بھی زیاد کی جانب دیکھ کر مسکرا دی زیاد بھی عرا کی پھپھو کی بات پر مسکراتا ہوا انہیں بولا
“زیادہ تر لوگ پہلی ملاقات میں ایسے ہی دھوکہ کھا جاتے ہیں انفیکٹ بچپن میں ہمہیں کبھی بھی ماں ممی یا امی ٹائپ کی شخصیت نہیں لگتی تھیں اس لیے ہم دونوں بھائی تو ماں کو اُن کے نک نیم سے ہی پکارتے تھے”
زیاد کی بات پر عالیہ کے ساتھ مائے نور بھی مسکرا دی
“طارق کے گھر پر شروع سے ہی میرا آنا جانا کم تھا تبھی آپ سے کبھی ملاقات نہیں ہوسکی مگر طارق کی زبانی کافی مرتبہ آپ کا اور آپ کے شوہر سکندر کا ذکر سنا تھا میں نے”
عالیہ کی بات سن کر مائے نور کے مسکراتے ہوئے ہونٹ ایک دم سکھڑے وہ بےچینی سے زیاد کو دیکھنے لگی جو خاموشی سے اس کے تاثرات دیکھ رہا تھا
“میں عرا کو بلاکر لاتی ہوں بہت بےصبری سے انتظار کررہی تھی عرا آپ کے آنے کا”
عالیہ مائے نور کو خاموش دیکھ کر صوفے سے اٹھ کر ڈرائنگ روم سے باہر چلی گئی
“ماہی پلیز یاد رکھیئے گا عرا میری پسند ہے”
اس سے پہلے مائے نور صوفے سے اٹھتی زیاد فوراً بولا
“تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا تم طارق کی بیٹی عرا کا تذکرہ کررہے تھے مجھ سے”
مائے نور صدمے کی کیفیت میں زیاد کو دیکھتی ہوئی بولی اور زیاد کے کچھ بولنے سے پہلے ڈرائنگ روم سے باہر نکلنے لگی اب اسے یہاں پر ایک پل بھی نہیں ٹھہرنا تھا
“ماں پلیز میری بات سنیں عرا میری محبت ہے میں ابھی سے نہیں بچپن سے اسے پسند کرتا ہوں پلیز میری خاطر اسے ایکسیپٹ کرلیں پلیز رک جائیں ایسے مت جائیں یہاں سے وہ لوگ نہ جانے کیا سوچیں گے”
مائے نور زیاد کی بات سنے بغیر ڈرائنگ روم سے باہر نکلی زیاد بھی مائے نور کے پیچھے اُس کو التجائی انداز میں بولتا ہوا باہر آیا سامنے سے آتی عرا کو دیکھ کر پل بھر کے لیے مائے نور کے قدم رکے
“السلام علیکم آنٹی”
عرا نے مسکرا کر مائے نور کو سلام کیا جس کا جواب دیے بغیر مائے نور گھر سے باہر نکل گئی جبکہ عرا اور اس کے پیچھے آتی عالیہ حیرت سے زیاد کو دیکھنے لگی
“ماں کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے میں نے کہا بھی تھا یہاں پر آج کا پروگرام کینسل کردیتے ہیں کل پر پروگرام رکھ لیتے ہیں مگر انہی کی ضد پر ماں یہاں لےکر آیا تھا ابھی بس ڈاکٹر کے پاس لےکر جارہا ہوں آپ پلیز مائنڈ مت کیجئے گا ماں آپ کے پاس دوبارہ آپ سے ملنے آئیں گیں”
زیاد عرا کی طرف دیکھنے کی بجائے اس کی پھپھو کو دیکھتا ہوا بولا اور مائے نور کے پیچھے گھر سے باہر نکل گیا عرا منہ کھولے حیرت سے زیاد کو جاتا ہوا دیکھنے لگی جبکہ عالیہ ناگواری چہرے پر لیے عرا کو دیکھ کر بولی
“اب زیاد سے بول دینا دوبارہ یہاں آکر ہمیں بےعزت کرنے کی کوشش نہ کرے اِن بڑے لوگوں نے سمجھ کیا رکھا ہے ہمیں ارے جب اُس کی ماں ہی اِس رشتے کے لیے راضی نہ تھی تو اپنی ماں کو یہاں لےکر آنے کی ضرورت ہی کیا تھی اوپر سے تین ہزار روپے کا ناشتہ بھی ضائع ہوگیا”
عالیہ تلخی سے بولتی ہوئی وہاں سے چلی گئی جبکہ عرا چہرے پر افسوس لیے تزئین کو دیکھنے لگی جو ساری صورتحال پر بالکل خاموش کھڑی تھی
****
“اب کی مرتبہ سکندر اتنے دنوں بعد آیا اور اتنی جلدی واپس بھی چلا گیا”
طارق حیرت زدہ سا مائے نور کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا جو رات کے کھانے کے برتن واش کرنے کے بعد اپنے روم میں جانے والی تھی طارق کی آمد پر اس کو جواب دیتی ہوئی بولی
“اب کی بار سکندر بہت کم چھٹیاں لےکر آئے تھے بول رہے تھے بڑی عید پر ہی آنا ہوگا اُن کا”
مائے نور طارق کی بات کا جواب دیتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی آئی کیونکہ صبح اسکول کے لیے اسے زیاد اور ریان کہ ڈریس آئرن کرنے تھے طارق بھی اس کے پیچھے بیڈ روم میں چلا آیا
“یوں اکیلے سکندر کے بناء وقت گزار کر تم سکندر کو کافی مس کرتی ہوگی”
طارق مائے نور کو مصروف دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا سکندر سے 15 سال چھوٹی اس کی یہ خوبصورت سی بیوی اب طارق کو اپنی جانب اٹریکٹ کرنے لگی تھی طارق کی بات پر مائے نور ہلکا سا مسکرائی
“زیاد ریان اور عاشو کے ساتھ وقت گزرنے کا معلوم ہی نہیں ہوتا اتنا الجھا کر اور مصروف رکھتے ہیں تینوں بچے کے اپنے لیے کچھ سوچنے کا ٹائم ہی نہیں ملتا۔۔ عرا تو سو چکی ہوگی ناں اب تک”
مائے نور اپنے دھیان میں جلدی جلدی کپڑے پریس کرنے کے ساتھ طارق سے بھی باتیں کررہی تھی اس کو یہ تک اندازہ نہ تھا زیاد اور ریان اپنے کمرے میں سوئے نہیں بلکہ ابھی بھی جاگ رہے ہیں اور انہوں نے ٹی وی آن کیا ہوا ہے اس کو یہ بھی علم نہ تھا کہ طارق بیڈ روم کا دروازہ لاک کرچکا ہے مائے نور کی ساری توجہ اپنے کام میں صرف تھی
“عرا تو کب کی سوچکی ہے تم بھی اچھا کرتی ہو جو بچوں کو جلدی سلا دیتی ہو اس طرح انسان اپنے لیے تھوڑا بہت ٹائم نکال لیتا ہے”
طارق مائے نور سے بولتا ہوا اس کے قریب آیا مائے نور کی پشت اس کے سامنے تھی وہ مائے نور کو دیکھ کر بہکنے لگا
“طارق آپ ڈرائینگ روم میں جاکر بیٹھ جائیں میں بس یہ کام ختم کر کے وہی آتی ہوں”
اپنی پشت پر طارق کی موجودگی کو محسوس کرکے مائے نور طارق سے بولی تو طارق نے اس کے ہاتھ سے آئرن لےکر رکھ دی اور مائے نور کا رخ اپنی جانب کیا تو وہ حیرت سے طارق کو دیکھنے لگی
“سکندر کا رویہ تمہارے ساتھ بالکل اچھا نہیں ہے اس کو تمہاری فیلنگز کا احساس ہی نہیں ہے نہ ہی وہ تمہاری قدر کرتا ہے مجھے سخت غصہ آتا ہے اس پر جب وہ کسی دوسرے کے سامنے تمہیں بری طرح ڈانٹ دیتا ہے تم یہ سب کچھ آخر کیسے برداشت کرلیتی ہو”
طارق مائے نور کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا جس پر مائے نور بےدلی سے مسکرائی
“عادت ہوگئی ہے اب تو شروع میں محسوس ہوتا تھا سکندر کا رویہ مگر اب زیادہ محسوس نہیں ہوتا اور نہ ہی برا لگتا ہے”
مائے نور آہستہ سے مسکرا کر طارق سے بولی تو طارق حیرت سے اس کو دیکھتا ہوا بولا
“کیوں برداشت کرتی ہو تم یہ سب، کیا اپنی ساری زندگی ایسے ہی گزار دو گی میں تمہیں یوں بےعزت ہوتے نہیں دیکھ سکتا سکندر کا تمہارے ساتھ جاہلانہ رویہ مجھ سے بالکل بھی برداشت نہیں ہوتا مجھے بہت برا لگتا ہے جب سکندر کسی کا بھی لحاظ کیے بناء دوسرے کے سامنے تمہاری انسلٹ کرتا ہے تم تو پیار کرنے کے لائق ہو یقین جانو مائے نور تم بہت پیاری ہو بہت خوبصورت”
طارق اس سے بات کرتا ہوا مائے نور کو اپنے بازؤوں میں سما چکا تھا مائے نور طارق کی اس حرکت پر دنگ ہوکر رہ گئی کیوکہ آج سے پہلے اُس نے کبھی ایسی حرکت یا باتیں نہیں کی تھی
“طارق آپ کو گھر جانا چاہیے آپ پلیز یہاں سے چلے جائیں کافی رات ہوچکی ہے”
مائے نور نے طارق کو خود سے دور کرنے کی کوشش کی مائے نور طارق کی اس حرکت پر گھبراتی ہوئی اس سے بولی طارق نے مائے نور کے گرد حمائل اپنے بازو ہٹائے مگر وہ ابھی بھی اُس کے نزدیک ہی کھڑا تھا
“کیا تمہارا دل نہیں کرتا کہ کوئی تمہاری ذات میں دلچپسی لے تم پر توجہ دے کیا تمہارے دل میں یہ خواہش پیدا نہیں ہوتی کہ کوئی تم سے پیار کرے بتاؤ مجھے جواب دو”
طارق مائے نور سے بولتا ہوا اس کے ہونٹوں پر جھکا تو مائے نور شاکڈ سی طارق کی حرکت پر کچھ بھی نہ کرسکی جب طارق کی شدت حد سے بڑھنے لگی تب اس نے طارق کو پیچھے کیا
“یہ۔۔۔ یہ غلط ہے طارق۔۔۔ سکندر آپ کے اچھے دوست ہیں آپ کیسے یہ سب اس کی بیوی کے ساتھ۔۔۔ پلیز آپ چلے جائیں یہاں سے”
جو کچھ ہورہا تھا وہ جانتی تھی یہ سب غلط تھا پھر بھی نہ جانے کیوں وہ اتنے آرام سے طارق کو یہ سب کرنے دے رہی تھی اسے تو سختی اختیار کرنا چاہیے تھی لیکن وہ بےبس تھی شاید ہنگامہ یا شور شرابا سے اُسے رسوائی کا ڈر تھا
“وہ غلط ہے جو سکندر تمہارے ساتھ کرتا آرہا ہے شوہر ہونے کا یہ مطلب نہیں ہوتا ہے کہ جب اس کا دل چاہا تب سب کے سامنے اس نے تمہاری بےعزتی کردی ہمارے درمیان جو ہورہا ہے وہ سب ٹھیک ہے جب تمہارے شوہر کو تمہاری ذات سے لگاؤ نہیں ہے جب اسے تمہارے اور اپنے رشتے کی پرواہ نہیں ہے تو پھر تمہیں اس رشتے کی پرواہ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔ تم یہ بالکل مت سوچو کہ میں یا تم ہم دونوں سکندر کو دھوکہ دے رہے ہیں ہم صرف تھوڑی دیر کے لیے اپنے اپنے لیے خوشیاں چاہتے ہیں تم بھی ایسا ہی چاہتی ہو مائے نور میں جانتا ہوں ہر عورت چاہتی ہے کہ کوئی ایسا مرد اس کی زندگی میں موجود ہو جو اسے پیار کرتا ہو۔۔۔ سکندر نے تمہیں صرف اپنے مطلب کے لیے استعمال کیا ہے اس کے بچے پیدا کرنے کے بعد تم اس کے لیے ایک بےکار شے بن گئی ہو جب کبھی اس کا دل چاہتا ہے وہ تمہارے جسم سے اپنی بھوک مٹالیتا ہے تمہارے جذبات اور احساسات کی اس کو کوئی بھی قدر نہیں ہے بولو کیا میں یہ سب جھوٹ بول رہا ہوں۔۔۔ سکندر تمہیں اس طرح پیار کرسکتا ہے، نہیں کرسکتا، بالکل نہیں کرسکتا میں تمہیں بےحد چاہتا ہوں تمہاری خواہش اور اپنی خواہش پوری کرسکتا ہوں کسی کو ہمارے بارے میں معلوم بھی نہیں ہوگا اس وقت اپنے دماغ سے وہ ساری باتیں نکال دو جو تمہیں میرے قریب آنے سے روک رہی ہیں صرف اپنے اور میرے متعلق سوچو تھوڑی دیر کے لیے سب بھول جاؤ مائے نور اصل زندگی یہی ہے پلیز سمجھو میری بات کو”
طارق نے مائے نور کو بولتے ہوئے اس کی جیکٹ اتاری اور بیڈ پر لٹادیا آیا مائے نور طارق کی باتوں کو سوچ کر غائب دماغی میں طارق کو دیکھنے لگی جو اس کے وجود پر جھک چکا تھا
“ہمارے اس تعلق کا کسی کو بھی معلوم نہیں ہوگا ہم کچھ غلط نہیں کررہے صرف ایک دوسرے سے اپنے حصّے کی خوشیاں وصول کررہے ہیں تمہیں جب بھی میری ضرورت ہوگی تو تم مجھے اپنے پاس پاؤ گی میں تمہیں ڈھیر سارا پیار دو گا”
طارق اس کے کان میں سرگوشی کرتا ہوا اس کی گردن پر جھکا تو مائے نور نے اپنی آنکھیں بند کرلی اُس کو سکندر کا چہرہ یاد آیا اس کے شوہر نے کبھی بھی اُس کی جانب مسکرا کر پیار بھری نظر سے نہیں دیکھا تھا وہ ہمیشہ سکندر سے اپنے لیے توجہ اور محبت مانگتی آئی تھی لیکن سکندر نے اسے ہر بار یہی باور کروایا تھا کہ وہ کم عمر کم عقل لڑکی ہے جس سے اس کی شادی کردی گئی تھی وہ اپنی بڑی بہن کے جیسی سمجھ دار ہرگز نہ تھی جس سے سکندر محبت کرتا تھا۔۔۔ طارق مائے نور کے وجود پر جھکا ہوا اس کے دونوں کلائیوں کو پکڑ چکا تھا مائے نور کی آنکھوں سے اشک رواں ہونے لگے وہ چاہ کر بھی طارق کو روک نہیں پارہی تھی پھر زیاد اور ریان کا معصوم چہرہ اُس کی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگا وہ دو معصوم سے بچوں کی ماں تھی اپنی بہن آئے نور کا سوچ کر اُس کو شرمندگی ہونے لگی سکندر سے شادی کر کے نہ اُسے خود محبت مل سکی تھی نہ ہی اُس کی بہن اپنی محبت پاسکی۔۔۔ اپنے باپ کی تربیت کو یاد کر کے ڈھیروں ملامت نے اس کو اپنے گھیرے میں لے لیا
“میرے باپ نے میری ایسی تربیت نہیں کی تھی طارق پلیز آپ مجھے چھوڑ دیں میں اس گناہ کا بوجھ اٹھاکر نہیں جی سکو گی سکندر چاہے کیسے بھی ہو یا وہ میرے ساتھ کچھ بھی کریں مگر میں اُن کو چیٹ نہیں کرسکتی پلیز آپ یہاں سے چلے جائے”
وہ اپنے اوپر سے طارق کو ہٹاتی ہوئی بولی جس پر طارق کے تاثرات غصے والے ہوچکے تھے
“سکندر ٹھیک ہی بولتا ہے تمہارے بارے میں کہ تم ایک بے وقوف لڑکی ہو اور ہمیشہ بے وقوف ہی رہوگی تمہیں سمجھ نہیں آرہا سکندر تمہیں ذلیل کرکے رکھتا ہے گھاس تک تو ڈالتا نہیں وہ تمہیں، اس کی نظر میں تم اُس کے بچوں کی ملازمہ سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی میں تمہیں پیار دینا چاہ رہا ہوں مائے نور تم سمجھو اس بات کو”
طارق غصے میں اُس کو سمجھانے لگا مگر مائے نور بیڈ سے اٹھ گئی
“مجھے نہیں چاہیے آپ سے پیار یا کچھ بھی پلیز آپ یہاں سے چلیں جائے”
وہ واپس اپنی جیکٹ پہننے لگی تو طارق غصے میں اس کی جیکٹ پر جھپٹ کر جیکٹ دور پھینک چکا تھا اور ساتھ ہی اس نے مائے نور کو پیچھے بیڈ پر دھکا دیا
“میرا موڈ خراب مت کرو بےوقوف لڑکی خاموشی سے لیٹی رہو”
وہ غصے میں اب کی مرتبہ مائے نور پر جھکا تو مائے نور نے اسے خود سے دور کرنا چاہا
“طارق دور رہے مجھ سے پلیز چھوڑ دیں مجھے چلے جائیے یہاں سے”
مائے نور چیخ کر اس سے بولی مگر اب طارق ضد میں آچکا تھا وہ مائے نور کی سنے بغیر ہی اس پر زبردستی حاوی ہونے کی کوشش کرنے لگا جس کے نتیجے میں مائے نور نے اُس کا منہ نوچ لیا
“جاہل عورت پاگل ہوگئی ہو کیا تم”
طارق نے غصے میں اپنے زخمی گال کو چھوا اور مائے نور کے گال پر تھپڑ مارتا ہوا بولا
“خاموشی سے لیٹی رہو اب اگر تم نے۔۔۔
طارق کے بولنے سے پہلے مائے نور نے اسے دھکا دے کر پیچھے ہٹانا چاہا تبھی طارق نے اس کی گردن دبوچ ڈالی
“مار ڈالوں گا اب اگر تم نے کوئی بھی حرکت کی شرافت کی زبان سمجھ نہیں آتی۔۔۔ بولو مار ڈالوں تمہیں یا پھر مجھے میری مرضی کرنے دوگی۔۔۔ صرف تھوڑی دیر کی بات ہے تھوڑی دیر تمہیں مجھے برداشت کرنا ہوگا اُس کے بعد میں خود یہاں سے چلا جاو گا”
طارق اس پر بیٹھا ہوا مائے نور کی گردن پکڑے غصے میں بولا مائے نور کو لگا آج وہ اپنی جان سے ہاتھ دھونے والی ہے لیکن اچانک ہی گولی چلنے کی آواز شیشے کا سینہ چیرتی ہوئی طارق کے سینے میں آکر لگی اور وہ بیڈ سے نیچے کی جانب فرش پر گر پڑا مائے نور جلدی سے بیڈ سے اٹھی اور شاکڈ سی کھڑکی سے باہر کھڑے ریان اور زیاد کو دیکھنے لگی اُن دونوں کے چہرے آنسوؤں سے بھیگے ہوئے تھے جبکہ زیاد کے کانپتے ہاتھوں سے پسٹل نیچے گرچکی تھی مائے نور نے زیاد کو صدمے کی کیفیت میں دیکھتے ہوئے جلدی سے اپنی جیکٹ پہن کر بیڈ روم کا دروازہ کھولا زیاد اور ریان دونوں ہی مائے نور کے پاس بھاگتے ہوئے آئے اور مائے نور نے نیچے بیٹھ کر اُن دونوں کو اپنے گلے سے لگالیا اپنے دونوں بیٹوں کو روتا ہوا دیکھ کر اس سے بھی ڈھیر سارا رونا آگیا
“ماہی وہ تمہیں مار دیتا اگر میں اسے نہیں مارتا تو وہ تمہیں مار دیتا میں نے تمہیں بچانے کے لیے طارق انکل کو شوٹ کردیا”
زیاد روتا ہوا مائے نور سے بولا مائے نور نے ریان کو چھوڑ کر زیاد کو اپنے سینے سے لگالیا
“کچھ غلط نہیں کیا تم نے بالکل ٹھیک کیا طارق انکل جو کررہے تھے وہ غلط تھا تم غلط نہیں ہو۔۔۔ تمہاری ماں کے ساتھ غلط ہورہا تھا تم نے اپنی ماں کو بچایا ہے آج جو بھی کچھ ہوا ہے ہم یہ بات کسی کو بھی نہیں بتائیں گے”
مائے نور سہمے ہوئے زیاد کو پیار کرتی ہوئی بولی تو عشوہ بھی نیند سے جاگ کر روتی ہوئی مائے نور کے پاس آگئی مائے نور پریشانی کے عالم میں اپنے کمرے میں موجود طارق کی لاش کو دیکھنے لگی
****
رات کے پہر سکندر ولا میں موجود تینوں نفوس اپنے اپنے کمروں میں موجود تھے مائے نور اپنے کمرے میں راکنگ چیئر پر جھولتی ہوئی 16 سال پرانی اس بھیانک رات کے متعلق سوچ رہی تھی نہ جانے کیسے اُس وقت اُس میں اتنی ہمت آچکی تھی کہ وہ طارق کی ڈیڈ باڈی کو شہر سے دور ڈرائیونگ کرتی تینوں بچوں کے ساتھ لے جاکر دفنا چکی تھی تاکہ اس کے مرڈر کا کسی کو شک نہ ہو اور پھر اس واقعے کے بعد اس کے تینوں بچوں کے ذہن پر کتنے دنوں تک خوف کی کیفیت چھائی رہی تھی خاص طور پر زیاد کو اُس وقت سنبھالنا کتنا مشکل تھا مائے نور راکنگ چیئر پر جھولتی ہوئی بیتے ہوئے دنوں کو سوچنے لگی اس کے ہاتھ میں طارق کی گھڑی موجود تھی جو نہ جانے کب اس رات طارق کی کلائی سے اس کے کمرے میں گر گئی تھی یہ ریسٹ واچ مائے نور نے قبرستان سے واپس آکر دیکھی تھی وہ ایک بری یاد کی طرح ابھی تک مائے نور کے پاس موجود تھی اس کو ہاتھ میں پکڑے وہ دیکھ ہی رہی تھی تب زیاد اس کے کمرے میں داخل ہوا تو اُس نے راکنگ چیئر روکی اور ہاتھ میں پکڑی ہوئی واچ کو ایک سائیڈ پر رکھ دیا ساتھ ہی مائے نور ناراض نظروں سے زیاد کو دیکھنے لگی
“آپ کو وہاں سے ایسے اچانک نہیں آنا چاہیے تھا”
زیاد صوفے پر بیٹھتا ہوا شیشے کی ٹیبل کو گھور کر مائے نور سے شکوہ کرنے لگا جس پر مائے نور غصے میں اسے دیکھنے لگی
“تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میں اُس شخص کی بیٹی کو اپنی بہو بناکر سکندر ولا میں لاؤں گی جو شخص مجھے رات کے انھیرے میں رسوا کرنے کی نیت سے ہمارے گھر آیا تھا یاد نہیں ہے تمہیں کیا سلوک کرنے والا تھا وہ آدمی اُس رات تمہاری ماں کے ساتھ”
مائے نور سخت لہجے میں زیاد سے بولی اس کو لگا تھا اتنے سال بعد اس واقعے کے متعلق یاد دلا کر وہ زیاد کو شرمندہ ہوتے دیکھے گی جس کے بعد اس کا بیٹا آگے سے ایک لفظ بھی نہیں بولے گا مگر وہ غلط تھی
“اُس شخص نے آپ کے ساتھ جو کیا آپ کا بیٹا اُس شخص کو اُسی وقت اُس کی حرکت کی سزا دے چکا تھا اور اگر عرا اُس شخص کی بیٹی ہے تو اس میں عرا کا کوئی قصور نہیں۔۔۔ آپ کو میرے ساتھ عرا کی پھپھو کے گھر دوبارہ چلنا ہوگا ماں”
زیاد صوفے پر بیٹھا ہوا بےحد آرام سے بولا تو مائے نور حیرت سے زیاد کو دیکھنے لگی
“وہ لڑکی تمہاری بیوی نہیں بن سکتی زیاد”
مائے نور کا جملہ مکمل ہی ہوا تھا اچانک زیاد نے غصے میں سامنے شیشے کی ٹیبل کو دونوں ہاتھوں سے اٹھا کر دور دیوار کی طرف پھینکا تو زوردار دھماکے کی آواز پر کمرے کی در و دیوار سہم گئی وہی مائے نور کا دل بھی بری طرح دہل اٹھا وہ ایک دم ہی کرسی سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی اور آنکھیں پھاڑ کر زیاد کے غصے کا یہ انداز دیکھنے لگی جو ابھی بھی صوفے پر بالکل ریلیکس سے انداز میں بیٹھا ہوا تھا لیکن اس کی آنکھیں میں بغاوت کا عنصر وہ باآسانی دیکھ سکتی تھی جو ایک معمولی سی لڑکی کے لیے اس نے یہ ری ایکٹ کیا تھا مائے نور شاکڈ ہوکر زیاد کو دیکھنے لگی۔۔۔ شور کی آواز سن کر عشوہ بھی مائے نور کے کمرے میں آگئی اور سامنے کا منظر دیکھ کر خاموشی سے وہی دروازے پر کھڑی رہی
“سوری میرے اس بی ہیویئر کے لیے مگر یہ جملہ بہت غلط بولا تھا آپ نے کیونکہ زیاد سکندر کی بیوی صرف اور صرف عرا ہی بن سکتی ہے اور کوئی دوسری لڑکی نہیں اور پھر جب یہ بات بچپن سے ہی طے تھی تو اب کیا مسئلہ ہے آپ کے اور ڈیڈ کے منہ سے جب میں نے اپنے لیے عرا کا نام سنا تھا تب سے ہی میرے دل اور دماغ نے اسے قبول کرلیا تھا۔۔۔ ماں جو آپ کی ڈیڈ کے ساتھ کمٹمنٹ تھی آپ اُس کو پورا کریں مجھے میری زندگی میں عرا چاہیے”
زیاد صوفے سے اٹھ کر مائے نور کے پاس آتا ہوا بولا تو مائے نور حیرت سے پلکیں جھپکائے بناء اپنے اس فرمانبردار بیٹے کو دیکھنے لگی جو اُس کی ایک آواز پر اگلی کوئی بات ہی نہیں کرتا تھا اور اُس کا کہا پورا کردیا کرتا تھا۔۔۔ زیاد نے اُس کی کہی ہوئی بات سے کبھی انکار کیا ہو ایسا مائے نور کو یاد نہیں تھا پھر آج کیسے وہ ایک بےضرر لڑکی کے لیے اپنی ماں کے سامنے سر اٹھاکر ایسے بات کررہا تھا
“تمہیں اپنی زندگی میں سب سے زیادہ عزیز کون ہیں زیاد وہ لڑکی یا پھر تمہاری ماں”
مائے نور زیاد کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی جس پر زیاد پریشان سا ہوکر مائے نور کو دیکھتا ہوا بولا
“یہ آپ کیسی بات پوچھ رہی ہیں، آپ میری ماں ہیں اور عرا میری خوشی۔۔ اور ویسے بھی ماں تو اپنے بچوں کی خوشیوں کی خاطر کچھ بھی سہہ لیتی ہے کچھ بھی کرجاتی ہے”
زیاد مائے نور کو شانوں سے تھامتا ہوا بولا جس پہ مائے نور نے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے نفی میں اپنا سر ہلایا
“جیسے چھوٹے بچے کی ہر خواہش پوری نہیں کی جاتی ویسے ہی ہر خوشی بھی اپنے بچوں کو نہیں دی جاتی”
مائے نور بےلچک لہجے میں بولی
“ماہی پلیز ایسے مت بولے وہ مجھے بہت زیادہ پسند ہے ابھی سے نہیں بلکہ بچپن ہی سے۔۔۔ میں اس کے بغیر خوش نہیں رہ سکوں گا”
اس طرح بولنے اور منت کرتے وقت وہ مائے نور کو چھوٹا بچہ لگا جو اپنی خوشی کے لیے اپنی ماں سے ضد کررہا تھا مائے نور نے اس کے دونوں ہاتھ اپنے شانوں سے ہٹائے
“جاؤ پھر اپنالو اسے جاکر مگر میں تمہاری خوشی میں شریک نہیں ہوگیں اور اس بات کے لیے تم مجھے فورس نہیں کرو گے”
مائے نور سخت لہجہ اپنائے زیاد سے بولی تو وہ بےبسی سے مائے نور کو دیکھنے لگا ضبط سے زیاد کی آنکھیں سرخ ہونے لگی
“اگر میری خوشیوں میں میری ماں شامل نہیں ہوگی یا اس کی دعائیں شامل نہیں ہوگیں تو پھر میں کیسے خوش رہ پاؤں گا میں آپ کو ناخوش کر کے کبھی بھی خوش نہیں رہ سکتا لیکن یہ بھی سچ ہے میں عرا کے بغیر بھی خوش نہیں رہ سکتا”
زیاد مائے نور سے بولتا ہوا نم لہجے کے ساتھ اس کے کمرے سے نکل گیا تب عشوہ مائے نور کے پاس آئی
“ماہی بھائی کی خوشی اگر عرا میں ہے تو۔۔۔
اُس کا جملہ مکمل بھی نہیں ہوا تھا مائے نور آنکھیں دکھاتی ہوئی عشوہ کو دیکھنے لگی جس پر عشوہ ایک دم خاموش ہوگئی
“اپنے کمرے میں جاؤ عاشو”
وہ عشوہ کو گھورتی ہوئی بولی
“مائیں خود غرض نہیں ہوتی ماہی ماؤں کا غرض تو اپنے بچوں کی خوشیوں میں چھپا ہوتا ہے بھائی اگر خوش نہیں رہے تو ساری عمر اس کا گلٹ آپ کو بھی رہے گا اپنی ضد پوری کر کے آپ ان کی زندگی سے اس لڑکی کو دور کررہی ہیں جس میں بھائی کی خوشی ہے”
عشوہ مائے نور سے بولتی ہوئی اس کے کمرے سے چلی گئی مائے نور نے دوبارہ راکنگ چیئر پر بیٹھ کر اپنی آنکھیں بند کرلی
****
“ما۔۔۔۔ ہی”
زیاد کے منہ سے پہلی مرتبہ اپنا نام سن کر وہ کس قدر خوش تھی اور جب وہ پہلی مرتبہ شدید بیمار پڑا تھا تب وہ کس قدر پریشان تھی کسی بچے کے مارنے یا لڑنے پر وہ روتا ہوا گھر آتا تو وہ اسی وقت اسکول اس بچے کی کمپلین کرنے پہنچ جاتی ریان کی پیدائش کے بعد بھی اس نے زیاد پر سے اپنی توجہ کم نہ کی کیونکہ وہ اُس کا بڑا بیٹا تھا شروع سے ہی اس کا تابعدار اور فرما بردار اس کا ہر حکم ماننے والا اور اُس کا خیال رکھنے والا
Mahi you are the best mother in the whole world
جب زیاد محبت سے یہ جملہ بولتا تو مائے نور کا ڈھیروں خون بڑھ جاتا اسے اپنے شوہر کی محبت اور توجہ نہیں ملی تھی مگر اس کا بیٹا اُس سے محبت کرتا تھا
“ماہی جب ڈیڈ تم پر غصہ کرتے ہیں تو مجھے ذرا بھی اچھا نہیں لگتا تمہاری آنکھوں میں آنسو دیکھ کر میرا دل کرتا ہے میں ڈیڈ سے فائٹ کروں”
تھک کر مائے نور نے اپنی درد ہوتی بند آنکھیں کھولی اور کھڑکی کی طرف دیکھا آدھی رات گزر چکی تھی نہ جانے چیئر پر بیٹھے پرانی باتوں کو سوچتے ہوئے کتنا وقت گزر گیا تھا اس کو اندازہ بھی نہیں ہو پایا وہ چیئر سے اٹھ کر اپنے کمرے سے باہر نکلی زیاد کے کمرے کی طرف چلی آئی جہاں توقع کے عین مطابق وہ ابھی تک جاگ رہا تھا
“ماں آپ ابھی تک جاگ رہی ہیں سوئی کیوں نہیں اتنی رات ہوچکی ہے”
ذیاد مائے نور کو دیکھتا ہوا عام سے لہجے میں پوچھنے لگا اس کا چہرہ بجھا ہوا اور آنکھیں بےتحاشہ سرخ ہورہی تھی جو بہت کچھ بیان کررہی تھی
“تم بھی تو نہیں سوئے ابھی تک جاگ رہے ہو”
مائے نور زیاد کے چہرے پر نظر ڈال کر اسے دیکھتی ہوئی بولی تو وہ ہلکا سا مسکرایا
“نیند آنی ہوگی تو آجائے گی مگر آپ کو اپنی صحت کا خیال رکھنا چاہیے خوش رہا کریں میرے لیے آپ سب سے زیادہ امپورٹنٹ ہیں اور دوسرا کوئی نہیں”
زیاد مائے نور کو دیکھتا ہوا بولا تو مائے نور خاموشی سے اُس کا چہرہ دیکھنے لگی وہ مائے نور کے اِس طرح دیکھنے پر مسکرانے لگا
“بات کی تم نے عرا سے”
مائے نور کے پوچھنے پر زیاد کی مسکراہٹ مدھم ہوکر چہرے سے غائب ہوگئی رات میں کتنی مرتبہ عرا کی اُس کے پاس کال آئی تھی جو اُس نے ریسیو نہیں کی تھی
“جب ساری باتیں ہی ختم ہوگئیں پھر اُس سے بات کرکے کیا حاصل آپ یہ بتائیں ریان سے بات ہوئی آپ کی میں تو آج سارا دن اس سے بات نہیں کرسکا بس میسج دیکھا تھا اس کا بول رہا تھا پاکستان آنے کوششوں میں لگا ہوا ہے”
عرا کی بات کو نظر انداز کرکے وہ عام سے لہجے میں ریان کی آمد کا مائے نور کو بتانے لگا تاکہ ریان کی آمد کا سن کر مائے نور خوش ہوجائے
“ریان یہاں پر تمہاری شادی کا سن کر آنے کے لیے رضامند ہوا تھا ایسا کرتے ہیں عرا کی پھپھو کی طرف جانے کا کل کا ہی پروگرام رکھ لیتے ہیں اچھا ہے تمہاری شادی کے معاملات نمٹ جائیں پھر مجھے ریان کے متعلق بھی سوچنا ہے”
مائے نور کی بات سن کر زیاد تعجب سے مائے نور کو دیکھنے لگا اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا جو اس نے سنا تھا وہ صحیح تھا یا غلط
“ماں آپ راضی ہیں۔۔۔ آئی مین عرا کے لیے۔۔۔ آپ کل اُسی کی طرف جانے کی بات کررہی ہیں”
وہ بے یقین سا مائے نور سے پوچھنے لگا جس پر مائے نور ہلکا سا مسکرائی
“تم خوش ہو اب”
مائے نور زیاد کا چہرہ دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی زیاد نے مسکرا کر مائے نور کو گلے لگالیا
“بہت۔۔۔ بہت زیادہ خوش ہوں ماہی یو آر دا بیسٹ مدر ان ہول ورلڈ لو یو سو مچ”
زیاد کے انداز سے آواز سے خوشی چھلکنے لگی تھی مائے نور اس سے الگ ہوتی اس کے گال پر ہاتھ رکھ اس کا گال تھپتھپانے لگی اور اس کا جگمگاتا ہوا مسکراتا چہرہ دیکھ کر خود بھی مسکرا دی تب عشوہ بھی زیاد کے کمرے میں چلی آئی
“تم بھی جاگ رہی ہو ابھی تک”
زیاد عشوہ کو دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“عاشو کی فیملی ڈسٹرب ہو اور وہ مزے سے سو رہی ہو ایسا ممکن نہیں ہے میرے پیپرز کے دوران ہی آپ نے اپنا یہ شادی کا چکر چلانا تھا بھائی پھر کب لے کر آرہے ہیں عرا کو میری بھابھی بناکر ہمارے سکندر ولا میں”
عشوہ زیاد کو دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی زیاد کے روشن سے چہرے سے اور اُس کے چہرے پر سجی مسکراہٹ سے وہ اندازہ لگا چکی تھی کہ معاملہ سیٹ ہوچکا ہے
“بہت جلد انشاءاللہ”
زیاد کے بولنے پر مائے نور اور عشوہ دونوں مسکرا دی
“چلو اب تم دونوں بھی ریسٹ کرو میں بھی تھوڑی سی نیند لوں گی”
مائے نور ان دونوں کو کہتی ہوئی زیاد کے کمرے سے باہر نکل گئی عشوہ بھی زیاد کے کمرے سے جانے لگی تبھی زیاد نے اُس کی کلائی پکڑی
“ابھی عرا کے متعلق میں نے ریان کو کچھ بھی نہیں بتایا ہے یہ ریان کے لیے سرپرائز ہے عرا کا ذکر اس سے فون پر مت کرنا”
عشوہ زیاد کی بات سن کر مسکرا دی اور اثبات میں سر ہلاکر اس کے کمرے سے باہر نکل گئی
زیاد خود کو ہلکا محسوس کرتا ہوا بیڈ پر لیٹ گیا اسے صبح آفس جانے سے پہلے عرا کے اسکول جاکر اس سے بات کرنی تھی اور پھر شام میں مائے نور کو لےکر دوبارہ عرا کی پھپھو کی طرف جانا تھا
****
